Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 39 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39 Part 2
قسط نمبر39#(پارٹ 2)..
زلیخا سب کچھ نبٹاکہ اپنے کمرے میں ائ تو ماہ کے موبائل بجنے کی آواز آی….
زلیخا نے ماہ کا موبائل آٹھایا تو کسی ایس کے نام سے کوئ نمبر سیف تھا اور اسکے نام کیساتھ ایک ہارٹ بنا آرہا تھا…..زلیخا موبائل ہاتھ میں لے کے کافی دیرتک اسے دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ ایسا کون ہے جسکے نام کے پہلے حرف کیساتھ ماہ نے ہرٹ شیپ سیو کیا اس چکر میں موبائل بج بج کے بند ہوگیا…
اس سے پہلے زلیخا ری ڈائل کرتی موبائل ایک بار پھر بج اٹھا…
زلیخا نے کال ریسو کرکے کان سے لگایا …
اس سے پہلے زلیخا کچھ بولتی …..کال کی دوسری طرف سے شاہمیر بول پڑا…
“ہیلو ہیلو ماہ یار تم گھر پہنچ گئ خیریت سے او گاڈ میں تو ڈر ہی گیا جب تم میرے فلیٹ میں بیہوش ہوگئ..
ایک تو تم اکیلی میرے فلیٹ میں ائ دوسرا کسی کو ساتھ بھی نہی لائ …افف میری جان میرے زرا سے چھونے میں ہی تم بیہوش ہوگئ..ویسے تم لگ اج کمال کی رہی تھی اوپر سے جب تم.میرے گلے لگی تو تمہارے نرم نرم جسم کو چھوکے میری اچھی خاصی نیت خراب ہوگئ تھی…تم بیہوش ہوئ تو مجبورا مجھے اس نازنیںن کو کال.کرکے بلانا پڑا مگر وہ ساتھ میں شان کو لے آی ..اف مجھے تو بہت افسوس ہورہا ہے ایک تمہارے بیہوش ہونے سے اپنے سارے رومینس کی بینڈ بچ گئ. ائ ..تو ٹھیک تو ہونا ….تم بول کیوں نہی رہی.کچھ ہیلو ہیلو…
شاہمیر اگے سے نہ جانے کیا کچھ بولتا رہا مگر زلیخا کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کے نیچے گرا.زلیخا شاک سی کیفیت میں موبائل کو دیکھنے لگی …..
زلیخا کے کانوں میں اماں جان کے الفاظ گونجنے لگے…
(جیسے ماں نے میرے بیٹے کو پھسایا تھا…ا
بیٹی بھی کوئ ایسا ہی کارنامہ انجام دے گی)..زلیخا شاک.کی.کیفیت میں نیچے زمیںن پہ بیٹھ گئ…اور اس کی آنکھوں سے آنسو تیزی سے جاری تھے….کہ جبھی جاہنگیر کی گاڑی کا ہارن سنائ دیا..زلیخا نےتیزی سے اپنی آنکھیں ڑگری اور الماری میں سے اپنے کپڑے نکال کے فریش ہونے چلی گئ تاکہ جہانگیر اسکی روتی آنکھیں دیکھ کے کوئ سوال نہی.کرے…..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کال کٹ کرتے ہی شاہمیر کو قہقہ ہورے فلیٹ میں گونجا اور ساتھ میں اسکے الفاظ بھی….
afridi mention now game is begain…….
¤¤¤¤
شاہ غصہ.میں حنا کے پاس پہنچا مگر یہ.دیکھ کہ کے حنا اپنی.پیکنگ کررہی ہے شاہ ایک دم رکا …
شاہ کو کمرے میں آتا دیکھ کے حنا نے غصہ میں اسے گھورا اور کہا…
کب سے فون کرہی.ہو تمہیں بندہ فون تو اٹھاتا ہے بیوی.ہو تمہاری اور تمہارے ہونے والے بچے کی ماں بھی کوئ ذمہ داری ہے یہ نہی تمہاری بس شادی کرکے لاوارثوں کی.طرح پھینک دیا تم..نے…
حناکے یہ باتیں سن جاہں شاہ.نے بیزاریت ظاہر کی وہی کمرے کے باہر کھڑا ناصر اگر دیوار کا سہارا نہ.لیتا تو یقینن چکرا کے گر جاتا…..حنا شاہ.کی بیوی ہے اور اسکے بچے کی ماہ بھی بننے والی ہے یہ سوچ کے ناصر کے سامنے نازنیںن کا ہنستہ مسکراتا چہرہ لہرایا تو اسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کے نیچے گرا ..اس نے اپنے آنسو فورا صاف کیہ اور دوبارہ شاہ اور حنا کی باتیں سننے لگا..
.
پاپا کی طبیعت اچانک خراب ہوگئ ہے ماما کی.کال آئ.تھی مجھے بولا رہی ہے لندن …اس لیہ تمہیں کال.کررہی تھی بار بار میں نے ٹکٹ کنفرم کروالی ہے …ڑائیڈ بھی انے والی ہوگی…تم بس میرے اکاوئنٹ میں ہر مہینے 5 لاکھ جمع کروا دینا …یہ بول کے حنا دوبارہ پیکنگ کرنے میں مصروف ہوگئ..جبکہ شاہ کو یہ سن کے ہی سکون ہوا کہ حنا جارہی.ہے ..مگر 5 لکھ کا سن کے اسکے ماتھے پہ بل پڑ گئے…
اس نے حنا سے کہا..
تمہیں پیسوں کی کیا ضرورت پڑ گئ تمہارے پاپا تو کافی امیر ہیں اور تم انکی اکلوتی اولاد .تو کیا اپنی اولاد کا خرچہ نہی آٹھا سکتے….؟؟؟؟؟
اٹھا سکتے ہیں مگر بیوی میں تمہاری ہو…شاید ذمہ داری تمہاری بھی..ہے .اس سے پہلے حنا اگے کوئ اور بات کرتی…اس کے موبائل پر رائیڈ کی کال اگئ..
اس نے اپنے بیگ اٹھایا اور جاتے جاتے شاہ سے کہا…
دھوکا دینے کا مجھے سوچنا بھی نہی شاہ ..کیونکہ اس بار اگر تم نے مجھے دھوکا دینے کا سوچا تو ڈائریکٹ اپنے سسرال پہنچونگی وہ بھی تمہیں بنا بتائے…
یہ بول کے حنا کمرے سے نکلنے لگی تو ناصر سائیڈ میں ہوکے چھپ گیا …..
حنا کے فلیٹ سے نکلتے ہی شاہ ایک دم بیڈ پہ بیٹھااور اپنا سر اپنےدونوں ہاتھوں میں گرالیا ایک دم کسی کے قدموں کی آہٹ پہ جب شاہ نے ایک دم سر آٹھا کہ.سامنے دیکھا تو شاہ.کو لگا اج اسکو موت اجائے تو بہتر ہے…کیونکہ چہرے پہ غصہ لیے لال آنکھوں کیساتھ ناصر سینے پہ ہاتھ باندھے اسکے سامنے کھڑا تھا…….
¤¤¤¤¤¤¤
شان نے نازنیںن کو اسکے گھر چھوڑا اور خود بلاوجہ سڑکوں پہ گاڑیاں گھومانے لگا..یہ سوچ کے ہی اسکی روح زخمی تھی کہ اگر اج وہ وقت پہ.نہ پہنچتا تو شاہمیر ماہ.کیساتھ کیا کرتا…….
شان گھر پہنچا تو نور کو اپنا منتظر پایا…شان کے اتے ہی نور نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی کہ.وہ ایک دم اتنی تیزی سے کہان گیا تھا…
نور کے پوچھنے پہ.شان نے نور کو وہی کہانی سنائ جو نازنیںن اور شان نے بنائ تھی..شان کی بات سنتے ہی نور ایک دم گھبراگئ اور افریدی مینشن کال کرنے لگی..مگر شان نے یہ کہہ کہ نور کو کال کرنے سے روکا کہ ماہ ابھہ سو رہی.ہوگی اور زلیخا ممانی بھی خاماخائ میں دوبارہ رونا شروع کردینگی جبکہ ماہ اب ٹھیک ہے…
شان کی بت سن کے نور کو تھوڑی تسلی ہوئ ..اور اس نے کال.کرنے کا ارادہ ترک کردیا….
¤¤¤¤¤
شاہ نے جب ناصر کو اپنے روبرو دیکھا تو ایک دم سٹپٹاگیا…
اس نے کہا….
ناص…ر..وہ…می..ں..اس سے پہلے شاہ ناصر کو کچھ بھی سمجھاتا..ناصر غصہ میں اگے بڑھا اور جھٹ سے شاہ کا کالر پکڑ کے اسے جھٹکا دیا اور غصہ میں ڈھارا…
سالے کمینے تری اتنی.ہمت کہ تو کسی.کی.زندگی سے کھیل.گیا پہلے سے شادی شدہ ہونے کے باجود تونے نازنیں سے نکاح کیسے کیا..اور اوپر سے تو باپ بھی بننے والا ہے …شاہ یہ تونے کیا کیا ہمارے ساتھ …
ناصر نے یہ بول.کہ.ایک جھٹکے سے شاہ.کو چھوڑا تو شاہ.لڑکھڑا.گیا..کہ جبھی ناصر نے غصہ میں اپنے منہ.پہ.ہاتھ پھیر کے اپنے اپکو ریلکس کیا اور پھر شاہ پاس اکے اسکا گریبان ایک بار پھر پکڑا اور کہا…
تجھے پتہ ہے نازنین نے شان اور مجھ سے کہا تھا ازلان کی برات والے دن کے وہ چاہ.کے بھی اپنے اور تیرے رشتہ کو قبول نہی کر پارہی چاہ.کے بھی تجھ پہ اعتبار نہی.کرپارہی..اور دیکھ اسکا اندیشہ صحیح نکلا..تونے تو سانپ.بن کے ڈسہ ہے نازنین کے اعتبار کو …ہم ..ہمیں تو تونے دوست کہا تھا تجھ پہ.اعتبار کرکے ہی تیری محبت کو سوچ کے ہی ہم نے نازنیںن کے خلاف جا کے تیرا ساتھ دیا ..مگر شاہ تونے سب کچھ ختم کردیا سب کچھ ..اسکا مطلب شان کا شک صحیح تھا …یہ بول کہ ناصر نے شہ.کا گریبان چھوڑ اور ایک لمبی سانس لیے کے وہی صوفے پہ بیٹھ گیا اور اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرالیا..
شان کا نام سن کے شاہ ایک دم ناصر کے قریب ایا اور اس سے بے یقینی سی.کیفیت میں پوچھا. .شان کو شک مطلب …
ناصر نے شاہ کے سوال.پہ اسے خونخوار نظروں سے دیکھا اور کہا..
ہاں شان کو شک ہے تجھ پہ اسے شک ہے کہ.ایسا کچھ ضرور ہے جو تو ہم سے چھپا رہا ہے ..جس دن تو اپنی اس بیوی کو ائیرپورٹ لینے گیا تھا تیزی سی نکال تھا افریدی مینشن سے تیرے پیچھے کھڑے شان نے تیری باتیں سنی تھی مگر حنا لفظ کے علاوہ اور یہ.کو تونے اسے ائیرپورٹ پہ ویٹ کرنے کو کہا اس سے زیادہ کچھ سن نہی.پایا…
مگر اب جب اسے پتہ.چلے گا کہ اسکا شک .شک نہی بلکے یقین ہے تو ..اور نازنیںن شاہ یہ تو نے کیا کردیا اس لڑکی کیساتھ کیوں کیا کیوںں..ناصر نے چیخ کے شاہ سے پوچھا…
ناصر کے سوال پہ شاہ کسی ہارے ہوئ کھلاڑی کی طرح جھٹکے سے بیڈ پہ.گرنےوالے انداز میں بیٹھا اور اسکی آنکھوں سے بھی آنسو جاری تھے..
اآہستہ اہستہ شاہ لندن کے ان سالوں میں کھونے لگا جب وہ حنا سے فرسٹ ٹائم ملا تھا …آہستہ آہستہ اسنے ناصر کو بتانا شروع کریا..
¤¤¤¤¤
شاہ کا اج یونی میں پہلا دن تھا لندن تو وہ ایک ہفتہ پہلے ہی آگیا تھا مگر فلیٹ وغیرہ سیٹ کرنے میں اسے ایک ہفتہ لگ گیا. نعمان نے اسے لندن میں موجود اپنے فلیٹ میں رہنے کو کہآ تھا کیونکہ وہ یونی سے قریب بھی تھا اور سب سے بڑی بات ہاسٹل میں کسی کے ساتھ روم شئیر کرنے سے تو بہتر تھا اور پھر دو سال کی تو بات تھی….
وائٹ شرٹ بلو جینز اور پف کٹنگ والے بال ہلکی.ہلکی بریڈ شہد رنگ کی انکھوں والا شاہ جب اپنے کار سے یونی کی پارکنگ لاٹ میں اترا تو کتنوں نے ہی پلٹ کے اسے دیکھا مگر شاہ کا نظریہ تھا جو پہلی نظر میں ہی بھائے وہ ہی محبت ہے اس لیہ شاہ نے کسی بھی لڑکی کے دیکھنے کا کوئ نوٹس نہ لیا مگر اپنی.کلاس کے راستہ میں اسکا تصادم حنا سے ہوا ..بھوری آنکھیں گولڈن بال فل فیشن ایبل اسکے ہر اسٹائل سے دولت کی چمک دیکھ رہی.تھی ..غلطی حنا کی تھی جو اپنی ہی دھن میں مگن منہ میں ببل چبائ شارٹ شرت اور شارٹ ہی اسکرٹ پہنے شاہ.کو ایک آنکھ نہ بھائیی.مگر جب حنا نے مشرقی حسن خاص کر کسی مرد کا اپنی اس یونی میں دیکھا تو.دو منٹ کے.لیہ وہ مہبوت رہ گئ..مگر شاہ سوری کرکے اپنی.کلاس کی طرف چلا گیا… مگر جاتے جاتے حنا کی دل کی مشکل آسان کرگیا…… ..
حنا کا شمار یونی کی.ان لڑکیوں میں ہوتا تھا جو بہت ہی بددماغ مغرور اور صرف یونی میں مزے کرنے اتی تھی .اور اسکا افئیر یونی کے لڑکے حسن سے مشہور تھا مگر کوئ بھی اسکے منہ پہ یہ کہنے کہ ہمت نہی کرتا تھا..کیونکہ.حنا کا باپ اس یونینکا سب سے بڑا ٹرسٹی تھا..حنا کے ماں باپ ایک بہت ہی سیدھے سادھے معصوم سے لوگ تھیے انکا شمار لندن کے امیر لوگوں میں ہوتا تھا مگر وہ اپنی.اکلوتی بیٹی حنا جو صرف نام کی.مسلمان تھی حد سے زیادہ تنگ تھے حنا نے کئ بار کوشش کی .کہ اسکے ماں باپ حسن سے شادی کے لیہ مان جائے اور شادی ہوتے ہی اسکے حصہ کی جائیداد جو بلین میں تھی اسکے حوالے کردے مگر حنا کے باپ نے حسن سے ایک بار ہی مل کے حنا کو فیصلہ سنا دیا کہ حسن سے وہ کسی صورت اسکی شادی نہی کرینگے اور اگر وہ خود سے حسن سے شادی کرتی ہے تو اسے جائیداد میں سے کچھ نہی ملے گا ….حسن نے کئ بار حنا کو مشورہ دیا.کہ فلحل وہ کسی بھی شادی کرکے جائیداد تو اپنے نام کروائے مگر حنا نے جب حسن کو بتایا کہ اسکے پاپا کی شرت ہے کہ وہ.کسی پاکستانی مرد جسکا فیملی گراونڈ اچھا ہو اسی سے اسکی شادی کرینگے ..حسن کو اپنا پلان فیل ہوتا دیکھائ دیا…
مگر شاہ.کو دیکھنے کے بعد حنا کو اپنے پیار کو حاصل کرنے کی.منزل اور قریب دیکھائ دینے لگی……¤¤¤.
¤¤¤¤¤¤¤¤
جاری.ہے..
