Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

[ ] جی بولو مس اپکو کیا بولنا ہے مییرے پاس ٹایم نہں…
[ ] یہ بول.کہ شان پھر اپنی چیزیں سمیتنے لگا..
[ ] اور شان کہ اس اٹیٹیوڈ پہ نازنین کا دل.کیا کہ یہ ڈیسک ہے اسکے سر پر مار دے..
[ ] نازنت نے غصہ سے باہر کلاس کی طرف دیکھا جہاں وہ تینوں اسکو سوری کہنے کا اشارو کر رہے تھے..جب نازنین کچھ نہں بولی تو شاہ نے اسکی طرف دیکھا جو باہر کی طرف دیکھ رہی تھی.. جیسیے ہی شاہ نے باہر کی طرف دیکھ تو وہ تینوں فورا پیچھے ہوے لیکن شاہ ماہ کا ڈوپٹہ دیکھ چکا تھا..اسلے اس نے سوچا کیوں نہ اس بلبٹوڑی کو مزہ چکھایا جاے…
[ ] مس نازنین اپ بولینگی یہ اسی طرح میرا ٹائم ضائع کرینگی…..
[ ] شاہ نے تھوڑے بھرم سے کہا…
[ ] جی جی..
[ ] وہ..م.. ہ کہ….
[ ] شاہ.نے سوچا یہ.اج بلبٹوڑی اتی معصوم کیسے بن گی.
[ ] نازنین.نے ایک.لمبی سانس لی.اور فٹافٹ بولنا اسٹارٹ کیا…
[ ] وہ.میں اپسے کینٹین والے واقع کے.لیے سوری بولنے ای ہو اور وہ.جو اپ کل چھپ.کے ہماری باتیں سن رہے تھے اسکے.لیے بھی سوری….
[ ] نازنین نہ.ایک سانس میں سب کہ دیا..
[ ] اوہ.ہیلو میڈم مجھے کوی شوق نہی بیکار کی گفتگو سن نے کا وہ تو اپ بول ہی تنا لاوڈ رہی تھی کہ مجبورا ..میرے کانوں.کو اتنی بےوسری اواز سننی پڑی..
[ ] اب کا کہنا.کا کیا مطلب ہے میری اواز اچھی نہں..
[ ] بلکل.شاہ نے ایک ادا سے کہا…
[ ] بس نازنین کی.برداشت یہی تک تھی..
[ ] تم.قابل.ہی نہی ہو سوری کہ وہ تو میں ہی پاگل تھی کہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ.کل.کچھ زیادہ ہی بول دیا لیکن مجھ سسے تو کل واقعی غلطی ہوگی جو تمہاری شان میں میں نے.کم قصیدہ پڑھے مجھے تو پوری.ایک کتاب لکھنی تھی جسکا. نام ہوتا. سرور شاہ دا ناگ..
[ ] اس سے پہلے نازنین اور کچھ کہتی باہر کھڑی ماہ کی.ہمت جواب دے گی..
[ ] وہ.ایک دم اندر ای اور ساتھ میں شان اور ناصر بھی اندر اے..
[ ] نازنین ماہ نے اسے زور سے پکارا.
[ ] ہ.کہ.ایسے پکار پہ جہاں نازنین نے اسے دیکھا.وہی شاہ .شان اور ناصر نے بھی ماہ.کو دیکھا.جو غصہ میں نازنین کی طرف بڑھ رہی تھی…
[ ] ناصر نے جب ماہ کو اتنے غصہ میں دیکھا تو قریب کھڑے شان کے کان میں سرگوشی کی.
[ ] ابے اسکا غصہ تو بہت خطرناک ہے بیٹا شان تو بچ کہ رہنا ویسے ہی بہت مشکلوں سے تیری طرف سے معملہ.کلیر ہوا ہے.. ناصر کہ.اسطرح بولنے پہ شان نے اسے گھور کہ دیکھا…
[ ] نازنین تم سے میں نے کہا تھا کہ سوری کرو جاکہ مگر تم.تو الٹا اور بدتمیزی کر رہی ہو.. ماہ نے غصہ سے نازنین کو بولا..ماہ.کا ایسا بولنا تھا کہ نازنین کی انکھوں سے انسو جاری ہوگے…
[ ] لو بس شروع ہوگیا تمہارا ڈرامہ..
[ ] شاہ نے اشارے سے ماہ.کو چپ رہینے کو کہا اور اہستہ.اہستہ چلتا ہوا نازنین کی طرف ایا…
[ ] نازنین جو نیچے منہ کرکے رونے میں مصروف تھی.اپنی پاس کسی کہ ہونے کہ احساس سے ایک دم اپنا چہرہ اوپر کیا..
[ ] اور بس شاہ نے جب یہ کالی سیاہ دو بھیگتی انکھیں دیکھی تو اسکے دل کی دنیا ہل گی..شاہ نے فرصت سے نازنین کا جائزہ لیا..
[ ] جوڑے میں قید بال. جن سے ایک دو لٹے نکل کہ اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھی..گلابی مگر پتلے ہونٹ گول چہرہ اور اخر میں اکے اسکی نظر اسکے تل پہ تک گی جو ٹھوڑی کے اوپر تھا..سادے سے لیمن اور وائٹ کنٹراس سوٹ میں نازنین شاہ کا دل.لے گی….
[ ] شاہ نے ہلکی سی سر گوشی..
[ ] بلبٹوڑی تو اچھی خاصی خوبصورت ہے..
[ ] شاہ نا نازنین سے بولا….
[ ] نازنین کسی کہ بولنے پہ.اگر سوری کی تو ایسی سوری مجھے نہں چاہیے.جو ہوا سو ہوا ایندہ کوشش کرونگا کہ اپکے سامنے نہ او میں کل.ہی پاپا کو بول کہ یہاں کوی اور ٹیچر کا ارنجمیٹ کروا دونگا..
[ ] اور ماہ تم.میری وجہ سے اپنی دوستی خراب نہں کرو ویسے بھی دوست قسمت والوں کے ہوتے ہیں مجھ سے پوچھو دوستی کی.قیمت جسکا کوی دوست نہں..
[ ] یہ بول.جے جیسے ہی شاہ جانے.لگا .نازنین نے اسے اواز دے کہ روکا.
[ ] اورچلتی ہوی اسکے پاس ای…
[ ] سوری شاہ مجھے واقعی اپ سے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی اور یقین کرے میں یہ.سوری دل سے بول رہی ہو کسی کہ.کہنے پہ نہں…
[ ] نازنین کہ.چپ ہونے.پہ شاہ ایک دم.پلٹا…
[ ] تھیک ہے میں ایک شرت پر اپکی سوری ایکسپٹ کرونگا….
[ ] کیسی شرت نازنین نے پوچھا….
[ ] وہ یہ کا.اپ چاروں کو مجھ سے دوستی.کرنی پڑھے گی.اور سب کو مجھے میرے نام سے بلانا پڑے گا….بولو منظور ہے…
[ ] ہاں منظور ہے… چاروں نے ایک ساتھ کہا.سب کہ چہرے پہ ہی مسکراہٹ تھی..
[ ] نازنین نے جیسی ہی ماہ.کی طرف دیکھا تو غصہ میں جانے لگی تو ناصر نے ماہ.کو اشارہ کیا
[ ] اور ماہ کو پتہ تھا کہ نازنین کو کیسے منانا تھا..
[ ] ماہ کی اواز پہ ایک دم.نازنیں کے قدم روکے. جو زور زرو سے ناصر جو بول.رہی تھی..
[ ] ارے ناصر میں نے تو سوچا تھا کہ اج نازنین کو بریانی کھلاونگی اپنے پیسوں سے لیکن نازنین تو ناراض ہے.شاہ اور شان نے جب نازنین کی بات سنی تو بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی.. نازنین رخ موڑے کھڑی تھی.ماہ سمجھی اس بار وہ سچ میں ناراض ہوگی مگر نازنین کی.اگلی بات پہ نہ صرف ماہ.کی غلط فہمی دور ہوی بلکہ ان چاروں کا قہقہ گونجا…
[ ] اور نازنین جسکی کمزوری بریانی تھی. ماہ کہ بولنے پہ بول پڑی..
[ ] خالی بریانی سے میرا گزارا نہں کوک اور برگر بھی کھاونگی ….
[ ] اور ماہ.نے بھاگ کے اسے پیچھے سے ہگ کیا..بریانی کی دشمن ناراض تو نہں اب… تجھ سے ناراض رہ سکتی ہو.نازنین نی ایک ادا سے کہا…..
[ ] وہ 5 اب کینٹین میں بیٹھے تھے جب ماہ.نے نازنین سے بولا…
[ ] یار اج مارکیٹ چلینگے یونی.کے بعد میں مما.کو بول.کے ای.ہو پرفامس کے.لےسوٹ لے نہ ہے…
[ ] یار تو ابھی چلتے ہین کیونکہ اب کوی کلاس نہن جلدی جاینگے تو جلدی فارغ ہوجاہنگے…نازنین نے بولا…
[ ] ہاں یا یہ بھی ہے…
[ ] ماہ.اپ جب سوٹ لے لو تو مجھے سوٹ کا کلر ٹیکس کر دینا تا کہ میں بھی سیم لے لو شان نے ماہ سے کہا..
[ ] أوکے شان
[ ] ..کب ہے تم.لوگوں کا کمپیٹیشن؟؟؟؟
[ ] شاہ نے پوچھا…
[ ] یار دو دن بعد ہے ناصر نے جواب دیا…..
[ ] اوہ یار میں تو نہں اسکونگا…
[ ] کیوں نازنین نے ایک دم پوچھا…
[ ] اصل میں پڑسوں مجھے اہنا پاسپوڑٹ روینیو کرانے جانا ہے تو..میں کیسے اونگا….
[ ] ارے میری اور ماہ کی پرفامنس تو 12 بجے کے بعد ہے.شان نے کہا…
[ ] ہاںں پھر ٹھیک ہے تب تک تو میں اجاونگا..شاہ نے کہا..
[ ] باتیں کرتے کرتے وہ.لوگ یونی سے نکلے اور اپنے اپنے راستہ چل پڑے..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماما میں ریڈی ہو جلدی کرے نہ ہاں پری بس دو منٹ تمہار پاپا. جو کال کرلو
[ ] (شان اور ناصر کی پرفامنس دیکھنے پری بھی جانے والی تھی اسی.کی تیاری کے لیے اج شاپنگ پہ جا رہی تھی)
[ ] چلو نور نے اتے ہی پری.کو کہا …
[ ] پری نے اوپر سے نیچے تک اپنی مام.کو دیکھا جو بلیک سوٹ میں بہت پیاری لگ رہی تھی.
[ ] اور پری اپنی ماں کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی…mama you looking so pretty
[ ] thankyo my daughter and you also looking beautiful
[ ] دونوں ماں بیٹی ایسی باتییں کرتی ہوی مال.پہنچ گی نور نے پری سے کہا.کہ اپ چلو میں گاڑی پارک کر کے ای اج نور خود ڈراہیو کر کے ای تھی..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[x]
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ.اور نازنین اپنی شاپنگ سے جلدی ہی نیمٹ گی تھی.ماہ کے اگے ایک عورت چل رہی تھی اچانک.ماہ.کو لگا جیسے وہ عورت گرنے والی.ہے اور دو منٹ بعد اسکا شک یقین میں بدل.گیا .اس سے ہہلے وہ عورت گرتی ماہ .نے اسے تھام لیا.نازنین بھی اس اچانک مہ.کے عمل پہ بوکھلا گی..
[ ] ماہ نے انہیے ایک کرسی پہ بیٹھایا اور انکو پانی.کی بوتل پلائ..
[ ] پری جو کسی کام سے ایک شاپ.پی رک گی تھی تو اس نے نور سے کہا ماما اپ.اگے چلے میں دو منٹ میں ای..
[ ] نور کو زرا سہ چلنے پہ ایک دم.چکر اے شاید گرمی کی.وجہ سے اگر ماہ نور کو نہ تھامتی تو وہ یقینن نیچے گر جاتی..
[ ] ابھی ماہ ان کو پانی پالارہی تھی کہ ماما کی.اواز پہ ایک دم پلٹی.. .پری جو دو منٹ میں دکان سے نکلی تھی سامنے کسی.کو اپنی ماما کو سہارا دیتے ہوے دیکھ چکی تھی اسلیے فورا ان تک پہنچی
[ ] کیا ہوا میری ماما کو پری نے ماہ سے روتے یوے سوال.کیا.اور ماہ.پری.کی انکھیں دیکھ کے یہ سوچنے پہ.مجبور ہوگی تھی.کہ.اس نے یہ.انکھیں اور کس کی دیکھی.ہین.
[ ] کچھ نہیں شاید انہں گرمی.کی وجہ سے چکر اگے اپ پریشان نہ یو اب یہ تھیک ہے.نازننین نے جواب دیا..
[ ] ارے پری.بیٹا میں تھیک.ہو ماہ.نے ان عورت کو گور سے دیکھا جو انکو بہت اپنی.اپنی سی.لگی ایک اپنے پن کی خشبو انکے پاس سے ماہ.کو ای مگر وہ اگنور کر گی..
[ ] نور نے.ماہ کو پکارا..
[ ] بیٹا اپکا بہت بہت شکریہ اگر اپ مجھے نہ سنبھالتی تو شاید میں گر جاتی..
[ ] ارے انٹی شکریہ نہں کرے پلیز.
[ ] پری نے ماہ کو مخاطب کیا…
[ ] اپی.. کیا.میں اپکو اپی بلا سکتی ہو پری نے ماہ سے پوچھا..
[ ] اور پری پیار نے پیار سے اس گرین انکھوں والی ڈول کے گال پہ ہاتھ رکھا ہاں اپ بول سکتی ہو..
[ ] پلیز اگر اپ مائنڈ نہ کرے تو اپ.کیا ہمیں گھر ڈراپ.کرسکتی ہیں ماما کی.کنڈیشن ایسی نہیں کہ وہ گاڈی چلا سکےاور مجھے گاڑی چلانا نہں اتی…
[ ] ماہ نے نازنین کی طرف دیکھا تو اس نے گردن ہلا کے ہاں بولا..
[ ] ہاں پری اپ مجھے چابی دو میں جاکے گاڑی کا لوک کھولو..ماہ.جیسے ہی جانے لگی ایک دم.کچھ یاد انے.پہ پلٹی. پری اپکی.کار کہاں پارک ہے.
[ ] اپی وہ تو پتہ نہں مگر کار اٹومیٹک ہے اب یہ بٹن دباؤگی تو ہارن بج جاے گا….
[ ] ماہ.گاڑی کی طرف چلی تو نازنین اور پری نور کو سہارا دے کہ.گاڑی تک.لاے..
[ ] 5 منٹ کے بعد وہ.لوگ حیدر ولا کے باہر تھے..
[ ] گاڑی جسی ہی اندر داخل ہوی حیدر ولا دیکھ ماہ کہ منہ سے اچانک ماشاءللہ نکلا.
[ ] ماہ اور پری احتیاط سے نور کو اندر لاے تو نازنین گاڑی سے انکا سامان نکلنے لگی..
[ ] گھر کے اندر داخل ہوکے بلاجہجک نازنین اور ماہ کے منہ سے نکلا ..
[ ] انٹی اپکا گھر بہت خوبصورت ہے..
[ ] نور ان دونوں کی تعریف پہ مسکرا دی…
[ ] پری نے ملازمہ کو بول.کہ ماہ.اور نازنین کہ لیے اچھا خاصا کھانے پینے کا انتظام کروادیا اور نور کو فریش جوس دیا…
[ ] ماہ نے پری سے بولا…
[ ] ارے پری اتنا سب کرنے کی کیا ضرورت تھی..
[ ] مگر نازنین نے بنا تکلف کے کھانا اسٹارٹ کردیا ماہ.نے ایک دو بار اسکو گھورا بھی مگر نازنین نے کوی نوٹس نہں.لیا..
[ ] ماہ.کا گھورنا نور دیکھ چکی تھی جبھی مسکرائ اور ماہ کو بولا ماہ بیٹا اسکو کھانے دو…
[ ] اپ مجھے اپنے بارے بتاو کیا نام ہے اپ دونوں.کا انٹی میرا نام ماہ رخ ہے اور اسکا.نازنین..
[ ] نازنین نے نور کو کہا انٹی یہ ایسی ہی.میرے کھانے جو توکتی رہیتی.ہے..ابھی وہ.لوگ باتیں ہی.کررہے تھی کہ پیچھے سے انی والی.اواز پہ نازنین اور ماہ دونوں چونکہی..
[ ] ماما کیا ہوا اپکو پری کا مجھے میسج ایا.تھ کہ.اپ بہیوش ہوگی تھی. شان نے ان دونوں کو نہں دیکھا تھا مگر شان کے ساتھ اتے ہوے ناصر ان دونوں جو دیکھ چکا تھا…
[ ] نور نے گھور کہ پہلے پری کو دیکھا جس نے جلدی سے جوس کا.گلاس ہونٹوں سے.لگا لیا….
[ ] ارے شان میں. تھیک ہو کچھ نہں ہوا وہ تو بھلا.ہو ان دونوں کا جنہوں نے.مجھے بروقت سنبھال.لیا.اور پھر شان نے.جب موڑ کہ ماہ.کو دیکھا تو ماہ سمجھ گی.کہ.پری کہ انکھیں شان سے ملتی ہیں بلکہ نور انٹی کہ انکھیں بھی ایسی ہے..
[ ] ارے ماہ سوری میں نے دیکھ نہیں د شان ہم بھی راہوں میں کھڑے اور نازنین کی.اواز پہ سب کا قہقہ گونجا..
[ ] ارے بھای اپ اپی کو جانتے ہیں..
[ ] اپی.کون ؟؟؟ارے شان یہ.مجھے کہہ رہی ہے ماہ.نے بتایا..
[ ] ہاں ہم چاروں یونی فرینڈ ہیں..
[ ] پری نے پھر مال ولا سارا واقع شان کو سنا دیا اور شان نے بھر پور طریقے سے ماہ اور نازنین کا شکریہ ادا کیا..
[ ] وہ.لوگ باتوں میں مصروف تھے جب نازنین جو ناصر کے برابر میں بیٹھی تھی ناصر کی نگاہیں جو صرف پری کا طواف کرہی تھی دیکھ چکی تھی ایک شیطانی مسکراہت اسکے لبوں پہ ای اور اسنے ناصر کے کان میں سرگوشی کی..
[ ] تو بھیا کب بنا رہے ہو پھر پری کو ہماری بھابھی..
[ ] ناصر اپنی دھن میں بول.گیا..
[ ] کہ جب دلھن مان جاے.. مگر بولنے کے بعد اسے احساس ہو اکہ وہ.کیا بول گیا…اسنے فورا نازنین کی طرف دیکھا اور التجا کری کہ.یہ راض اپنے تک.ہی رکھے……
[ ] اور نازنین نے اسسے اعتبار دلایا کہ وہ ناصر کا خود پہ بھروسہ.کبھی نہں توڑے گی..
[ ] ماہ.نے جانے کی اجازت مانگی تو نور بول پرڑی.. شان ان دونوں کو ڈراپ کردو…ابھی ماہ.منع ہی کرتی کہ پیچھے سے ات اواز پہ سب نے پیچھے مڑ کے دیکھا………
[ ]
[ ] جاری.ہے…