Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

[ ] زلیخا پریشانی کے عالم میں نازو کے کمرے میں پہنچی…
[ ] نازو نازو……
[ ] ااور نازو جو کمرے میں تھوڑی دیر کے لیہ ارام کرنے کے غرض سے لیتی تھی. زلیخا کی اواز پہ ایک دم ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی اور تیزی سے زلیخا کی طرف لپکی.. جو پریشان سی اسکے کمرے میں کھڑی تھی….
[ ] کیا ہوا بھابھی اپ اتنی.پریشان کیوں ہے اپ تو ڈنر کے لیہ تیار ہونے گئ تھی..نہ کیا ہوا سب خیریت تو ہے نہ؟؟؟؟؟
[ ] وہ نازو جہانگیر کی.کال ائ تھی وہ.کہہ.رہیے ہیں کہ اج ڈنر کا پروگرام.کینسل ہے. بلکہ.کچھ اچھے سے ڈنر کا انتظام کرو کوئ بہت اسپیشل گیسٹ ارہیے ہیں انکے ساتھ…اللہ اللہ نازو میرے تو ہاتھ پاؤں پھول رہے ہیں اپیشل گیسٹ کا سن کے….
[ ] اور نازو کا دل کیا. زلیخا کی بات سن کے اپنے سر دیوار پہ مار لیہ اس نے زور سے اپنی مٹھیاں اور انکھیں بند کی. اور خودسےکہا..
[ ] کول ڈاؤن نازو کوؤل ڈوان…
[ ] یہ بول.کے نازو نے انکھیں کھولی اور زلیخا کو دیکھا جو پریشانی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی..اس نے زلیخا کو گھورا اور اسکے سائیڈ سے نکل.کے کچن کی.جانب چل پڑی..زلیخا بھی اسکے پیچھے اسکو اوازیں دیتی چل پڑی نازو نے کچن میں جا.کے رات کا.مینیو.کچن میں کام کرتی ملازمہ کو بتانے لگی.
[ ] زلیخا جب کچن میں پہنچی تو اس نے دیکھا ملازمہ نازو کی ہدایت پہ کام کرہی ہے جبکہ نازو ارام سے کچن کی ٹیبل پہ بیٹھی جوس پہ رہی ہے..
[ ] زلیخا کو تو جیسے صدمہ ہوا اسے دیکھ کے وہ چلتی ہوئ نازو کے پاس
[ ] اکے کھڑی ہوگئ…اور کہا..
[ ] نازو میں یہاں اتنی پریشان ہو اور تم ہوکہ مزے سے جوس پی رہی ہو….
[ ] نازو نے پہلے تو زلیخا کو گھورا اور پھر جوس ک گلاس ٹیبل پہ رکھ کہ ایک دم کھڑی ہوئ…اسکے.اگے اپنے دونوں ہاتھ جوردیے اور کہا..
[ ] یہ دیکھے بھابھی میںرے جوڑے ہوئے ہاتھ اللہ.کو مانے یہ.کسی اسپیشل گیسٹ کے انے پہ ڈنر کا احتمام کرنا کونسا مشکل کام ہے.. توبہ توبہ میںری تو جان حلق میں اگئ کیسی ائ.تھی اپ میرے کمرے میں نازو نازو..افففف..
[ ] میں تو اپکو دیکھ کہ سمجھی جیسے اپ مجھے.کسی زلزلے کی خبر دینے ائ.ہیں..
[ ] نازوووووو زلیخا نے صدمہ سے نازو کو ٹوکا..
[ ] کیا نازو.. خدا کے.لیہ بھابھی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ.پریشان ہونا چھوڑ دیں..نازو نے مسکرا کے زلیخا کے گال پہ.ہاتھ رکھ کے کہا تو زلیخا بھی مسکرا گئ اور اسکے ساتھ ڈنر کی تیاری کرنے لگ گئ…..کہ جبھی کچن میں لگے انٹرکوم پہ ازلان کی.کال اگئ فائزہ جو ابھی ابھی کچن میں ائ.تھی .انٹر کام سے بات کرتی زلیخا کی باتیں سننے لگی مگر سن نہ پائ کیونکہ زلیخا نے اچھا بیٹا بھجواتی ہو یہ بول کے انٹر کوم رکھ دیا…فائزہ نے جب اتنا احتمام کرتے دونوں کو دیکھا تو اپنی ماما سے
[ ] پوچھ بیٹھی..
[ ] ماما اج کیا کوئ ڈنر پہ.اراہا ہے.؟؟؟
[ ] ہاں بیٹا اپکے بڑے پاپا کے کوئ اسپیشل گیسٹ ارہے ہیں ڈنر پہ..نازو نے جواب دیا..
[ ] اوہ اچھا..یہ بول کے فائزہ ٹوکڑی میں سے سیب اٹھا کہ وہی ٹیبل پہ بیٹھ کے کھانے لگی.
[ ] نازو نے زلیخا کو غصہ میں کافی بناتے دیکھا تو اپنی مسکراہٹ کو قابو کرکے زلیخا سے پوچھا..
[ ] کیا ہوا بھابھی انٹر کام پہ کون تھا
[ ] اور کس کے لیہ اپ کافی بنارہی ہیں؟؟؟
[ ] نازو جانتی تھی کہ.کافی کس کے لیہ بن رہی ہے مگر پھر بھی انجان بن کے پوچھ رہی تھی کیونکہ افریدی مینشن میں دو ہی.لوگ کافی کے شوقین تھے ایک دلاور اور دوسرا ازلان.اور دلاور تو اس وقت گھر پہ.تھے نہی جبکہ ازلان آج گھر پہ تھا..
[ ] نازو کا ایسا پوچھنا تھا کہ زلیخا پھٹ پڑی..
[ ] ا ور کون ہوگا ازلان اور کون.. ایک تو میں بہت تنگ ہو نازو اس لڑکے کے کافی پیینے سے.. اتنی کافی پیتا ہے کہ.کیا بتاؤ..
[ ] جب ہی تو دماغ نہی چلتا..زلیخا کی بات سن کے فائزہ نے ہلکی سے سرگوشی..میں کہا…
[ ] اس سے پہلے فائزہ سیب کھاتے کھاتے کچن سے باہر نکلتی.زلیخا نے اسکو.روکا اور کہا..
[ ] فائزہ بیٹا یہ کافی زرا ازلان کو دیے انا اور اس سے کہنا کہ گھر میں ہی رہے… اور فائزہ مرتی کیا نہ کرتی ایک ہاتھ میں سیب لیہ دوسرے ہاتھ میں ٹرے میں کافی کا کپ.لیہ ازلان کے کمرے کی طرف چل پڑی……
[ ] ازلان کے کمرے کے پاس رک کے اس نے ایک لمبا سانس لیا اور اپنے ایک پاؤں سے کمرے کا دروازہ کھولنے لگی.کیونکہ کے ایک ہاتھ میں کافی کا کپ تھا تو دوسرے ہاتھ میں سیب.
[ ] جب پاؤں سے دروازہ نہ کھلا..
[ ] تو مجبورا فائزہ نے سیب کو اپنے دانتوں کی مدد سے اپنے ہونٹوں میں دبایا اور کمرے کو لاک گھما کے کمرے کے اندر داخل ہوگئ..
[ ] اور ازلان جو نہا کے نکلا تھا بنا شرٹ پہنےتولیہ سے اپنے بال رگڑتے ہوئے وہ فائزہ کو اپنے روم میں دیکھ کے ایک دم چونکا..
[ ] منہ.میں سیب دبائے دونوں ہاتھ کافی کی ٹرے تھامے جسکو وہ بہت احتیاط سے اندر لا رہی تھی تاکہ ٹرے میں رکھے کپ.میں سے کافی نہ.چھلکے..بالوں سے نکلتی ایک دو لٹے جو اسکے چہرے کو چھو رہی تھی.اور سب بڑی بعد اس کی انکھوں میں لگا چشمہ جسے وہ ازلان کو اپنی چشمش شیرنی لگتی تھی. ازلان نے توول بیڈ پہ.اچھالا اور اسکے
[ ] سامنے اکے کھڑا ہو گیا.اور اسکو تکنےلگا .فائزہ کمرے میں اکے جیسی ہی اگے بڑھی تو ازلان کو بنا شرٹ کے اپنے اپکو تکتے پایا.. اس نے ازلان کو بنا شرٹ کے دیکھا تو فورا اپنی انکھیں بند کرلی فائزہ کی اس حرکت پہ.ازلان کے
[ ] لبوں پہ.ایک مسکراہٹ اگئ
[ ] فائزہ جو اس انتظار میں تھی کہ وہ جلدی سے کافی اسکے ہاتھ سے لے تاکہ وہ.فورا اس کے روم سے نکلے.مگر ازلان نے جو کیا. اس پر فائزہ کا دل کیا.کہ ٹرے میں رکھا کافی کا کپ ازلان کے سر پہ.انڈیل دیے.. مگر ایسا کرنے کا وہ خالی سوچ سکتی تھی….
[ ] ازلان نے جھک کے اسکے لبوں میں دبایا سیب دانتوں سے اپنے لبوں.میں دبایا..ایسا کرنے سے فائزہ نے پٹ اپنی.انکھیں کھولی..کیونکہ ازلان کے ایسے سیب لینے سے ازلان کا گال تو فائزہ کے گالوں سے ٹچ ہوا ہی تھا سونے پہ.سہاگہ.ازلان کے لب بھی فائزہ کے لبوں سے تکرا گئے..
[ ] فائزہ نے خونخوار نظروں سے ازلان کو گھورا جو اسی جگہ سے سیب کھا رہا تھا اور ساتھ ساتھ فائزہ.کو گھور بھی رہا تھا..جس جگہ سے فائزہ نے سیب اپنے دانتوں میں دبایا تھا..
[ ] فائزہ کو غصہ تو بہت ایا مگر وہ ابھی ازلان کے روم میں اسی سے پنگا لینے کا سوچ نہی سکتی تھی..اس لیہ.اسنے کافی ٹیبل پہ رکھتے رکھتے بولا..بری امی نے کہا.ہے کہ.گھر میں ہی رہیے گا کوئ اسپیشل گیسٹ ارہے ہیں بڑے پاپا کے…
[ ] ازلان نے ایک ہاتھ اپنا سینے پہ باندھے جبکہ دوسرے ہاتھ سے سیب کھاتے کھاتے فائزہ سے نارمل نداز میں پوچھا..
[ ] اچھا کون سے اسپیشل گیسٹ آرہے ہیں.؟؟؟
[ ] اور ازلان کے سوال پہ.فائزہ کے چہرے پہ.ایک شیطانی مسکراہٹ اگئ جسے اسنے مہارت سے چھاپا اور کہا..
[ ] ہاں مجھے دیکھنے اراہے کیونکہ بڑے پاپا کا اراداہ بدل گیا. اپنے نالائق بیٹے
[ ] سے میںری شادی کرنے کا یہ بول کہ فائزہ نے کمرے سے ڈور لگا دی.
[ ] فائزہ کی بات سمجھ میں اتے ہہ ازلان کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ اگئ.مگر اگلے ہی پل وہ سنجیدہ ہوا اور اپنے ہاتھ میں پکڑے سیب کو غصہ میں ڈسبن میں ڈال دیا…¤¤¤¤¤¤¤¤πππ¤
[ ] جہانگیر اور حیدر بیٹھے باتیں کرہے تھے کہ نور اگئ اور اسکے پیچھے ملازمہ چائے کی ٹرے لیہ ائ جس میں چائے کے ساتھ ساتھ اور بہت سے لوازمات تھے..
[ ] وہ تینوں ابھی چائے ہی پی رہے تھے کہ پری اور شان تیار ہوکے نیچے اگئے .. .تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد وہ لوگ افریدی مینشن کی طرف نکل.پڑے..شان کو کیونکہ افریدی مینشن ک راستہ پتا تھا اس لیہ کار اس نے ڈرائیو کی ابھی وہ.لوگ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ جہانگیر نے زلیخا کو.کال کی..
[ ] کال پک ہوتے ہی جہانگیر نے زلیخا سے پوچھا..
[ ] ہاں زلیخا ڈنر ڑیدی ہوگیا؟
[ ] جی جہانگیر اپ کب تک پہنچینگےاور اپ نے بتایا نہی کہ وہ اسپیشل گیسٹ کون ہیے اور نہ سرپرائز کا بتایا…..
[ ] زلیخا کے سوال پہ.سوال کرنے پہ.جہانگیر نے مسکرا کے زلیخا کو کہا.
[ ] ارے میری جان بس تھوڑا سا اور صبر کرلو.. اوکے گھر اکے بات کرتا ہو یہ بول کہ جہانگیر نے کال کاٹ دی..
[ ] جبکہ جہانگیر کو کال پہ زلیخا کو جان بولنے پہ برابر میں ڈرائیونگ سیٹ پہ.بیٹھے شان کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ..
[ ] جہانگیر نے جب شان کو مسکراتے دیکھا تو پوچھا..
[ ] اپ کیوں مسکرارہے ہو شان.. ؟؟؟
[ ] بڈی اپکا کال پہ.بات کرنے کے انداز پہ.ایک بات تو سمجھ اگئ ..
[ ] اور وہ کیا جہانگیر نے پوچھا..
[ ] یہی.کہ پاپا نے رومینس اپ سے ہی سیکھا ہے وہ ماما سے بھی اسی طرح کال پہ تو کیا گھر میں بھی ایسی بات کرتے ہیں..
[ ] شان کہ بولنے.پہ.جہاں جہانگیر اور پیچھے بیٹھے حیدر کا قہقہ گاڑی.میں گونجا وہی نور نے شرم سے اپنا منہ کھڑکی کی طرف موڑ لیا..
[ ] جبکہ پری نے کوئ خاص دیھان نہی دیا کیونکہ وہ اپنی.موبائل میں مصروف تھی….
[ ] ہاں شان یہ تو ہے جہانگیر نے مسکراتے مسکراتے شان کو کہا….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] زلیخا نے نازو کو بتایا کہ.جہانگیر پہچنے والے ہیں …
[ ] ہاں بھابھی ڈنر ریڈی ہے میں بھی فریش ہونے جارہی ہو اپ بھی ہوجائے…
[ ] ہاں نازو تھیک ہے یہ بول کہ وہ دونوں.اپنے.اپنے کمروں کی طرف چل پڑی..
[ ] زلیخا نے اپنے.کمرے میں جاتے ہوئے ماہ.اور ردا کو بھی یڈی ہونے کو کہا….
[ ] ازلان تیار ہوکے نیچے لانج میں ایا
[ ] تو فائزہ پہلے سے ہی لانج میں لیٹی ٹی وی دیکھ رہی تھی..
[ ] ڈارک اور لائٹ بلو. کنٹراس کے سوٹ میں ہلکے پھلکے میک اپ.کے ساتھ وہ شان سے صوفے پہ برجمان تھی اور اج اس نے اپنے بالوں کو ازاد چھوڑا ہوا تھا جو لمبے ہونے کہ وجہ سے صوفے سے نیچے لٹک رہے تھے….
[ ] ازلان نے ایک ابرو اچکا اسے دیکھا اور دل میں سوچا…
[ ] یہ.کس خوشی میں اتنی تیار ہے..؟؟؟
[ ] ازلان اہستہ سے چلتا ہوا اسکے پاس اکے کھڑا ہوا اور اسے گھورنے.لگا..
[ ] فائزہ کو اپنے اوپر جب کسی کی نظروں کی تپش کا احساس ہوا تو لیٹے لیٹے جب اس نے اپنی گردن اوپر اٹھائ تو ازلان کو گھورتے پایا.ازلان کے ایسے گھورنے پہ فائزہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوگئ..
[ ] ایک دم کھڑے ہونے سے اسکا ڈوپٹہ اسکے پیروں میں اکے گر گیا.. ازلان.کی نظروں کی تپش فائزہ کو اپنے جسم.کے آر پار محسوس ہوئ.اس سے پہلے فائزہ جھک کے اپنا ڈوپتہ اٹھاتی.ازلان نے جھک کے اسکا ڈوپٹہ اٹھایا اور ہلکے سے قریب اکے اسکے سر پہ.اڑیا اور قریب اکے صرف اتنا کہا..
[ ] فائزہ دلاور تمہیں اس روپ میں دیکھنے کا حق صرف ازلان جہانگیر کا ہے اور خاص کر تمہارے یہ بال. تو ائندہ تمہارے یہ بال.میں بلاوجہ کھلے نہ دیکھو جاؤ اور انہں باندھوں فورا..
[ ] یہ بول کہ ازلان جیسی ہی اگے بڑا…فائزہ نے ہلکی سی سرگوشی کی.
[ ] .کھڑوس خاماخائ میں باندھوں…
[ ] جو کہ ازلان کے کانوں سے ٹکراگئ تھی…
[ ] کچھ کہا تم.نے ازلان نے اچانک پلٹ کے فائزہ سے پوچھا…
[ ] نن….ہیی.تو…..
[ ] فائزہ نے یہ کہہ کہ ایک دم اوپر اپنے کمرے کی طروف ڈور لگائ اور ازلان کی نظر صرف فائزہ کے بالوں کی طرف تھی جو ہلتے ہوئے اور خوبصورت لگ رہے تھے…
[ ] ازلان نے ایک لمبی سانس لی اور کہا بھی تو صرف اتنا
[ ] “ظالم”¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نازو نے فریش ہوکے پستئ ااور ریڈ کلر کا کاٹن کا نفیس سا سوٹ پہنا ابھی وہ ڈرائر سے اپنے بال سکھارہی تھی کہ کمرے کے اندر اتے دلاور نے اسے دیکھ کے کہا..
[ ] ماشاءاللہ.اج کیا جان لینے کا ارداہ ہے میری جان کا یہ بولتا ہوئے دلاور نازو کے قریب ایا اور اسکو کمر سے تھام کے اپنے سے لگایا اور اسکی.گردن پہ.اپنے لب رکھ دیے اور پھر مسکرا کے ائینہ میں اپنا اور اسکا عکس دیکھا. نازو نے ائینہ میں جب اسکا اور اپنا عکس دیکھا تو مسکرا کے ڈرائیر نیچے رکھا اور گھوم.کے اپنے دنوں ہاتھ دلاور کی
[ ] گردن میں ڈالے اور اسکے گال پہ پیار کرکے کہا..
[ ] زیادہ رومینٹک ہونے کی ضرورت نہی
[ ] جہانگیر بھائ کہ کوئ گیسٹ انے والے ہیں تو اسی وجہ سے میں تیار ہورہی.ہو..اب اپ بھی جلدی سے ریڈی ہوجائے جہانگیر بھائ گیسٹ کو لیہ کے پہنچنے والے ہونگے…
[ ] اوہ ہو دلاور نے نازو کو ہلکے سے چھوڑا تو وہ پھر تیار ہونے لگی..
[ ] لیکن یار بھائ نے تو مجھے ایسا کچھ نہی بتایا بلکہ اج تو وہ دوپہر سے ہی آفس سے نکلے ہوئے ہیں.اج ایک اہم.میٹنگ تھی انکی تو پھر یہ.کس کو لارہے ہیں بھائ. دلاور نے سوچتے ہوئے کہا.
[ ] جسکو بھی لارہے ہیں جب ائینگے تو دیکھ لینا ابھی اپ جلدی سے فریش ہوکے ریڈی ہوجائے. یہ بول کے نازو جیسی ہی جانے.لگی دلاور نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا اور کہا..
[ ] میڈم ایک کس تو بنتی ہے ابھی..
[ ] یہ بول کے جیسی ہی دلاور نازو پہ جھکا نازو نےاپنا پاؤں زور سے دلاور کے پاؤں پہ مارا..
[ ] اااا نازو بہت ظالم ہو..
[ ] ہاں ہو شرم کرلے کچھ… کچھ دنوں میں بیٹی کی شادی ہے اور ایک اپ ہیں جنکو ہر وقت رومینس کی پڑی رہتی ہے.. یہ بول کے نازو کمرے سے چلی گئ اور دلاور نے کہا.. چلو بیٹا دلاور اب تم.تیار ہوجاؤ کیونکہ کچھ نہی ملنے والا…تمہیں…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] گاڑی جیسی ہی افریدی مینشن روکی
[ ] سب سے پہلے نور گاڑی سے اتری…
[ ] سب کے اترنے کے بعد سب افریدی مینشن کے اندر داخل ہوئے.. گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے ایک بار نور لڑکھڑائ.تو ساتھ چلتے حیدر نے اسے تھاما اور انکھوں ہی انکھوں سے تسلی دی..
[ ] جہانگیر کے ساتھ سب نے اندر قدم رکھا تو سب ہی لوگ موجود تھے کہ جبھی نور کی نظر نازو پہ پڑی.. اور اس نے نازو کو اواز دی…
[ ] نازو بھابھی….
[ ] اور نازو جو عدنان کو ڈانٹ رہی تھی کہ سیدھے بیٹھو سارے کشن خراب کردیے کہ جبھی اسکے کانوں میں
[ ] اپنی پیاری نند کی اواز گونجی جسکے ساتھ زیادہ وقت تو نہی گزا تھا.مگر ایک انسیت سی ہوگئ تھی..
[ ] نازو کے ہاتھ سے ایک دم کشن چھوٹ کے نیچے گرا اور اسنے دروازہ کی طرف دیکھا جہاں جہانگیر بھائ کیساتھ اور کوئ اسپیشل گیسٹ نہی بلکے نور اور حیدر کھڑے تھے..نور تیزی سے اگے بڑھی اور نازو کے گلے لگ کے روپڑی..نازو کی.بھی انکھوں سے انسو جاری.ہوگئے.نازو نےنور کو اپنے اپ سے الگ کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے انسو پونچے اور کہا..
[ ] نور نور تم کہاں چلی گئ تھی.نور…لانج بیٹھے سب ہی اس سین کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے جبکہ ماہ نے جب نور کو دیکھا تو ایک دم چونک گئ کہ شان کی.امی اسطرح کیسے کہ جبھی اسکی نظر پیچھے کھڑے شان پہ گئ جو اسی کو ہی گھور رہا تھا اور جب اس نے پری کو دیکھا تو وہ صرف اپنی ماں کو روتا دیکھ کے ایک بار پھر رونے میں مصروف تھی…..ازلان بھی اس سین کو سمجھنے سے قاصر تھا..وہ بھی پریشان سا کھڑا تھا کہ جبھی وہ سب زلیخا کی اواز کی طرف متوجہ ہوئے جو مصروف سے انداز میں اپنا ڈوپٹہ سیٹ کرتے ہوئے نیچے اتر رہی تھی .اور ساتھ میں بول رہی تھی ماہ پاپا کو کال تو کرو کہان. زلیخا کی اخری بات اس کے منہ میں ہی رہ گئ جب اس نے بات کرتے کرتے ایک دم سامنے دیکھا جہاں نور نازو کے ساتھ لگ کے کھڑی تھی..زلیخا ایک دم لڑکھڑائ کہ جب ہی جہانگیر نے اگے بڑھ کر اسے تھاما اور اسکے کان کے پاس ہلکی سی سرگوشی کی..
[ ] کیسا لگا میرا سرپرائز جان.
[ ] زلیخا نے پہلے بے یقینی سے جہانگیر کو دیکھا .اتنے میں نور اگے بڑھی. اور کہا..
[ ] بھابھی… نور کا ایسا بولنا تھا کہ زلیخا اسکے گلے لگ گئ پھوٹ پھوٹ کے روپڑی اور اسکا چہرہ چھو چھو کے کہنے لگی..
[ ] نننن…..نور تم زندہ ہو. نن نور اور حییی حیدر. ابھی وہ اگے کہتی کہ حیدر اس کے سامنے اگیا..اور کہا
[ ] دیکھ لیی بھابھی سالوں پہلے اپنے جو مجھ پہ اعتبار کیا اج اپکے سامنے میں سرخروں ہو یہ کہتے ہوئے حیدر کی انکھوں سے بھی انسو جاری ہو گئے.حیدر نے یہ بات اتنی ہلکے سے کہہی کہ خالی زلیخا اور نور ہی سن پائے….
[ ] حیدر کی بات سنتے ہی زلیخا نے ایک بار پھر نور کو اپنے سینے سے لگا لیا…
[ ] نور دھیرے سے زلیخا سے الگ ہوئ اور نازو سے کہا..
[ ] بھابھی ڈودی کہاں ہے… ؟؟؟
[ ] اوپر ہے نور تیار ہو رہا ہے.. میں بلا کے لاتی ہو.یہ بول کے نازو جیسی ہی اگے بڑھنے لگی نور نے نازو کو روک لیا.
[ ] بھابھی مجھے بتائے اپکا کمرہ میں خود. جاؤنگی..
[ ] نور کی بات پہ نازو مسکرائ اور اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا……
[ ] نور نے مسکرا کے نازو کو دیکھا اور اوپر کمرے کی طرف چل پڑی..
[ ] کمرے میں پہنچ کے جب نور نے کمرے میں دیکھا تو دلاور ڈریسنگ پہ کھڑے ہوکے اپنے بال بنا رہا.تھا کہ جبھی نور نے اسے اواز دی..
[ ] کیا حال ہے ڈوڈی….
[ ] اور دلاور جس نے سالوں بعد اپنی بہن کی
[ ] اوز سنی..
[ ] اواز پہ اسکے ہاتھ سے برش چھوٹ کے نیچے گرا اور جب اس نے ڈریسنگ میں نور کا عکس دیکھا تو ایک جھٹکے سے پلٹا اور تیزی سے نور کے گلے لگ گیا..اور دونوں بہن بھائ پاگلوں کی طرح رونے لگے
[ ] نور نے ہچکی لیتے لیتے دلاور سے پوچھا..
[ ] ڈو… ڈو. ڈودی. بابا جان ڈوڈی بابا جان اوردلاور سمجھ گیا کہ.اب نور کو سنبھالنا مشکل ہوجاِئے گا..
[ ] دلاور دھیرے سے نور سے الگ ہوا اسکے انسو صاف کیے اور کہا.
[ ] نور تم کہاں چلی گئ تھی نور یہاں سب بکھر گیا نور سب بکھر گیا…
[ ] اور دلاور کی بات پہ نور نے چونک کے دلاور کو دیکھا مگر بولی کچھ نہہہی
[ ] اگر اپ دونوں بہن بھائیوں کا میل ملاپ ہوگیا ہو تو نیچے چلے.. نیچے بچوں کو بھی انکی پھپھو سے ملوانا ہے..اور نازو کی اتی اواز پہ وہ دونوں اک دم چونکے.. اور ہنس کے نازو کو دیکھا جسکی انکھوں میں بھی انسو جھلملا ریے تھے..اور وہ دونوں نازو کے ساتھ نیچے اگئے……
[ ] ان تینوں کے نیچے اتے ہی.سب باری باری نور سے ملے… کیونک نور کے اوپر جاتے ہی جہانگیر نے سب کو بتا دیا تھا کہ نور اور حیدر انکے کیا لگتے ہیں اور یہ بھی بتایا کہ ان کی دادی انکی پھپو کی شادی.اپنی.مرضی سے کرنا چاہتی تھی جبکہ میں نے اپنی مرضی سے نور کی شادی حیدر سے کروائ بس اس وجہ سے دادی نے انکی پھپو کا گھر انا بند کردیا تھا..
[ ] ردا تو اپنی پھپو کی فین ہوگئ اس نے اور عدنان نے پری کو اتنا ہنسایا کہ اسکی نکھوں میں انسو اگئے ..
[ ] جبکہ دوسری طرف ازلان شان کو اپنے کزن کے روپ میں دیکھ کے بہت خوش ہوا.تو ادھر پری بھی ماہ.اپی فائزہ اپی کرتی نہی تھک رہی تھی
[ ] نور اور حیدر نے جب اپنے بچوں کو اپنوں کےدرمیان خوش دیکھا تو ان دونوں کوایک سکون سا ہوا کہ اب ان.کے بچے اکیلے نہی ……
[ ] سبھی باتوں میں مصروف تھے کہ جبھی نور نے کہا…
[ ] جہانگیر بھائ اماں جان کہاں ہے..
[ ] اماں جان کے نام پہ ماحول میں ایک دم سنجیدگی چھاگئ..جو نور اور حیدر نے محسوس کی.. جہانگیر نے نور سے کہا..
[ ] نور ابھی تو اماں جان سوگئ ہونگی تم صبح مل لینا…
[ ] نہی بھائ میں ابھی ملونگی.اپلیز..
[ ] جہہانگیر نے ڈودی کی طرف دیکھا تو اس نے بھی ہاں میں گردن ہلائ.. تو سبھی اماں جان کے کمرے کی طرف چل پڑے.. جہنگیر نے سب بچوں کو کمرے کے باہر ہی روک دیا.اور باقی سب بڑے اندر کی طرف بڑھ گئے….
[ ] اندر داخل ہوکے جب نور نے اپنی اماں جان کو دیکھا تو ایک بار پھر
[ ] نور کی انکھوں سے انسو جاری ہوگئے.کمرے موجود ملازمہ جو ہر وقت اماں جان کی خدمت کے لیہ موجود تھی جہانگیر نے اسے کمرے کے باہر بھیج دیا..
[ ] نور نے جب اماں جاں کو دیکھا تو اسے وہ کہی سے بھی حویلی والی اماں جان نہی لگی جنکی شخصیت کے روپ سے ہی کتنے ملازم ڈرتے تھے
[ ] اب تو اماں جان کی نہ تو وہ شخصیت رہی نہ ہی صحت…..
[ ] نور کو اپنی اماں جان کو ایسے دیکھ کے بہت تکلیف ہوئ وہ اہستہ سے چلتی ہوئ اماں جان کے پیروں کے پاس ائ اور نیچے بیٹھ کے نور نے اماں جان کے پیروں پہ اپنا سر رکھ کے رونے لگی..
[ ] اماں جان کو جب اپنے پیروں پہ کچھ گیلے پن کو احساس ہوا تو انہوں نے انکھیں کھول دیکھا تو کسی کو اپنے پیروں کی طرف جھکا پایا..
[ ] کسی خیال کےتحت جب نور نے اپنا سر اونچا کیا..تو اماں جان کا بے ڈھڑک ہاتھ اپنے دل پہ گیا..
[ ] نوررررر میری بچی یہ بول کے اماں جان زور زرو سے رونے لگی نور تیزی سے اٹھ کے ان کے گلے لگ گئ..اماں جان نے دیوانہ وار نور کا چہرہ چومنا شروع کردیا ..
[ ] نور میری بچی.کہاں چلی گئ تھی تو نور روتے روتے اماں جان نے نور سے شکوہ کیا..
[ ] نور تیرے بابا نہی رہے نور. اخری سانس تک وہ تجھے بلاتے ..رہے..
[ ] کمرے کے اندر ہر شخص کی انکھییں نم تھی..
[ ] نور اماں جان سے الگ ہوئ اور کہاں..
[ ] اماں جان معاف کردے اب میں اگئ ہو اب کبھی اپ کو چھوڑ کے نہی جاؤنگی..نور سے نظر ہٹھا کہ جب اماں جان نے اپنے کمرے میں نگاہ گھمائ تو نظر حیدر اور زلیخا پہ گئ زلیخا کو کمرے میں دیکھتے ہی امآں جان۔
[ ] ہتھے سے اکھڑ گئ اور زلیخا کو بولی..
[ ] تم.ہمارے کمرے میں کیا کرہی ہو دفعہ ہوجاؤ یہاں سے پھر کوئ چال چلنا چاہتی ہو.اسکے ساتھ مل کے..اماں جان کا دوسرا اشارہ حیدر کی طرف تھا.پھر ہماری نور کو ہم سے الگ کروگی تم دفعہ ہوجاؤ یہاں سے ..
[ ] اماں جان کی بات سن کے جہاں جہانگیر نے اپنی انکھہں کرب سے بند کہ وہی حیدر کا بھی کچھ یہی عالم تھا.حیدر تو ایک جھٹکے سے باہر نکل گیا..جبکہ نازو اور ڈوڈی بھی کمرے سے نکل گئے..
[ ] نور نے حیرت سے پہلے زلیخا کو دیکھا اور پھر اماں جان کو.. اور اس سے پہلے وہ اماں جان کو کچھ بولتی زلیخا نے اسکا ارادہ بھانپ کے اسے خاموش رہینے.کو کہا اور خود کمرے سے نکل گئ…..
[ ] نور تھوڑی دیر اماں جان کے پاس بیٹھ کے انہیں ارام کا بول کے کمرے سے باہر اگئ..نور کے کمرے سے اتے ہی.جہانگیر نے ملازمہ کو اندر بھیجتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں میڈیسن دے کہ سلا دے…
[ ] اماں جان کا جو رویہ زلیخا کے ساتھ تھا.اسکو لےکے نور کے دل میں بہت سے سوال تھے جنکا جواب صرف زلیخا ہی.اسے دے سکتی تھی..نور نے کمرے سے نکلتے ہی پہلے حیدر کو دیکھا جو اماں جان کے رویہ سے دلبراشتہ ہوکے
[ ] کمرے سے باہر نکل گئے تھے..
[ ] حیدر نور کو بچوں کیساتھ ہی اسے ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھے دیکھ گئے.. زلیخا اور نازو مل کر کھانا لگا رہی تھی..
[ ] بچوں کے سامنے نور زلیخا سے کوئ سوال نہی کرسکی مگر حیدر سے اس نے موقع دیکھ کہ اماں جان کے رویہ کی.معزرت کی جسکو حیدر نے کوئ بات نہی نور مجھے پتہ.تھا امآں جان کا رویہ ایسا ہی ہوگا کہہ کہ قبول کرلی.. …
[ ] افریدی مینش اج پھر اس گھر کی بیٹی کے انے سے جی اٹھا. ہنسی خوشی سب کھانے میں مصروف تھے..
[ ] مگر کوئ تھا جو اس خوشی کے ماحول کو زیادہ عرصہ تک برداشت نہہی.کرسکتا تھا ..
[ ] اوپر عالم صاحب کے پورشن میں کھڑا نفوس جو کب سے انکھوں میں غصہ لیہ نیچے جھانک رہا تھا..نیچے سے اتی ہنسی خوشی کی اوازیں اسکا دل جلا رہی تھی. جو بے صبری سے نور کے انے کا نتظار کررہاتھا..
[ ] تاکہ پھر ایک بار اسکی زندگی میں ہلچل مچا سکے
[ ] اسنے اپنے موبائل سے کسی کو کال کی اور کہا..
[ ] بی جان نور حیدر کیساتھ افریدی مینشن پہنچ چکی ہے….
[ ] جاری ہے..