Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Ep 46 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Ep 46 Part 2
صبح لاڈو کی.آنکھ کھلی تو وہ حامد کی باہنوں میں تھی. اسکی زندگی کی کوئ صبح ایسی بھی ہوگی ..وہ.کبھی سوچ نہی سکتی تھی…
لاڈو اپنا چہرہ اوپر کرکے حامد کا چہرہ تکنے لگی.. اور سوچنے لگی اگر لاڈو کی بات مان کے حامد اس سے شادی کرنے کا منع کر دیتے تو شاید وہ ساری زندگی پشتاتی کل رات جس طرح اپنے عمل اپنے ہر انداز سے حامد نے اسکی بدگمانیوں کو دور کیا تھا.. یہ سوچتے ہی.لاڈو کے چہرے پہ ایک حسسین مسکراہٹ اگئ…لاڈو کافی دیر تک اسکی باہنوں میں لیتے لیتے اسکا چہرہ تکتی رہی پھر دل کی ہاتھوں مجبور ہوکے.حامد کی ناک کو ہلکا سا اپنے لبوں سے چھوا ..آہستہ سے جب لاڈو حامد کا ہاتھ اپنے پیٹ پہ.سے ہاتھا کے بیڈ سے اترنے لگی تو حامد نے اسک ہاتھ پکڑ کے اسے دوبارہ کھینچا اور فورا اپنی پوزیشن بدلی ا.ب لاڈو نیچے اور حامد اسکے اوپر تھا..یہ سب اتنی اچانک ہوا کے لاڈو حیران نظروں سے حامد کو تکنے لگی.. کہ جبھی حماد نے اسکی گردن پہ.اپنے لب رکھے اور کہا..
میرے چہرے پہ ناک کے نیچے کا جو حصہ ہے وہ اپکو نظر نہی ایا جان حامد.. حامد کی بات سن کے لاڈو نے اپنی پوری آنکھیں کھول کے حامد کو دیکھا اور کہا….
تو اسکا.مطلب اپ جاگ رہے تھے.؟؟؟
ہاں لاڈو جی.. یہ بول کے حامد اسکے لبوں پہ.جھک گیا اور جب اس نے لاڈو کے لب آزاد کیہ.. تو لاڈو کے چہرہ بلش کر ررہا تھا.. ..
جبھی لاڈو نے اس سے کہا….
حامد ہٹے مجھے نہانا ہے ابھی کوئ کمرے کا دروازہ بجا دے گا. پلیز….
حامد کچھ دیر تک تو اسکا چہرہ تک تہ رہا اور پھر اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کے ہٹا.. تو لاڈو نے فورا واش روم.کی طرف ڈور لگا دی..
¤¤¤¤¤
رات کو لیٹ ہونے کی وجہ سے اور گھر کے داماد ہونے کی وجہ سے راجدہ اور حامد نے شاہ کو یہی روک لیا تھا.. جبکہ راجدہ کی بہن نے اس شادی مین شرکت نہی کی اور نہی ان کی بہن ابھی تک شاہ.سے ملی تھی…
نازنین کی.آنکھ اسکے موبائل کے بجنے سے کھلی اس نے جب موبائل اٹھا کے دیکھا تو ماہ.کی.کال تھی…. رات ہی کو راجدہ آنٹی نے ناشتہ کی رسم.کو منع کر دی تھی اج گھر میں ہی حامد اور لاڈو کے ولیمہ کا سادہ سا فنکش تھا جس میں افریدی مینشن والے اور حامد کے چند دوست شامل تھے…
نازنین نے ماہ کی.کال اٹھا کے ہیلو کہا.تو اگے سے ماہ کی.آواز کانوں میں گونجی…
کیا بات ہے جانی کیا شاہ کی باہنوں میں سو رہی تھی جو ابھی تک جاگنے کا دل نہی کیا…
ماہ کی بات سن کے نازنین کو خوشی ہوئ کے چلو اس کی دوست اپنے غم سے باہر آئ..
نازنین نے بھی حساب برابر کرتے ہوئے کہا…
ماہ جانی اپ صبح صبح اتنی.فالتو کی بکواس کیسے کرلیتی ہیں. نہی وہ کیا ہے نہ میں جب تک کچھ کھا نہی لو مجھ سے بکواس ہوتی نہی تو اپ مطلب کیسے کرلیتی ہیں.؟؟
نازنین کی بات پہ ماہ کا قہقہ موبائل پہ گونجا تو نازنین کی بھی ہنسی چھوٹ گئ.. ماہ نے نازنین کی بات کے جواب کے بدلے میں کہا…
بس جانی.اپنا اپنا ٹیلینٹ ہے…
میں نے یہ کہنے کے لیہ کال کی ہے کہ 10 بج رہے ہیں 5 بجے کے قریب ولیمہ کا فنکشن ہے اس لیہ جلدی جلدی کام نبتا پھر لاڈو آنٹی کو پالر بھی لے کے جانا ہے…
ماہ.کی بات سن کے نازنین نے زور سے اپنے سر پہ.ہاتھ مارا اور کہا…
ارے ہاں یار میں تو بھول ہی گئ اچھا ہوا تونے یاد دلا دیا. چل تو فون رکھ میں بھی تیار ہوکے ناشتہ کی تیاری کرو..
ہان چل ٹھیک ہے مگر یار نازنین تجھ سے ایک بات کہنی تھی…
ماہ کا اتنا سیسریس لہجہ سن کے نازنین نے سوچا کے شاید ماہ کو سیریس بات کر رہی ہے اس لیہ کہا..
ہاں ماہ بول….
میں یہ کہہ رہی تھی نازنین کے ہمارے دولہا بھائ کو زرا چوم.کے اٹھانا یہ بول کے ماہ نے فور فون رکھ دیا.. مگر جب نازنین کو ماہ کی بات سمجھ آئ تب تک ماہ کال رکھ چکی تھی اور اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کیساتھ کہا..
“کمینی”
¤¤¤¤¤
نازنین نے جلدی جلدی ناشتہ ریڈی کیا اور پہلے اپنی امی کو اٹھایا اور پھر شاہ کو اٹھانے چلے گئ…
گیسٹ روم کے دروازے پہ نازنین نے ہلکا سا ناک کرکے اسکا.لاک گھمایا تو وہ کھل گیا…
نازنین دبے قدموں سے آہستہ آہستہ چل کے بیڈ تک پہنچی تو شاہ بنا شرٹ کے بے خبر سو رہا تھا.. نازنین کو وہ.سوتے ہوئے معصوم سہ بچہ لگا. مگر جیسی اسکی نظر شاہ.کے کسرتی جسم پہ گئ نازنین نے فور اپنی نگاہ جھکا لی..کل جس طرح شاہ نے نے سارا انتظام سنبھالا تھا نازنین کے دل میں اسکی اہمیت اور بڑھ گئ تھی…اسے شاہ کی محبت کا اعتبار ہونے لگا تھا اور وہ خود بھی اس سے محبت کرنے لگی تھی نکاح کے دو بولوں میں الللہ نے طاقت ہی اتنی رکھی کہ دو اجنبیوں کے دل ایک ہو جاتے ہیں….
نازنین اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکے جھک کے شاہ کے گالوں کو چومنا چاہا ..نازنین جیسی ہی جھک کے اپنی یہ
خواہش پوری کرنے کا سوچا شاہ نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی اور ہاتھ پکر کے نازنین کو اپنے اوپر گرا لیا.. یہ سب اتنا اچانک ہوا کہ. نازنین کو سنبھلنے کا موقع ہی نہی ملا..
نازنین نے فور اپنی گھبراہٹ پہ قابو پایا اور کہا…
شاہ تم.نے وعدہ کیا تھا کہ جب تک میں نہی چاہونگی تم مجھے چھووگے نہی…
شاہ نے نازنین کی بات پہ اپنی پوزیشن بدلی پہلے جھک کے نازنین کی گردن پہ.اپنے لب رکھے اور پھر کہا….
ہاں تو وعدہ تو میں نے آج بھی نہی توڑا..میری بیوی میرے چہرے کو چومنا چا رہی تھی تو اسکی یہ خواہش میں نے ہی پوری کردی…
کوئ نہی ایسی کوئ بات نہی نازنین نے اپنی گھبراہٹ پہ قابو پا.کہ شاہ کی بات کا جواب دیا…
شاہ پہلے نازنین کا چہرہ سنجیدگی سے تکتا رہا اور پھر کہا..
سچ میں تم.مجھے چھو نہی رہی تھی؟؟؟؟
نازنین نے جب شاہ کے چہرے پہ سنجیدگی دیکھی تو فورا اپنی گردن جھکا لی اور ہاں میں ہلائ…
نازنین کی اس حرکت پہ شاہ کو اس پہ توٹھ کے پیار آیا اس نے جھک کے نازنین کے لبوں کو چھو لیا.. نازنین نے بھی کسی احساس کے تحت اس کے کندھوں کو تھام لیا…
شاہ نے تھوڑی دیر بعد اس کے لبوں کو آزاد کیا تو نازنین کی بند آنکھیں اور بلش چہرہ شاہ کا دل بے ایمان کر گیا اس سے پہلے شاہ اور کوئ گستاخی کرتا نازنین نے دھیمی آواز میں کہا…
شاہ پلیز ہٹے ابھی بھائ اور بھابھی کو بھی اٹھانا ہے…
نازنین کے ایسے میٹھے لہجے پہ شاہ کو جہاں حیرت ہوئ وہی اسی نازنین پہ ترس بھی آیا وہ دھیرے سے نازنین پہ سے ہٹا تو نازنین نے فورا بیڈ سے چھلانگ لگاکے کمرے تک.پہنچی اور پلٹ کے کہا..
ٹھرکی..
اور چھپاک سے باہر نکل گئ.. نازنین کے ایسے بھاگنے پہ شاہ کے لبوں پہ ایک دلکش مسکراہٹ اگی اور وہ فریش ہونے چلا گیا….¤¤¤
¤¤¤¤¤¤
ولیمہ کی تقریب بھی شاندار رہی لاڈو کی چہرے کی رونق دیکھ کے سب ہی خوش تھے شاہین اور علی جب اسٹیج پہ لاڈو سے ملنے آئے تو علی نے شرارتی لہجہ میں کہا.
ارے شاہین یہ وہ ہی لاڈو تو نہی جو کہہ رہی میں نے نہی کرنی شادی..
علی کی بات پہ جہاں شاہین اور حامد کا قہقہ گونجا وہی
لاڈو شرما گئ…
علی نے اگے بڑھ کے لاڈو کے سر پہ.ہاتھ رکھا اور کہا…
“حامد دیھان رکھنا میری بہن کا بہت مشکل سے ملی.ہے.”
علی کی بات پہ حامد کے چہرے پہ ایک پیاری سے مسکراہٹ اگئ.اور اس نے کہا…
علی اپکی بہن میری بیوی بھی ہے اپ کو کبھی شکایت نہی ہوگی…
یہ سن کے سب ہی مسکرا پڑے…علی اور شاہین جیسے ہی ان دونوں کے پاس سے جانے لگے.. کہ حماد نے شاہین کو آواز دی اور کہا…
شاہین بھابھی یہ.اپکے لیہ…
حامد نے ایک فوٹو فریم گفٹ ریپر میں پیک کرکے شاہین کو دیا جس میں اسکی اور لاڈو کی برات والی.پک تھی….
شاہین نے گفٹ لے کےوہی کھولا اور جب اس میں اپنی اور لاڈو کی پک دیکھی تو بہت خوش ہوئ. اس نے دل سے حامد کا شکریہ ادا کیا اور اگے بڑھ گئ……
ولیمہ کا ایک شاندار فنکش اختتام ہوا..تو ماہ کی برات کا دن ان پہنچا…
برات کی صبح جب ماہ اپنے ہاتھوں کی مہندی چھٹا کے باہر نکلی تو زلیخا کو اپنے کمرے میں پایا جو کھڑکی کے پاس گم سم سی کھڑی تھی…
ماہ اس کے پاس پہنچی تو اس نے دیکھا زلیخا رو رہی تھی. زلیخا کو روتا دیکھ کے ماہ کی آنکھیں نم ہوگئ اور اس نے پیچھے سے جاکے زلیخا کو ہگ کرلیا…
ماہ.کے اگے ہگ کرتے ہی زلیخا اور زور شور سے رونے لگی ..ماہ نے بھی روتے روتے کہا..
ماما معاف کردے مجھے. دیکھے اب تو الللہ نے بھی مجھے اپکا ااعتبار توڑنے کی سزا دے دی…ماہ کا ایسا بولنا تھا کہ زلیخا نے گھوم کے ماہ کو گلے سے لگالیا اور کہا..
ماہ ایسا نہی بولتے وہ نہ تمہارے لائق تھا نہ.نصیب میں وہ بہت شرمندہ ہے تم سے اسکے ساتھ تو خود قسمت نے کھیل کھیلا ہے…وہ دو بار اچکا ہے تم سے معافی.مانگنے مگر پھر تمہارا سامنا کیہ بغیر ہی چلا گیا.نکاح کرچکا ہے وہ.کسی سے اور علی اور شاہین کے ساتھ ہی پاکستان سے چلا جائے گا…
ماہ.معاف کردو اسکو وہ بہت بے سکون ہے اسکی بیوی بھی بہت معصوم ہے ..ہو سکے تو اسے معاف کردو الللہ بھی معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے…
اور میں اپنی بیٹی سے ناراض نہی ہو…
یہ بول.کے زلیخا نے ماہ.کے مہندی والے ہاتھ تھام کے کہا…
پتہ ہے ماہ جب کسی نئی دلہن بنے والی کے ہاتھوں کی مہندی کا کلر گہرا آتا ہے نہ اسکا شوہر اسے بہت چاہیتا ہے اور تم سمجھ رہی ہو میں کیا کہنا چارہی ہو…
جیسے 5 انگلیاں برابر نہی ہوتی ویسے ہی ہر مرد ایک جیس نہی ہوتا…
شاہمیر اور اسکی وائف باہر کھڑے ہیں میں شاہمیر کو اندر. بھیجتی ہو….
یہ بول کے زلیخا باہر کو چلی گئ..
¤¤¤¤¤
نکاح کے بعد شاہمیر یونی گیا اس نے اپنے دوستوں سے بھی سر سری سی بات کی اور جاکہ اسی گارڈن میں جاکے بیٹھ گیا جہان وہ.اکثر ماہ.کیساتھ بیٹھا کرتا تھا…ابھی وہ آنکھیں موند کے بیٹھا کے پھر اسے لگا جیسے وہ.کسی کی نظروں کے حصار میں ہے اس نے یہاں وہاں نظریں گھمائ تو اسے کوئ نہی دیکھا مگر درخت کے پیچھے کسی کے نیلے آنچل کی.ہلکی سی جھلک دیکھ گئ….
اس نے دوبارہ آنکھیں موند لی.تو درخت کے پیچھے چھے نفوس نے درخت کے پیچھے چھپ کے دوبارہ اپنا سانس بے حال کیا مگر جب اس نے دوبارہ گارڈن مین نگاہ ڈورای تو وہاں اسے شاہمیر نہی دیکھا..
جیسی ہی وہ افسوس کے ساتھ والپس پلٹی تو شاہمیر اسے اسکے سامنے دیکھا جو سینے پہ.ہاتھ باندھ کے اسے ہی.دیکھ رہا تھا…
شاہمیر کو دیکھ کے ایک دم.نوشین کے چہرے پہ گھبراہٹ کے اثار دیکھائ دیے اس نے فورا اپنی گھبراہٹ پہ.قابو پائ اور خودی بنا شاہمیر کے پوچھے بولنے لگی….
وہ ..وہ.میری یہاں پن گر گئ تھی وہی ڈوھنڈ رہی تھی مل ہی نہی رہی….
نوشین یہ بول کے دوبارہ پن ڈونڈنے کی.ایکٹنک کرنے لگی…
کہ جبھی شاہمیر نے اسے اگے بڑھ کے دیوار سے لگا دیا..نوششین شاہمیر کی اس حرکت پہ ایک دم بوکھلا گئ
مگر شاہمیر کو اسکی گھبراہٹ کی.کوئ پرواہ نہی تھی وہ تو غور سے اسک چہرہ دیکھنے لگا…
چھوٹی براون آنکھیں, چھوٹی سی ناک.. گول چہرہ اگر وہ زیادہ خوبصورت نہی تو بری بھی تھی…
شاہمیر.نے اس کے دائیں بائیں ہاتھ رکھا اور کہا…
جب بھی میں ماہ کیساتھ یونی میں کہی بھی جاتا تھا وہ تم.ہی ہونا جو مجَھے چھپ چھپ کے دیکھتی تھی..؟؟؟
نوششن نے نفی میں گردن ہلائ تو شاہمیر نے اسے آنکھیں دیکھائ تو اس نے ہاں میں گردن ہلائ…
شاہمیر اس سے تھوڑا سا دور ہوا اور کہا…
کیوں دیکھتی تھی مجھے چھپ چھپ کے…؟؟
شاہمیر کے سوال کرنے پہ جب نوشین خاموش رہی. تو شاہمیر نے روب دار آواز میں بولا…
کچھ پوچھا ہے میں نے ؟؟
شاہمیر کی غصہ بھری آواز سن کے نوشین کی آنکھوں سے انسو جاری ہوگئے.. اس نے روتے روتے کہا…
کیوں کے محبت کرتی ہو اپ سے…
نوشین کا جواب سن کے شاہمیر کے لبوں پہ ایک مسکرائٹ اگئ جو نوشیین گردن جھکی ہونے کی.وجہ سے نہ دیکھ سکی…
شاہمیر نے پھر اس سے پوچھا…
کب سے کرتی ہو اور یہ جانتے ہوئے بھی کے میں کیسا لڑکا ہو ماہ. کے ساتھ بھی کلئیر نہی تھا اس کے باوجود بھی…؟؟؟
نوشین نے شاہمیر کی بات پہ کہا…
جب میں نے فرسٹ ٹائم اپکو باسکٹ بال کھیلتے دیکھا تھا.. اور ہم.محبت کسی کے کریکٹر دیکھ کے نہی کرتے جس سے محبت ہوتی ہے اس کی ہر اچھائ اور بڑای سے محبت ہوجاتی ہے…
نوشین کا جواب سن کے شاہمیر لاجواب ہوگیا…
اس نے ہاتھ بڑھا کے نوشین کے آنسو صاف کیہ اور کہا…
شادی کے بعد بھی ایسی ہی کروگی…؟؟
شاہمیر کی بات پہ نوشین نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا اور اور زور زور سے روتے روتے اپنی گردن ہاں میں ہلائ.. تو شاہمیر نے اگے بھر کے اسے گلے سے لگالیا اور اسے لے کے اسی گارڈن میں اگیا…اور اپنے اور ماہ کے بارے میں سب بتا دیا بی جان سے لے کے اپنے پیرنٹس کا ملنا سب.. یہ سب بتا کے جہاں شاہمیر کی انکھوں سے انسو جاری تھے وہی نوشین ک حال بھی ایسا تھا…نوشین نے شاہمیر کے انسو صاف کیہ.اور کہا جو ہوا بھول جائے اسے….
نوشین کی بات پہ شاہمیر نے ہاں میں گردن ہلائ اور اسکی فیملی کا پوچھا مگر جب اسے نوشین نے بتایا کے وہ یتیم یے اسکا کوئ نہی اور ہاسٹل میں رہتی ہے اور پارٹ ٹائم جاب کرکے اپنی اسٹڈی کا خرچہ اٹھاتی ہے.. تو شاہمیر نے بنا دیر کیہ علی کا اپنے فلیٹ پہ قاضی لانے کو کہا اور ساتھ میں شاہین کو بھی اور اسی دن نوشین سے نکاح کرلیا..
جاری ہے.
