Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

[ ] مریم عمران #قسط نمبر 12
[ ] وہ دونوں.کینٹین پہنچی تو دونوں وہی بیٹھے تھے…
[ ] نازنین نہ ماہ کو اشارہ کیا.. دونوں ان کی ٹیبل پہ.ای .نازنین نے ناصر کو بولا..
[ ] کیا یاں ہم بیٹھ جاےے.
[ ] ناصر اور شان نہ.ایک دوسرے کو دیکھا……
[ ] شان نہ.بولا بیٹھ جاے اگر اپکی فرینڈ کو برا نہں.لگےے…
[ ]
[ ] ارے نہں نہں…
[ ] دونوں کے بیٹھتے ہی…ناصر نے سولایاں نظروں سے نازنین کو دیکھا.اور نازنینن نے اسے انکھوں ہی انکھوں میں خاموش رہنے کو کہا…..
[ ]
[ ] وہ شان اصل میں ماہ رخ کو تم سے بات کرنی تھی..
[ ] اور شان جو کافی کاگھونٹ پینے لگا تھا ایک دم چونکا…..
[ ] کیا کہا نازنین کس کو بات کرنی ہے؟؟؟؟؟؟
[ ] ماہ رخ.کو….
[ ] اوہ تو بولے اپکی دوست میں سن رہا ہو..
[ ] شان…
[ ] اور پہلی بار شان نہ اپنا نام اسکے منہ سنا بی خودی میں وہ انکھیں بند کر گیااور اسی وقت اسنے دل سے دعا کی کہ کاش یہ ساری زندگی ایسی ہی پکارتی رے..
[ ] جی……
[ ] کیا اپ ..
[ ] میرے دانس پاٹنر بنے گے……
[ ] یہ سن کہ شان نے ہلکی سی سرگوشی کی.کہ.کاش لائف پاٹنر بھی.بنا لے..اسکی سر گوشی اور کسی نہ سنی ہو یہ نہں لیکن ناصر نے ضرور سن اور سنتے ہی.اسکو کوک.پیتے ہوے پھنڈا لگ گیا…
[ ] کیا ہوا ناصر ؟؟؟؟
[ ] are you al right…
[ ] ہاں.ہاں وہ.ایک دم حلق میں لگ گی…..ناصر نہ ماہ.کا جواب دیا لیکن شان سمجھ گیا کہ اسے کیا ہوا تھا….
[ ] ماہ نے پھر شان سے پوچھا….
[ ] اپ نے جواب نہں دیا…
[ ] مجھے کوی اعتراض نہں..
[ ] مگر اپ تو شامیر کی پاٹنر تھی نہ….
[ ] ہاں.لیکن وہ ا نہں سکے گا گاوں سے کوی.ایمرجنسی ہےے….
[ ] ہممممممم.
[ ] تو اپکے پاٹنر کو پتہ.ہے کہ.اپ.میری پاٹنر…ہے میری بولنے پہ.ایک دم ماہ.نے اسے دیکھا…
[ ] اور ماہ.کہ.ایسے دیکھنے پہ.شان نے فورا اپنی.بات پلٹی..
[ ] میرا مطلب ہے اپکا پاٹنر..
[ ] نہں ابھی تو نہں اس کو بس میری جیت سے مطلب ہے…
[ ] مطلب اپ چاہے کسی کی.بھی پاٹنر بنو اسکو پرواہ نہںن..
[ ] ماہ.سمجھی یہ.نہئں سمجھی.اسکی بات لیکن اسکی بات کا مطلب نازنین اور ناصر سمجھ چکے تھے…
[ ] اوکے.اپ مجھے بتا دیں کہ ریہرسل کب سے اسٹرٹ ہے میں ریدی ہو…
[ ] اوکے اپ میرا نمبر لکھ لے..نمبر دینے کہ بعد جب ماہ جانے لگی تو شان نے اسے اواز دی..
[ ] ماہ.ایک منٹ…
[ ] جی…
[ ] پاٹنر چااہے لائف کا ہو یہ دانس کا.. اعتبار کے بغیر پاٹنری ممکن نہں..
[ ]
[ ] سوری شان.میں اپکی.بات کا.مطلب سمجھی نہں
[ ]
[ ] پرانی باتیں بھلا کہ کیا ہم دوست بن کے یہ.کمپیتیشن جیتے اگرر..
[ ] اور شان نے اپنا ہاتھ اگے کیا..اور کہا..
[ ] مجھ سے دوستی.کروگی..
[ ] اور ماہ نے.مسکرا کے اسکا یاتھ تھام.لیا
[ ] اور ہاں میں گردن ہلای..
[ ] یاں یہ چاروں دیسائڈ کرری تھے ریہرسل کی ٹائمنگ….
[ ] اور دور کہی کسی.کہ.کیمرے نے شان اور ماہ.کا ایک دوسے سے مسکرا کے ہاتھ تھامنا کلک کیا.اور ایک شیطانی مسکراہت لیے اگے بڑھ گیا..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ اپنی فرینڈ سے باتیں.کرتی.ہوی اراہی تھی…
[ ] جب اسکی فرینڈ نے.اسے.کونی.مار کہ.کہا.
[ ] وہ سامنے دیکھ تیرا کزن ایا ہی اج تو لے.نے.
[ ] فائزہ نے اسکے کہنے پہ سامنے دیکھا..
[ ] ازلان.وائٹ قمیز شلوار پہنے انکھوں پہ بلیک گلاسسز لگاے…اسی کو دیکھ رہا تھا
[ ] .یار ویسے فائزہ تیرا یہ کزن ہے بڑا لش پش…
[ ] ہمممممم..
[ ] یار اگر سنگل ہے تو میری بات کر نہ…
[ ] فائزہ نے.اسکو غصہ سے دیکھا..سوچنا.بھی نہں ورنہ.ائندہ کچھ سوچنے کہ.قابل نہں رہیے گی…
[ ]
[ ] اوہ ہو..
[x]
[ ] تو فائزہ میڈم نے عشق کو رستہ دے.ہی.دیا.اپنی.لائف میں…
[ ] بلکل وہ گانا ہے.نہ..
[ ] کونسا؟؟؟
[x] ل
[ ] اکے.دنیا میں بھی اگر پیار نہ کیا تو کیا کیا…😜😜😜😜😜..
[ ] اوہ محترمہ.گانہ.بھی.گانے لگ گی…
[ ] اود دونوں.ہنستی ہوی گیٹ سے باہر اگی..
[ ] اوکے چل تو عاشقی نبھا…
[ ] میں چلی بھای اگے.. اوکےباےے…
[ ] فائزہ چلتی.ہوی ازلان کے پاس ای..
[ ] اپ کیسے اج ؟؟؟
[ ] کیوں تمہیں کہیں جانا تھا؟؟؟
[ ] نہں…
[ ] اور ازلان کا.دل.کیا.کہ.جھوٹ پہ.اسکا چشمہ توڑ دے…
[ ] وہ ڈراءیور کو کام.تھا .تو مجھے ویسے بھی اس طرف انہ تھا.
[ ] اوہ…
[ ] گاڑی.کی خاموشی کو ازلان کی.اواز نے توڑا…
[ ] فائزہ ؟؟؟؟
[ ] جی.فائزہ.نے اسکی اواز پہ سر اٹھایا..
[ ] جی بولے..
[ ] وہ.م..ی.یہ.ک…
[ ] کیا.ہوا ازلان کچھ کہنا ہے.؟؟؟؟..
[ ] ہاں وہ کہ.
[ ] ابھی وہ اپنی بات بولتا اس سے پہلے اسکےکہ.موبائل پہ کال.انے لگی..
[ ] جو تھی تو سم والوں.کی.طرف سے مگر فائزہ نے ظاہر ایسہ کیا..جیسے اسکے کسی bfکی ہو..
[ ] ایک منٹ ازلان…
[ ] ہاں بولے عامر…
[ ] اور ازلان.کا یہ سن کے کہ.فائزہ کسی لڑکے سے بات کرہی ہے.
[ ] اپنے ہاتھ کی.گرفت اسٹیرنگ پہ.اور سخت کردی جس سے اسکے ہاتھ کی.رگگین.اور واضح.ہونے.لگی..
[ ] فائزہ نے جب چور انکھوں سے ازلان کے ایکسشریشن دیکھے تو اور باتوں کو مکھن لگانا شروع کیا….
[x]
[ ] ہاں.میں اج ماما سے بات کرلونگی.
[ ] پھر اپ بھیج دیے گا اپنی فیملی کو .
[ ] اوہ تو یہ.کل.والاہے ازلان نے سوچا..
[ ] اور تبہی اچانک.اسنے فیصلہ.کیا..
[ ] اور غصہ میں فائزہ کو بولا…
[ ] ایک.منٹ کے.اندر اندر کال.کت کرو فائزہ.
[ ] کیوں ؟؟؟؟
[ ] میںنے کہا ہے کرو..وہ اتنت غصہ میں دھاڑا..کہ دو منٹ کے لیے فائزہ دڑ گی…
[ ] اسنے ایک دم گاڑی روکی….
[ ] گاڑی روکنے پہ فائزہ نہ جب دیکھا.کہ یہ رستہ تو گھر کا نہں تو اسکو اچانک خوف نے ان گھیرا..مگر ازلان کے اگلے سوال نے اسکا خوف دور کیا..
[ ] کون ہے یہ عامر؟؟؟
[ ] وہی جس سے میں محبت کرتی ہو….
[ ] فائزہ کو نہں پتہ.تھا کہ.ایسا بولنا اسکو کتنا مہنگا پڑنے والا ہے…
[ ] اسنے ایک جٹھکے سے.فائزہ کو اپنی طرف کھینچا..
[x] ا
[ ] فائزہ ایک دم اسکے سینہ سے االگی..
[ ] ازلان نے اسکا چشمہ اتارا..
[ ] اور بولا..
[ ] ان انکھوں میں .میں اج کے بعد صرف اپناعکس دیکھو اج کے بعد جس کسی سے بھی تم عشق فرما رہی ہو دو منٹ کہ.اندر اندر اسسے اپنے دل.کا باہر کا راستہ دیکھاو.ورنہ.اسنے اپنی انگلی.اسکی.وارن.کرنے کے انداز پہ دیکھای..
[ ] بعد میں مجھ سے شکوہ نہں کرنا.. فائزہ نے سوچا کہ.ایسے اکسااونگی تو اج تو یہ بول ہی دے گا
[ ] مگر جو ہوا وہ تو فائزہ نے خواب میں بھی نیں سوچا تھا…..
[ ] کیوں اور میں ایسا کیوں کررو..میں اس سے محب فائزہ اپنی بات پوری.کرتی اس سے پہلے ازلان نے اسکو لبوں.کو اپنے لبوں میں قید کرلیا.اور جب اسے چھوڑا.تو فائزہ کو اپنے لبوں پہ.کچھ گیلا گیلا محسوس ہوا.جب اسنے اپنی.انگلی پہ چھو کے دیکھا.تو اسکی.انگلی پہ.خون تھا…
[ ] اب سمجھ ای یہ دوبارہ سمجھاو..
[ ] فائزہ کو ایک دم غصہ اگیا.. اس نے ایک.کرارا تھپڑ ازلان کے منہ.پہ دے مارا
[ ] اپکی.ہمت کیسی ہوی میں محبت کرونگی جہاں.میرا دل ہوگا… وہی شادی کرونگی.جہاں دل کرے گا تم. کون.ہوتے ہو مجھ پہ.حکم چلانے والے کس حق سے تم.نے مجھے چھوا..
[ ] فائزہ.کہ ازلان کے اس رویہ سے اسکو دلی تکلیف ہوگی.اسکو لگا شاید اس نے غلط انسان سے محبت کرلی
[ ] (مگر فائزہ کو کون سمجھاے کی.مرد جس عورت سے سچی محبت کرتا ہے اسے کسی اور کا ہونے نہں دیتا پھر چاہیے موت یہ زندگی مے سے کسی ایک کو چن نہ.پڑے.)
[ ] ازلان تو اسکا تھپڑ کھا کہ مسکرارہا تھا..
[ ] میں کون ہو میرا کیا حق ہے. یہ تو میں جب تم سے نکاح کرونگا. پورے اصولوں سے سمجھاونگاا
[ ] اور ایک بات اس لپسٹک کا ٹیسٹ اچھا نہں ہے ائندہ یہ والی نہں لگانا…
[ ] بس فائزہ کی برداشت ختم….
[ ] اسنے غصہ میں اسکا.کالر جکڑ لیا..
[ ] میں مرنہ.پسند کرونگی تم سے نکاح نہں.میری زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی کہ میں نے تم سے مححح. اس سے اگے وہ.کچھ نہیں بولی. اور اسکی.انکھوں.میں انکھیں ڈال.کہ.اسکا کالر چھوڑا….
[ ] ازلان نے اسکی بنا چشمہ کی.انکھیں دیکھ کہ دیوانہ ہوگیا.اور دوبارہ اسکو پکڑ کے اسکی انکھیں چوم ڈالی..
[ ] دور رہو مجھ سے فائزہ ایک دم چیخ پڑی….
[x]
[ ] اسکی انکھیں کالی تھی یہ سرمئ یہ ازلان سمجھ نہں پایا..
[ ] اوکے اوکے انکھیں صاف کرو اور گلاسس پہنو میری چشمش شیرنی..
[x]
[ ] عامر جو کوئ بھی ہے اسے منع کردو کہ.دور رہے تم سے تمہاری صرف میجھ سے شادی ہوگی…
[x] .
[ ] فائزہ نے افسوس سے اسے دیکھا. اور یہ سوچنے لگی کہ کاش تم بول دیتے تم صرف میری ہو کاش بول دیتے پیار سے کہ.فائزہ میں بہت محبت کرتا ہو تم سے پلیز کسی اور کا ہاتھ نہں تھامو..
[ ] لیکن افسوس…ازلان کی اس دھمکی نے ایک بار پھر غصہ.میں بول.پڑی..
[ ] (یہ حقیقت ہے عورت غصہ میں صرف اپنا نقصان کرتی ہے..)
[ ] اور یہ فائزہ نے کیا جو اگے جا کے اسکی زندگی جہنم بنانے والا تھا..
[ ] نہں کرونگی جو کرنا ہے کرلو…
[ ] ازلان نے غصہ میں اسکے بالوں کو مٹھی میں جکر لیا.تکلیف کے باعث اسکی انکھوں سے انسو انے لگے…
[ ] مجھے مجبور نہں کرو کہ میں وحشی بن جاو فائزہ..
[ ] ابھی اسسی وقت تم.پہ اپنی چھاپ چھوڑ سکتا ہو پھر دیکھتا ہو کون عامر تمہں اپنا تہ.ہے
[ ] .اور فائزہ نی بےیقینی سے اپنے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جو کہی سے بھی اسکا بچپن کا ساتھی نہں لگ رہا تھا..جو ہر دم اسکے اگے پیچھے گھومتا تھا.. جو اسکے چشمہ.کا اس سے زیادہ خیال رکھتا تھا..
[x] .
[ ] یہ.تو کوی اور ازلان ہے…..ا(اب فائزہ.کو کون سمجھاے کہ.اگر مرد کو ضد دلاو تو پھر انجام.کے لیے بھی.تیار رہو..)ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا اور گاڑی اسٹارٹ کردی…
[ ] ازلان کو دکھ ہورہا تھا اسے دیکھ کہ.مگر اگر اج وہ اگر یہ سب نہں کرتہ تو فائزہ کو وہ.کھو دیتا..
[ ] مگر وہ بھول.گیا..کہ جو کتاب انکھوں کہ سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے اسی کی.لکھای ہمیں سمجھ نہھی اتی..
[ ] اگر ازلان کون ہے عامر اس بات کی پہلےے خود تصدیق کرتا تو اسے رشک ہوتا اپنی قسمت پہ کے عامر تو کوی.ہے ہی.نہں یہ سب تو فائزہ کا ڈرامہ تھا تا کہ.ازلان اپنی دل.کی بات زبان پہ.لاے..
[ ] مگر اج جو ازلان نے کیا اسس سے فائزہ کا اعتبار ہی نہں اسکی محبت بھی ختم.ہو گی…
[ ] حلیا درست کرو اپنا گھر انے والا ہے اور میری بات.کو دھمکی.مت سمجھنا میں کر کہ بھی دیکھا دونگا..
[ ] گاڑی گھر کے اگے رکتے ہی.. ازلان نے فائزہ کو دیکھا جو روتے روتے اپنی انکھیں اور چشمہ صاف کرہی تھی..
[ ] جھٹکے سے اتر گی.اور گاڑی.کا دروازہ زور سے بند کرکے چلی گی…
[x]
[ ] میری چشمش شیرنی.ازلان نی ہلکی مسکراہت کے ساتھ سرگوشی کی
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ نے اپنے کمرے میں اتے ہی.ابپنا چشمہ غصہ میں دیوار پہ دے مارا.ڈریسنگ کی ساری چیزیں بیکھیر دی.اور گھٹنوں کے بل.بیٹھ کہ.چیخ کے کہا
[ ] تم سے محبت کرنا میری سب سے بڑی غلطی تھی ازلان تم نے اج میرا مان میرا اعتبار میری روح تک کو چھلنی کردیا…میں تمہیں کبھی معاف نہں کرونگی کبھی نہں…اور روتے روتے وہی سو گی..
[ ] (تم.نے ہی ہنسی دی تھی تم.نے ہی رولایا ہے..
[ ] کیا پیار میں سوچا تھا کیا پیار میں پایا ہے..)
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] حیدر کی رات کے پہر انکھ کھلی تو دیکھا کہ.نور کھڑکی کے پاس کھڑی ہے.. اس نے ٹائم دیکھا تو.3.بج رہے تھے….اور وہ سمجھ گیا.کہ.اج وہ پھر اس رات کے واقع کے بارے مے سوچ رہی تھی..
[ ] وہ چلتا ہوا اس تک ایا اپنا چہرہ اس کے کندھے رکھا اور دونوں ہاتھ.اسکے کمر پہ رکھ کہ.اسکو اپنے قریب کیا..
[ ] کیا ہوا. جان. حیدر.؟؟؟؟؟
[ ] کچھ نہہں
[ ] ادھر دیکھو میری طرف اسنے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور اسکا انکھوں میں دیکھا.
[ ] پتہ ہے نہ.مجھ سے جھوٹ نہی بول سکتی..کیا ہوا بتاو..
[ ] حیدر اگر اس رات ہم.پکڑے جاتے تو ہمارا کیا حال ہوتا..
[ ] مگر نور دیکھو اللہ.نے ہمیں نہ صرف بچایا بلکہ زندہ بھی رکھا…
[ ] پتہ نہں حیدر زلیخا بھابھی کے ساتھ امں جان نے بی جان نے کیا سلوک.کیا ہوگا..
[ ] کچھ نہں ہوا ہوگا انہں وہ.اپکا بھای ہے نہ جہانگیر بلکل مجنوں ہے اپکی بھابھی کا..
[ ] جیسے میں اپکا…..
[ ] اللہ حیدر اپ نہں سدرھینگے..
[ ] بلکل.نہں اجاو فٹافٹ سونے ورنہ.بھر میں سچ مے بگڑ جاونگا..
[ ] .اف حیدر اجائے میں تو چلی سونے.بہت ظالم ہو نور سچ میں..
[ ] اور حیدر نے نور کو تو سلا دیا مگرخود جاگتا رہا اور اپنے اللہ سے یہہی دعا کرتا رہا کہ .میرا جگر اور اسکا پیار بلکل سلامت ہو….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
_
[ ] دلاور کے دو بییٹے تھے افندی.اور افریدی..
[x] ا
[ ] دونوں بیٹوں کی شادی انہوں نے اپنے.قریب کے دوست کی بیٹیوں سے کردی….
[ ] امنہ اور بانو
[ ] امنہ.کی شادی افندی صاحب سے ہوی.ان کے چار بچے تھے تنویر. جنید. صبا اور شاہین.
[ ] بانو امنہ سے کہی.زیادہ خوبصورت اور خوب سرت تھی.امنہ کو اپنی.اس بہن سے شروع سے خار تھی.اور بانو نے امنہ کو اپنی ماں کی.حیثیت دی تھی.ہر بات میں امنہ سے مشورہ ہر بات میں امنہ.امنہ کرنا جب تک دلاور صاحب کی.بیوی زندہ تھی تب تک تو امنہ نے اپنے کوی پر نہں نکلے مگر انکے.جانے کہ بعد نہ صرف گھر الگ ہوے بلکہ جایداد بھی. یہ بات دلاور صاحب سے برداشت نہ ہوی.اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے..
[ ] افندی صاحب نے اپنے ہی کاروبار تک رہے اسی میں ترقی کی لیکن افریدی صاحب نے اپنے کاروبار کو نہ صرف برھایا.بلکہ اپنی حصہ.کی حویلی.کو بھی جدید طرز کا.نقشہ دیا….
[ ] بس امنہ بیگم.کو یہ سب برداشت نہں ہوا…
[ ] اور وہ اندر ہی اندر اپنی بہن سے حسد کرنے لگی.وہ.لالچ میں اتنی اندھی ہوگی کہ انہوں نے اپنے بچوں اپنے شوہر کو بھی بدظن کردیا تھا.ان.کی نگاہ اپنی بہن کی جائیداد پہ تھی جو ایک ہی صورت میں انہں ملتی اگر انکی دونوں بیٹیاں شادی ہوکے وہاں جاتی اور انکی بیٹیی یہاں اتی.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماں اپنے خالہ سے بات کی.نور جہاں کی میرے لیے…
[ ] امنہ بیگم جو اپنے کمرے میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی.ایک دم جنید کی امد پہ چونکی..
[ ] اے بھای زرا انسان بنو. کرلے گے بات پہلے یہ بتاو..
[ ] تم باز نیں اوگے..اپنی حرکتوں سے جو تمھاری شہر میں جاری ہے…
[ ] اگر تمہارےبھای اور باپ کو پتہ چل گیا تو ہمارا بنا بنایا کھیل بگڑ جاے گا…ابھی کچھ دنوں میں صبا کی شادی ہے.. ہم پوری کوشش کرینگے کہ.شاہین کو بھی ڈولی.میں بٹھا دیں….
[ ] مگر اگر کسی کو بھیننک لگ گی تمہارے شہر کی.حرکتوں کی تو پھر مجھ سے امید نہں رکھنا..
[ ] ارے اماں اپ ہیں نہ مجھے پتہ ہے کہ اپ سب سے زیادہ مجھ سے پیار کرتی ہیں یہ بول کہ.وہ انکی گود میں لیٹ گیا….
[ ] ارے میرا بچہ..
[ ] امنہ.بیگم نے اسکے ماتھے کا بوسہ.لیا..
[ ] ایک تم اور صبا ہی تو مجھے سمجھتے ہو باقی تنویر اور شاہین تو بلکل الگ ہیں….
[ ] ہ. چلے میں چلتا ہو کل شہر بھی جانا ہے……
[ ] اچھا جاو اللہ حافظ
[ ] (ایسی مائیں ہوتی حو بچو کی غلط باتوں میں انکا ساتھ دیتی ہے اور بعد میں پچھتاتی ہیں.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[x]
[ ] شاہین یونی کی سنسان جگہ پہ اکیلی.بیٹھی تھی.کہ جب کسی نے اسکی انکھوں پہ ہاتھ رکھا.اور بولا.پہچانو..
[ ] عمیر میں تمھیں تمہاری سانسوں سے بھی.پہچان سکتی ہو….
[ ] وللہہ اتنا چاہتی ہو مجھے.اور وہ اسکے برابر میں بیٹھ گیا..
[ ] ادھر دیکھو شنو.(شاہین کو عمیر پیار سے شنو بولتا تھا…)
[ ] کیوں اداس ہو..؟؟؟
[ ] عمیر دو سال ہوگے ہیں ہمیں ایک ساتھ مگر ابھی تک.ہم ایسی ملتے ہیں…کب تک اخر تمہں پتہ ہے امی نے.صبا اپی کے ساتھ میری بھی شادی کا خالہ.کو بول دیا..جہانگیر جو اس دفعہ اےگا تو میری بھی شادی ہوجاے گی..یہ بول.کہ وہ رو پڑی..
[ ] اچھا ادھر دیکھو میری طرف.
[ ] شاہین نے انسو بھری انکھوں سے اسکی طرف دیکھا..
[ ] بس کچھ ٹائم اور پلیز تمہے پتہ ہے میرا کوی نہں سواے ایک نانو کے.میں جاب کی تلاش میں ہو یار بس جیسی ہی ملے گی میں خود اپکے گھر رشتہ لاونگا..
[ ] تب تک تم جہانگیر سے بات کرنے کی کوشش کرو. تم بول رہی تھی نہ.کہ.وہ بھی.اس بچپن کی منگنی پہ راضی نہں.. تو پھر بات کرکے دیکھو کیا پتہ وہ یماری مدد کرے..
[ ] ہم.میں کوشش کرتی ہو اس سے بات کرنے کی
[ ] چلو ٹھو اب چلاو کینٹین چلتے ہیں. ہممم جان ہو میری موت منظور ہے لیکن تم سے دوری نہں.
[ ] اور دور کھڑا وقت اور قسمت نے ان دونوں کی باتوں پہ صرف روےےے.
¤¤¤¤
[ ] رات کو کھانے.کی.ٹیبل پہ.سب بیٹھےتھے سواے فائزہ کہ..
[ ] ارے نازو یہ فائزہ.کہاں ہے شام سے کہی دیکھی.نہن ابھی بھی کھانا کھانے نیں ای…
[ ] ہاں بھابھی میں نے دو بار اسکا دروازہ بجایا مگر کھولا نہں اس نے شاید سو رہی ہوگی تھکن کی وجہ سے..
[ ] ارے
[x]
[ ] ہاں بچی پڑھتی بھی تو.ہے..
[ ] یہ.گفتگو سن کہ ایک.منٹ کے.لیے ازلان کا ہاتھ رکا. یہ بات کسی اور نے محسوس کی.ہو یا نہں کی ہو ماہ نے ضرور کی.ازلان نے جیسے ہی اپنے اوپر کسی کی.نظروں کی.تپش محسوس کی فورا نگاہ اتھا کہ سامنے دیکھا تو ماہ اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی ازلان نے خاموشی سے نگاہ جھکا لی…اور ماہہ سمجھ گی.کہ ضرور کچھ.ہوا ہے..
[ ] …….
[ ] جاو ردا اپنی.کو بلا کے لاو..
[ ] اسکی کوی ضرورت نہئ.تای میں اگی.ہو..
[ ] ازلان نے اسے بہت غور سے دیکھا..
[ ] روتی انکھیں جو بنا چشمہ.کے تھی سادے سے بلیک سوٹ میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی..
[ ] ارے فائزہ اپی…
[ ] .اپکا چشمہ.کہاں گیا.یہ عدنان تھا جو جانتا تھا کہ اسکی اپی دنیا چھوڑ سکتی ہیے چشمہ نہں…
[ ] ارے ہاں.فائزہ تم.اج بنا چشمہ.کے کیسے.نازو نے اسے دیکھ کے بولا…
[ ] ماما توٹھ گیا تھا چشمہ.ہاتھ سے گر کے پاپا اسنے بلاول صاحب کو بولا..
[ ] جی بیٹا..
[ ] مجھے.کل ڈاکٹر کے پاس لے چلیے گا مجھے کانٹکٹ لینس بنوانے ہیں اور ازلان کا دل.کیا کہ کاش کل کا وقت واپس جاے اور وہ.اپنی غلطی سدھار لے.کیوں کہ.اسسے پتہ.ہے.کہ فائزہ بنہ چشمہ کے نہں رہ سکتی اسے سب نے.کتنی بار کہا.کی چشمہ ہتا کہ لینس لگالو مگر وہ.ہمیشہ یہی بولتی کہ.i love my glassess
[ ] اور ازلان سمجھ گیا کہ یہ صرف اسی.کی وجہ سے ہوا کیوں کہ.کل اس نے اسے میری چشمش شیرینی بولا.تھا…
[ ] فائزہ کے لینس والی بات پہ.سب کو حیرت تو ہوی.مگر کسی نے.کچھ کہا نہں..
[ ] تھیک ہے بیٹا اپ کل چل چلنا یونی کے بعد
[ ] نہں پاپا میں کل یونی نہں جاونگی
[ ] اسکے ایسے بولنے.پہ سب نے چونک.کے دیکھا..
[ ] کیونکہ.فائزہ اپنی پڑھای کو لے.کہ بیت سیریز تھی..
[ ] اوکے بیٹا جیسی اپکہ.مرضی..سب نے.زیادہ اسکے وجہ نہں پوچھی اور سب کو لگا شاید اسکی طبیعت تھیک نہں…
[ ] مگر ماہ کو پورا پورا شک ہوا کہ ضرور اسکے بھای نہ.کوی کارنامہ.انجام.دیا..
[ ] کھانے سے فارغ ہوکے سب اپنے اپنے.کمروں میں چلے گے..ا
[ ] ازلان لان میں واک کرہا تھا جب اسے اپنے پیچھے کسی کے ہونے کا احساس ہوا..اسنے پلٹ کے دیکھا تو ماہ.دو کافی کے.مگ لےکے کھڑی تھی
[ ] ایک کپ اسنے ازلان.کی طرف بڑھایا اور کہا.اب بتانا پسند کروگے کہ.اج کیا کیا اسکے ساتھ….اور ازلان نے ماہ.کو سب سچ بتانے کا فیصلہ.کیا…
[ ] جاری ہے..
[ ]