Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29 Part 1

[ ] قسط نمبر 29#(پارٹ ون)
[ ] اپنے کمرے میں موجود کھڑکی سے جو سیدھا نیچے کے پورشن کے لانج میں کھلتی تھی۰
[ ] صبا نےایک خونخوار نظر نیچے بیٹھے لوگوں پہ.ڈالی اور خود سےکہا..
[ ] تم کیا سمجھتی ہو نور کہ تم.بچ گئ نہی نور…
[ ] اور زلیخا تمہاری بیٹی کیساتھ وہ.ہوگا جسکا تم تصور بھی نہی کرسکتی ,
[ ] .میں تمہارے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دونگی نور بہت چپہیتی ہونا اپنے جہانگییر بھائ کی نور تم.اگر اسی کی نظروں میں ہی تمہیں نہ گرایا تو میرا نام صبا..نہی…میری بہن کی موت اتنی سستی نہی کہ میں اسے بھول جاؤ
[ ] زلیخا..اور تمہیں اسکی.قیمت چکانی پڑے گی..
[ ] صبا نے ایک اور کال کی جو ایک ہی بیل پہ پک کرلی گئ..
[ ] اسلام وعلیکم.صبا پھپو…
[ ] وعلیکم سلام شاہمیر….
[ ] تمہیں پتا ہیں یہاں افریدی مینشن میں سب خوشیاں منارہے ہیں وہ نور واپس اگئ ہیں اور ابھی تک تم.نے اپنا کام نہی کیا..صبا نے غصہ میں شاہمیر کو کھڑی کھڑی سنا دی…
[ ] شاہمیر صبا کی ڈانٹ سن کے مسکرایا
[ ] اور کہا….
[ ] ارے مائے ڈاڑلنگ پھپو.میں تو اپنا کام کب کا ختم.کر چکا ہوتا مگر مجھے دادو نے روک دیا اپ بے فکر رہو افریدی مینشن والے زیادہ عرصے تک خوش نہی رہ سکینگے…
[ ] ہمم چلو اب میں فون رکھ رہی ہو اپنا خیال رکھنا اوکے بائے….
[ ] صبا کی کال رکھنے کے بعد شاہمیر کی لبوں پہ.ایک شیطانی مسکراہٹ اگئ. اور اس نے ایک نمبر پہ.ٹیکس چھوڑا اور انکھیں موند کے لیٹ گیا..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] گاؤں سے حویلی انے کے بعد بھی وہ صبا ہی تھی جس نے بی جان کو افریدی مینشن کی پل.پل کی رپوٹ دی ماہ.کی.یونی کا پتہ بھی صبا نے ہی بی جان کو دیا تھا.تاکہ وہ زلیخا کی بیٹی سے اپنی بہن کی موت کا بدلہ لے سکے..بی جان نے شامہیر کو جھوٹی کہانی سنا کے نہ صرف ورغلایا بلکہ اس کے دماغ میں یہ بات ڈالی کہ وہ ماہ کیساتھ پیار کا جھوٹا ناٹک کرکے اس سے نکاح کرکے اپنے باپ کی معزوری اور اپنی چھوٹی پھپو کی موت کا بدلہ لے …
[ ] نور اور حیدر کا پیچھا کرتے ہوئے جنید کا ایکسڈنٹ ہوا جسمیں جنید اپنی ٹانگوں سے معزور ہوا اس بات کو چھپا کہ اُلٹا یہ بات شاہمیر کے دماغ میں بی جان نے ڈالی ..کہ جہانگیر نے تمہارے پاپا.کا ایکسڈنٹ کروایا..کیونکہ جہانگیر تمہارے باپ کی شہرت سے جلتا تھا.جب تم پیدا ہونے والے تھے.اور اس سب میں حیدر جنید کا دوست بھی شامل تھا اور یہ بھی کہا کہ تمارے پاپا اور نور کا نکاح بچپن. میں ہی ہوچکا تھا مگر نور حیدر کو پسند کرتی اور جہانگیر بھی چاہتا تھا کہ اسکی بہن کی شادی اس کے دوست سے ہو..اس لیہ نہ صرف اس نے جنید کا ایکسڈنٹ کروایا بلکہ ذخمی حالت میں تمہارے پاپا سے طلاق نامہ پہ دستخط کراوے اور نور کو لیہ کےملک سے باہر چلاگیا………..اور ادھر جنید اس ایکسڈینٹ میں اپنی نہ صرف ٹانگوں سے محروم ہوا بلکہ ایک اور صلاحییت سے بھی محروم ہوگیا تھا..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] جنید نے جب بی جان کو بتایا کہ گاڑی مکمل تباہ ہوگئ ہے اور حیدر اور نور اسی میں جل کے خاک ہوگئے مگر بی جان کو جنید کی بات پہ یقین نہی ایا تبھی انہوں نے اپنے کسی مخصوص بندے سے کہا.کہ.وہ ائیر پورٹ کے ٹکٹ چیکر سے معلوم کرے کے بتائے کہ کوئ نور اور حیدر نام کے لڑکا لڑکی اسٹڑیلیا کی فلا ئٹ میں موجود ہیں یہ.نہہی اور انکے خاص ادمی نے ا10 منٹ میں کنفرم کرکے بتا دیا کہ.نور اور حیدر اس فلائٹ میں موجود ہیں..
[ ] جنید کو بی.جان نے کہا کہ.وہ اگلی فلائٹ سے اسٹڑیلیا کے.لیہ نکلے اور حیدر کا کام وہی تمام کرکے نور کو اپنے ساتھ لیکے ائے. جیند نے بی جان کی بات سن کے جیسی ہی گاڑی سے نکلا ایک تیز رفتار ٹرک سے اسکی ٹکر ہوگئ اور ٹرک اسکی ٹانگوں کو رونڈتا ہوآ اگے نکل گیا ایکسیڈینٹ کے بعد 3 مہینے جنید ہسہتال میں رہا اور اس دوران بی.جان چاہ کے بھی حیدر اور نور کیساتھ کچھ نہی کرپائ.. اچانک دو سال پہلے بی جان جو کسی.کام سے کراچی ائ تھی واپسی پہ انہوں نے کراچی کی ایک شاہراہ پہ.حیدر اور نور کو دیکھا جنکے ساتھ ایک لڑکا اورایک.لڑکی بھی موجود تھے
[ ] پتہ کرانے پہ بی جان کو پتہ چلا کہ وہ دونوں نور اور حیدر کے بچے ہیں اور حیدر کا بیٹا ماہ کی.ہی.یونی میں پڑھتا ہے … ہےبی.جان اس وقت حیدر اور نور کا بال بھی بیکا نہی.کر پائ کیونکہ جنید کی معزوری نے اور جنید کے انکار نے کہ اب وہ کسی غلط کام.میں انکا.ساتھ نہی دے گا ایک اور جھٹکا دیا تب انہوں نے شاہمیر کا داخلہ.ماہ کی یونی.میں کروایا اور اسے اپنے ساتھ اس کھیل.میں شامل کرلیا……¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] جیند نے بی جان کو بہت سمجھایا کہ بس اب یہ کھیل بہت ہوا اب ختم کرے یہ نفسا نفسی کا عالم. مگر بی جان اپنی بدلہ کی آگ میں اتنی اندھی ہوگئ کہ نہ صرف انہوں نے شاہمیر کا استعمال کیا بلکہ صبا سے بھی سچائ چھپا کہ اسے بھی اپنے ساتھ شامل کرلیا. مگربی جان شاید الللہ.کے بدلہ کو بھول گئ تھی جو بہت جلد الللہ بی جان سے لینےبوالا تھا..
[ ] جنید کے معزور ہونے کے بعد جنید کی شہر والی بیوی جس سے اس نے سب سے چھپ کے شادی کی تھی.اسنے یہ کہہ کے اسے چھوڑدیا کہ وہ اب اسکے کسی قابل نہی رہا اور وہ اپنی ساری زندگی ایک معزور کے ساتھ نہی گراز سکتی.. تو ادھر گاؤں والی بیوی جسکو بی جان نے ایک.نوکر سے زیادہ نہی سمجھا تھا جسکو جنید نے کبھی ایک.نوکرانی سے زیادہ عزت نہی دی تھی اس نے اس حالت میں بھی جنید کا ساتھ نہی چھوڑا جیند کو شمع کی.اس وفاداری نے بدل.کے رکھ دیا معزروری کے بعد جنید میں اک چڑچڑا پن اگیا تھا.. شمع خاموشی سے سب برداشت کرتی اور ہر حال.میں جنید کا خیال رکھتی جب تک جنید کو اسکی قدر ہوئ تب تک شمع سمجھ چکی تھی کہ وہ اب کبھی ماں نہی بن سکتی تھی.مگر اس پہ.بھی شمع نے اپنے رب کا شکریہ ادا کرنا نہ چھوڑا..
[ ] تو ادھر بی جان نےایک ننھامنھا سا گول.مول سا بچہ شمع کی گودھ میں یہ کہہ کہ ڈالا کہ یہ جیند کی شہر والی بیوی کا بچہ ہے جو بچہ پیدا کرتے ہی اس بچہ کو ہمارے حوالے.کرکے جنید کی معزوری کی وجہ سے اسکو چھوڑ کے چلی گئ..
[ ] اور شمع نے شاہمیر کو نہ صرف اپنے سینے سے لگایا بلکہ اپنی سگی اولاد کی طرح اسکی ہے چیز کا خیال رکھا
[ ] مگر شاہمیر کی تربیت بی جان نے کی.. شمع بی جان کی ہر ظلم اور بربریت کی شکار رہی مگر شاہمہیر کے گودھ میں اتے ہی وہ سب بھول گئ تھی اور صرف شاہمیر کی دیکھ بھال میں لگ گئ..جنید نے بھی جب شمع کو بنا کسی مطلب کے شاہمیر کی دیکھ بھال کرتے دیکھا تو نہ صرف اسکے دل میں شمع کے.لیہ عزت بڑھی بلکہ اس نے شمع سے اپنے ہر رویہ کی.معافی مانگی اور شمع اللہ میاں کی گائے اس نے جنید کو سچے دل سے معاف کردیا..جیسے جیسے شاہمیر بڑا ہوتا گیا بی جان نے اسکے
[ ] دل میں افریدی مینشن کے گھر والوں کے خلاف زہر بھرنا شروع کردیا جنید نے بی.جان کو بہت روکا.کہ شاہمیر کو ان اب چیزوں سے دور رکھے مگر بی جن نے جنید کی.ایک.نہ سنی اور یو شاہمیر افریدی مینشن کا دشمن ہوگیا جسکی دشمنی کا سب سے زیادہ نقصان بہت جلد ماہ.کو ہونے والا تھا………..افندی صاحب اپنی بیٹی اور اپنے بھائ کی موت کے بعد ٹوٹ سے گئے تھے اور اپنا ذیادہ تر وقت اپنے کمرے میں ہی گزارتے تھے یو بی جان بلکل کھل کے گاؤں والوں کے سامنے اگئ تھی اور اپنے غرور اور اپنے روب سے پورے گاوں والوں پہ اپنا حکم چلانے لگی تنویر اپنی فیملی کیساتھ جو بیرونی ملک شفٹ ہوا تو پھر پلٹ کر اپنے گھر والوں کی خبر نہ لی اور افندی حویلی میں تنہایوں نے بسیرا کر لیا ایک ویرانیت تھی اس حویلی میں جو صرف بی جان کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے تھی مگر بی جان اپنی انا اپنی اکڑ میں سب بھول گئ کہ ایک ایک کرکے انکے سارے رشتہ ان سے الگ ہورہیے ہیں مگر بی جان کو کون سمجھائے..
[ ] مگر کہتے ہیں نہ جیسے کوئ نہہں سمجھاتا اسے قدرت سمجھاتی ہے…
[x] .
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[x] .
[ ] کھانا خوشگوار میں کھایا جا رہا تھا کہ جبھی کچھ یاد انے پہ جہانگیر نے اپنے موبائل سے کسی کو کال کی..
[ ] کال پک کرتے ہی جہانگیر نے کہا. ہاں ہیلو نعمان یار ایک مسئلہ ہوگیا ہے تو ایسا کر کے ابھی فٹافٹ میںرے گھر پہنچ اور ہاں سن بھابھی اور سرور کو بھی لیتے انا..یہ بول کی جہانگیر نے مسکرا کہ.کال رکھ دی جبکہ کھانے پہ بیٹھے سارے جہانگیر کو منہ کھولے دیکھ رہے تھے جس نے کمال کی ایکٹنگ کرکے نعمان کو یہاں بلایا تھا…جبکہ.حیدر مسکراتے ہوئے خاموشی سے اپنا کھانا کھانے میں مصروف تھا.. سب ہی بچے اج جہانگیر کی حر کت پہ حیران تھے کیونکہ جہانگیر کا اج یہ روپ سب نے پہلی بار دیکھا تھا.. بہت کم ان لوگوں نے جہانگیر کو ہنستے اور مسکراتے دیکھا تھا.اب انہیں یہ کون بتاتا کہ جہانگیر کے ہنسے مسکرانے کی وجہ اسکی جیینے کی دمق اسکے چنچل روپ کا دوسرا پہلو اسکا یار اج اسکے ساتھ تھا..سب کے ایسے دیکھنے پہ دلاور نے سب کو کہا ایسی
[ ] مت چونکو بچو یہ ابھی تو تم لوگوں نے جہانگیر بھائ کا کوئ روپ دیکھا نہی اب انکا یار جو ایا ہے تو دیکھنا
[ ] یہ تمہارے بڑے پاپا کیا چیز ہے میں معصوم تو خاماخائ میں بدنام ہو دلاور کی اس بات پہ سب کا قہقہ گونجا.تبھی زلیخا نے جہانگیر کو کہا..
[ ] جہانگیر…
[ ] جی جان جہانگیر حکم.. اور جہانگیر کے جان کہنے پہ جہاں زلیخا جھینپی وہی سب کا قہقہ گونجا..
[ ] اور زلیخا نے کہا..
[ ] جہانگیر کچھ تو شرم کرلے.بچے بیٹھے ہیں…
[ ] ہاں تو کیا ہوا تم جان نہی ہو کیا میری…؟؟؟
[ ] اففف زلیخا نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا اور ایک بار سب ہنس پڑے کہ جبھی نور نے کہا…
[ ] بھابھی یہ دونوں دوست ایک جیسے ہیں. نور کا اشارہ حیدر اور جہانگیر کی طرف تھا…
[ ] نور کی بات پہ سب نے رشک سے جہانگیر اور حیدر کو دیکھا.جبکہ عدنان تو بول پڑا…
[ ] بڑے پاپا ….
[ ] حیدر انکل اور اپکی دوستی لاجواب ہے ..کاش ایسا کوئ دوستی کا رشتہ میںرے پاس بھی ہوتا…
[ ] عدنان کی بات سن کے حیدر نے کہا..
[ ] بیٹا عدنان رشتہ چاہے دوستی کا ہو یہ پھر کوئ بھی رشتہ ہو بنا اعتبار کے ادھورا ہے..حیدر کی بات پہ
[ ] ازلان نے فورا فائز کو دیکھا تو وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی اور پھر سر جھٹک کے کھانا کھانے لگی…
[ ] حیدر کی بات پہ.عدنان ے کہا بلکل حیدر انکل اپنے صحیح کہا.میں اپکی بات سمجھ گیا..
[ ] عدنان جیسی ہی چپ.ہوا تو ردا بول پڑی…
[ ] عدنان سمجھنے کے لیہ دماغ چاہیے جو تمہارا پاس ہے نہی.ردا کے ایسے بولنے پہ سب کا قہقہ گونجا تو وہی عدنان نے خونخوار نظروں سےردا کو گھورا اور منہ پہ.ہاتھ پھیرا جیسے کہہ رہ ہو کہ اب بچ کے دیکھاؤ…
[ ] سب کے چپ.ہوتے ہی زلیخا نے ایک بار پھر جہانگیر کو کہا..
[ ] جہانگیر اپکو نعمان بھائ کو ایسے نہی بولانا چاہیے تھا اور بچارے سرور کو بھی اپ نے ساتھ بولا لیا یونی اور افس دونوں جگہ وہ ہنڈل کرتا ہے..
[ ] زلیخا کا یونی کا نام لیتےبہی ماہ اور شان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر شان بولا..
[ ] بڈی کہی یہ اپکے دوست نعمان جو ہیں انکا پورا نام نعمان شاہ تو نہی ؟؟
[ ] شان.کی بات پہ.جہانگیر چونکا اور کہا.ہاں مگر تم کیسے جانتے ہو..؟؟
[ ] اس سے پہلے شان بولتا ماہ بول پڑی..
[ ] کیونکہ.پاپا نعمان انکل ہی ہمارے اکاونٹنگ کے پرفیسر ہیں مگر انکا بیٹا سرور اب انکی جگہ ایا ہے اور وہ ہمارا پرفیسر ہونے کیساتھ ساتھ بہت اچھا دوست بھی ہے…
[ ] اوہ مگر ماہ.اپنے.کبھی بتایا نہی.کہ.نعمان اپکی یونی میں پرفیسر ہیں.
[ ] پاپا مجھے یاد نہی رہا…اور نہ.کبھی انہوں نے مجھ پہ غور کیا انکا تو فیورٹ اسٹودنٹ ہمیشہ.شان ہی رہا..ماہ نے خفگی سے کہا
[ ] اوہ..
[ ] (جہانگیرنے نعمان کو یہ تو بتا دیا تھا کہ نور اور حیدر زندہ ہے مگر کہاں ہے یہ بات ابھی تک اس نے صرف زلیخا کو بتائ تھی.اور نعمان
[ ] کا جہانگیر کے گھر بہت کم انا جانا تھااور سرور تو ابھی دو مہینے پہلے ہی.لندن سے ایا تھا تو ماہ کا تو اسکا امنا سامنا ہوا نہی جبکہ جہانگیر اس سے نعمان کے گھر مل چکا تھا)
[ ] ابھی وہ لوگ باتیں کرہیے تھے کہ ایک دم نعمان کی اواز لانج میں گونجی..
[ ] جہانگیر کیا ہوا تم.نے اتت..
[ ] نعمان کی الفاظ منہ میں ہی رہ گئے جب اس نے ٹیبل پہ بیٹھے دو نفوس کو دیکھا..نور اور حیدر کو اپنے سامنے دیکھ نعمان کی.انکھوں سے انسو جاری ہوگئے تو ایسا ہی کچھ حال نعمان کی بیوی نیلم کا بھی تھا حیدر اور نور تیزی سے اٹھ کے ان کے گلے لگے.. نعمان بار بار حیدر اور نور سے معافی مانگ کہ انہیں شرمندہ کررہا تھا کہ وہ انکو صحیح سلامت ائیرپورٹ نہی پہنچا سکا تو ادھر نور بھی نیلم کے گالے لگ کے رو پڑی…
[ ] پیچھا کھڑا شاہ سٹویشن سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ جب اس کی نظر پری ماہ اور شان پہ.پڑی جو اسی.کو دیکھ رہے تھے.. جہانگیر نے جب شاہ کو پریشان کو دیکھا تو بول پڑا….
[ ] ارے نعمان رونے دھونے کا سین بند کرو دیکھو سرور کی شکل اور نعمان سرور کو پریشان دیکھ کہ چپ.ہوا نور شاہ کے قریب ائ اور اسکے گال کھینچے.. اور کہا..
[ ] پتہ ہے سرور تم جب ایک سال کے تھے جب تم میںری بھی ایسے ہی گال.کھینچتے تھے.. نور کی بات پہ.سب کی ہنسی نکلی اور پھر جہانگیر نے شاہ کو بتایا کہ اپکے پاپا اور ماما نور اور حیدر کے بہت اچھے دوست ہیں برسوں بعد اج مل رہے ہیں تو اس لیہ.یہ میلو ڈرامہ.ہورہا ہے.. جہانگیر نےبہت صفائ سے ائیرپورٹ والی بات گل.کردی..سب ہی
[ ] دوبارہ ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھ گئے اور ایک بار پھر محفل سج گئ سب ہی ہنسی مزاق میں لگے تھے شاہ کے سامنے ایک اور انکشاف ہوا کے شان اور ماہ اپس میں کزن ہیں.. تو نعمان بھی ماہ اور شان کو دیکھ بہتبخوش ہوا اور خاص کر شان کو دیکھ کے ایسے زیادہ خوشی ہوئ کہ وہ حیدر کا بیٹا ہے…..
[ ] تھوڑی دیر بیٹھ کے نعمان کی فیملی چلی گئ تو سب ہی ینگ جنڑیشن اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور بڑے سارے چھت پر….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ اپنے کمرے میں گئ..تو اسے ایک نامانوس سی خوشبو اپنے کمرے میں محسوس ہوئ اس سے پہلے وہ لائٹ جلاتی ازلان نے اسے کھینچ کے دیوار سے لگایا اس سے پہلےفائزہ اس اچانک حملے پہ چیختی کہ جبھی ازلان نےا سکے لبوں پہ ہاتھ رکھا اور اس کےکان میں سرگوشی کی ..
[ ] فائزہ میڈم…….
[x]
[ ] اپنی نظروں کو اب خالی مجھ تک رکھنا اب اگر یہ بھٹکی تو آئندہ مجھ سے شکوہ مت کرنا..یہ بول کہ ازلان نے فائزہ کو چھوڑا تو فائزہ نے غصہ سے اسکا کالر پکڑ کے پوچھا..
[ ] میری نظریں کس پہ بھٹکی؟؟؟
[ ] جس طرح تم شاہ کو گھور رہی تھی میں اندھا نہی ہو..ازلان نے غصہ سے کہا.تو فائزہ کی.انکھوں کے سامنے کچھ ٹائم پہلے کا منظر گھومنے لگا.. جب فائزہ نے خود کو شاہ کو اشارہ کرتے دیکھا تو وہ چونکی اور ایک ائیبرو اٹھا کے شاہ کو دیکھا تو اس نے اشارہ کیا کہ اپکو نہی پیچھے شان کو بلاو جو بلکل فائزہ کے پیچھے کھڑا تھا جسکی وجہ سے فائزہ سمجھی کہ شاہ اسی.کواشارہ کرہا ہے فائزہ نے جبھی اسکو گھورا جو ازلان نے دیکھ لیا……
[ ] فائزہ کی انکھ سے ایک انسو گرا اور اس نے ازلان کا کالر چھوڑ دیا..اور کہا تو صرف اتنا…
[ ] اتنا شک کرتے ہو مجھ پہ؟؟؟؟
[ ] موقع بھی تم.نے ہی دیا یہ بول کے ازلان فائزہ کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں ایا تو شان کو اپنا منتظر پایا..اور پھر وہ اور شان تھوڑی دیر باتیں کرکے سوگئے..
[ ] ازلان کے جانے کے بعد فائزہ نے وضو کیا اور عشاء کی نماز ادا کی اور دعا میں صرف اپنا پرانا والا ازلان مانگا..
[ ] وہ جزبات میں اکے ایک ایسے شخص کی محبت کو ازما گئ تھی جسکی قیمت شاید وہ چکا نہی سکتی تھی..
[ ] کہتے ہیں شک کا ایک بیج بھلے مزاق میں کیوں نہ بویا ہو محبت کی جڑیں دیمک کی طرح کھاجاتا ہے….
[ ] :::::::::::/::::::::::::::/*
[x] i am back in karachi meet tomorrow in uni
[ ] ادھر ردا نے پری کو اپنے کمرے میں ہی روک لیا..تو ماہ اپنے کمرے میں اکیلی.ہی.اگئ..نماز پڑھ کے فارغ ہوئ تو اس نے اپنا موبائل چیک کیا تو اس پہ.شاہمیر کا میسج ایا ہوا تھا اس نے جلدی سے اوپن کیا تو اس میں لکھا.تھا..
[ ] tomorrow meet in uni garden.
[ ] میسج پڑھ کے ماہ.کے لبوں پہ ایک.مسکراہٹ اگئ اس نے لیٹ کے انکھیں موند لی. …¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤سارے بڑے اوپر ٹیرس پہ بیٹھے تھے.. مگر کوئ بھی بولنے کی.ہمت نہی کررہا تھا .وہاں ہر کوئ بات کا اغاز کرنے کے لیہ اپنے لفظوں کو جوڑ رہا تھا ٹیرس پہ.بیٹھا ہر نفوس ایک عجیب سی.کشمکش میں مبتلا تھا کسی کے دل میں بہت سے سوال تھے تو کوئ اپنے جوابوں کو جوڑ رہا تھا اسی.کشمکش میں ادھا گھنٹہ گزرا تو زلیخا سب کے لیہ چائے لے ائ اور پھر اس ماحول کی خاموشی کو نور نے توڑا..
[ ] نور نے حویلی سے لے کر اپنے نکاح تک اور پھر ائیڑپورٹ پہ.ہوئے حادثہ سے لے کے کر سب کچھ ڈوڈی اور نازو کو بتایا جہانگیر جو ائییرپورٹ والے واقعہ سے انجان تھا یہ جان کے کہ اس سب میں بھی جنید کا ہاتھ تھا یہ سوچ کے ہی.اسکا خون کھوُل..اٹھا….
[ ] نور کے خاموش ہوتے ہی حیدر نے جہانگیر سے سوال کیا کہ.اسنے کراچی والا بزنس کیوں بند کردیا کیوں اس نے پہلے والا افریدی مینشن سیل کیا..جسکا.جواب جہانگیر نے نہی دلاور نے دیا. ..
[ ] نور کے حویلی.سے جانے کے بعد بی جان نے کوئ کسر نہی چھوڑی ہمیں بدنام کرنے کی کبھی کوئ تو کبھی کوئ اتا بابا سے یہ ہوچھنے کی.کی انکی بیٹی انکے بیٹے کے دوست کے ساتھ بھاگ گئ…
[ ] بابا جان یہ سب زیادہ دن تک برداشت نہ کرسکے اور ایک رات ایسا سوئے کہ صبح نہ اٹھ سکے…مگر جس رات اکی حویلی اور اس دنیا میں اخری رات تھی سونے سے پہلے انہوں نے کہا تھا..مجھے بولا کہ نہ میری نور ایسی ہے نہ میرا حیدر ایسا ہے ضرور کچھ ایسا ہوا حویلی میں جسکی وجہ سے انہیں یہاں سے جانا پڑا دلاور میری نور جب بھی ائے اسے اپنے سینے سے لگانا. یہ بول.کے دلاور ایک بار پھر روپڑا تو حیدر کی.بھی انکھیں بھیگ گئ…جبکہ جہانگیر نے بس خاموشی سے اپنی انکھیں بند کی تھی…
[ ] بی جان نے حویلی کب اور کیسے اپنے نام اماں جان سے کروائ پتہ نہی چلا گاؤں کا حساب کتاب صرف بابا کو پتا تھا حویلی سے انے کے بعد ہمارے حالات بہت خراب ہوگئے تھے جہانگیر بھائ اسٹڑیلیا سے جو بھی رقم لائے تھے وہ سب ہمیں اپنا کاروبار سیٹ کرنے.میں لگ گیا کہ.جبھی اپنے کاروبار کو اور جمانے کے لیہ.ہمیں افریدی مینشن سیل کرنا پڑا اور اپنا کراچی کا پرانا بزنس بھائ بند کر چکے
[ ] تھے کیونکہ حیدر بھائ کراچی کا بزنس سنھالتے تھے تو اپ تھے جہانگیر بھائ کو زیادی معلومات نہی تھی بزنس ڈیل.کے بارے میں اس لیہ اس بزنس میں ہمیں بہت لوس ہوا اور ایک بار ہم پھر ہارے مگر پھر اللہ.کو شاید ہم.پہ.رحم اگیا کہ جو اپنا نیا کاروبار ہم نے شروع کیا اس میں اللہ نے برکت دی.اور دن رات کی ہمارے محنت رنگ لے ائ کہ اج ہم اس مقام پہ.ہے…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤