Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 36 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36 Part 3
[ ] شان تھکا ہارا اندر ایا تو آنکھیں بند کرکے صوفے پہ لیٹ گیا…..
[ ] کہ جبھی ماہ کی آواز ائ….
[ ] شان یہ لو ….
[ ] ماہ کی آواز پہ جب شان نے آنکھیں کھولی تو ماہ جوس کا گلاس لے کے کھڑی تھی….
[ ] جوس کا گلاس دیکھ کے شان سیدھا ہوکے بیٹھا اور شکریہ بول کے ماہ سے جوس کا گلاس لیا مگر جوس لیتے ہوئے شان
[ ] کی انگلیاں ماہ سے ٹچھ ہوئ تو ماہ نے تیزی سے اپنا ہاتھ کھینچا ..شان کی آنکھوں سے ماہ کی یہ حرکت چھپ نہی سکی….
[ ] ماہ اپنی جھینپ میٹانے کے لیہ سامنے صوفے پہ بیٹھ گئ جبکہ شان کی نظریں مسلسل ماہ پہ تھی ڈارک اور لائٹ کنٹراس کے سوٹ میں بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے شان کو وہ بہت کیوٹ لگی…..
[ ] ابھی شان ماہ کو مسلسل دیکھ ہی رہا تھا..حیدر جو اپنے کسی دوست کے پاس گئے تھے گھبرائے ہوئے اندر آئے….
[ ] حیدر کو یو گھبراتا ہوا اندر اتا دیکھ باہر کام کرتے شاہ اور ازلان بھی اندر آگئے ……
[ ] کہ جبھی شان نے حیدر سے پوچھا…..
[ ] پاپا کیا ہوا اپ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہے..؟؟؟؟
[ ]
[ ] شان کے سوال پہ حیدر نے کہا…..
[ ] بیٹا میں اپنے دوست کے پاس کسی کام سے گیا تھا وہاں سے واپسی پہ جب میرے گاڑی ایک مال کے اگے سے گزری تو ایک زور دار ڈھماکہ.ہوا …
[ ] مال کے اندر کی دو تین دکانوں میں بم تھا. کافی لوگ مرگئے شان میں بہت مشکل سے وہاں سے آیا ہو…
[ ] ابھی حیدر اپنی بات بول کے چپ ہی ہوا تھا….
[ ] کہ کانچ ٹوتنے کی آواز پہ.سب نے کچن کی طرف دیکھا تو نور حواس باختہ حیدر کو گھور رہی تھی …
[ ] سارے نور کے پاس پہنچے کانچ ٹوتنے کی.آواز پہ.گھر کے سارے فرد کچن کی طرف ڈورے…
[ ] حیدر نے نور کو کہا….
[ ]
[ ] کیا ہوا نور تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے……؟؟؟؟؟…
[ ] جب کہ نور حیران کن نظروں سے حیدر کو دیکھتی رہی تو حیدر نے نور کو کندھے سے پکڑ کر جھنجھور کے چیخ کے کہا….
[ ] خدا کا واسطہ ہے نور کچھ بولو میرا دل بند ہوجائے گا.ہوا کیا ہے تمہیں…؟؟؟
[ ] حیدر نے جب نور کا ایسے جھنجھورا تو جہانگیر نے حیدر کے کندھے پہ.ہاتھ رکھ کہ اسے انکھوں سے ریلکس ہونے کو کہا….
[ ] حیدر کے جھنجھوڑنے پہ نور نے کہا….
[ ] حیدر ابھی تھوڑی دیر پہلے ناصر پری.کو لے کے مارکیٹ کے لیہ.نکلا تھا پری کو کھوسہ لینے تھے کہی وہ دونوں اس مال…..نور کی بات پوری ہی نہی ہوئ کے حیدر کے ودم لڑکھرڑائے…
[ ] اگر بروقت جہانگیر اسے نہ تھامتا تو یقینن وہ زمیں بوس ہوجاتا…
[ ] الللہ نے کرے نور کیسی بکواس کرہی ہو .اماں جان کی غصیلی آواز گونجی
[ ] نہی نہی میری پری اس میں نہی ہوگی اور نہ میر یار ہوگا.. شان کے چیخنے پہ سب نے شان کو دیکھا جو پاگلوں کی طرح کا ریکٹ کررہا تھا…
[ ] نور زارو قطار رونے لگی.نازو اور زلیخا کا نور کا سنبھلنا مشکل ہوگیا..تو ادھر شاہ اور ازلان نے شان کو سنبھالا …
[ ] امان جان تو یہ بات سنتے ہی سکتہ کی.کیفیت میں چلی گئ…
[ ] دلاور اور جہانگیر حیدر کو سنبھال رہے تو جو پاگلوں کی طرح کبھی پری.کا نمبر ٹرائ کرتا تو کبھی ناصر کا دونوں کا نمبر بند جا رہا تھا تو ادھر شان بھی ناصر کا نمبر بار بار ٹرائ کرررہا تھا..
[ ] نمبر بند ہونے پہ سب ہی الللہ سے فریاد کرہے تھے کہ وہ دونوں ٹھیک ہو….
[ ] ماہ ردا عدنان اور نازنین الگ رورہے تھے نیلم نے نعمان کو بھی کال کرکے بولا لیا تھا ….
[ ] شان کو روتا دیکھ ماہ کو اور رونا ایا..مگر ماہ سمجھ نہی پائ کے شان کے رونے سے اسے کیوں تکلیف ہو رہی.ہے..
[ ] شان نے حیدر سے پوچھا ..
[ ] پاپا اپ مجھے بتائے دھماکہ. کس مال میں ہوا …
[ ]
[ ] نہی شان مجھے یقین ہے میری پری کو کچھ نہی.ہوگا ناصر مجھ سے بول کے گیا تھا کہ آنٹی میں پری کو لیجاؤ اپکو مجھ پہ اعتبار ہے …نور دیوانہ.وار شان سے بول رہی تھی…
[ ] شان ناصر میرا اعتبار نہی توڑے گا میری پری کی حفاظت کرے گا وہ…
[ ] نور کی بار سن کے شان نے گردن جھا کے زور زور سے رونا شروع کردیا. .تو شاہ اور ازلان کی بھی آنکھیں بھیگ گئ…
[ ] کہ جبھی دروازے پہ کھڑے کسی نفوس نے کہا…
[ ] ایک بیٹا اپنی ماں کا اعتبار کبھی نہی توڑتا…..
[ ] اس نفوس کی آواز پہ جہاں سب نے دروازہ کہ.طرف دیکھا..وہی شان دیوانہ وار بھاگتا ہوا ناصر کے گلے لگ گیا…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] دھماکہ کی شدت اتنی تھی کہ.جو مال کے باہر کے دروازے کی طرف لوگ تھے وہ باہر مال کی سیھڑیوں پہ.گرے ..جس میں پری بھی شامل تھی کسی کے سر پھٹا تو کوئ ایک دوسرے کے اوپر ہی گرا اور جو جو دھماکہ والی دکان کے قریب تھے..ان کے جسم کے لوٹھرے بن گئے….
[ ] ناصر بھی اسی دھماکہ والی دکان کے قریب تھا ..پہلی دکان میں جب دھماکہ ہوا تو ناصر نے تیز تیز بھاگنا شروع کردیا کیونکہ اسے پری کی فکر تھی جو اسے ڈھونڈنے سے بھی نہی مل رہی تھی ..اس سے پہلے ناصر مال کے گیٹ تک پہچتا ایک اور دھماکہ ہوا اور موت کا سناٹا چھاگیا…
[ ]
[ ] ناصر کی آواز لوگوں کی چیخوں سے کھلی ..ناصر کو اپنے اوپر کسی بھاری چیز کا احساس ہوا ..ناصر کا سر بری طرح چکرا رہا تھا مگر جب اس نے اٹھنے کی.کوشش کی.تو اس کے اوپر ایک اور آدمی تھا جسکا سر نہی تھا.اور ان دونوں کے اوپر کوئ بہت بھاری کاوئنٹر گر ہوا تھا …
[ ] ناصر نے جب اس بنا سر کے آدمی کو دیکھا تو ناصر کی آنکھوں میں تشکر کے انسو تھی جو الللہ نے اس کی جان بچائ اسے زندہ رکھا ایک معجزہ.ہی تھا ورنہ اس دھماکہ سے جب اس آدمی کا سر ڈھر سے الگ ہوگیا تو ناصر کو کیا حال ہوتا….
[ ]
[ ] “مگر کہتے ہیں نہ جیسے الللہ رکھے اسے کون چکھے..”
[ ] ناصر نے ہمت کرکے اس ادمی کو اپنے اوپر سے ہٹایا جیسی وہ.کھڑا ہونے لگا
[ ] تو چکر انے کی.وجہ سے گڑپڑا…
[ ] اس نے الللہ.کا نام لیا اور ایک بر پھر کھرا ہو مگر اس کی ٹانگ میں چوٹ ائ تھی جسکی وجہ سے اس سے چلا نہی جا رہا تھا..ناصر نے جیسی ہے اگے قدم بڑھائے اس نے سوچا کہ اس نے ایسا کون سا کام.کیا تھا کہ جسکی وجہ سے الللہ نے اسے صحیح سلامت رکھا…
[ ] وہ دیوانہ وار پری کو پکارنے لگا ..مگر وہاں تو لاشوں اور چیخ وپکار کے سوا کچھ نہی تھا…ایمبولینسوں کا شور ہر طرف تھا اس نے ان لاشوں میں پری کو ڈھونڈنے سے پہلے اپنے رب سے دعا کی..
[ ]
[ ] “یاالللہ میری پری زندہ ہو یاالللہ اپکو اپکے محبوب کا واسطہ یاالللہ.میری پری زندہ.ہو””””میرے مولا مجھ پہ رحم.کر میں مرجاونگا اسکے بنا”””
[ ]
[ ] یہ دعا مانگ کے ناصر نے لاشوں میں پری کو تلاش کرنا شروع کیا نہ تو اسکی پری لاشوں میں ملی.نہ ہی زخمی لوگوں ..میں اس کے رونے میں اوراضافہ اگیا
[ ] وہ روتے روتے جیسے جیسے اگے ّمال کے گیٹ کی طرف بڑھنے لگا اس کے کانوں میں نور کے االفاظ گونجنے لگے….
[ ] مجھے اعتبار ہے تم.پہ ناصر اپ لیہ جاؤ پری.کو..
[ ] پری.ی.
[ ] ناصر اپنی پور طاقت سے چلایا …کہاں ہو یار ……..
[ ] روتے روتے ناصر باہر نکلا پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی سے لگ کے نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کے دیوانہ وار رونے لگا …ہر طرف اہوں اور چیخوں کی آوازیں تھی ناصر میں ہمت نہی تھی گھر جاکہ سب کو فیص کرنے کی..رونے سے ناصر کا پورا وجود ہل رہا تھا نہ تو اسے اپنے زخم کی پرواہ تھی اور نہ ہی اسے اپنے درد کی بس اسکے لبوں پہ.اپنے الللہ سے بس ایک ہی فریاد تھی…
[ ] “یالللہ پری زندہ ہو”””
[ ] اور شاید الللہ کو ناصر پہ.رحم ا ہی گیا …
[ ] ہیچھے سے ناصر کے کندھے پہ.کسی نہ ہاتھ رکھا ..ناصر نے جیسے ہی مڑ کے پیچھے دیکھا تو اسکا یقین معجروں پہ اور پختہ ہوگیا..وہ وہی اسی حالت میں سجدہ میں گر گیا..اور پھر اٹھ کے پری کے گلے لگ گیا….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] پری دھماکہ کہ شدت سے سیڑھیوں کے نیچے گر کے بہہوش ہوگئ 5 منٹ بعد جب اسے ہوش ایا تو کوئ عورت اس پہ پانی کی چھینٹے مار رہی تھی ..پری فورا ہربڑا کے اٹھ بیٹھی…
[ ] اور زور زور سے رونے لگی اور ساتھ ساتھ بولنے .لگی….
[ ] شان بھائ پاپا ماما …کہ.اچانک اسے ناصر کا خیال ایا وہ فورا اندر کی طرف بڑھتی اس سے پہلے وہی عورت جو اسے ہوش میں لایئ تھی
[ ] پکڑ کے کھینچا..اور کہا…
[ ] کہاں جا رہی ہو پاگل.لڑکی اندر کوئ نہی بچا .کوئ نہی یہ بول کہ وہ عروت تو اگے چلی گئ جبکہ پرہ اور رونے لگی اسے رہ.رہ کے ناصر کا چہرہ یاد انے لگا..وہ سکتہ کی.کیفیت میں پارکنگ ایریا کی طرف ائ اور جاکہ اپنی.گاڑی کے پیچھے چھپ کے بیٹھ کے رونے لگی کہ جبھی اسکے کانوں میں کسی کے رونے کی آواز گونجی.جو گاڑی کے اگے سے ارہی تھی ..
[ ] پری نے جیسے ہی کھڑی ہوکے گاڑی کے اگے دیکھ تو اسے لگا اسے زندگی مل گئ کیونکہ اگے ناصر گھٹنوں کے بل بیٹھا رو رہا تھا..وہ چلتی ہوئ ناصر کے قریب ائ اور اس کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر کے گلے لگنے سے ایک منٹ کے لیہ.پری چونکی.مگر اسکی اگلی حرکت اور گلے الفاظ پہ.پری کو لگا کہ اج تک جو اسکا شک تھا وہ شک نہی یقین تھا….
[ ] ناصر پری کے گلے لگ گیا اور اسے ااپنے سے تھوڑا اوپر اٹھایا .اور کہا…
[ ] یااللہ.تیرا شکر ہے مولا تو نے میری پری کو زندہ رکھا…
[ ] آئ.ایم سو سوری میری جان میرا ہاتھ چھوٹ گیا تھا..پری ائ ایم سو سوری..
[ ] ناصر پری.کو بولتا پھر اسکے گال گلے لگے لگے چومتا اور پھر بولتا…
[ ] پری میری جان میری زندگی.ہو تم پری میں میں سمجھا میں نے تمہیں کھو دیا..پری ..ناصر یہ بول کے ایک بار پھر رونے لگا اور دیوانہ وار پری کا چہرہ چومنے لگا….
[ ] مگر پری وہ تو بس سکتہ.کی حالت میں ناصر کو دیکھ رہی تھی نہ اس نے اسے اپنے اپ.کو پیار کرنے سے روکا اور نہ ہی اس سے الگ ہوئ ….
[ ] اور اسکا دماغ ناصر کے بس ایک جملے پہ اٹک گیا…
[ ] میری.پری …
[ ] ناصر اس سے الگ ہوا تواسے اااحساس ہوا وہ کیا بول گیا اس نے اپنی گردن جھکا لی پری جو ناصر کی.اتنی.محبت پہ نہال تھی خوشی سے اسکی آنکھیں جھلک پڑی اور وہ رونے لگی…ناصر نے پہلے اپنے آنسو صاف کیہ پھر اپنی شرٹ کی آستینوں سے پری کی.آنکھیں صاف کی اور اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے گاڑی.میں بیٹھایا..پری کے سر پہ چوٹ ائ تھی.جو ناصر دیکھ چکا تھا…..
[ ] ناصر نے اس سے کہا …
[ ] وہ.پری میں بہت ڈر گیا تھا اس لیہ وہ میں …..تمہا..رے. ..ناصر کی.ہچکچاہٹ پری سمجھ گی تھی اس لیہ بولی تو صرف اتنا ….
[ ] کوئ بات نہی میں سمجھ سکتی ہو…یہ بول.کے پری.نے گردن نیچے جھکائ تو ایک دم اسکا ہاتھ اپنے سر پہ گیا تو تکلیف سے پری کی سی کی آواز نکلی
[ ] ناصر جو گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تھا پری کی آواز سن کے ایک دم وہ پری.کی طرف مڑا اور کہا…
[ ] کیا.ہوا پری سر پہ کیا زیادہ لگی ہے دیکھاؤ مجھے….
[ ] اررے نہی کچھ نہی مجھے لگتا ہے گرنے سے چوٹ آگئ…پری نے ناصر کو ٹالنا چاہا .مگر تکلیف کی وجہ سے پری کے جو آنسو نکلے وہ ناصر سے چھپ نہ سکے اس نے فورا گاڑی میں رکھا فرسٹ ایڈ باکس نکال اور پری کے سر پہ.دوائ لگانے لگا مگر سر پہ.حجاب کی وجہ سے وہ دوائ صحیح طریقے سے لگا نہی پارہا تھا ..
[ ] پتہ نہی.ناصر کے دل.میں.کیا.ایا وہ آگے بڑھا اور پری کے سر کا حجاب کھولنے لگا تاکہ صحیح سے دوائ لگا سکے…
[ ] ناصر پری کے اتنے قریب تھا کہ اسکی سانسوں کی.ہوا پری کے ماتھے پہ.لگ رہی تھی .مگر پری نے نہ تو اسے منع کیا اور نہ.ہی.کوئ اور بات کی.وہ خاموش گڑیا کی.طرح اسکے سامنے بیٹھی رہی
[ ] مگر ناصر نے حجاب کھولتے ہوئے ایک بھی غلط نگاہ پری پہ نہی ڈالی ..
[ ] ناصر نے جب پری کا حجاب کھولا تو اس حجاب کی لاسٹ پن پری کے بالوں میں اٹک گی جیسی ہی ناصر نے وہ پن نکالی پری کا جوڑا ایک دم کھل گیا پری کے بال ابشار کی طرح پری کو چھپا گئے…
[ ] بال کھلنے پہ.ناصر نے پری سے کہا…
[ ] سوری وہ پن اٹک گئ تھی…
[ ] مگر پری نے ناصر کی.کسی بات کا جواب نہی دیا اور خاموشی سے اپنے بالوں کو جوڑا باندھنے.لگی مگر جیسی ہی اس نے اپنے بال اوپر اٹھائے ایک درد کی لہر پری کے ہاتھ میں اٹھی اور اسکے بال پھر ایک بار اس پہ چھا گئے…
[ ] ناصر جو غور سے پری کو بال باندھتے ہوئے دیکھ رہا تھا اچانک اس کے چہرے پہ تکلیف کے آثار دیکھ کے وہ سمجھ گیا پری کے ہاتھ پہ بھی موچ ائ ہے….
[ ] ناصر نے بڑی احتیاط سے اس کے بال اٹھائے .اس نے پوری کوشش کی اسکا ہاتھ پری سے ٹچ نہ ہو آور اسکے حجاب کو اسکے بالوں کے بیچ میں سے گزار کے اسکے حجاب سے اسکے بالوں کو کس کے باند دیا..
[ ] پری نے حیران کن نظروں سے ناصر کو دیکھ تو وہ نگاہ چرا گیا…
[ ] ناصر نے پھر بڑے ارام سے پری کے سر پہ دوائ لگائ خون نکل کے.پری کے ماتھے پہ جم گیا تھا..دوائ کی چھبن سے پری نے تکلف کی وجہ سے ناصر کا دوائ والا ہاتھ پکڑ لیا…
[ ] ناصر نے ہلکہ اس کے سر پہ.ۂھونک ماری.اور بڑی ارام سے اسکی سر کی چوٹ کو اپنے لبوں سے چھوا تاکہ.پری کو پتا نہ چلے مگر ناصر کی انکھ سے گرنے والا انسو جو پری کے چہرے پہ گرا تھا ..پری نے اپنی انکھیں بند کی اور دل سے دعا کی..
[ ] :”
[ ] “میرے مولا اس شخص کو میرا نصیب بنا دے…”
[x] جاری ہے
[ ]
[ ] جاری ہے…
