Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41 Part 2

نور کے منہ سے ناصر کا سچ سن کے نازنین.کی.آنکھیں کھل گئ اور وہ.انکھیں اور منہ کھول کے نور کو دیکھنے لگی…
نازنین کی اس حرکت پہ نور کو ہنسی تو آئ مگر وہ.کمال مہارت سے چھپا گئ…
نازنین نے سب سے پہلے اپنے فیس کے ایکپریشن ٹھیک کیہ اور تھوگ نگلتے ہوئے نور کو دیکھ کے پوچھا…
آنٹی.. اپ..یی..س..بب.مطلب کیسے؟؟؟
ہممم اب آی ہو نہ تم لائن پہ….
ازلان کی برات والے دن جب تم.حماد اور پری کو دیکھ کے اپنے دوست کو نصیحتیں کررہی تھی تمہارے پیچھے کھڑی میں نے سب سن لیا…
اور مجھے فخر ہوگا اگر ناصر میرا داماد بنے گا کیونکہ جو خالی اس لیہ کہ اسکے دوست کا اعتبار اس جو اسکےدوست کا اس پہ .نہ ٹوتے پچھلے دو سالوں سے پری سے خاموش محبت کرتے ہوئے آرہا ہے.. وہ اگے میری پری سے کتنی. محبت کریگا…
نور اپنی بات کرچکی تو نازنین نے کہا…
آنٹی بس کردے جیسے شان نے اپنی دل کی بات ماہ سے نہی کی اور کمال کا حاطم تائ کا رول پلے کرکے اپنی محبت اس نے اس کمینے شاہمیر کی جھولی میں ڈال دی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ.کسی لحاظ سے بھی اسکے قابل نہی..
تو اپ شاید بھول رہی ہیں ناصر بھی کچھ ایسا ہی.کریگا وہ کبھی بھی شان کا اعتبار نہی توڑے گا اپنی.محبت کے پیچھے.. یہ بات اپ بھلے کورے کاغز پہ لکھ کے مجھ سے سائن لے لیں.. دو دونوں دوست ڈافر ہیں..
اخری کی.لائن نازنین نے بولتے ہی اپنی زبان دانتوں تلے دبا لی….
نور نے مسکرا کے اسکا سر ہلایا اور کہا…
شرٹ لگا لو مجھ سے نازنین بیٹا..
ناصر خود مجھ سے اقرار بھی کریگا کہ وہ.میری بیٹی سے محبت کرتا ہے اور بنا بولے اپنے والدین کیساتھ رشتہ بھی لائے…گا…..
نور کے ایسسے فرینکلی انداز پہ نازنین کو بہت خوشی ہوئ اس نے خوش ہوکے کہا…
ڈن آنٹی اگر ایسا ہوا تو جو اپ بولو گی میں.کرونگی…
ہمم چلو ڈن….
اچھا آنٹی اب میں چلتی ہو اب زرا شان کا دیھان رکھیے گا میں ناصر کو کال.کرکے یہاں انے کا بولتی ہو….
اوکے بیٹا.مگر رکو میں ڈرائیور کو کہتی ہو وہ چھوڑ آئ گا تمہیں…..
اوکے آنٹی….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پری شان کے پاس دھیرے دھیرے چل کر آئ اور اس کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا..
تو شان ایک دم چونکا…
پری ارام سے نیچے اسکے برابر میں بیٹھ گئ
مگر پری کو دیکھ کے اس نے فٹافٹ اپنے آنسو صاف کیے اور پھر پری کے بھی صاف کیہ…
اور اپنا سر ہلکا سہ پری کے سر سے ٹکا دیا…..
شان کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہہ نکلے اور اس نے روتے روتے پری سے کہا….

“پری اپنے شان بھائ کے لیہ دعا کرنا بہنیں جب بھائیوں کے لیہ دعائیں کرتی.ہیں تو الللہ فورا سنتا ہے..
تم.دعا کرنا کہ الللہ.تمہارے بھائ.کو سکون دے…
یہ بول کے جہاں شان ہچکیوں سے رونے لگا اور پری کی گودھ میں ہی لیٹ گیا اپنے بھائ کی حالت دیکھ کے پری کی بھی ہچکی بن گئ….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زلیخا پورے راستہ روتی رہی تو نازو نے بھی اسے چپ.نہی کرایا کیونکہ نازو زلیخا کو جانتی تھی. یہ.خالی اج رورہی تھی زلیخا اس کے بعد اس سے زیادہ سنگدل پورے آفریدی مینشن میں کوئ نہی.ہوگا….گاڑی آفریدی مینشن میں داخل ہوئ تو وہاں وہ ڈرائیور پہلےسے موجود تھا جو ماہ کو یونی.لاتا اور چھوڑتا تھا..زلیخا نے ڈرائیور سے پوچھا……..
کیا ماہ.بی بی کو لے آئے ہو؟؟؟؟
جی بی بی جی انکی کال آگئ تھی تو انہیں یونی سے لیہ آائے…
ہممم….
یہ بول کہ زلیخا اور نازو گھر کے اندر داخل ہوئ جبکہ زلیخا کا رخ ماہ کے کمرے کی طرف تھا.
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ جو فون پہ بار بار نازنین کو کال ملا رہی تھی مگر اسکی کال لگ نہی رہی تھی ایک دم دروازہ کھلنے کی آواز پہ چونک کے پلٹ کے دیکھا.. تو زلیخا کمرے کے اندر
آکے دروازہ بند کررہی تھی…
پہلےتو ماہ زلیخا کے اسطرح خاموشی سے اسکے کمرے میں انے پہ حیران ہوئ..
مگر پھر ہمت جتا کے زلیخا سے پوچھا…
ماما کوئ کام تھا تو اپ مجھے بلا لیتی.. میں یونی سے آئ تو اپ نہی تھی نہ نازو چچی تھی کئ گئ تھی اپ دونوں؟؟؟؟؟؟
ماہ کے کیسی سوال کا جوب زلیخا نے دینا ضروری نہی سمجھا.. وہ اکے ماہ کے سامنے اکے کھڑی ہوگئ…
اور پوچھا….
کل کہاں گئ تھی تم.ماہ..؟؟؟؟
زلیخا نے اپنے چہرہ پہ سخت تاثرات لیہ ماہ سے سوال کیا….
ماہ زلیخا کے کیہ اس اچانک سوال پہ.ایک دم بوکھلا گئ اور کہا…
وہ..ماما..نازنین ..کی س. ت. ھ مارکیٹ….. ابھی ماہ کی بات پوری بھی نہی ہوئ تھی..کہ.ایک زور دار چانٹا ماہ کے گال پہ پڑا…جسکی گونج پورے کمرے میں گونجی اور
جسکی شدت ماہ کے چودہ طباق روشن کر گئ…
ٹھپر لگنے سے ماہ کی گردن پہ.زور کا جھٹکا لگا مگر اس نے آنکھوں میں انسو لیہ بے یقینی کی حالت میں اپنی اس ماں کو دیکھا جس نے کبھی اس سے اونچی آواز میں بات نہی کی.تھی اج اس پہ ہاتھ اٹھایا تھا…
تھپڑ مارنے کے بعد زلیخا نے کہا…..
کیا ہوا ماہ رخ بی بی یاداشت واپس آئ تمہاری اپنے اس دماغ میں زور دو ..
زلیخا نے اپنے ہاتھ کی.دونوں انگلیاں اپس میں جوڑ کے ماہ کی کنپٹی پہ رکھ کے اس دو تین بار مارا….
ماما وہ میں.. اس سے پہلے ماہ دوبارہ اپنی کوئ جھوٹی.کہانی سناتی زلیخا کا ایک اور ٹھپر ماہ.کے دماغ سن کر گیا…..
زلیخا نے دوبارہ تھپڑ مار کے ماہ کو کہا
dont call.me mama miss mahrukh…
زلیخا کا ایسا بولنا تھا کہ ماہ کا دل کیا وہ ابھی اسی وقت زندہ درگور ہوجائے…
کل جب شان اور نازنین تمہارے گندگی سے بھرے وجود کو جب بیہوشی کی حالت میں گھر لائے تھے…
ان دونوں نے خوب تم سے دوستی نبھائ خوب تمہارا اعتبار جو ان دونوں پہ تمہیں تھا اسکی لاج رکھی.. اور دونوں نے پرس چھینے کی خود سے بنائ کہانی سے ہم گھر والوں کا دل بہہلایا ہمیں دلوں کو سکون دیا…
مگر کیا ہے نہ ماہ رخ بی بی وہ جو اوپر ہے نہ رب اس سے کوئ بھی کچھ نہی چھپا سکتا…
جب تمہارے دوست نکلے. تو تمہارا موبائل جو غلطی سے یہ پھر اس لیہ گھر بھول گئ تھی تاکہ میرا رب میری آنکھیں کھولے کہ.کس طرح میری بیٹی اپنے یار کا عیاشی کا سامان بن کے اس کا دل بہلانے گئ ہے وہ بھی اپنی ماں سے جھوٹ بول کے…
یہ بولتے ہی زلیخا کی اواز رندھ گئ…
آیا تھا تمہارے عاشق کا فون جسکا نام تم نے ہارٹ کے ساتھ سیف کیا ہے پوچھ رہا تھا تمہاری خیر خیریت…
..
تم غرور تھی ماہ میرا غرور کیوں کی تم نے ایسا..
صحیح کہتے ہیں
“غرور چاہے اولاد پہ ہو دولت پہ یاں پھر حسن پہ ٹوتٹا ضرور ہے اس لیہ میرے رب کو غرور پسند نہی”
بولو ماہ کیا.کرکے آی ہو کل اسکے فلیٹ پہ.کیا کیا…ہے تم.نے.کل کیا اسکا دل بہلایا اپنے کپڑے اتار کے یہ پھر یہ پھر اپنا جسم اس کے حولے کرکے اس سے محبت کرنے کا ثبوت دیا..
کیا کیا اسکے ساتھ بولو ماہ بولو یہ بولتے ہی زلیخا چیخ پڑی اور ماہ کے منہ پہ ٹھپروں کی بارش کردی اج زلیخا شاید ماہ کی جان ہی لے لیتی اگر کمرے کے باہر کھڑی نازو بروقت اکے زلیخا کو نہی تھامتی…
جو زلیخا کے ماہ.کے کمرے میں گھستے ہی اس کے کمرے کے باہر اکے کھڑی ہوگئ تھی..
نازو کو زلیخا کو روکنا تھا کہ زلیخا سکتے کی.حالت میں نیچے زمین پہ بیٹھ کے رونے.لگی اور پاگلوں کی طرح روت روتے نازو کو کہنے.لگی…
نازو ایسی.ہی لڑکیاں ہوتی ہیں جنکی وجہ سے انکا ماں باپ کا سر جھکتا ہے.. ایسی ہی لڑکیاں ہوتی ہے جو اپنے یار کے دل بہللانے کے بعد کوٹھوں کی زینت ہوتی ہے وہ.کوئ.اور ہوتی ہے نازو جو عزت سے رخصت ہوکے اپنے.ماں کے سر پہ اپنی.فرمانبرداری اور مان کا تاج سجاتی ہے یہ تو میرے لیہ صرف اب بدنامی کا ڈھیر ہے نازو بس بہت ہوا…
یہ بول کہ زلیخا نے تیزی سے نازو کا ہاتھ جھٹکا بے دردی سے اپنے آنسو صاف کیہ اور ماہ کے پاس ائ ..
ایک ہاتھ سے ماہ کے سامنے اس نے تیز تیز چٹکی بجائ اور کہا….
کل میرا میرا بیٹا اور میری بیٹی (بہو)ارہیے ہیں ایک.ہفتہ کے اندر اندر اپنے یار کو بولو رشتہ بھیجے ورنہ پھر میں جس سے چاہونگی اس سے تمہاری شادی کرونگی اور ہاں اج کے بعد مجھے مخاطب کرنے کی.کوئ ضرورت نہی.. اپنا کام خود کروگی.تم جب تم.نے مجھے اس قابل نہی سمجھا کہ اپنے دل کی بات مجھ سے اکے کہتی تو میرے نزدیک بھی تم ایک گندگی کا ڈھیر ہو بس…
یہ بول کے زلیخا جانے لگی مگر رک کے ایک دم پلٹی اور کہا….
اگر یہ سڑی ہوئ شکل لے کے گھر میں گھومی. یہ کسی کو بھی شک ہوا کہ اس بند کمرے میں کیا کہانی ہوئ تو اپنے ہاتھوں سے تمہارا گلا دباونگی میں…
یہ بول کے زلیخا کمرے سے نکلی تو ایک افسوس اور غصہ بھری نظر ماہ کے وجود پہ نازو نے ڈالی اور زلیخا کے پیچھے کمرے سے نکل گئ…
کب سے ساکت کھڑی ماہ ایک دم بیڈ پہ بیٹھی اور بیہوش ہوگئ….
¤¤¤¤¤¤¤¤
نازنین گھر میں داخل ہوئ تو اسکا سامنا اپنی خالہ…ساجدہ (خالہ) سے ہوا نازنین کے سلام کرنے پہ انہوں نے اسے دیکھتے ہی منہ موڑ لیا جبکہ وہاں بیٹھے ایک اور نفوس نے.نہ صرف اسکے سلام کا جواب دیا بلکہ مسکرا کےنازنین کی طرف دیکھا بھی…
نازنین اپنے کمرے میں آی اپنی چادر اتار کے فریش ہونے فورا واش روم میں گھس گئ.. منہ ہاتھ دھو کہ وہ باہر نکلی تو اپنے کمرے میں کسی اور کے ہونے کے احساس کے تحت اس نے گردن گھمائ تو حسن اسے دلچسپ نظروں سے گھور رہا تھا.نازنین نے اگے بڑھ کے فورا پنی چادر اوی
تو حسن کو بھی فورا اپنی.پوزیشن کا خیال ایا اور اس نے سنھل کے نازنین سے کہا….
کیا بات ہے کزن جب سے نکاح ہوا ہے تم تو بھول ہی گئ.ہمیں.؟؟؟
حسن کے لہجے کی شوخی نازنین کو ایک آنکھ نہ بھائ مگر فلحال اس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کرکے حسن سے کہا….
حسن بھائ.. بات تو ہماری.پہلے بھی نہی ہوتی تھی اور نہ ہمارے درمیان کوئ ایسا فرینکلی ریلیشن تھا کہ میں اپکو مس کرو…
اور ایک بات اور.کسی کے کمرے میں آنے سے پہلے اجازت لیتے ہیں خاص کر کسی لڑکی.کے کمرے میں انے سے پہلے…
اور پلیز میں ارام.کرنا چاہتی ہو تو پلیز اپ باہر امی اور اپنی خالہ کے پاس جاکے بیٹھے….
نازنین کی باتوں پہ.حسن کا خون تو بہت کھولہ مگر فلحال وہ چاہ کے بھی نازنین کی.کسی بات کا جواب نہی دے سکتا تھا اس لیہ اس نے غصہ سے اسے گھورا اور کمرے سے باہر نکل گیا…
جاری ہے…