Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

[ ] نعمان شاہ کا ایک ہی بییٹا تھا سرور شاہ..خندانی امیر ہونے کے باوجود انہہوں نے اپنے بل.بوتے پہ.اپنا کاروبار اسٹارٹ کیا.. نعمان شاہ.کی.والدہ کا بچپن میں ہی.انتقال.ہو گیا تھا.اسلے سربراہ.انکے والد حمید شاہ ہی تھے حمید شاہ کی دو ہی اولادیں تھی لاہبہ اور نعمان. سب کچھ ٹھیک.چل رہا تھا.کہ ایک دن نعمان شاہ نے اپنے والد سے اپنی.یونی.فرینڈ سے شادی کو کہا..تو حمید صاحب نے نہ.صرف انکار کیا بلکہ یہ تک.کہا کہ میں اپنے دوست کو زبان دے چکا ہو…اگر تم.نے اپنی چلائ تو جا سکتے ہو یہہاں سے..
[ ] نعمان نے اپنا گھر بار چھوڑا.نکی.چھوٹی بہن نے روکنے کی بہت کوشش کی مگر وہ.سب چھوڑ چھاڑ کے اپنے سسر کے پاس اگے ان کے سسر نے نہ صرف انکا ساتھ دیا بلکہ کاروبار میں بھی مدد کی.اور اپنی بیٹی اور داماد کو لندن بھیج دیا..
[ ] سرور کی.پیدائش پہ وہ.اپنے سسسر لے کہنے پہ.پاکستان اے اور پھر یہی کہ ہوکے رہ.گے..حیدراباد اکے انہوں نہ بہت ڈھونڈا اپنی فیملی کو مگر کسی.کو بھی انکی خبر نہی…. ..
[ ] پھر انکے سسر کے.انتقال.کے بعد انکا.یہں دل.نہی لگا اور وہ.مکمل طور پہ کراچی شفٹ ہوگے.. کاروبار کے ساتھ وہ.اپنے دوست کے یونی میں بھی پروفیسر کی ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے..سرور پچھلے سال ہی آکاونٹنگ میں گولڈ میڈل لندن سے حاصل کر کے .ایا تھا.
[ ] پھر اپنے فادر کے ساتھ ہی کاروبار میں شراکت کرکے انکا ہاتھ بتایا
[ ] پچھلے کچھ دنوں سے نعمان صاحب کی طبیعت کی وجہ سی انہونے یونی میں انکی.جگہ سنبھالی………….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤………………..
[ ] زلیخا.کمرے میں چائے لے.کہ.ائ تو جہانگیر لیپ توپ.پہ بزی تھے..
[ ] جہانگیر…
[ ] ہمممممم..
[ ] پتہ.چلا کچھ حیدر بھائ کا؟؟؟؟؟
[ ] نہیں یار انشاءاللہ پتہ چل جاے گا…
[ ] وہ جہانگیر مجھے اپ سے.کچھ بات کرنی تھی..
[ ] ہاں بولو جہانگیر نے.لیپ ٹوپ پہ جھکے مصروف انداز میں کہا..
[ ] پہلے ایسے تو بند کرے.زلیخا نے مصروف انداز میں کہا..
[ ] اچھا جی لو بند کردیا.مگر اب بات بھی تم.یہہاں میرے پہلو میں اکے کروگی…
[ ] اف جہانگیر.وہ بول.کہ اسکے پاس اکے بیٹھ گی…
[ ] ہاں اب تھیک ہے اب بولو کیا بات کرنی تھی..
[ ] جہانگیر میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیوں نہ ہم فائزہ کو اپنے ازلان سے لیے لے اپکا.کیا خیال ہے..
[ ] ہم.خیال تو بہت اچھا ہے تو نازو سے بات کرو میں ڈودی سے بات کرتا ہو…
[ ] ہم یہ تھیک ہے…
[ ] ہم یہ تو ہوگی.تمہاری بات اب میری باری…
[ ] اپکی باری مطلب اپکو بھی کچھ بات کرنی تھی….
[ ] ہاں نہ….. جہانگیر نے بولا..
[ ] ہاں تو بولے میں سن رہی ہو… جہانگیر نے اسکو پکڑ کے لیٹایا.اور اسکے گالوں پہ جم کے کس کی….
[ ] یہی بات تھی…
[ ] جہانگیر شرم.کرلے کچھ بہو کو لانے کا سوچ رہے ہیں یہاں اپکا رومنس ختم.نہں ہورہا…..
[ ] میں کیوں شرم.کرو میں تو اپنی بیوی سے رومنس جھاڑ رہا ہو…..
[ ] توبہ.ہے اپ سے…
[ ] زلیخا اٹھ کے جانے لگی.جب جہانگیر نے اسکا ہاتھ پکڑلیا…
[ ] وہ پلٹی اور سوالیاں نظروں سے اسے دیکھنے.لگی..
[ ] جہانگیر نے ایک ادا سے کہا……
[ ] “ہمارے بعد نہیں ائے گا اپکو چاہت کا ایسا مزہ..
[x] جہنگیر نے ایک ادا سے کہا…..
[ ] تم کہتے پڑوگے لوگوں سے ہمیں چاہوں پھر اسکی طرح””
[ ] جہانگیر کے اسطرح سے بولنے سے زلیخا کی انکھوں میں انسو اگے وہ ایک دم جاہنگیر کے گلے لگ کے رونے لگی..جہانگیر زلیخا کہ ایک دم اسطرح رونے پہ بوکھلا گیا…
[ ] ارے یار مزاق کررہا تھا.. ادھر دیکھو میری طرف…
[ ] جہانگیر نے زلیخا کا چہرہ اوپر کیا….
[ ] تم زندگی ہو میری جان ہو تم.مجھے میری کس نیکی.کے بدلے ملی.ہو نہں جانتا..مگر جان موت تو برحق ہے نہ.اسس سے کیسے ہم منہ موڑ سکتے ہیں…
[ ] وہ سب اپکی بات تھیک ہے جہانگیر مگر اپ وعدہ.کرے ائندہ کبھی بھی مرنے کی.باتیں نہیں کرینگے پلیز..وعدہ.کرے..زلیخا.نے اپنا ہاتھ اسکے اگے کیا…
[ ] اور جہانگیر نے اس کے ہاتھ پہ.اپنا ہاتھ رکھ دیا..بس وعدہ..اب خوش..؟؟؟
[ ] جی..
[ ] ہم.پھر ایک.کس تو بنتی ہے..جہانگیر نے انکھ مار کے کہا…
[ ] اور زلیخا.اپنے ادھر ادھر تکیہ ڈھوندنے لگی…جیسے ہی زلیخا تکیہ. مارنے.لگی جہانگیر نے فورا اپنے ہاتھ کھڑے کردیے…
[ ] ارے جان جہانگیر نہیں چاہیے کس.میری لڑاکا ڈوئ…..
[ ] ہمم اب جلدی سے نیچے اے میں کھانا لگاتی ہو..
[ ] اوکے جان جیسا اپکا حکم جہانگیر نے اپن سر خم کر کے کہا اور زلیخا مسکراتے ہوے نیچے چلی گئ..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ اپنے الماری کی صفائ میں.مصروف تھی. جب اسکے نمبر پہ شامیر کی.کال ای..
[ ] ہاے میری جان کیسی ہو..شامیر نے پوچھا اپ.کیسے ہو..
[ ] میں بھی تھیک…
[ ] پڑیکٹس کیسی جارہی ہے..؟؟؟
[ ] وہ بھی اچھی جارہی ہے…
[ ] ہمممممم..
[ ] وہ شامیر اپکو بتا نہ.تھا کہ میرا پاٹنر. شااا…
[ ] ابھی.وہ شامیر کو بتاتی.کہ.شامیر نے فورا بولا…
[ ] ماہ.دادو بولا رہی ہیں بعد میں.بات ہوتی ہے..یہ.کہ کے اسنے کال.کٹ کردی…
[ ] ماہ.کو ایسا لگا جیسے شامیر جان بوجھ کے یہ سننہ نہں چاہ رہا کہ.اسکا پاٹنر کون ہے…
[ ] ابھی.وہ اپنی.ان سوچو میں ہی.تھی.کہ.ردا اسے کھانے.کے.لیے بولانے.اگئ..ماہ.نے بھی.اپنے.خیالوں کو جھٹکا اور نیچے چلی گی….¤¤¤¤
[ ] رات کو ڈنر پہ سب ہی.موجود تھے سواے ازلان کہ…
[ ] کھانا کھانے کے دوران جہانگیر نے دلاور کو مخاطب کیا..
[ ] ڈودی؟؟
[ ] جی بھائ…
[x]
[x]
[ ] میں اج تم.سے کچھ مانگنا چاہتا ہو..
[ ] جی.بھای اپ حکم.کرے….
[ ] میں فائزہ کو اپنے ازلان کے لیے تم سے مانگنا چاہتا ہو…
[ ] جہانگیر کی بات سن کے دلاور خوشی سےانکے.گلے.لگ گیا.نازو بھی.خوشی سے زلیخا کے.گلے لگ گی…سب ہی خوش تھے اماں جان کو بھی اس فیصلے پہ.خوش تھی..ایک ہستی جو .شوک میں تھی بلکہ وہ ٹیبل پہ سے ہی اٹھ کے چلی گی..
[ ] فائزہ کے اسطرح ٹیبل سے اٹھنے کو سب ہی نے اسکا شرمانہ سمجھا….
[ ] نازو.جہانگیر نے اسے اواز دی..
[ ] جی بھای..
[ ] بیٹا مے یہ نہں چاہتا کہ کوئ بھی زبردستی ہو اور ہماری.اولاد کو ہماری خوشی کے لیے اپنی.پسند قربان کرنی.پڑے اسس لیہ تم.فائزہ سے اسکی.مرضی پوچھنا..اور زلیخا تم ازلان سے… تاکہ پھر ہم.بات اگے بڑھاے….
[ ] جی تھیک ہے دونوں نے ایک.ساتھ بولا..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ اپنے کمرے میں اکے خاموشی سے اپنے.ہاتھوں.کو دیکھنے لگی اور سوچنے.لگی ..
[ ] کہ.کیا دعائیں اتنی جلدی.بھی.قبول ہوتی.ہیں…مگر پھر اسکی.انکھوں سے انسو جاری.ہوگے .اج یہ دعا قبول.بھی ہوی تو کن حالات میں کہ.جب ازلان کو اس سے صرف نفرت ہے.ابھی وہ ان سوچو میں گم.تھی کہ دروازہ ناک کرکے نازو اندر ای.اور اسکے پاس اکے بیٹھ گی..
[ ] فائزہ اسکی گود میں سر رکھ کر لیت گی..
[ ] فائزہ جب تم.چھوٹی تھی میں ہمیشہ سوچتی تھی.کہ.جب میں تمہاری شادی.کرونگی تو کیسے خود کو سنبھالونگی..لیکن دیکھو.اللہ نے کیسی میری سن لی اب تم.ہمیشہ میری انکھوں کے سامنے رہوگی..ازلان بہت اچھا لڑکا ہے فائزہ مجھے بہت عزیز ہے اسکی انکھوں میں نے ہمیشہ تمہارے لیہ پسندگی دیکھی ہے اور اج دیکھو جہانگیر بھائ نے خود ہی ہماری خواہش کا احترام کرلیا..زلیخا بھابھی بہت اچھی ہیں زلیخا وہ تمہیں ماہ کی طرح چاہتی ہیں..
[ ] اب بیٹا تم اپنی مرضی ہمیں بتاو کوی زبردستی نہں اج بھی جو اپ بولوگی وہی ہوگا…
[ ] ماماجیسے اپ لوگوں کی مرضی..
[ ] یہ بول.کے فائزہ نازو کے گلے لگ گی اور رونے لگی نازو کی.انکھوں میں بھی خوشی کے انسو تھے ایک.اور ہستی تھی جو دروازہ پہ.کھڑے ہوکے اپنے انسو کو روک رہا تھا…
[ ] ارے واہ میری فائزہ اتنی.بڑی ہوگی کہ اب ہمیں چھوڑ کے چلی جاے گی.اہنے سسرال..دلاور نے ماحول کو تھوڑا مزاق کا رنگ دینے کی کوشش کی..دلاور کی اواز پہ دونوں نے ایک دم.پلٹ کہ دیکھا..
[ ] فائزہ بھاگ کہ اپنے بابا کہ گلے لگ گی..فائزہ میری جان اپ خوش ہونا..دلاور نے فائزہ سے پو چھا..
[ ] جی پاپا….اور وہ تینوں نفوس کے انکھوں میں اج خوشی.کہ انسو تھے…باری باری سب فائزہ کہ کمرے سے نکل گے..
[ ] سب کے جانے کہ بعد فائزہ ایک بار پھر رونے لگی. وہ اٹھی.وضو کیا اور اپنے رب کے اگے سجدہ میں گر گی اسکے لبوں پہ ایک ہی دیا تھی یاللہ میرے حق میں بہترین فیصلہ کرنا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] رات کو ازلان ایا تو زلیخا کو اپنا منتظر پایا….
[ ] ماما اپ اب تک جاگ رہی ہییں؟؟؟؟
[ ] ہاں تمہارا ہی ویٹ کرہی تھی اجکل ازلان تم زیادہ لیٹ نہں انے لگے…
[x] ن
[ ] ماما اپکو تو پتہ ہے میری یونی اوف ہوگی ہے ابھی ازادی کہ دن ہے پھر پاپا اپنے ساتھ افس میں گھسیٹ لینگے..سارے دوست ملکر تھورا سہ انجوائے کر لیتے ہیں پھر تو سب سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جائنگے…..
[ ] ہممممم یہ تو ہے چلو تم فریش ہوجاو میں کھانا لگاتی ہو….
[ ] نہں ماما کھانا کھا کہ ایا ہو بس اپ کافی بنا دے…
[ ] چلو تم اپنے کمرے میں چلو میں کافی لے کر اتی ہو..
[ ] اوکے ماما……
[ ] زلیخا ازلان کے کمرے میں کافی لے کے پہنچی تب تک.ازلان بھی فریش ہو چکا تھا..
[ ] زلیخا نے کافی ٹیبل پہ.رکھی.اور ازلان کے پاس بیٹھ گی.ازلان نے بھی اپنا ماما کی گود میں سر رکھا اور انکھیں بند کرلی. زلیخا نے اہستہ اہست اسکے سر میں انگلیاں چلانہ شروع کی..
[ ] ازلان؟؟
[ ] ہمممم..
[ ] بیٹا تم سے ایک بات کرنی تھی..
[ ] جی.ماما بولے میں سن رہا ہو…
[ ] بیٹا میں.اور اپکے پاپا چاہتے ہیں کہ اب اپکی شادی کردے..
[ ] ارے. واہ ماما نیکی اور پوچھ پوچھ..
[ ] ازلان نے شرارت سے کہا..
[ ] بدمعاش…زلیخا.نے اسکے سر پہ.ہلکی سا تھپڑ لگایا…
[ ] بیٹا تمہیں کوی پسند ہی تو بتا دو ورنہ ہم نے اپکے لیہ لڑکی پسند کرلی…
[ ] ازلان کی.انکھوں کے سامنے ایک سراپا لہرایا..مگر ایک دم.اسکی.انکھوں میں نفرت اگی..
[ ] نہیں ماما… جیسا اپکو تھیک.لگے..(کیونکہ.ازلان نے سوچ لیا تھا.اب وہ.فائزہ کے ساتھ زبردستی نہیں کریگا)
[ ] تو تھیک.ہے ہم نے پھر تمہارے لیہ فائزہ.کو پسند کیا.ہے..
[ ] کیافائزہ؟؟
[ ] ازلان ایک دم اٹھا..
[ ] کیوں فائزہ سے کرنے.میں کیا مسئلہ ہے.. ؟؟
[ ] نہں.ماما ایسی کوئ.بات نہں جیسا اپکو تھیک لگے.
[ ] شکریہ بیٹا اپنے.میرا مان رکھ لیا ..ابھی.جا.کہ.میں.اپکے پاپا کو اپکا فیصلہ سنا دونگی…
[ ] زلیخا.جیسے ہی کمرے سے نکلنے لگی.ازلان نے اسے اواز دے کہ.روکا..
[ ] ماما؟؟
[ ] جی.بیٹا .
[ ] کیا اپ لوگوں نےفائزہ سے اسکی.مرضی پوچھی…
[ ] ہاں ازلان تم سے پوچھنے سے پہلے نازو نے.اکے.مجھے بتایا کہ فائزہ نے اپنا فیصلہ.ہم.پہ چھوڑا ہے..اور ہمیں یہ رشتہ قبول.ہے
[ ] جبھی بیٹا میں نے اپکی.مرضی پوچھی..
[ ] تھیک ہے ماما….
[ ] اوکے اب تم ارام.کرو ..اوکے….
[ ] زلیخا کے جانے کے بعد ازان سوچنے پہ مجبور ہوگیا کہ.کیوں فائزہ نے اس رشتہ کے لیہ حامی بھری جبکہ وہ تو کسی اور کو پسند کرتی ہے کسی اور سے محبت کرتی ہے…..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] زلیخانے رات میں ہی نازو اور ازالان کے فیصلہ سے جہانگیر کو اگاہ کردیا تھا.
[ ] ناشتہ پہ جہانگیر نے اماں جان.کو ازلان اور فائزہ کا فیصلہ بتایا تو وہ بھی خوش ہوی مگر انہوں نی صاف لفظوں میں کہ دی.کہ سیدھا نکاح ہوگا…امں.جان کے.اس فیصلہ پہ.کسسی.کو کوئ.اعتراض نہیں تھا سب ہی.اپنے اپنے تیاریوں کی فکر میں لگ گیے.. کیونکہ 15 دن.کے بعد نکاح کی تاریخ رکھی.گی.اور فائزہ کے پیپروں کے بعد رخصتی..
[ ] مگر جن دونفوس کے مستقبل کے بارے میں یہ لوگ باتیں کر رہے تھے وہ دونو ں اپنی اپنی.سوچوں میں مگن تھے نکاح کی بات پہ فائزہ نے ایک نظر ازلان کو دیکھا.مگر ازلان نے ایک نظر تک اس پہ نہیں ڈالی بلکہ اپنے ناشتہ میں مگن رہا…
[ ] مگر ماہ نے اج اس سے بات کرنے کا فیصلہ.کرلیا..جبھی ایک دم بولی…
[ ] ازلان ؟؟؟
[ ] ہاں ازلان اپنے نام پہ.ایک دم چونکا…
[ ] مجھے اج یونی جلدی جانا ہے..تم چھوڑ دوگے….
[ ] ہاں تم.بیگ لے او میں گاڑی میں ویٹ کرہا ہو..
[ ] اوکے ماہ اٹھنے.لگی تو ایک دم.اسے کچھ یاد ایا….
[ ] ماما…
[ ] ہاں ماہ..
[ ] اج اپ چلینگی نہ مارکیٹ مجھے اپنے پرفامنس کے.لیے کچھ چیزیں لے نی تھی…
[ ] اوہ.ماہ میں تو بھول.گی اج تو مجھے برابر میں قران خانی میں.جانا ہے…
[ ] چلے ماما میں.پھر یونی سے نازنین کے ساتھ چلی جاونگی…اپ ڈرائیور نہں بھجیے گا…
[ ] اوکے دیھان سے جانا..
[ ] اوکے ماما اللہ.حافظ
[ ] ماہ باہر نکلی تو ازالان اسکا ہی ویٹ کررہا تھا….
[ ] چلو ماہ نے کہا..ماہ.کے بیٹھتے ہی ازلان نے گاڑی اگے بڑھادی..
[ ] ازلان خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا جب ماہ نے اسے پکاراہ..
[ ] ازلان.؟؟
[ ] ہمممممم بولو ماہ..
[ ] کیا تم.خوش نہں ہو اب تو وہ تمہاری ہمیشہ کے لیے ہونے والی ہے. پھر تم.اج چپ چپ کیوں ہو…
[ ] پتہ نہں ماہ بس میں اب اس ٹوپک پہ بات نہں کرنا چاہتا جو ہوگا دیکھا جاے گا…مجھے اب اس سے فرق. نہں پڑتا کہ نکاح ہو یہ نہ ہو میں نے اپنا فیصلہ.اپنے والدین کی وجہ سے قبول.کرا ہے…
[ ] کیا ازلان یہ کیا کہہ رہیے ہو تم تم.تو فائزہ کو بہت چاہتے ہو پھر یہ سب کیا بول رہے ہو…
[ ] یار ماہ پلیز میں.کہہ رہا ہونا مجھے اس بارے میں.کوی بات نہیں کرنی.
[ ] اوکے اوکے بابا ریلکس.بسسس..
[ ] تم تو کچھ زیادہ ہئ ہائپر ہونے لگے ہو….
[ ] یونی پہ پہنچ کہ ازلان نے کہا کہ اوگی کس کے ساتھ تو ماہ نے بولا اج شاپنگ پہ جانا ہے نازنین کے ساتھ تو خودی اجاونگیی..
[ ] اوکے باے اور ازلان گاڑی اگےلے گیا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] یونی کے اندر داخل ہوتے ہی اسکا سامنا نازنین سے ہوا…
[ ] کیا ہوا منہ کیو اترا ہوا ہے.. ماہ نے چلتے چلتے نازنین سے پوچھا..
[ ] ارے یار اج اس ناگ سے معافی مانگنی.ہے .پتہ نہیں اسکا ریکشن کیا ہوگا اوپر سے اج پہلا لیکچر ہی اس ناگ کا ہے..
[ ] شرم کرلو نازنین وہ کس اینگل سے ناگ لگتا ہے اچھا خاصا بندہ ہے پرسنیلٹی بھی اچھی ہے.اور معاف کرنا بی بی پنگا تم نے خود اس سے لیا.اب بھگتو..
[ ] اللہ اللہ ماہ تم جیسی دوست ہو تو دشمن کی کیا ضرورت ہے..
[ ] افف ایک تو نازنین تمہارے اس میلو ڈرامہ سے میں بہت تنگ ہو جلدی چلو کلاس کا ٹائم.ہوگیا ہے…
[ ] وہ لوگ کلاس میں پہنچے تو کلاس اسٹارٹ نہں ہوی تھی…
[ ] ان دونوں نے شکر کا سانس لیا
[ ] وہ دونوں اپنی جگہ پہ بیٹھی تو پہچھے سے ناصر نے ماہ کہ.کان میں سرگوشی کی..
[ ] ویسے ماہ تمہیں پتہ ہے اج کوی شیر کے گلے میں گھنٹی باندھنے والا ہے..
[ ] یہ سن کے شان ناصر اور ماہ.کا بے ساختہ قہقہ.گونجا..
[ ] نازنین نے.خونخوارانکھوں سے ناصر دیکھا اور بولا.. ناصر میری ہاتھوکی لکیروں میں ایک قتل.لیکھا ہے کیوں نہ یہ اج سچ کردو تمہاری جان لے کے…
[ ] نازنین نے اتنے سڑے ہوے منہ سے کہا.کہ.ان تینوں کا ایک بار پھر قہقہ گونجا..
[ ] انکی ہنسی.کو بےیک تب لگی جب شاہ.اندر ایا..
[ ] شاہ اپنا لیکچر کرنے.میں مصروف اس نے ایک نگاہ بھی نازنین پہ نہیں ڈالی..لیکچر جلدی ختم.کرنے کے بعد شاہ نے شان سے گروپ.کے شیڈول.مانگااور سب کو گروپ میں دیوئائڈ کیا..
[ ] تو کلاس سب اپنی.گروپ کے ساتھ مل.کر جو کو کمپنیز کا اپکا ٹارگٹ دیا ہے وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر ان کی ڈیتیلز اپ اسائنمنٹ کی صورت میں میرے افس میں جمع کرادیے گا…
[ ] اوکے سر…
[ ] ان چاروں کو.ایک ہی گروپ.بنایا تھا تو دیسایڈ ہوا تھا کہ سب شان کے فادر کی کمپنی کا ٹارگٹ پور کرینگے..اہستہ.اہستہ.پوری.کلاس خالی ہوگی.شاہ.اپنی ڈیکس پہ.سے اپنا سامان سمیٹ رہا تھا..
[ ] جب نازنین کی.اواز پہ.اسنے سر اٹھا کے دیکھا..
[ ] سر مجھے اپ سے کچھ کہنا ہے..
[ ]
[ ]
[ ] جاری ہے
[ ]