Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 41 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 41 Part 1
شان گاڑی سے ٹیک لگا کے نازنین کا ویٹ کررہا تھا جب ہی وہ آتی دیکھائ دی…
نازنین کے گاڑی میں بیٹھتے ہی شان نے گاڑی اگے بڑھادی.. گاڑی کی خاموشی کو نازنین کی غصہ بھری آواز نے توڑا….
شان تم.نے شاہمیر کی سچائ ماہ کے سامنے کیوں نہی رکھی تم.جانتے ہو حقیقت اس کے باوجود تم نے اسکے جھوٹ کو سچ قرار دیا… کیوں شان ؟؟؟؟
نازنین کے سوال پہ شان نے گاڑی کے اسٹیرینگ پہ اپنی گرفت اور سخت کی اور غصہ سے نازنین کی طرف دیکھا اور پوچھا…..
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے شاہمیر اسکے ساتھ غلط کرنے والا تھا؟؟
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے ماہ کے جوس کے گلاس میں
اس نے نشہ آور چیز ملائ تھی؟؟؟
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کے ماہ کے شرٹ بیک سے او..پ..یہ بات بولنے سے پہلے ہی شان نے زور سے مکا گاڑی کے اسٹیرینگ پہ مارا……
شان کی آخری بات سن کے نازنین نے بے یقینی سے شان کو دیکھا..اور بولی…..
تو مطلب جس چیز کا مجھے ڈر تھا شان وہ شاہمیر ماہ.کیساتھ کرنے والا تھا…..؟؟؟؟
نازنین کے سوال پہ شان کی آنکھیں بھیگنے لگی. مگر وہ کمال مہارت سے اپنے آنسو چھپا گیا اور نازنین سے بولا…
ہاں نازنین کل جس حالت میں ماہ اور شاہمیر کمرے میں موجود تھے 5 منٹ بھی اگر ہم لیٹ ہوتے تو میرے بڈی (جہانگیر)کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہی رہتے… اور جو تم مجھ سے گلا کررہی ہو کہ میں نے شاہمیر کی کل کی اصلیت ماہ.کو کیوں نہی بتائ…
تو کل ہی شاہمیر نے مجھے چیلینج کیا تھا اور پھر شان نے کل اپنے اور شاہمیر کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو نازنین کو بتادی…
نازنین یونی کا وہ تماشہ جو گاڑدن میں ہوا تھا شاید تم بھول.گئ ہو…
تم.خود بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہو کہ شاہمیر کے خلاف کوئ بھی بات ماہ برداشت نہی کریگی…..
ہاں شان میں یہ بات جانتی ہو اور تم یہ بھی ٹھیک ہی کہہ رہے ہو کہ کل کے واقعہ کا کوئ ثبوت ہمارے پاس نہی….
مگر شان زلیخا آنٹی نے ہم دونوں کو تمہارے گھر کیوں بلایا وہ بھی ابھی یونی ٹائم میں..؟؟؟
یار یہ بات تو مجھے بھی ہضم نہی ہورہی اپ گھر پہنچ کے ہی پتہ چلے گا کہ ایسی کونسی بات ممانی کو ہم سے کرنی ہے جو انکے گھر پہ نہی ہوسکتی…..
ہممم.شان کی بات نازنین بھی سوچنے پہ مجبور. ہوگئ…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نازو کے روم سے جانے کے بعد زلیخا نے شان کے نمبر پہ ٹیکس کرکے اسے اپنے گھر انے کو کہا نازنین کو لے کے. …
میسج کرنے کے بعد زلیخا ریڈی ہوکے نیچے آئ تو نازو بھی ریڈی تھی….
زلیخا نے جاتے جاتے نجمہ سے کہا…
.ہم دونوں ضروری کام سے جارہے ہیں ایک دو گھنٹہ میں واپس آجائینگے….
اگر اماں جان ہمارا پوچھے تو کہہ دینا کہ نور کی طرف گئے ہیں ہم….
ٹھیک ہے؟؟؟
جی بی بی جی… ملازمہ نے زلیخا کی ہاں میں ہاں ملائ اور اپنے کام.میں لگ گئ اور زلیخا اور نازو نور کے گھر کیطرف نکل پڑے…..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کافی.کے کپ.پہ انگلیاں پھیرتے ہوئے ماہ.اپنی.ہی سوچوں میں گم تھی مگر شاہمیر کے لبوں کی مسکراہٹ جو ماہ.کو دیکھ کہ.اسکے لبوں پہ تھی سامنے ٹیبل پہ بیٹھے ایک.اور نفوس کی دل کی ڈھرکن بڑھا رہی تھی….شاہمیر نے پھر اسی احساس کے تحت کے جب بھی وہ.ماہ.کیساتھ ہوتا ہے کسی کی.نگاہوں میں ہوتا ہے ادھر ادھر ادھر نگاہ.ڈورائ مگر اسکو سامنے ٹیبل پہ.بیٹھی نوشین جو اسکی کلاس فیلو تھی جو اپنے اگے کھلی بک میں گم تھی کے علاوہ کوئ ایسا نہی دیکھا جو اسے دیکھ رہا تھا….
ماہ.نے جب شاہمیر کو ادھر ادھر نگاہ ڈوراتے ہوئے دیکھا تو پوچھا…..
کیا ہوا شاہمیر کیسی ڈھونڈ رہے ہو.؟؟؟؟..
ماہ کی آواز پہ.ایک دم شاہمیر چونکا اور کہا….
اا ہاں..کچھ نہی…
تم.کافی ختم کرلو پھر چلتے ہیں میری کلاس ہے….
نہی تم جاؤ میں یہی بیٹھونگی فلحال دل نہی چارہا کوئ بھی کلاس اٹینڈ کرنے کا…
ماہ کی بات پہ شاہمیر نے اپنے کندھے اچکائے اور کہا..
اوکے پھر کال پہ بات ہوگی….
یہ بول کہ شاہمیر تو چلا گیا مگر ماہ نے جب تک اسکی پشت کو گھورا جب تک وہ.نظروں سے اوجھل نہی.ہوا …..
اور ماہ سوچنے پہ.مجبور ہوگئ
..کیا شاہمیر کو اتنا بھی اندازہ نہی.کے میں.اداس ہو یہ میرا موڈ کیسسا ہے…ماہ.نے افسوس سے اپنی گردن ہلائ اور واپس اپنی سوچوں میں گم ہو گئ….
¤¤¤¤¤¤
نور لانج میں اپنی ملازمہ سے صفائ کروارہی تھی .کہ جب ہی اسکا دیھان نازو کی آواز کی طرف گیا…
جو لانج کے گیٹ سے گھر کے اندر داخل ہورہی.. مگر نور چونکی تب جب اس نے نازو کے پیچھے زلیخا کو دیکھا…تو فورا انکی طرف لپکی.اور کہا…
اسلام وعلیکم…
بھابھی اپ دونوں صبح صبح خیریت… ؟؟؟
کیوں ہم آنہی سکتے اتنی صبح تمہارے گھر….؟؟؟
نازو نے مسکراکے نور کے سلام کا جواب دیا اور کہا.. نازوکے جواب پہ جہاں نور مسکرائ وہی زلیخا بھی.ہلکا سا مسکرائ…
ارے نہی نہی.میری.پیاری بھابھیوں اپکا اپنا گھر ہے مگر زلیخا بھابھی کے موڈ کو دیکھ کہ لگ رہا ہے کہ.اپ دونوں کی اچانک آمد کا کوئ نہ کوئ تو ریزن ہے…
..
زلیخا نے نور کی بات پہ کہا….
ابھی شان اور نازنین بھی آرہے ہیں نور انکے انے سے تمہیں تمہارے سارے سوالوں کے جواب مل جائینگے جو میرا چہرہ دیکھ کے تمہارے دل.میں امڈ رہے ہیں..
اس سے پہلے نور کچھ اور بولتی….
شان اور نازنین کے ایک ساتھ کیے گئے سلام.کی آواز پورے لانج میں گونجی….
سب نے ان دونوں.کے سلام کا جوب دیا…
تو زلیخا نے ان دونوں سے کہا…
تم.دونوں یہاں میرے سامنے اکے بیٹھو….
زلیخا کے لہجہ میں ایسا کچھ ضرور تھا جسکی کرواہٹ اگر شان اور نازنین نے محسوس کی تھی تو اس احساس سے نور بھی انجان نہی تھی.. نور نے فورا نازو کی طرف دیکھا تو اس نے اسے منہ پہ انگلی رکھ کے چپ رہنے کا اشارہ کیا…
شان اور نازنین زلیخا کے سامنے اکے بیٹھے تو زلییخا نے ان سے سوال کیا.
کل تم لوگ ماہ کو بیہوشی کی حالت میں کہاں سے لائے تھے…
زلیخا کے سوال پہ جہاں نور نے حیران کن نظروں سے شان اور نازنین کو دیکھا وہی شان اور زلیخا کو لگا…
کہ اس سے زیادہ برا دن انکی.لائف میں کبھی نہی ایا…
اس سے پہلے وہ دونوں کوئ بہانا کرتے زلیخا بول پڑی….
تم دونوں نے اب اگر جھوٹ بولا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھو گے…
زلیخا کا ایسا بولنا تھا کہ نازنین نے الف سے لے کر یے تک زلیخا کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا جبکہ شان گردن جھکا کہ زمین کو گھور رہا تھا.
نازنین کے چپ ہوتے ہی زلیخا نے پھر پوچھا…
اور یہ شاہمیر کون ہے….؟؟؟؟
زلیخا کے اگلے سوال پہ شان نے ایک جھٹکے سے اپنی گردن اٹھائ اور.زلیخا سے پوچھا..
ممانی اپ کیسے جانتی ہین شاہمیر کو اور اپ کو کیسا پتہ کے ہم نے کل والے واقعہ کے بارے میں اپ سے جھوٹ بولا؟؟؟؟
شان کے بولنے میں زلیخا نے ایک لمبی سانس لی اور کل انے والی شاہمیر کی کال کا ایک ایک لفظ ان دونوں کو بتا دیا..
زلیخا کی بات سن کے جہاں نور نے اپنی آنکھیں شرم سے جھکا لی.وہی.شان کے پاس بھی زلیخا کی بات کا کوئ جواب نہی تھا……
مگر نازنین کا برداشت یہی تک تھا زلیخا کی.بات ختم ہوتے ہی وہ شان پہ.پھٹ پڑی….
“
لو سن لیا تم.نے دیکھ لیا کتنا کمینا انسان ہے وہ ثبوت کی.بات کررہے تھے تم اس شخص نے تو گھٹیا لفظ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا… کیسےوہ اپنی ہی محبت کی عزت کی دھجیاں اڑا رہا ہے.. ائ.ایم ڈیم شور.. یہ کال اس نے جان بوجھ کے کی ہے کیونکہ پرس تو ماہ کا وہی رہ گیا تھا اور لازمی اسکے.پرس کی.تلاشی کی دوران اسے اس بات کا علم.ہوگیا ہوگا کہ ماہ.کا موبائل گھر میں ہے…
اف یہ کمینا شخص کہاں سے میری دوست کی زندگی میں اگیا…؟؟؟؟
نازنین نے غصہ میں اپنے سر کے بال جکڑ لیہ…
…
شان نے ایک.نظر وہاں بیٹھے ہر نفوس پہ ڈالی.اور اٹھ کے زلیخا پیروں کے پاس بیٹھا اور کہا….
زلیخا جو شرمندگی سے منہ نیچے کیے رونے میں مصروف تھی .شان کے ایسے بیٹھنے پہ ایک دم بوکھلا گئ اور شان کو دیکھنے لگی…
شان نے گردن جھکا کے سر زلیخا کے گھٹنے پہ رکھ کے کہا….
ممانی ماہ شاہمیر سے بہت محبت کرتی ہے اسکے بغیر وہ جی نہی پائے گی نازنین کی باتوں پی اپ دیھان نہی دے بس اپ ماہ کی خواہش کا حترام.کرے پلیز ممانی مجھے شاہمیر کا نہی پتا مگر ماہ اس کے علاوہ کسی اور کی کبھی نہی ہوگی….
یہ بول کہ شان چپ ہوا تو.. تو زلیخا بول پڑی…
اور کیا تم اسے کسی اور کا ہوتے ہوئے دیکھ لوگے تم.بھی تو اس سے محبت کرتے ہو؟
زلیخا کا سوال تھا یہ پھر شان.کی زندگی کا آئینہ. شان نے جھٹکےسے اپنی گردن اٹھائ تو وہ گرین آنکھوں والا شہزادہ رو رہا تھا..
..
شان نے بے یقینی سے زلیخا کو دیکھا جو اسکی آنکھوں میں چھپی داستان پڑھ چکی تھی بس اس داستاں کی حقیقت شان کے منہ سے سننا چا رہی تھی…
شان ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا. اور رخ موڑ کے کہا…
نہہی ممانی جان میں ماہ سے محبت نہی کرتا وہ بس میری بہت اچھی دوست ہے اور کچھ نہی پلیز اپ ماہ پہ کسی بھی قسم کا دباؤ مت ڈالیے گا اسکی شادی شاہمیر سے ہی کریگا اسی میں ہم سب کی بھلائ ہے.. یہ بول کو شان تیزی سے سڑھیاں پھیلانگتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا…
تو زلیخا بھی جھٹکے سے اٹھی اور باہر کی طرف چل دی نازو نے بھی زلیخا کو پیچھا کیا اور فورا اسکے پیچھے بھاگی…
نور نے شکستہ خور حالت میں اپنا سر تھام لیا…
جبکہ نازنین غصہ میں اٹھی اور تیزی سے شان کے کمرے کی طرف بڑھی…
¤¤¤¤
شان نے کمرے میں ااتے ہی اپنا ایک ہاتھ سینے پہ رکھا اور دوسرا اپنی.کمر پہ اور لمبے لمبے سانس لینے.لگا …کبھی روتا کبھی اپنے آنسو صاف کرتا مگر آنسو تھے جنہوں نے اج نہ تھمنے کی قسم.کھائ تھی…
شان وہی بیڈ سے ٹیک لگا کے بیٹھ گیا…
کہ جبھی دروازے کھلا اور نازنین غصہ میں کمرے کے اندر داخل ہوئ ارداہ تو اسکا شان کو کھڑی کھڑی سنانے کا تھا. گر شان کو یو روتا دیکھ کے اسکی انکھیں بھی بھیگ گئ..اور وہ وہی اسکے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ کے کہنے لگی….
اب یہ رونا دھونا کس لیہ مکر …تو گئ تم اپنی محبت سے.؟؟
کیوں شان کیوں… ؟؟؟
یہ کیسی محبت یے یار جس میں صرف درد ہے تم نے کیوں آنٹی کی بات کو جھٹلایا کہ تم ماہ سے محبت نہی کرتے. پوری یونی جانتی ہے شان کہ تم دیوانہ وار اس سے محبت کرتے ہو پھر کیوں کیوں اج نہی قبولی یہ بات کیوں…؟؟نازنین کی آواز اچھی خاصی اونچی ہوگی تھی جیسے سن کے جہاں نور اوپر آئ وہی پری جو ابھی ابھی یونی سے آئ تھی نور کے پیچھے ہی شان کی کمرے کی طرف ڈوری….
نازنین کی بات پی شان نے اپنی مٹھیاں زور سے بھینچی اور نازنین سے بھی اونچی آواز میں نازنین کی بات کا جواب دیا…
تو کیا کرو توڑ دو اسکی دوستی اسکا اعتبار جو وہ مجھ پہ دوست بن کے کرنی لگی ہے وہ بھی سوکولڈ ایک طرفہ محبت کے پیچھے.. تم جان کے بھی کیوں انجان بن رہی ہو نازنین مجھ سے زیادہ تم اسکی سب سے اچھی دوست ہو تمہیں کیا لگتا ہے میں اگر بڈی کو اپنے دل کی بات بولونگا تو کیا وہ ماہ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں نہی دینگے..
مگر کیا ہوگا اس سے نازنین ماہ بھی اپنے پاپا کے کہنے پہ مجھ سے شادی تو کرلے گی مگر زندگی بھر کبھی میر اعتبار نہی.کریگی..اور ماہ.کو جو مجھ پہ اعتبار ہوا ہے نازنین اس اعتبار کے لیہ میں ہنستے ہنستے اپنی محبت قربان کرسکتا ہو…….
یہ بول کہ شان بیڈ سے لگ کہ ایک بار پھر روپڑا..
جبکہ اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ جہاں نور رورہی تھی وہی محبت کرنے والے اپنے اس بھائ.کی.حالت دیکھ کے پری بھی روپڑی…
نازنین ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئ اس کا رخ شان کی طرف تھا اس لیہ اسکی نظر پری اور نور پہ.نہی پڑی.
اور غصہ میں کہا…
کھیلتے رہو تم دونوں دوست اعتبار اعتبار. ایک کی.محبت تو کوئ بنا ہی لے گا کچھ دونوں میں اپنی اور دوسرے کی.محبت بھی اسی اعتبار کی نظر ہوجائے گی…
نازنین کی بات پہ شان نے اپنی گردن ایک جھٹکے سے اٹھائ اور نازنین سے پوچھا…
دوسرا کون. ؟؟
شاید شاہ کی تم بیوی بن چکی ہو وہ اپنی محبت پا چکا ہے….
شان کی بات پہ نازنین نے کہا…
میں شاہ کی نہی ناااناا…
نازین نے فورا اپنی زبان کو بریک.لگائ ..اور کمرے سے باہر نکلنے کے لیہ جیسی ہی مڑی تو اسکی نظر نور اور پری پہ پڑی… نازنین ان دونوں کے درمیان میں سے تیزی سے نکلی کے جبھی نور کی آواز نے اسکے قدم وہی روک لیہ….
نازنین نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی اور دل سے دعا کی
کہ نور کمرے میں غلطی سے نکلے اسکے الفاظوں کو نہ.پکڑے مگر ضروری نہی کہ ہے ہر دعا قبول ہو…..
نور آہستہ سے چلتی ہوئ نازنین کے سامبے اکے کھڑی ہوگئ اور اس کو گھور گھور کے دیکھنے لگی….
اور پھر اس سے پوچھا..
جو دوسرا شخص اعتبار کے پیچھے اپنی.محبت قربان کرنے والا ہے وہ کہی ناصر تو نہی ..
اور اسکی محبت کہی پری تو نہیی.
جاری ہے..
