Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
[ ] صبح زلیخا کی انکھ فجر کی اذان پہ.ہی کھول گی…
[x]
[ ] کل رات کا سوچ کہ اسکے لبوں پہ ایک حسین مسکریت اگی تھی..
[ ] اسنے مر کے ساتھ سوے ہوے اپنے ہمسفر کو دہکھا جو سوتا ہوا بھی.کوی شہزادہ لگ رہا تھا…
[ ] کل سے اج ابھی تک اسکی زندگی میں ایک نیا موٰڑ اگیا تھا….
[ ] سوچا بھی.نہں تھا. اسنے کہ.اسکی.کوی صبح اتنی خوبصورت ہوگی….
[ ] وہ بنا اواز پیدا کیے اٹھ کے فریش ہونے چلی گی .فریش ہوکے ای تو جہانگیر ابھی تک سو رہا تھا.
[ ] اسنے جاءنماز بیچھای اور اپنے رب کے اگے سجدہ زیرہوگی..
[ ] نماز پڑھنے کے بعد وہ.پھر بیڈ پہ.اگی….
[x] اور
[x]
[ ] اور جہانگیر کو دیکھنے لگی..
[ ] تم جب ایسے دیکھتی ہو تو پھر میں کنٹرول.کھودنگا..
[ ] اچانک جہانگیر نہ.انکھیں کھول.کہ اس کو دیکھا..
[x] .
[ ] رات کی.شوخی.ابھی.تک.جہانگیر کہ.چہرہ پہ تھی.
[ ] اپ جاگ رہے تھے..؟؟؟
[x]
[ ] جی.ماے کیوٹ واءف…
[x]
[ ] وہ آہستہ اہستہ.پھر مدہوش ہونے لگا. زلیخا کا گیلا سراپہ پھر اسکو مدہوش کرنے.لگا..
[ ] اس سے پہلے وہ.کوہی.گستاخی.کرتا..
[ ] زلیخا اچھل کے بیڈ سے اتری..
[ ] فریش ہوجاے ہمیں حویلی.کے.لی نکلنا ہے..
[ ] احاں اچھا ادھر تو او…
[ ] جی..
[ ] تم تیار ہونا سب کے.لیے حویلی.میں.کچھ بی.ہوسکتا.ہے.
[ ] اماں جان غصہ.کی.بہت تیز ہے….
[x]
[ ] اپ فکر نیں کرے بس اپکا ساتھ ہو میں سب کچھ سہ.لونگی
[ ] اسکا ایسا کہنا اور جہنگیر کا دیوانہ وار اسکء لبوں کو چومنا…
[ ] اور زلیخا نے شرم سے.اپنے چہرو اپنے.ہاتھوں میں.چھوپالیا…
[ ] ہاےےے..
[ ] .تیرا ساتھ ہےا تنا.پیاراکم لگتا ہے جیوںن سارا تیرے ملن کی.لگن میں..
[ ] ہمیں ااانا پڑے گا دنیا میں دوبارہ..😍😍😍😍😍
[ ] جہانگیرکیے گنگنانے پہ.زلیخا جہانگیر کو بس دیکھتی گی…
[ ] اپکی.اواز بہت خوبصورت ہے.
[x]
[ ] . ہم.پر تم سے زیادہ نہں..
[ ] چلو میں فریش ہو جاو پھر نکلتے ہیں
[ ] ناشتا راستہ.میں ہی کرلینگے……
[ ] جی.تھیک.ہے ..
[ ] شام.کے وقت.گاڑی حویلی کے اندر داخل.ہوی
[ ] اور حویلی کو دیکھ کے زلیخا نے ڈر کے.مارے جہانگہیر کا ہاتھ پکڑ لیا.
[ ] کیوں کہ پورے حویلی کو دلہن کی طرح سجایا ہوا تھا…
[ ] جہہانگیر نے جب زلیخ کی ڈری صورت دیکھی.تو اسکو اپنے سے لگا لیا..
[ ] کچھ نہں ہوگا….
[ ] اوپر چھٹ پہ کھڑی نور جہاں نے جب جہہانگیر کی.گاڑی دیکھی تو وہی سے اواذ لگانا شروع کردی..
[ ] اماں جان.اماں جان….
[ ] جہانگیر بھای اگے…
[ ] اور بھاگتی ہوی باہر کو ای.اتے ہی بھای جہانگیر کے گلے لگ گی..
[ ] بھای اپ تو کل.ارہے دیر سی کیوں اےےے..
[ ] ارے ارے سانس تو لے لوو.میری ہبہنا…
[ ] جہہانگیر نے اپنے پیچھے سے زلیخا کو اگے کیا…
[ ] نور نے اپنے بھای.کے ساتھ جب وہ پیاری سی لڑکی دیکھی تو اپنے بھای کو سوالایاں نگاہ سے دیکھا..
[ ] اور کان کے قریب جا کے پوچھا بھای ہے کون ہے….
[ ] اور جہانگیر نے اسسے اسی زاضداری سے بتایا
[ ] تمھاری بھابھی…
[ ] اور نور کو لگا کہ ساری حویلی گھومنے.لگی..
[ ] .کیاااااااااااا
[ ] بھای اپ جانتے ہو کہ.اپ کیا کہ رہے ہو….
[ ] اپکو پتہ.ہے.نہ.کہ.اپنے کس طوفان کا رخ.اپنی طرف موڑا ہے..
[ ] ابے یار ایک تو اتنی.لمبی ڈرائیونگ کرکے ایا ہو اور تم یہی سارے سوال.کر رہی ہو اندر تو چلو…
[ ] او زلیخا…..
[ ] اندر قدم رکھتے ہی اسے لگا کہ وہ.کوی محل ہے کیوں کہ یرگحویل کراچی والے گھرسے بھی زیادہ بڑا اور خوبصورت تھا…
[ ] ارے جلدی جلدی لاو لاڈو (اافریدی حویلی.کی پرانی اور خاص ملازمہ) میرا جہانگیر اگیا ہے.اور بانو بیگم کو دیکھ کہ.زلیخا.کی.رہی سہی کسر بھی جواب دے گی..
[ ] واٹ گرارہ. پنک قمیز اور بڑا سا وائٹ دوپٹا.اورھے
[ ] ساتھ میں مہنگی ترین شال ڈالے انکی چھاپ.ہی روب دار تھی…
[ ] جہانگیر کے ساتھ جیسے ہی زلیخا نے قدم.اگے بڑھایا…
[ ] وہی بانو کی روب دار اواز پوری حویلی میں.گونجی.اور سب سمجھ گے.اج.پہہر کوی اس غصہ.کی زد میں.اےگا..انکی اواز سن.کے سب ہی.اپنے.اپنے کمروں سے.نکل.اے.
[ ] افریدی صاحب جو ارام.کے غرض سے.کمرے میں تھے وہ.بھی.لاٹھی کی.مدد سے باہر اگے
[ ] یہ تمھارے ساتھ لڑکی کون ہے جہانگیر….. ؟؟؟
[ ] ہم کچھ پوچھ رہے ہیں….
[ ] امں جان یہ.میری بیوی اور اپکی بہو…
[ ] چٹاخ……
[ ] ایک زور دار تھپڑ جہانگیر کے ہوش ارا گیا..
[ ] بانو بیگم.اپ ہوش میں تو ہے…
[ ] پیچھے سے افریدی صاحب کی.اواز گونجی .اب اپ جوان اولاد پہ.ہاتھ اٹھا ہیگی..
[ ] اور اپکو نظر نہں.اراہا کہ.اس نے اس عمر میں.میرے سر پہ.کیا.خاک.ملی.ہے.
[ ] ارے میں پوچھتی ہو کیا جواب دونگی.اپپنی.بہن کو جسکی.بیٹئ بچپن سے اس کے نام.پہ بیٹھی ہے…اور کچھ دن بعد اسکی شادی تھی اس سے…..
[ ] ہوش سے کام.لے اپ بانو…
[ ] نور جہاں.اپنی.نام پہ.چونکی جو تھپڑ پڑنے پہ.اپنے بھای کو دیکھ رہی تھی…
[ ] جی جی بابا..
[ ] بھابھی.کو لے کمرے میں جاو..اور جہانگیر تم ہمارے کمرہ.میں او…
[ ] جی اچھا. ایے بھابھی اور زلیخا جو جہانگیر کے تھپڑ پرنے پہ.رونے میں مصروف تھی نور کے ساتھ چل.پڑی
[ ] یہاں.پہ بیٹھیے کچھ چاہیے اپکو.نور نے زلیخا.کو دیکھا..
[ ] نہں.
[ ] م
[ ] بھابھی.میرا نام نورجہاں ہے..اپ تینشن نہں لو انشاءللہ سب تھیک.ہو جاے گا اپ ارم.کرو اوکے…
[ ] جہانگیر نے ہلکا سہ دروازہ نوک کیا ہلکا سہ.کھول.کہ اندر جاھنکا….
[ ] بابا میں اندر اجاو؟
[ ] اجاووو..
[ ] بیٹھو افریدی صاحب نے اسے اپنے سامنے رکھی.کرسی پہ.بیٹھنے کا اشارہ.کیا
[ ] جہانگیر تم جانتے ہو نا تم.ہمارے لاڈلے بیٹے ہو.. مگر کیا تمہیں.اندازہ ہے کہ.تمہارا
[ ] یہ قدم دو خاندانوں کے درمیان دشمنی پیدا کر سکتا ہے…؟؟؟؟
[ ] بابا جانی.مجھے اندازہ.ہے مگر جن حالت میں یہ سب ہوا.. اور پھر جہانگیر نے.افریدی صاحب کو الف سے یے تک سب بتادیا..
[ ] اب اپ بتاے کیا میں اسسے اس وقت چھوڑ کہ.اسکتا تھا جبکہ.وہ میری محبت ہے.اپکو پتہ.ہے بابا میں نے.کہی بار اپ سے کہا کے مجھے شاہین سے شادی نہں کرنی.مگر اس وقت میں.اپکی.بات مان.کے چپ.ہوگیا.کہ.اس وقت میںری زندگی.میں کوی تھی بھی نہں…
[ ] اپ سمجھاے بابا اماں جان کو.. پلیز میرےی زندگی ہے زلیخا میں اسے چھوڑ نہں سکتا میرے علاوہ.اسکا کوی.نہیں..
[ ] اور پہلی بار افریدی صاحب نے اپنے لاڈلے کی.انکھوں میں انسو دیکھے…
[ ] انہوں نے اٹھ کے اپنے لاڈلے کو سینے سے لگالیا..تم جاو بہو کے پاس ہم سب سنبھال لینگے..
[ ] شکریہ بابا..
[ ] بابا کے پاس سے وہ سیدھا اپنے کمرے مے ایا جہاں زلیخا ادھر اھر چکر کاٹ رہی.تھی..
[ ] ایک دم جب جہانگیر کو کمرے میں اتے دیکھا تو اسکی طرف بڑھی کیا بات ہوی باباسے؟؟؟
[ ] اور جہانگیر کا اپنے باباکو اسکا بابا بولنا بہ.حد اچھا.لگا اسنے اسے.گلے سے لگا لیا……
[ ] ہم ہوگی بات بابا سے وہ سب سبنھال لینگے…
[ ] چلو تم بھی ارام کرو اور میں زرا ڈودی کو دیکھو(بلاول سب سے چھوٹا)
[ ] ڈودی ؟ہاں.میرا سب سے چھوٹا بھای.
[ ] کل.رات کو ہی ایا ہے لندن سے ابھی تک سویا ہوا ہے جبھی.نہں ایا..
[ ] تھیک.ہے.اپ دیکھ لے..
[ ] میں بھی.چنج کرلو..
[ ] ابھی وہ.لوگ باتیں ہی کررہے تھے.کہ زور زور سے انکے کمرے کا دروازہ بجا..
[ ] کون؟؟؟
[ ] ارے جہنگیر بھای میں ہو نور بات سنے جلدی…
[ ] ..اچھا اچھا کھولتا ہو….
[x] ہا
[ ] جیسی ہی دروازہ.کھلا وہ.فورا ہانپتی کانپتی اندر داخال.ہوی اری.کیا.ہوا نور ؟؟؟سب.خیریت ہے.
[ ] خیریت ؟؟؟
[ ] اجاےباہر اپکا بولاوا اگیا… ورلڈ وار کے.لیے…
[ ] بی جان آگی.ہے اور ساتھ میں تایا اور انکے زکوٹا جن جیسے بیٹے بھی.ہیں.
[ ] اپنی بہن( صبا بھابھی) کو گھسیتےہوے لے کے جا رہے ہیں..
[ ] ار یار اب یے.کیا تمشہ.ہے..
[ ] وہ ہی.جو ہونا تھا اپکی اس حرکت کہ بعد(شادی کے بعد)
[ ] اور ہاں جاتے جاتے وہ.مڑی….
[ ] اب کوی.اور بری خبر مت دے نہ.نور..
[ ] خبر تو بری.ہے.مگر مجھے بہت مزا انے والا ہے..
[ ] مطلب؟؟
[ ] اپکے جگر کو بھی بلوالیا.ہے ..
[ ] کیا حیدر کو؟؟
[ ] جی وہ بھی.اج کی.فلائٹ سے..
[ ] جہانگیر نے اپنا ہاتھ سر پہ.مارا ..
[ ] لے.بھی.ہوگی.اب .تو شروع ورلڈ وار…
[ ] اور ہاں.انکو یہی روکنا.(.ذلیخا کو..)
[ ] مین زرا اس ڈودی کو تو اٹھا.لو کل سے نیند ہی پوری.نہں.ہوی.اسکی….نور کے جانے.کہ.بعد وہ زلیخا.کی.طرف مرا..
[ ] یار تم.یہی روکو اور میں جب تک.نہہ.بولو باہر نہں انا….
[ ] اوکے……..
[ ] نور باھگتی.ہوی.ڈودی کہ.کمرے میں پہنچی..
[ ] وہ ڈودی جو مزے سے سو رہا تھا.
[x] ز
[ ] نور کے.بلینکٹ کھچنے پہ اٹھ بیٹھا..
[ ] اٹھ جاو ڈوودی کتنا سونا ہے…
[ ] یہاں ورلڈ وار ہو رہی ہے اور تم سو رہے.ہو..
[ ] ابے.یار نور اب.کیا ہوا..
[ ] جہانگیر بھای کراچی سے شادی کرکے اگے ہیں..
[ ] اچھا …
[ ] یے سن کہ.وہ پھر لیٹ گیا.تھا…
[x]
[ ] لیکن جب بات سمجھ کہ.ای تو… چیخ.کہ.ااٹھا..
[ ] ہے کیا بول.رہی ہو نور؟؟؟
[ ] اور نہں تو کیا نیچے بی جان کی.فیملی.اگی ہے اور تم سو رہے ہے..
[ ] فٹافٹ اوو.
[ ] ہاں تم چلو میں ارہا.ہو ..
[ ] جہنگیر جب ہال.میں داخل ہوا تو وہاں سب ہی تھے سواے شاہین کہ.
[ ] اسکی نظر صبا بھابھی کی طرف اٹھی. توانہوں نے جہانگیر کو دیکھ کہ.منہ.پھیر لیا….
[ ] اے یے بھانجے صاحب کیا سلہ دیا ہے تم.نے ہمارے مان کا
[ ] بی جان کی اواز پورے ہال.میں گونجی…..
[ ] بی.جان میں اماں جان کو پہلے ہی بتا چکا تھا. کہ.میں اا رشتہ.پہ.راظی.نہں تھا مگر اماں جان کی بات پہ.میں نے حامی بھری تھی..
[ ] جہانگیر زبان کو لگام دو.
[ ] اماں جان کی.اواز ہال.میں گونجی…
[ ] بلاو اس بد زات کو جس نے میںری.بہن کی.جگہ.لی.
[ ] شاہین کا دوسے نمبر کے بھای نے بولا.
[ ] اپنی.اوقات میں رہو جنید ورنہ.میں لحاظ بھول.جاونگا…بیوی.ہے وہ.میری اور جہانگیر کی دھاڑ نے سب کو خاموش کروادیا…
[ ] نور جو ہال.کے کونے.میں کھڑے سب دیکھ رہی تھی…
[ ] بانو کی اواز پہ چونکی..
[ ] جاو اسے.لیکے اووو…
[ ] افریدی.اور افندی صاحب چپ چاپ یے تماشہ دیکھ رہے تھے.تھوڑی دیر بعد زلیخا.نور کے ساتھ ہال.میں پہنچی. اسس سے پہلے بی جان اس تک.پہنچتی جہانگیر بیچ میں اگیا.
[ ] بی جان میں اپکی بہت عزت کرتا ہو مگر میں نور کی.بعزتی برداشت نہں.کرونگا.پھر بھلے سامنے.کوی بھی.ہو…
[ ]
[ ] ..بلاول.جو ابھی.ابھی ہال.میں پہنچا تھا..
[ ] اپنے بھای.کہ پہچھے کھڑی لڑکی.کو دیکھنے.لگاا.
[ ] تھو ڑا کھسک کہ.نور کہ.پاس اکے کھڑا ہو گیا..
[ ] اور سرگوشی.کیی
[ ] ویسے نوربھای کا بغاوت کرنا تو بنتا ہے بھابھی ہے بہت معصم اور حسین…
[ ] چپ.کر کے کھڑے رہو.نور نے اسے جھاڑا…
[ ] دیکھ رہے ہو افریدی تم اپنی اولاد کو… افندی صاحب جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھے تھے.. بیوی کی بےعزتی پہ اٹھ کھڑے ہوے…
[ ] اور تم اس لڑکی کہ لیے جس کی.نہ زات کا پتہ نا نسل.کا ہم سے الجھ رہے..ہو. بس بہت ہوا..
[ ] چلو صبا بہت ہوا چلو ہمارے ساتھ ابھی..
[ ] بی جان کی اواز ایک بار پھر گونجی..
[ ] اپااپا………
[x]
[ ] ایسا تو نہں کرے اس میں میرے عالم کو کیوں سزا دے رہی.ہے …بانو بیگم نے مینتیں کی بی جان کی……..
[x]
[ ] تو پھر بولو اپنے بیٹے کو کہ.طلاق دے اسے..
[ ] ورنہ…
[ ] ورنہ.کیا…اپا..
[ ] ہمارا تعلق ختم…
[ ] نہں.نہں.اپا.ایسا تو نہں بولے..
[ ] افریدی صاحب اپنی بھابھی کی اس بات پہ تڑپ.اٹھے..
[ ] بھابھی اس مسلے کا.کوی اور حل ڈھونڈتے ہیں….
[ ] تھیک ہے افندی صاحب کی اواز پہ سب نے انکی طرف دیکھا.
[ ] پھر نور کی شادی جنید سے ہوگی..یہ بات سن کہ جہں نور کو جٹھکا لگا.
[ ] وہی ہال.کے اندر اتے ہوے حیدر کو ایسا لگا جیسے اسکے پیروں کے نیچے سے کسی نے زمین کھنچ لی..
[ ] یہ.کیسے ہو سکتا ہے بھای…
[ ] جیید تو پہلے سے شادی شدہ ہے.ابھی ہماری بات پوری نہں ہوی..
[ ] اور پھر افندی صاحب بولے..
[ ] جہانگیر کو شاہین سے دوسری شادی کرنی پڑے گی..
[ ] دو دن کا وقت ہے تمھارے پاس..
[ ] یہ بول.کے وہ روکے نہں چلے گے..
[ ] نور تو وہاں سے باھگتی ہوی چلی گے..اور افریدئ صاحب کو کچھ ہوش نہں تھا…پھر……¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] زلیخا چپ ہوی تو ماہ رخ نے ان کی.انسو صاف کے اور پوچھا پھر کیا ہوا ماما..؟؟
[ ] پھر دودن بعد ہی خبر ای.کی.شاہین نے خود کشی.کرلی .بس جب سے ہی ان دو خاندانوں میں دشمنی ہے..
[ ] تو ماما.نور پھپو کہاں گی دادی تو انکا الزام بھی اپ پہ لگاتی ہے..
[ ] مجھے نہں پتہ ماہ رخ… ماہ.نے اپنی.ماما کے انسو صاف کے اور انکے گلے لگ گی ماما اپ فک نہں کرے سب تھیک.ہوجاے گا..
[ ] ہمممممم..
[ ] اچھا تم جاو اب اپنے کمرے میں میں زرا مغرب کی نماز پڑھ لو..
[x] ہممممممم….
[ ] اوک ماما..
[ ] ماہ.کے کمرے سے جاتے ہی زلیخا نے اپنے الماری.کے گپت خانے سے ایک.کاغز نکالا.اور پڑھنے لگیی…
[ ] اور ایک بار پھر اسکی.انکھیں بھر گی…..
[ ] کیا سچ میں زلیخا.کو نہں پتہ تھا کہ.نور کہاں.ہے…
[ ] کیا سچ م شاہین کی خوکشی کی.وجہ زلیخا.تھی..
[ ] یہ.تو انے والا وقت ہی بتا سکتا تھا کی.حقیقت کیا ہے.
[ ] جاری ہے…..
