Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
ناصر پتہ نہیں کیا کیا بولے جا رہا تھا لیکن شاہ حیدر اپنی اور ماہ کی پہلی ملاقات میں کھو گیا…
(کچھ دن پہلے)
دو سال پہلے شان کی پوری فیملی آسٹریلیا سے پاکستان شفٹ ہوئ تھی.
. حیدر صاحب کا بزنس کئ ملکوں میں پھیلا ہوا تھا..
لیکن دو سال پہلے اپنی جان سے پیاری بیوی کے کہنے پہ اپنا بزنس انہوں نے پاکستان میں شفٹ کرلیا!!
دولت کی ریل پیل کے باوجود حیدر صاحب میں غرور تکبر نام کوئ چیز نہیں تھی۔۔
ہر کس کی مدد کرنا ہر کسی سے اخلاق سے بات سے بات کرنا حیدر صاحب کی شخصیت کا حصہ تھا۔۔
یہ ہی اخلاق انکی بیوی نور کا تھا۔ حیدر صاحب اکثر اپنے جگر کو اپنے دوست کو یاد کرکے افسردہ ہو جاتے تھے۔
یہ ہی حال نور بیگم کا بھی تھا۔۔
یہ ہی سوچ لیے یہ لوگ پاکستان شفٹ ہوئے تھے کے کیا پتہ ان لوگوں کی تلاش ختم ہو جائے اور یہ لوگ اس شخص سے مل سکے۔۔
حیدر صاحب کی دو اولادیں تھی۔
بڑا بیٹا شان جو ہو باہو انکے جگر انکے دوست سے ملتا تھا۔
اس سے دو سال چھوٹی پریشے پیار سے سب پری کہتے تھے۔۔
پری نے حسن اپنی ماں سے پایا تھا۔ ہیزل گرین آنکھیں لمبی پتلی ناک، بیضوی چہرہ, باہر ملک میں رہ کے بھی ان دونوں کی شخصیت میں کوی مغربی ممالک کی کوئ چھاپ نہیں تھی۔۔
شان کا ایڈمیشن حیدر صاحب نے اپنے دوست کی یونی میں کرادیا تھا۔ صرف اسے ضروری فارم جمع کرانے تھے۔۔
مام مام ناشتا جلدی دیں دے۔اخبار پڑھتے ہوئے حیدر صاحب نے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھا اور بولے۔۔۔
صبر بیٹا میری بات ہوگئ ہیں ڈین سے اپ صرف افس جاکے فارم جمع کرادینا۔۔
ارے پاپا ایسا ہو سکتا ہے کے بھائ کوی کام بنا جلد بازی کے کرے پری نے سیب سے انصاف کرتے ہوے کہا۔۔۔
ویسے پری اپس کی بات ہے کم کھاؤں چڑیل وزن دیکھوں اپنا ایسا نا ہو تمھارے لیے کوئ بھالو دیکھنا پرے ۔۔
شان نے یہ بات بول کے اپنی ہنسی دبائ۔۔
پری جو پورے انہماک سے شان کی بات سن رہی تھی بات سنتے ہی انکھوں میں انسوں لے چیخ کے اپنے پاپا کو اواز دی
پاپاااااااااا۔۔
بھائ کو دیکھے مجھے چڑیل اور موٹی بول رہے ہیں۔۔
ٹیبل پہ ناشتا لگاتی نور بیگم نے زور سے شان کے کان کھینچے۔کیوں تنگ کررہے ہو بہن کو؟؟؟
ااااا مام چھوڑے۔۔
اچھا اچھا میری پرنسس شان نے اپنی پری کو گلے سے لگایا اور اسکی نک دبای ااا
بھائ میری ناک سوری یار۔۔
.اوکے مام ڈیڈ اللہ حافظ,۔شان نے ایک دم کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔۔
نور بیگم اپنے بیٹے کو جاتے ہوے دیکھ کے کہی کھوگئ۔۔
اپنے بیٹے کو دیکھ کے انہیں کسی کی یاد آتی تھی۔۔
حیدر صاحب نے جب اپنی جان حیات کو دیکھا تو سمجھ گے کے اج پھر وہ اسے یاد کر رہی ہیں۔
انہوں نے اپنی بیوی کو اپنی بانہوں میں لیا اور انکے ماتھے پہ اپنے لب رکھے۔۔
نور وہ ہمیں ضرور ملینگے انشاء اللہ۔۔
امین!!!نور مسکرا کے حیدر صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
اہم اہم,!!!
مام ڈیڈ میں نے کچھ نہیں دیکھا۔۔۔پری کے بولتے ہی حیدر صاحب کا قہقہ گونجا۔۔
نور بیگم نے پری کے سر پے ہلکی سی چپت دی اور کہا
بدمعاش!!
اوکے بائے سی یو پری کالج کے لیے نکل گی تھی ۔
ایک بلیک کرولا یونی میں اینٹر ہوئ جسمیں سے شان حیدر نکلا۔
بلیک پینٹ بلیک شرٹ ہاف استیوں والی جسس سسے دودھیا کسراتی بازو جھلک رہے تھے اپنے اپ میں مگن وہ اپنی بلیک کرولا سے نکلا کتنوں نے ہی اسے پلٹ کے دیکھا لڑکیوں نے اسے کئ بار پلٹ کے دیکھا لیکن اسے کوئ فرق نہیں پرا کیوں کے اسکی منزل یہ لڑکیاں نہیں تھی.۔
ایکسکیوزمی..!!!!!..
جی!!!!
شان نے ایک لڑکے کو مخاطب کیا!!!
اپ مجھے پرنسپل کا افس بتا سکتے ہیں؟
نیو ایڈمیشن؟؟؟
جی جی !!!
ہائے ایم ناصر۔۔۔ناصر نے مسکرا کے اسکے اگے ہاتھ بڑھایا۔۔
میں شان حیدر!! شان نے بھی مسکرا کے اسکا ہاتھ تھام لیا۔
فرنیڈز!!!
ضرور,!!!
چلو ساتھ چلتے ہیں آفس!!
یو ناصر اور شان کی گہری دوستی ہو گئ لیکن یہ تو انے والا وقت ہی بتانے والا تھا کے ان کے درمیان دوستی کا اعتبار کون کون نبھانے والا تھا یا پھر شاید کوئ ایک اپنی زندگی داؤ پہ لگا گے دوستی کا اعتبار بچانے والا تھا۔۔
وہ افسس سے نکل کے ناصر سے باتوں میں مگن چلا جا رہا تھا کے اچانک راستے میں کسی چیز سے ٹھوکر لگ اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتا کے کسی کے ہاتھوں نے جنکا رنگ دودھیا تھا اور دونوں ہاتھ چوڑیوں سے لبریز تھے اسے کندھوں سے تھاما۔
اپ ٹھیک ہیں ؟
جسے ہی شان نے ایک رومانی اواز پہ نظر اٹھا کے دیکھا تو پلک جپھکانا بھول گیا۔
گہری کالی انکھیں جو کاجل سے لبریز تھی ناک جس میں چاندی کی بالی چمک رہی تھی۔ جو اسکے چہرے کی شان بڑھا رہی تھی۔
عنابی لب جنکو چھونے کی اسکے دل نے خواہش کی تھی.
وہ اسکا بھر پور جائزہ لینے میں مگن تھا۔
پٹیالا گرین شلوار رید لانگ قمیض ہم رنگ ڈوپٹہ ہم رنگ اسکارف کے ساتھ اسکا سکون لوٹ رہی ابھی وہ اسکا اور معائنہ کرتا
ماہ رخ نے اسکو ہلایا اور پوچھا اپ ٹھیک ہو!!
جی جی شکریہ!!
کوئ بات نہیں۔
میں شان اور اپ میں؟؟
ماہ رخ!!!!
اوکے ٹیک کئیر بائے!!!
یے تھی شان اور ماہ رخ کا ٹکراؤ۔۔۔۔
جس نے شان کی زندگی بدل دی۔۔
اسکے بعد کئ بار انکا کلاس میں امنا سامنا ہوا کیوں کے دونوں کا ڈیپارٹمنٹ ایک تھا۔
مگر شان کبھی اسکو اپنے دل کی بات نہیں کہہ سکا کیوں کے ماہ رخ کی منزل کوئ اور تھی ۔
یہ بات شان کو پتا چل چکی تھی۔۔۔
لیکن دل نے کب کسی کی سنی وہ دل کے ہاتھوں مجبور اپنے صنم اپنے محبت کو دور سے ہی دیکھا کرتا تھا۔۔۔
شان شان !!!!
ہاں!!!
کہان کھو گیا چل!!!
ہاں چل۔۔۔۔
#
یار کیا ہوا ؟؟
پھر دادی سے لڑائ ہوئ؟؟
یار تیری دادی کا مسئلہ کیا ہے؟؟
کیوں وہ تمہارے ساتھ ایسا رویہ رکھتی ہیں اور انٹی وہ کیوں خاموش ہیں۔۔
پتہ نہیں چل کلاس کے لیے دیر ہو رہی ہیں۔۔
, نازنین سمجھ گئ کے اج بھی ماہ کچھ نہیں بتائے گی ۔۔۔
وہ دونوں کلاس لے کے نکلے تو نازنین کو یاد ایا کے اسے لائبریری سے بک ایشو کروانی تھی۔۔
ماہ تو کینٹین جا میں ابھی ائ۔
اوکے۔۔
ماہ اپنی بے خیالی میں چل رہی تھی کے کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور دیوار سے لگا دیا۔۔
اس سے پہلے ماہ چیختی کسی نے بھاری ہاتھ اسکے لبوں پہ رکھ دیا۔
ماہ نے جیسے ہی اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا تو اسکی جان میں جان ائ۔
شاہمیر ڈرا دیا۔
شاہمیر اسکے بہت قریب تھا اتنا کے اسکی سانسیں ماہ کے چہرے کا طواف کررہی تھی اسکا ہاتھ ماہ کی کمر پہ تھا۔
شاہمیر کی نظر جیسے ہی اسکے لبوں پہ پری اس نے جھک کے اپنی پیاس بجھانا چاہی ماہ رخ نے اسے خود سے دور کیا اور کہا۔
پلیز شاہمیر شادی سے پہلے نہیں!!!
اوکے ریلکس نہیں کررہا کچھ!!
مگر جس دن اپنی جان کو اپنی جان بناو گا اس دن پورے حق سے سب وصول کرونگا ۔۔۔
یے بات سن کے ماہ کی نگاہیں شرم سے جھک گئ اور دیوار کے اس پار یہ منظر دیکھ کے کسی کی انکھوں میں خون اتر ایا۔۔۔
کلاس کے بعد ناصر کو اپنے ایک دوست سے کام تھا۔۔
یار شان تو رک میں ابھی ایا۔۔۔
اوکے۔۔۔
شان اپنے موبائل میں مگن تھا۔ایسی اسنے نگاہ اٹھائ تو اسے دیوار ک پاس ماہ کے ہونے کا احساس ہوا۔۔
وہ وہاں دیوار کے پیچھے چھپ کے دیکھنے لگا مگر دیوار کے اس پار کا منظر دیکھ کے شان کی انکھوں میں خون اتر ایا۔۔۔
ماہ اور شاہمیر بہت قریب تھے اور جب شاہمیر ماہ کے لبوں کو چھونے لگا یہ منظر شان سے برداشت نہیں ہوا اور وہ رخ موڑ گیا۔۔
دو موتی اسکی انکھ سے نکلے جیسے اسنے بےدردی سے رگڑ ڈالا اور غصہ میں اپنے ہاتھ کا مکا بنا کے دیوار پہ دے مارا دیوار پہ شاید کوئ کیل تھی جو شان کے ہاتھ پہ چب گئ۔۔
۔ مگر نہ تو اسے اپنے درد کا احساس تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے تیزی سے نکلتے خون کی پرواہ ناصر جو شان کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں ایا تھا شان کے ہاتھ سے تیزی سے نکلتے ہوئے خون کو دیکھ کے وہاں تیزی سے پہنچا۔۔
شان یہ کیسے لگی؟؟؟
اتنا خون باقی کے لفظ ناصر ک منہ میں ہی ہ گے کیوں کے وہ بھی دیوار کے اس پار کا منظر دیکھ چکا تھا۔
چل یار چل یہاں سے۔۔ناصر اسے گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گیا۔۔
واہ بھی واہ میں پاگلوں کی طرح تمہیں پوری یونی میں ڈھونڈ رہی ہو اور میڈم یہاں دیوار سے لگ کے عاشقی 3 او مطلب 4 فرما رہی ہے۔۔۔
نازنین شرم کرو کچھ بھی بولتی ہو۔۔ماہ نے اسے انکھیں دیکھاتے ہوئے کہا۔۔
۔۔ یار ماہ یہ اپنی باڈی گارڈ کو تو فارغ کرو۔۔شاہمیر نے نازنین کو دیکھ کے سڑا ہوا منہ بنا کے کہا۔
او ہیلو۔۔۔۔میں کہی نہیں جانے والی سڑے ہوے کریلے۔۔
یوووووو ۔۔۔!!!!!
شاہمیر غصہ میں نازنین کیطرف بڑھا۔۔
اس سے پہلے یہاں ورلڈ وار شروع ہوتی ماہ دونوں کے درمیان اگئ۔
شامیر میں بعد میں ملتی ہوں چلو نازنین,۔۔۔۔
ان دونوں کے جانے کے بعد شاہمیر کے نمبر پے کال ای۔
۔۔اسلام علیکم دادی۔۔ !!!
کیا حال ہے برخودار۔۔۔۔
میں ٹھیک ہو اپ کیسے ہیں؟؟؟
سب چھوڑو یہ بتاؤ اور کتنا وقت لگے گا تمہیں اس لڑکی کو لانے میں ؟؟؟
.بس دادی حضور سمجھے کام ہونے والا ہے۔۔۔
ٹھیک ہے ہم انتظار کررہے ہیں۔
اوکے خدا حافظ۔
اب کیا کرے گا تو شاہمیر کے دوست نے پوچھا جو ماہ کے جاتے ہی اگیا تھا۔۔
بس دیکھتا جا اب اس ماہ کے پر کاٹنے پڑینگے۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
