Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

[ ] نازنین اور ماہ شان کی کار میں تھے جبکہ ناصر اور شاہ ..ناصر کی.گاڑی میں شاہ نے ڈرائیور کو کال کرکے گاڑی لیجانے کو بول دیا تھا اور خود ناصر کی.کار میں چل پڑا..
[ ] بلیک گلاسس جس نے گرین ہزیل انکھیں چھپائ ہو ئ تھی.
[ ] کسی گہری سوچ میں گم تھی..
[ ] کہ جبھی گاڑی کی خاموشی کو ماہ نے توڑا..
[ ] شان.. ؟؟؟
[ ] ماہ کے پکارنے پہ شان جو اپنی دھن میں گاڑی چلا رہا رہا تھا ایک دم چونکا اور اس سے کہا.
[ ] ہاں.ماہ ……..
[ ] شان ایک بات ہوچھو اگر مائنڈ نہ کرو تو….
[ ] نہی ماہ مائنڈ کی کیا بات ہے تم پوچھو…..
[ ] شان تم.نے نے بچپن اپنا سارا اسٹڑیلیا میی گزارا.اسکول اور کالج لائف بھی تم.نے اسڑڑیلیا میں گزاری..تو تمہاری کوئ gf nh
[ ] میرا مطلب ہے تمہیں کوئ اچھی نہی لگی یہ محبت نہی ہوئ.کسی سے؟؟ اچھے خاصے ہینڈسم ہو-
[ ] ماہ کہ.سوال پہ جہاں شان کا قہقہ گاڑی میں گونجا وہی نازنین نے بھی ماہ.کو سوال سن کے اپنی ہنسی کو چھپاتے ہوئے اپنا منہ کھڑکی کی طرف کرلیا….
[ ] ماہ کے سوال.پہ شان نے کہا…
[ ] میں gf yi bf کے رشتہ پہ.بلیو نہی.کرتا یہ سب نامحرم کے رشتہ ہیں ان رشتوں میں الّللہ کی.مرضی شامل نہی ہوتی.بلکہ.شیطان کی خوشی ہوتی ہے.. شان کی بات سن کے ماہ کو ایک دم شرمندگی ہوئ کیونکہ اسکا بھی شاہمیر سے کچھ ایسا ہی رشتہ تھا.. ماہ کو شر مندہ ہوتا دیکھ شان نے فورا… کہا…
[ ] اوہ ماہ پلیز تم میری کسی بات کا مطلب اپنے اور شامیر کے اوپر مت لے کے جانا میں تو اپنا نظریہ بتا رہا ہو
[ ] .کیونکہ میں نکاح کے پاک بندھن پہ ہی یقین رکھتا ہو…
[ ] اور میرے رب نے فرمایا ہے!!
[ ] “زناہ سے بہتر نکاح ہے”
[ ] شان کے ایکسکیوز کرنے پہ.ماہ نے کہا کچھ نہی مگر شان کی باتیں ماہ کے
[ ] دل پہ.لگی تھی سچ ہی تو کہہ رہا تھا.نامحرم کے رشتہ میں شیطان کی خوشی ہوتی ہے اور میرا رب نازاض ہوتا ہے…ابھی ماہ اپنی سوچوں میں ہی.گم تھی کہ جبھی شان کی اواز پہ ایک دم چونکی…
[ ] ویسے ماہ اب تم میری فرینڈ ہو اچھی والی تو تم سے کیا چھپانا..
[ ] میں ایک.لڑکی سے محبت نہی عشق کرتا ہو….
[ ] شان کی بولنے پہ جہاں ماہ.کو حیرت ہوئ وہی شان نے بیک میررر سے نازنین کو دیکھا جو ہنس رہی تھی اور نفی میں اپنا سر ہلا رہی تھی…
[ ] اچھا شان کون ہے وہ مجھے نہی بتاوگے…؟؟؟
[ ] ماہ…
[ ] مطلب یہ کہ..
[ ] ویسے میرے دوست کہتے ہیں کہ میری انکھوں میں میری محبت کا عکس دیکھتا ہے ……..
[ ] اچھا جی شان کی بات پہ ماہ نے مسکرا کے شان سے کہا لاؤ ہمیں بھی دیکھاؤ اپنی انکھیں ہمیں بھی تماری محبت کو دیکھنا ہے..
[ ] ماہ نے ایک ادا سے شان سے کہا اور پیچھے بیٹھی نازنین کو ہنس کے دیکھا…
[ ] ماہ.کا بولنا تھا کہ شان نے اپنی انکھوں سے گلاسس.ہٹائے اور ہلکا سا ماہ کی طرف جھکا اور کہا…
[ ] لو دیکھ لو میری انکھوں میں میری محبت کا عکس…..
[ ] اور شان کے کہنے پہ جب ماہ نے اسکی انکھوں میں دیکھا تو دنگ رہ گئ ہزیل گرین انکھیں جو کسی کو بھی دیوانہ کر سکتی تھی ایک منٹ کے لیہ ماہ چونکی اور پھر اس نے کھڑکی کی طرف منہ کرلیا
[ ] ..کیونکہ جو عکس اسے شان کی انکھوں میں دیکھا ماہ وہ دیکھ کہ بھی انجان بن گئ اور اپنا وہم سمجھ کہ اس نے اپنے دل.کا جھٹلایا…
[ ] شان نے جب ماہ کا گھبرایا چہرہ دیکھا تو ایک دلفریب مسکراہٹ اسکے لبوں پہ ائ جس کو شان نے بڑی مہارت سے چھپایا….گاڑی میں پھیلی سنگین خاموشی کو نازنین کی اواز نے توڑا..
[ ] ویسے ماہ تجھے پتا ہے میں شان کی محبت سے مل چکی ہو….
[ ] نازنین کے ایسے بولنے پہ جہاں شان نے پیچھے مڑ کے نازنین کو گھورا وہی ماہ بھی ایک دم چونک کے پلٹی..
[ ] سچ شان نازنین نے ملی ہوئ ہے اس سے پلیز مجھے بھی ملواؤ…..
[ ] ارے ماہ یہ نازنین نے ایسی تککاہ مارا ہے…
[ ] پھر بھی شان مجھے دیکھنا ہے اس لڑکی کو پلیز…
[ ] ماہ.کی.ریکویسٹ پہ نازنین کے لبوں پہ.ایک شرارتی مسکراہٹ اگئ جو شان سے نہ چھپ سکی…شان نے نازنین کو بیک میرر سے گھورا اور ماہ سے کہا…
[ ] ماہ وہ میری محبت بعد میں پہلے وہ میری عزت ہے اور مجھ سے نہی کسی اور سے پیار کرتی ہے تو پھر میں کیوں اسکا نام.لیے کہ اسے بدنام کرو.. اگر قسمت نے ساتھ دیا میرے رب کی مرضی ہوئ تو وہ اور میں ایک.ہوئے تو ضرور تمہیں اس سے ملوانگا….
[ ] شان کی بات سن کے ماہ کو بڑی حیرانی ہوئ جیسے اس نے اپنے لفظوں میں شان سے زکر کیا..
[ ] حیرت ہے شان وہ تمہیں نہی کسی اور کو چاہتی ہے ہھر بھی اس سے محبت کرتے ہو یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تمہاری کبھی نہی ہو سکتی..؟؟؟؟
[ ] ہاں ماہ محبت ایک بار یوتی ہے جو میں اس سے کرچکا مگر ضروری نہی کہ ہم جس سے محبت کرے اسکا ساتھ پائے دور رہ کہ بھی تو محبت کی جاسکتی ہے..اور کیا پتا میرا رب اسے میرے نصیب. میں لکھ دے اور دلوں کے حال تو بس میرا رب جانتا ہے… ..
[ ] اور میری دعا ہے شان تمہیں تمہاری محبت ضرور ملے..ماہ.کے دعا دینے پہ.جہآں شان نے حیران نظروں سے ماہ.کو دیکھا وہی نازنین نے بھی ماہ.کی.دعا پہ.آمیین کہا….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر اور شاہ.ایک.ہی گاڑی میں تھے.گاڑی کی خاموشی سے ناصر اکتا گیا.اور شاہ.کو دیکھا جو الگ ہی سوگ میں ڈوب ہوا تھا..
[ ] ابے یار شاہ.کیا.ہوگیا تو تو ایسے سوگ میں بیٹھا ہے جیسے ہم ماہ.کے گھر نہہی نازنین کی.برات میں جارہے ہیں…
[ ] ناصر کی بات پہ.شاہ.نے غصہ سے ناصر کی طرف دیکھا اور کہا..
[ ] تو جب بھی کرنا بکواس ہی.کرنا ایک تو وہ بلنٹوڑی پتہ نہہی اسک کیا ریکشن ہوگا جب میں اسکے گھر رشتہ.لیی کے جاؤنگا دوسرا تو ہے جو پتہ نہی.کیسی کیسی بکواس کرہا ہے..
[ ] شاہ.کی بات پہ ناصر کی بھی ہٹ گئ اس نے بھی شاہ سے کہا..
[ ] ہاں تو کیا کرے اغواہ کرلے تیری بلبٹوڑی کو ابھی اسکی شادی ہوئ ہے نہی شاہ اسکے کزن سے ابھی خالی اسنے بتایا.ہے اور تیرا ریکٹ دیکھ ایسا لگ رہا ہے نازنین کے بچوں نے تجھے ماموں بول دیاہو ….یہ بؤل کے جہاں ناصر کا قہقہ گونجا وہی شاہ نے اسکی ہاتھ پہ.ایک رکھ کہ گھونسا مارا اور کہا…
[ ] سالے کمینے زیادی بکواس کی نہ تو ابھی پری کو کال.کرونگا اور اسکو تیری اصلیت بتا دونگا…نہی بلکہ کیوں نہ.میں پری کے لیہ.کوئ رشتہ لیجاتا ہو اور تجھے اندازہ تو ہوگا کہ میرے لایا ہوا رشتہ نہ پری ریجیکٹ کرے گی نہ حیدر انکل.. شان نے بھی اپنا حساب برابر کیا. ناصر نے شاہ کی بات سنتے ہی ایک ہاتھ سے گاڑی کا اسٹیڑنگ سنھالا تو دوسرے ہاتھ سے شاہ کی.گردن ڈبوچی اور کہا…
[ ] سالے پری صرف میری ہے ائندہ تونے.ایسا کہا تو پھر قسم سے سچ میں تجھے نازنین کے نکاح کے چھوارے نۃ کھلائے تو میرا نام بھی ناصر نہی…
[ ] شاہ.نے ہنستے ہنستے ناصر سے اپنی گردن چھڑوائ تو ناصر بھی شاہ کو ہنستہ ہوا دیکھ کے ہنس پڑا….
[ ] یار ناصر تو ابھی میںرے ساتھ میرے بابا کے آفس چل پہلے رک میں شان کو کال کرکے بولتا ہو کہ ہم تھوڑا لیٹ پہنچنگے….
[ ] یہ بول کے شاہ نے شان کو کال کی….
[ ] شان جو پھر کسی گہری سوچ میں گاڑی چلا رہا تھا اپنے موبائل کی بیل پہ چونکا اپنے کان میں لگے بلو ٹوٹھ اون کیا
[ ] تو اگے سے شاہ.کی اواز پہ چونکا…
[ ] ہاں شاہ.بول …
[ ] شان کی کال پک ہوتے ہی.شاہ نے کہا..
[ ] یار شان میں اور ناصر تھوڑی دیر سے ماہ گھر کے پہنچینگے ..
[ ] شاہ.کی بات پہ.ایک دم شان بولا…
[ ] کیوں؟؟؟
[ ] یار وہ اس سے پہلے شاہ.اپنی بات بولتا…ناصر نے اس سے موبائل لیہ لیا اور کہا…
[ ] کیونکہ شان اس نے ابھی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے خواب میں نازنین کے نکاح کے چھوارے کھا.لیہ..
[ ] نآصر کی بات پہ جہاں شان کا قہقہ گاڑی میں گونجا.وہی شاہ.نہ.ایک.مکا اسکے ہاتھ پہ.رسید کیا..اس سے پہلے ناصر اسے اور کچھ بولتا. شاہ.نے اس سے موبائل.لیا اور کہا..
[ ] یار شان یہ.اج ناصر بہت بکواس کرہا ہے شاہ نے شان کو بول کے ناصر کو گھورا جو نے شاہ.کو اپنے دانتوں کی نمائش کروا رہا تھا…
[ ] یار شان پاپا کے آفس جارہا ہو اکے تجھ سے بات کرت ہو…
[ ] اوکے..یہ بول کے شاہ نے کال رکھی اور ناصر کو اپنے پاپا.کے آفس کا اڈریس بتا کے وہاں چلنے.کو کہا تو….
[ ] دوسری طرف جب شان نے کال رکھی.تو شان کو ہنستا دیکھ ماہ نے سوال کیا…
[ ] کیا ہوا شان کس کا فون تھا اور اتنا ہنس کیوں رہے ہو..
[ ] ماہ کے سوال پہ.نازنین کے کان.کھڑے ہوئے مگر اس نے ظاہر ایسا کیا جیسے ان دونوں کی باتوں میں اسے کوئ انڑرس نہں.
[ ] ارے شاہ.کی کال تھی وہ اپنے پاپا کےآفس سے ہوتے ہوئے تمہارے گھر ائے گا اور ہنس میں یو رہا تھا کہ ناصر نے کوئ.جوک سنایا تھا. شان کے بتانے پہ ماہ تو چپ ہوگئ مگر نازنین کی چھٹی حس نے کوئ اور ہی اشارہ کیا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ اور شمائلہ.پہلے شمائلہ.کے گھر گئے وہاں سے شمائلہ کی ممی مسز حمدان کے ساتھ فائزہ کے گھر پہنچی..تین بجے کے قریب ازلان جو کہ کیسی کام سے گھر ایا تھاایک ا اجنبی چہرہ دیک کہ رکا مسسز حمدان کو اس نے سلام کیا تو نازو جو انہیں لنچ کے بعد چائے دیے رہی تھی..مسز حمدان کے پوچھنے پہ.نازو نے بتایا..
[ ] مسسز حمدان یہ.ہی ہے میرا ہونے والا داماد اور فائزہ کا ہونے والا شوہر..ازلان سے ملکرمسسز حمدان بہت خوش ہوئ کہ.جبھی شمائلہ جو کہ فائزہ کے برابر میں بیٹھ کہ ازلان کو دیکھ رہی تھی بول پڑی..
[ ] ہیلو ازلان میں فائزہ کی چائلڈ ہوڈ فرینڈ ہو اور اپکی ہونے والی سالی بھی.شمائلہ.کہ.بات سن کے وہاں بیٹھے سب نفوس کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ…
[ ] کہ جبھی ازلان بولا.چلے میںری ہونے والی سالی صاحبہ اپ سے شادی میں ملاقات ہوگی ابھی ایک ضروری.کام ہے پھر ملاقات ہوگئ انشاءاللہ…
[ ] یہ بول کے جیسے ہی ازلان جانے لگا نازو بول پڑی..
[ ] ارے ازلان مسسز حمدان کے شوہر کا ٹرانسفر اسلام آباد ہوگیا ہے کل کی فلائٹ ہے انکی شمائلہ تم.لوگوں کی شادی میں شرکت نہی کرسکے گی…
[ ] نازو کی بات سن کے جہاں ازلان کو دکھ ہوا وہی فائزہ کی انکھییں پھر جھلک پڑی جسکو اسنے بے دردی سے رگڑ ڈالا اور یہ بات ازلان سے چھپ نہ سکی….
[ ] ایک دم ازلان نے شمائلہ سے کہا..
[ ] کوئ بات نہی سالی صاحبہ اپ شادی میں نہی اسکتی تو میں اپکی دوست کو شادی.کے بعد اپکے پاس لے اونگا وعدہ…
[ ] ازلان کی بات سن کے جہاں سب نے اپنی.مسکراہٹ دبائ وہی شمائلہ نے دل کھول کہ ازلان کا شکریہ ادا کیا مگر فائزہ کا شرمانہ ازلان سے چھپ نہ سکا…
[ ] ازلان نے سب سے اجازت لی.آفس جانے کی تو نازو بول پڑی….
[ ] اگر ازلان تمہیں تکلیف نہ ہو تو مسسز حمدان کو انکے گھر ڈراپ کردوگے…؟؟؟
[ ] ارے چاچی اس میں تکلیف کی کیا بات ہے اجائے اپ لوگ میں ڈراپ کردونگا…..
[ ] ازلان کی بات سن کے جہاں مسسزحمدان منع کرنے لگی وہی شمائلہ بول پڑی..
[ ] یہ.ہوئ نہ بات دولہے بھائ ویسے میرا نیک.اپ پہ.ادھار رہا..
[ ] ہاں سالی صاحبہ کیوں نہی…
[ ] فائزہ شمائلہ سے گلے مل.کے ایک بار پھر رو پڑی تو شمائلہ کو بھی چپ.کرانا مشکل ہوگیا…وہ.لوگ سب سے ملکر ازلان کی گاڑی میں اکے بیٹھ گئے..
[ ] فائزہ شمائلہ کو گیٹ تک چھوڑنے ائ تھی
[ ] ازلان نے گاڑی اسٹارٹ کرکے اگے بڑھائ تو فائزہ بھی اندر کو چلی گئ….
[ ] مسز حمدان کو گھر ڈراپ کرکے جیسی ہی ازلان نے کار موڑی..شمائلہ کہ.اواز پہہ ایک دم رکا..اور شمائلہ کو دیکھا..
[ ] جو اپنے گیٹ سے تیز تیز چل کے اسکی طرف ارہی تھی…
[ ] ازلان گاڑی روک کے باہر نکلا تو شمائلہ اس تک پہنچ چکی تھی..
[ ] وہ ازلان تک ائ تو ازلان نے کہا..
[ ] کیا بات ہے شمائلہ سب تھیک ہے؟؟؟
[ ] ہاں ازلان بھائ وہ کار میں ماما تھی اس لیہ اپ سے بات نہی کر سکی..
[ ] کیا بات کرنی ہے شمائلہ بولو…
[ ] ازلان بات تھوڑی لمبی ہے اس لیہ یہاں نہی ہوسکتی اپ میرا نمبر سیف کرے میں اسلام آباد پہنچ کے اپکو کال کرونگی دو تین دن شفٹنگ میں لگ جائینگے.. مگر اپ فائزہ کو مت بتائیے گا کہ مت نے اپ سے نمبر لیا ہے.شمائلہ.نے اپنا نمبر اسکو دے کہ ازلان کا نمبر لیا….
[ ] اوکے شمائلہ.میں ویٹ کرونگا تمہاری کال کا..
[ ] اوکے ازلان اور ایک بات اور.”
[x] “
[ ] “جب ناخن بڑھ جاتے ہیں تو ناخن ہی کاٹے جاتے ہیں انگلیاں نہی..
[ ] اسی طرح جب رشتوں میں بدگمانیاں پیدا ہوجاتی ہے تو..
[ ] بد گمانیوں کو کاٹا جاتا ہے رشتوں کو نہہی…”
[ ] میں سمجھا نہی شمائلہ تم.کیا کہنا چاہ رہی ہو.. ؟؟؟
[ ] اپنا خیال رکھیے گا ازلان انشاءاللہ پھر بات ہو گی شمائلہ نے اسکے سوال کے جواب میں اتنا کہا اور ااگے بڑھ کے اپنے گھر کے اندر چلی گئ..
[ ] ازلان پریشان سا گاڑی میں اکے بیٹھا اور گاڑی آفس کی طرف موڑ لی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر اور شاہ نعمان.کے آفس پہنچے تو وہ.اپنے کیبن میں.ہی تھے.. ان دونوں کو دیکھ کہ.نعمان کو حیرانگی ہوئ تو وہ.پوچھ بیٹھے….
[ ] کیا بات ہے بھئ اج اپ یہاں برخوردار ..
[ ] اور ناصر اپ بھی اپ لوگ یونی نہی گئے کیا…..؟؟؟؟
[ ] ارے پاپا سانس تو لینے دیے ویسے ہی بہت پریشان ہو….!!
[ ] نعمان کی بات پہ.شاہ نے تھکے ہوئے انداز میں جواب دیا اور تھک کے اپنی پشت کرسی سے ٹکا لی شاہ کو اس حالت میں دیکھ کےنعمان نے سوالیاں نظروں سے ناصر کو دیکھا تو اس نے
[ ] اپنے ہاتھ سے دل بنا کے اشارہ کیا تو وہ سمجھ گئے اور ان.کے لبوں پہ.ایک.مسکراہٹ اگئ..
[ ] انہوں نے شاہ.کو مخاطب کیا اور کہا…
[ ] کب چلنا ہے لڑکی والوں کے گھر.؟؟؟
[ ] ایسا بولنا تھا شاہ اپنی پوری انکھیں کھول.کہ بیٹھ گیا اور نعمان کو گھورنے لگا.اور کہا… پاپا اپکو کیسے پتا..
[ ] تم.لگ ہی اس کنڈیشن میں ہو…کہ.کوئ بھی سمجھ جائے کہ دل کا معملہ ہے…
[ ] پاپا اپکی کلاس کی اسٹوڈینٹ ہے نازنین اسی.کے گھر. مگر مجھے اس کا آڈریس نہی معلوم.!!!!!
[ ] مجھے معلوم ہے ناصر نے کہا….
[ ] تو نعمان اور شاہ نے اسے حیرت سے دیکھا اور نعمان صاحب نے اس سے اڈریس مانگا…
[ ] ناصر کے دیے ہوئے اڈریس کو دیکھ کہ نعمان کے.لبوں پہ.ایک دلفریب مسکراہٹ اگئ..جو ناصر اور شاہ کی سمجھ میں نہی ائ……
[x]
[ ] نعمان نے اپنے کیبن میں رکھے انٹر کوم سے کال کی.اور کہا..
[ ] چار کوفی اور سینڈوچ بھجوائے اور ہمارے مینجر حامد صاحب کو بھییج دے…..
[ ] نعمان کی کال رکھتے ہی شاہ نے سوال.کیا..
[ ] پاپا اپنے حامد سر کو کیوں بولایا. ؟؟؟
[ ] شاہ کے سوال پہ نعمان نے صرف اتن کہا…
[ ] جسکی بہن سے شادی کرنے کے خواہشمند ہو پہلے اسکے بھائ سے تو مل لو…..
[ ] جاری ہے…