Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 37 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37 Part 1
قسط نمبر37 #
شاہ کو دیکھ کے نازنین اپنی جگہ سے اٹھ کے اپنی امی.کے ساتھ جاکے بیٹھ گئ…
شاہ نعمان اور نیلم کے پاس ایا تو نعمان نے اچھی خاصی اسکی کلاس لی .اور کہا…
کونسا ایسا دوست ہے جسکو تم ارجنٹ ائیرپورٹ ریسو کرنے چلے گئے اپنے گھر کا فنکشن چھوڑ کے…؟؟؟
اپ.کو کس نے بتایا.پاپا کہ میں ائیرپورٹ گیا ہو؟؟؟
شاہ نے گھبرا کے نعمان سے پوچھا
شان سے پوچھا تو اس نے بتایا……
شان نے ..؟؟
شاہ نے دل میں سوچا…
اس کا مطلب شان میری باتیں سن چکا ہے…
اب کہاں کھو گئے ہو…؟؟؟
شاہ کو پھر سوچوں میں غرق دیکھ کہ.نعمان پوچھ بیٹھا…
نعمان بس کردیے اگیا نہ اب تو جاو شاہ نازنین کو بلاو اور رسم.کرو جاکے ازلان اور فائزہ کی نیلم کی بات پہ جہاں نعمان شاہ.کو گھور کے اگے بڑھ گیا..وہی شاہ بھی گردن ہلا.کے نازنین کو ڈھونڈنے لگا…
اور اسکو زیادہ محنت نہی کرنی پری..کیونکہ اس کی بلبٹوڑی اسے اندر جاتے ہوئے دیکھائ.دی…
یلو غرارے اور پنک شرٹ پہنے کانوں اور ہاتھوں میں پھولوں کے زیور پہنے بالوں میں چٹلا ڈالے وہ شاہ کا ایمان خراب کرگئ..
شاہ نے ادھر ادھر دیکھا اور اندر بڑھ گیا….
نازنین جو ماہ کے روم.کا واش روم یوز کرنے گئ تھی واش روم سے باہر نکل.کہ.جب اس نے ماہ کے بیڈ پہ شاہ کو لیٹے دیکھا تو ایک منٹ کو تو چونکی.مگر پھر فل ٹشن دیکھاتی.شاہ کو اگنور کرتی وہ شاہ.کے پاس سے گزر
کر جانے لگی..
کہ جبھی شاہ نے اسے پہلے اپنی ایک آئبرو اچکا کے دیکھا پھر تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے اوپر گرایا ..اور پھر جھٹکے سے اپنی پوزیشن چینج کی اب نازنین نیچے اور شاہ اسکے اوپر تھا ….
شاہ نے نازنین کے دونوں ہاتھ قابو کیہ اور کہا..
اوہ اوہ میری بیوی کے تو ٹشن ہی نہی مل.رہے…یہ بول کہ شاہ نازنین کے لبوں پہ.اپنے لب رکھ دیے اور پھر تھوڑا اسکے لبوں کے نیچے نازنیںن کی گردن پہ.جھک گیا اور اپنے اپ کو سیراب کرنے لگا…جب نازنین کی طرف سے کوئ مزامت نہہی ہوئ تو شاہ نے گردن اوپر کرکے اسے دیکھا تو نازنین کی انکھوں سے انسو جاری تھے ….
شاہ ایک دم اسکے اوپر سے اٹھا اور نازنیںن کا ہاتھ پکڑ کے اسے بھی اٹھایا اور کہا…
نازنین تمہیں تکلیف ہوتی.ہے جب میں تمہیں چھوتا ہو؟؟؟؟
شاہ کے سوال پہ.نازنیںن پہلے تو ایک دم گھبرائ مگر پھر سنبھل کے اپنی دل کی بات شاہ سے کہی…
شاہ میں چاہ کے بھی اس رشتہ کو دل سے قبول نہی.کرپارہی ہو ایک دم سب اتنا اچانک ہوا ہے کہ میں اپ پر اعتبار نہی کرپارہی…ہو..جب جب میں اس رشتہ کو سمجھنا چاہتی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ..ہے…
نازنین نے اپنی بات مکمل کی تو شاہ اسکے قریب ایا اور اسکو اپنے سینے سے.لگالیا…اور کہا…
ٹھیک ہے اب جب میری پیاری سے بیوی مجھ پہ دل سے اعتبار کرےگی دل سے مجھے اپنا شوہر مانے گی تب ہی یہ شاہ اب اپنی.جان اپنی نازنیںن کے قریب ائے گا…اب چلو نیچے چلو ماما نے رسم کا بولا ہے تمہارے ساتھ مگر تمہیں اتنا سجا دھجا دیکھا تو دل بے ایمانی پہ اتر گیا ..مگر اب جب تم بولو گی جب ہی میں تمہارے قریب اونگا ہاں مگر کس کی گارنٹی نہی میری ..
شاہ.کی بات پہ نازنین مسکرائ تو شاہ بھی مسکرایا مگر جبھی نازنیںن کو دیکھ کے شاہ.کے دماغ میں حنا کے الفاظ گونجے…
یہ وڈیو دیکھنے کے بعد کیا وہ تم.پہ اعتبار کرےگی…
شاہ نے فلحال اپنی سوچوں کو جھٹکا. اور نازنیں کو لے کے.نیچے اگیا……
اور رسم کرنے اسٹیج پہ چلا گیا..شاہ کو اسٹیج پہ دیکھ شان جو ہنس ہنس کر ازلان کو چھیڑ رہا تھا ایک دم سنجیدہ ہوا مگر شاہ کو شان کا سنجیدہ.ہونا ایک دم کھٹکا…
تو ادھر ناصر اسی سوچ میں گم.تھا کہ.پری تک.کیسے اپنے دل کی بات پہچائے….
سب رسموں کے بات پکس کا دور چلا سب ہی.نے باری باری پکس بنوائ…
پری ماہ اور شان ایک ساتھ پکس بنوارہے تھے کہ.جبھی پری.کسی.کام سے نیچے اتر گئ اور فوٹوگرافر نے ان دونوں کی پکس بنا ڈالی اور ساتھ میں کہا…
نائس کپل ….
فوٹو گرافر کی بات پہ.جہاں شان گڑبڑایا..وہی ماہ بھی سٹپٹاگئ اور اسٹیج سے اتر گئ.مگر نور اور حیدر ماہ اور شان کو ایک ساتھ دیکھ کے ایک ساتھ مسکرائے اور کچھ سوچنے پہ.مجبور ہوگئے……..
کھانے.کا دور چلا تو سب ہی.کھانے میں مصروف ہوگئے.
کہ جبھی ایک ٹیبل پہ جہاں سب ہی ینگ جنریشن بیٹھی تھی…
سب ہی.کھانے میں مصروف تھے کہ شان نے کھانا کھاتے کھاتے پوچھا…
شاہ.یہ حنا کون ہے جیسے تم.ائڑپوڑٹ لینے گئے تھے..؟؟؟
شاہ کے سوال پہ جہاں شاہ کو دھسکا لگا وہی نازنیںن نے بھی شاہ.کو سوالایاں نظروں سے دیکھا تو باقی سب بھی شاہ.کے جواب کے منتظر تھے…
شاہ نے شان کے جواب پہ بس اتنا کہاں وہ میرے دوست کی بہن تھی اور اسکا بھائ میرے ساتھ گیا تھا اسکی.گاڑی.خراب تھی شاہ کے جواب پہ.سب ہی.مطمئن ہوگئے سوائے شان اور ناصر کے….
مایوں کا فنکشن اپنے اختتام کو پہنچا ازلان نے بہت کوشش کی فائزہ کو اس روپ میں دیکھنے کی.مگر ناکام رہا…
سب ہی تھکے ہوئے تھے اس لیہ سب ہی اپنے اپنے کمروں میں گھس گئے…
فائزہ.کے کمرے میں سب ہی.لڑکیاں موجود تھی اس لیہ ازلان کا پلآن فلاپ.ہوگیا….
اور پھر ایسے ہی برات کا دن بھی ا پہنچا فائزہ دلہن کے روپ میں کسی اپسرا سے کم نہی.لگ رپی تھی…بلڈ ریڈ شرارہ سلور کنڑاس کے ساتھ ناک میں نتھ ڈالے بالوں کو کھلا چھوڑ کے نیچے کرل کیہ ہوئے..اور انکھوں میں ہلکے سرمئ.کلر کے لینس لگائے وہ ازلان کے دل لوٹنے کے سارے سامان سے.لبریز تھی تو ادھر باقی سب لڑکیوں نے ایک جیسی میکسی پہنی تھی بس کلر کا فرق تھا شاہ.ناصر اور شان کا ایک جیسا ڈریس تھا ڈیپ بلو کلر کی شلوار قمیز اور اس پہ وائٹ کلر کی واسکٹ جبکہ ازلان نے فائزہ کے شرارے کے کنٹراس کی سلور شیروانی اور ریڈ کلر کا خلا پہنا تھا ..اور اج اس میں جہانگیر کو اپنے باباکی.جھلک دیکھی تواسکی انکھیں بھیگ گئ..
..
ادھی فیملی برارت کے ساتھ تھی جبکہ.ادھی حال میں دلاور لوگوں کی طرف سے تھی…
نکاح پہلے ہو چکا تھا تو فوٹو سیشن اور کھانے کے بعد فائزہ کہ رخصتی کو شور اٹھ گیا…
فائزہ اج اسی.گھر میں جہاں اسکا پچپن گزرا تھا ائ تھی.مگر اج اسکی پہچان اسکے بابا نہی اسکا شوہر تھا..
تمام رسموں کے بعد فائزہ کو ازلان کے روم میں لے جایا گیا..
اور بیڈ پہ ارام سے اسے بیٹھاکہ ماہ اور نازنین روم سے باہر اگئ..
ان کے جاتے ہی فائزہ نے روم کا جائزہ لیا جیسے موتیے اور ریڈ گلابوں سے سجایا گیا.
اعور سامنے دیوار پہ.ازلان اور فائزہ کی نکاح کی انلاج ہوئ پک لگی تھی جسکو دیکھ کے فائزہ کے.لبوں پہ ایک مسکراہٹ اگئ..
مگر ایک دم دروازے کھلنے کی.اواز پہ فائزہ ایک دم سیدھی ہوکے بیٹھ گئ..
کہ جبھی ازلان ارام سے چلتا ہوا ڈریسنگ کے پاس ایا اپنا کللا اتر کے رکھا اور صوفے پہ بیٹھ کے اپنی پیشانی مسلنے لگا فائزہ جو اسکی ایک ایک حرکت بہت غور سے دیکھ رہی تھی
.
اپنابھاری بھر کم شرارہ سنبھالتی ہوئ ازلان کے سامنے ائ تو ازلان بھی صوفے سے اٹھ کے کھڑا ہوگیا..
کہ جبھی فائزہ نے پوچھا…
کیا بات ہے ازلان کوئ پریشانی ہے تم پریشان لگ رہے ہو..؟؟؟
فائزہ کے سوال پہ ازلان نے کہا..
یار وہ.عامر ہے نہ.جس سے تم محبت کرتی تھی اسکی.کال.ائ.تھی.کہی رہا تھا تم نے فائزہ کو مجھ سے چھینا ہے اب دیکھنا میں تمہارے ساتھ کی.کرتا ہو…..
جاری یے…
