Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42 Part 1

قسط نمبر42#
حسن کے کمرے سے جانے کے بعد نازنین نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور ناصر کو کال کی….
ناصر کو کال پہ.نازنین نے کل سے لے کے اج تک کی فل اسٹوری سنائ اور اسے شان کے پاس پہنچنے کو کہا….
ناصر سے بات کرنے.کے بعد نازنین کا ارادہ شاہ سے بات کرنے کا تھا مگر تھکن سے اسکا برا حال تھا اس لیہ اس نے شاہ سے بات کرنے کا ارادہ ترک کرکے سونے کو ترجیع دی….
¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ کو ہوش اسکی موبائل پہ اتی بار بار شاہمیر کی کال سے آیا…
ماہ ارام سے اٹھی مگر سر میں اٹھنے والی ٹیس کی وجہ سے وہ دوبارہ بید پہ گرگئ…اور زور زور سے رونے لگی. رہ رہ کے اسے زلیخا کے الفاظ یاد ارہے تھے اس نے کبھی سوچا نہی تھا کہ اسکا اور شاہمیر کا رشتہ اسطرح ایکسپوز ہوگا… ابھی اسکا رونے کا مشغلٰہ جاری تھا کہ ایک بار پھر اسکا موبائل بج پڑا…
اس نے ہاتھ بڑا کے موبائل اٹھا کہ چیک کیا تو شاہمیر کی کال تھی اس نے یس کا بٹن دبایا اور کان سے لگایا…اور کہا…
ہیلو….
مگر اگے سے اسے شاہمیر کی غصے سے بھری آواز سنائ دی…
کیا مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ غلام سمجھتی ہو مجھے اپنا کب سے کال کر رہا ہو.. کہاں بزی ہو….. ؟؟؟؟
شاہمیر کی باتیں سن کے ماہ.کی.آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئ اور اس نے شاہمیر سے کہا…
شاہمیر وہ امی…
لو اب تمہاری امی کو کیا.مصیبت اگئ ..ماہ میں بتا رہا ہو جلد سے جلد اپنے پرینٹس سے بات کرو بعد میں مجھ سے گلا نہی کیونکہ بی جان میری شادی جلد از جلد کرانا چاہتی ہے اس لیہ اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے گھر او اپنی بی جان کیساتھ رشتہ لے کے تو فورا اپنے گھر والوں کو مناو بعد میں مجھ سے شکایت مت کرنا…..
یہ.کہہ کے بنا ماہ.کی بات سنے شاہمیر نے کال. کٹ کردی..
تو ادھر ماہ کے رونے کا مشغلعہ ایک بار پھر شروع ہوچکا تھا. کیونکہ ماہ کی.آواز کوئ سنتا تو اسے اندازہ ہوجاتا کہ وہ کافی دیر سے رورہی ہے مگر افسوس ماہ ایک ایسے شخص کے ہاتھوں اپنے دل کا سودا کر بیٹھی جسکا دل احساس نام کی چیز سے خالی تھا…
¤¤¤¤¤¤¤¤
ناصر نازنین سے بات کرکے فورا شان کے گھر کیلئے نکل پڑا. شان کے گھر پہنچ کے اسکا سامنا پہلے نور سے ہوا جو ڈرائینگ روم میں بیٹھ کے میگزین کے ورق گردان رہی تھی…
نور کو ایسے ریلکس حالت میں دیکھ کے ناصر کو عجیب لگا کیونکہ نازنین کی باتوں کے مطابق شان کا رونا دھونا اسٹارٹ تھا ساتھ میں پری اور نور کا بھی مگر یہاں اکے ناصر کو نور کا ریلکس انداز دیکھ کے بہت تعجب ہوا….
ناصر نے اندر اتے ہی.نور کو سلام کیا…
نور جو مگن انداز میں میگزین میں گم تھی ناصر کی آواز پہ ایک دم چونکی اور اس دیکھ کے مسکرا کے اسکے سلام کا جواب دیا….
ارے ناصر او بیٹا… مجھے بولا تھا نازنین نے کہ وہ تمہیں بھیجے گی.اسٹوری تو تمہیں نازنین پوری سنا چکی ہوگی…
جی جی آنٹی. مگر شان کی ایسی حالت ہے اور اپ اتنے ریلکس ..
میرا مطلب ہے کہ نازنین نے تو…ناصر کے لہجہ کی ہچکچاہٹ نور محسوس کر چکی تھی اسے اندازہ تھا ناصر کیا بات کہنا چارہا ہے……
نور نے اسے بیٹھنے کو کہا اور بولی…
ناصر جو لوگ خاموش محبت کرتے ہیں وہ بعد میں ایسے ہی روتے ہیں .نور کی بات سن کے ناصر کو ایک دم جھٹکا لگا کیونکہ شان اور ناصر کی لوو اسٹوری.کچھ ایسی ہی تھی….
ناصر کے چہرے پہ گھبراہٹ کی وجہ نور بہت اچھے سے سمجھ رہی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ جو اج شان کی حالت ہے وہ ناصر کی نہ ہو ناصر بھی اسے شان کی.طرح ہی عزیز تھا…..
نور نے ناصر کو دیکھتے ہوئے پھر کہا..
.
سانپ تو چلا گیا اب لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ.. نور کی.اس بات پہ ناصر نے نہ سمجھی کی حالت میں نور کو دیکھا اور کہا…
کیا مطلب آنٹی میں سمجھا نہی….؟؟؟
دیکھو ناصر تم میرے لیہ شان کی طرح ہی.ہو…اج شان کی جو حالت ہے وہ.اسکی خود کی وجہ سے ہے.. اگر ہم کسی سے.محبت کرتے ہیں تو پھر ڈرنا کیسا اگر محبت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو تو کہنے کا بھی رکھو.. اگر کسی ڈر کی وجہ سے اپ اپنی.محبت سے ہی دستبردار ہوجاو اور یہ سوچو کہ فلا بندہ کیا سوچے گا لوگ کیا سوچینگے…
تو ناصر بیٹا کیوں نہ اس ڈر کا سامنا ہم اپنی محبت کا اعتراف کرکے ہی کرلے تاکہ ساری زندگی پچھتانا تو نہ پڑے.. اور ایک.کاش کا لفظ کے سہارے ہمیں اپنی زندگی نہ گزرانی پڑے.. کہ کاش میں بول دیتا کہ کاش یو ہو جاتا کاش کاشش.
شان ماہ سے محبت کرتا ہے مگر اس ڈر سے کہ.کہی اسکا اعتبار نہ اٹھ جائے اس پہ سے شان پیچھے ہٹ گیا….تو اسکا نتیجہ اج تمہارے سامنے ہے.. کیا پتہ شان بول دیتا ماہ.کو اپنے ہر عمل ہر انداز سے اسے جتاتا کہ وہ اسے کتنی محبت کرتا ہے مگر افسوس شان نے محبت تو کرلی مگر اسے جتانا نہی آیا..شان نے تو نام ڈبودیا حیدر کا….
….
نور کی.آخری بات سن کے ناصر نے پھر نور سے پوچھا…
آنٹی حیدر انکل کا ان سب سے کیا تعلق؟؟؟
ارے بیٹا.حیدر مجھ سے محبت کرتے تھے مگر جہانگیر بھائ کا اعتبار کی خاطر وہ یہ بات کبھی مجھ سے کہہ نہی پائے مگر جب انہوں نے دیکھا کہ انکی خاموش محبت مجھے ان سے دور لے جائے گی میں انکے نہی.کسی اور کے نام سے جڑنے والی ہو.. تو انہوں نے صرف جہانگیر بھائ سے کہا..بلکہ میں جو انکی.محبت سے انجان تھی اپنے عمل سے اپنے انداز سے مجھے یہ احساس دلایا کہ وہ.مجھ سے محبت کرتے ہیں اور اج دیکھ لو میں اور وہ اج تمہارے سامنے ہیں..سچی محبت.کرنے والوں کا ساتھ تو میرا الللہ بھی دیتا ہے….
اب کوئ خود تو اظہارے محبت نہ کرپائے اور جب محبت کسی اور کی.ہو جائے تو شکوہ الللہ سے بھی کرے اور اپنی قسمت سے بھی تو یہ بات تو غلط ہے نہ….
یہ بول کے نور نے ایک نظر ناصر کے جھکے سر پہ ڈالی اور کہا……
شان اوپر ہے اور شاید پری بھی اپنے بھائ کے غم میں برابر کی شریک ہوکے انسو بہاری ہو وہی بیٹھ کے تم اوپر جاو میں کچھ کھانے پینے کا لاتی ہو تم لوگوں کے لیہ…
یہ بول کے نور تو اندر چلی گئ..
مگر ناصر کی سوچ اور اسکی خاموش محبت کو جھنجھوڑ گئ…
وہ ست روی سے چلتا ہوا شان کی کمرے میں پہنچا…
تو نور کی بات صحیح نکلی..شان اور پری رونے میں.ہی مصروف تھے…
.
دروازے پہ نکک کی آواز پہ شان نے پری کی گودھ سے اٹھ کے جب ناصر کو کھڑے دیکھا تو فورا اٹھا اپنے آنسو صاف کرکے اسکے گلے لگ گیا..
جبکہ پری ناصر کو دیکھ کے فورا نیچے چلی گئ….
ناصر کے گلے لگے لگے ہی شان ایک بار پھر روپرا اور ناصر کو زور سے اپنے سینے میں بھینچ لیا تو ناصر کی بھی آنکھوں سے انسو جاری تھے…شان نے روتے روتے ناصر کے گلے لگے لگے کہا….
.
یار اپنے ہاتھوں سے اسے سونپ دیا کسی اور کو ناصر چاہ.کے بھی میں زلیخا ممانی کے اگے بول نہہی پایا کہ ماہ خالی میری محبت نہی میرے دل کی ڈھرکنے کی وجہ ہے….
..
یہ بول کے شان ناصر سے الگ ہوا تو ناصر شان کی ہزیل گرین آنکھیں دیکھ کے حیران ہوگیا جو کوئ اور ہی داستاں بیان کر رہی تھی….
ناصر نے اپنے یار کے انسو صاف کیہ اور کہا.
دفعہ کر اسے میں نے پہلے ہی کہاتھا تیرے ایک اشارے پہ ہزاروں ائینگی بہت پشتائے گی ماہ..
تو دیکھنا ماہ سے بھی لاکھ گناہ اچھی لڑکی میرے یار کی زندگی سنوارے گی…..
ناصر کی بات سن کے شان کا قہقہ پورے کمرے میں گونجا…
ناصر اسکی حالت دیکھ کے ایک دم ڈر گیا… مگر تھوڑی دیر بعد شان کا قہقہ تھما اور اس نے کہا…..

“یار ایک ہوتا ہے
اور ایک تقسیم نہی ہوتا”
اورشان حیدر محبت کرچکا..
میری دعا ہے کہ کبھی اسے اپنے.فیصلے پہ پچھتانا نہ پڑے…
شان کی بات نے ناصر کو لاجواب کردیا…
اس سے پہلے ان میں سے کوئ کچھ اور بات کرتا…
پری نے اکے انہیں بتایا کہ ماما بولا رہی ہیں…. پری کا پیغام سن کے شان نے اچھے طریقے سے اپنا منہ ڈھویا اور ناصر کے ساتھ نیچے چلاگیا….
رات کو نور نے حیدر کو سب بتا دیا. ماہ پہ.غصہ اسے بھی ایا مگر پھر وہ بھی کچھ کہہ نہی سکتا تھا کہ ماہ.کا فیصلہ صحیح ہے یہ غلط…..
¤¤¤¤¤
اج ازلان اور فائزہ اپنے ہنی مون سے واپس آرہے تھے صبح سے ہی افریدی مینشن میں چہل پہل تھی نور بھہ صبح سے ہی آگئ تھی…ماہ بھی یونی نہی گئ تھی اس لیہ وہ بھی نیچے سب کیساتھ اکے بیٹھ گئ تھی.. ردا عدنان حسب معمول اپنے لڑنے جھگرنے میں مصروف تھے ..جہانگیر اور دلاور آفس گئے تھے .ایک اہم میٹنگ کے سلسلے میں. .سب ہی اپنے اپنے.کاموں میں.مصروف تھے ماہ جو گھر بھر کی لاڈلی اج اجنبیوں کیطرح اپنے ہی گھر میں گھوم رہی تھی نور کو ماہ.کو دیکھ کے بہت افسوس ہوا مگر زلیخا کے اگے بولنے.کی.اسکی بھی ہمت نہی.ہوئ..
ازلان نے جو جو فائزہ سے وعدے کیہ وہ سب پورے کیہ اسکی دوست شمائلہ کے گھر وہ.لوگ پورے دودن رہے..ازلان نے اپنے ہر عمل سے یہ ثابت کردیا کہ.وہ فائزہ سے محبت نہی عشق کرتا ہے فائزہ بھی ازلان کی محبت میں رنگ گئ تھی جب کبھی وہ ازلان کو یو بچوں کی طرح اسکا دیھان رکھتا دیکھتی تو کہی نہ کہی اسے افسوس ہوتا کہ کاش وہ عامر والا ڈرامہ نہی کرتی…
¤¤¤¤
اور پھر اخر کار ازلان اور فائزہ افریدی مینشن پہنچ گئے فائزہ کے چہرے کی دھنک دیکھ کے زلیخا اور نازو بار بار اسکی نظر اتار رہے تھے….حیدر, جہانگیر ,دلاور سب ہی آفس سے اچکے تھے تو شان اور پری بھی سب کے درمیان موجود تھے.. سب ہی اپنی اپنی مستیوں میں گم تھے تو فائزہ سب کے گفٹ سب کو دے رہی تھی.. مگر ازلان.کی مسلسل نظر ماہ پہ تھی ماہ.کی شکل دیکھ کے اسے کسی انہونی کا احساس ہورہا تھا اور کیوں نہ ہوتا.. دونوں پارٹنر جو تھے.. ازلان اور فائزہ کی تھکن کا خیال کرکے سب ہی واپس چلے گئے تھے باقی سب بھی اپنے.کمروں میں…
مگر ازلان اپنے.کمرے میں جانے کے بجائے فائزہ کے کمرے کی طرف چل پڑا…
ہلکی سی.نوک کے بعد ازلان نے دروازے کا لاک گھمایا تو ماہ اسے سامنے کھڑکی کے پاس کھڑی دیکھائ دی.کہ جبھی ازلان نے اسے آواز دی….
کیا بات ہے پارٹنر میری پارٹنر تو مجھ سے ملی ہی نہی….؟؟؟؟..
ازلان کی آواز سن کے ماہ اچانک چونکی مگر ازلان کو دیکھ کے وہ اپنا ضبط کھو بیٹھی اور ڈور کے ازلان کے گلے لگے کے رونے لگی….
ازلان ماہ.کا ایسا ریکٹ دیکھ کے گھبرا گیا…. اور ماہ کو اپنے اپ سے الگ کرکےاس سے وجہ پوچھی ماہ جیسی اسے سب کچھ بتانے لگی اچانک اس کے زہہن میں زلیخا کی اواز گونجی…
“اس کمرے میں ہوا ڈرامہ اگر تم نے کسی.کو بتایا یہ اپنا سڑا ہوا منہ لے کے گھومی تو مجھ سے برا کوئ.نہی.ہوگا”
ماہ.نے ازلان کو یہ.کہہ کے تسلی دی کہ نازنین سے لڑائ ہوگئ اس لیہ موڈ اف ہے…
وقتی طور پہ تو ازلان نے مان لیا مگر وہ بھی جانتا تھا ماہ.ضرور کچھ چھپا رہی ہے..
¤¤¤¤¤¤
اگلے دن سب ہی اپنے.اپنے کاموں میں مصروف ہوگئے مگر نور نے اپنے.پلان کے مطابق ناصر کو کال کی.اور کہا….
ناصر جو یونی کے.لیہ نکل رہا تھا اپنے نمبر پہ.نور کی.کال دیکھ کے پہلے تو حیران ہوا مگر پھر نور کی.کال پک کی اور کہا….
جی آنٹی خیریت……
اارے ناصر بیٹا وہ میں شان کو بتانا بھول گئ کہ اج حماد اور اسکی فیملی اراہی ہے لانچ پہ…
تم نکل گئے کیا یونی کے لیہ شان اپنا موبائل اٹھا نہی رہا….
حماد کو تم جانتے ہونہ.وہی جو پری کا دوست ہے ہے..؟؟؟؟؟
آنٹی اپ اس حماد کی بات کرہی.ہیں جو ازلان کی شادی. میں پری سے ٹکرایا تھا..؟؟؟
ہاں ہاں بیٹا وہی مجھے لگتا ہے وہ شاید پری.میں انٹرسٹڈ
ہے اس لیہ شاید آرہے ہیں لیکن میں سوچ رہی ہو اج کا انہیں منع کردو…. ..
کل کا بول دیتی ہو..!!!
کیا.خیال ہے تمہارا ناصر.؟؟؟
ہاں آنٹی کل کا انہیں بول دے اپ اکیلے کیسے ارنجمنٹ کرینگی.. ؟؟؟؟
ہاں ٹھیک ہے پھر تم شان سے کچھ نہی بولنا میں خود اس سے بات کرونگی… ؟؟؟
چلو ناصر شاہد اپکے انکل بولا رہے ہیں میں انکی بات سن کے آتی ہو….
یہ بول کے نور نے جیسے ہی کال رکھی.. وہیسے ہی اسکا قہقہ پورے لانج میں گونجا…..
تو ادھر ناصر جس کو لگا کہ شاید اگر اب اس نے خاموشی اختیار کی تو وہ.پری کو کھو دے گا…
یہ سوچ کے ہی اس نے نیچے ناشتہ کی ٹیبل کی طرف ڈور لگائ..
جہاں جمال اور لائبہ بیٹھے تھے…
جاری ہے…