Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
[ ] قسط نمبر 14
[ ] صبح بانو بیگم.اپنے کاموں.میں.مشغول تھی. جب لاڈو
[ ] نے اکہ بتایا.کہ بی جان ای.ہے ..
[ ] بانو بیگم.نے لاڈو کو بولا.انہں بیٹھاو.ہم اتے.ہیں..جی بیگم صاحبہ….
[ ] اسلاموعلیکم اپا…
[x]
[ ] وعلیکم سلام..
[ ] جی اپا خیریت کیسے انا ہوا..
[ ]
[ ] اج ہم تم.سے اپنی بیٹی.کا ہاتھ مانگنے اے ہیں ہم نور کو اپنے بیٹے جنید کے.لیہ منگنے اے ہیں..
[ ] بانو بیگم.جب امنہ بیگم.کی اس بات پہ کچھ نہں بولی اور خاموشی سے گردن جھکا کے بیٹھی رہی…
[ ] تو امنہ.بیگم.کو خطرہ کہ بو ای…
[ ] کیا ہوا بانو تمہیں اعتراض ہے..
[ ] بانو کو نہں مجھے اعتراض ہے بھابھی..
[ ] افریدی صاحب کی پیچھے سے اتی اواز پہ دونوں پلٹی..
[ ] کیا کہنا چاہ رہے ہو افریدی کھل کہ.کہو..
[ ] اپا اپ اچھی طرح جانتی ہیں میرا اشارہ کس طرف ہے.. اپ بھی اپنے بیٹی کی.کرتوتوں سے اچھی طرح واقف ہے.اور معاف کرنا بھابھی میں اپنی.نور کے.لیہ.کچھ اور ہی سوچا ہے..اس لیہ.میری نور کا خیال اپ دل سے نکال دیں.
[ ] اور نور جو دیوار کی اوٹ سے یہ سب سن رہی تھی اس نے سکھ کا سانس لیا ایسا نہں تھا اسے کوی اور پسند تھا مگر نور کو اپنے اس کزن سے خوف محسوس ہوتا تھا جس کی.انکھوں میں نور نے ہمیشہ ہی حوس دیکھی تھی..
[ ] عورت کو اللہ.نے ایک ایسی حس دی ہے کہ وہ اپنے اوپر پرنےوالی ہر نظر پہچان جاتی ہے…
[ ] افریدی تم غلط سمجھ رہے ہو یہ سب افواہیں ہیں میرا جنید ایسا نہں امنہ بیگم کو اپبے ہاتھ سے جایداد نکلتی ہوی محسوس ہوی جو نور کے نام تھی اور جسکا کوی حساب نہں ہے..
[ ] تھیک ہے بھابھی اپکی بات بڑی کرلیتے ہیں کہ جنید میں کوی عیب نہں مگر.مجھے بھر بھی اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کے حق میں نہں اپکی دونوں بیتٹییاں اری ہیں کافی ہے..
[ ] جب امنہ.بیگم نے دیکھا کہ بات ہاتھ سے نکل رہی ہے..تو امنہ بیگم نے بات کا رخ.ہی.موڑ گی..
[ ] کوی بات نہیں افریدی.جیسی تمہاری مرضی نور ہماری بیھی.بیٹی ہے.ہم تمہاری.خوشی میں خوش ہیں.. اچھا اب ہم چلتے ہیں جب جہانگیر اجاے گا تو اءینگے..
[ ] ارے اپا ایسے کیسے کچھ ناشتہ وغیرہ تو کرے کہ جاے..
[ ] ارے نہں بانو اب ہم چلتے ہیں کل سے شادی کی تیاریاں شروع ہیں تو سب انتظامات دیکھنے ہیں.
[ ] اچھا اپا.اپنا خیال رکھیے گا.
[ ] اللہ.حافظ..
[ ] امنہ کے جانے کے بعد افریدی صاحب اپنے کمرے کی طرف چل دیے..
[ ] بانو بیگم بھی ان کے پیچھے چل دی..
[ ] اپکو اپا سے ایسی بات نہں کرنی چاہیے تھی وہ کتنی عاس سے ای تھی..
[ ] بس افریدی صاحب کی برداشت ختم..
[ ] ییہاں او..
[ ] بانو بیگم کو افریدی صاحب نے اپنے پاس بلایا..
[ ] جی
[ ] .دیکھو بانو تم بہت معصوم ہو اپنی بہن کو نہی سمجھتی.میں نے دیکھا ہے انہے وہ بہت لالچی ہے انہوں نے ہمارا گھر کا بٹوارا کردیا بھای کو اپنے بچو کو ہم سے بدظن کر دیا..تم نے جہانگیر کی بھی کردی میں اسکے حق میں نہں تھا بچوں کو پہلے سے کسی رشتہ میں بندھنا بیوقوفی ہے. ایسی وعدہ نہں کرو جو بعد میں رشتوں کو کمزور کرے..تم نے جہانگیر کو دھوکہ سے بلایا ہے تم نے اسے یہ نہں بتایا کہ تم اسکی بھی ساتھ کرہی ہو شادی ابھی اسکی پڑھای مکمل.نہیں ہوی.اگر جہانگیر نہ یہاں اکے اس شادی کو اپنی پڑھائ تک ملتوی کرنے کو کہا تو میں اسکا ساتھ دونگاا..
[ ] یہ بول کے افریدی صاحب رکے نہں کمرے سے چلے گے..اور بانو بیگم کو نئ.مشکل میں ڈال گے…¤¤¤¤¤¤
[ ] ادھر امنہ بیگم کافی غصہ میں گھر میں داخل ہوی. اور اپنی.ملازمہ کو خاص ہدایت دی کہ کوی انہے تنگ نہں کرے..
[ ] وہ اپنے کمرے میں گھسی تو جنید کو اپنے انتظار میں پایا..
[ ] کیا ہوا امی اپ.کافی غصہ میں ہے..اپ تو خالہ سے میری اور نور کی بات کرنے گی تھی..کیاں ہوا..
[ ] کیا ہوا وہی ہوا جس کا ہمیں ڈر تھا افریدی نے صاف منع کردیا نور کے.لیہ اسے تمہاری ساری کرتوتوں کہ بارے میں پتہ.ہے اب تم بھول جاو نور کو نور بھی گی اور اسکی جایداد بھی…
[ ] امی اتی اسانی سے تو نہہی اب اپ دیکھو میں کیا کرتا ہو. اتی اسنی سے تو میں نور کو جانے نہں دونگا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
…..
[ ] وہ چارو کلاس کے بعد کینٹین میں اگے تھے اس کمپیٹیشن کی وجہ.سے یہ چارو اچھے دوست بن گے تھے..
[ ] یار ماہ جلدی کچھ اوڈر کرو بھوک کہ مارے جان نکل رہی ہے نازنین.نے ماہ کو بولا..
[ ] اللہ اللہ نازنین ابھی کلاس میں تو تم.نے دو بسکٹ کے پیکٹ کھاے تھے..
[ ] تو میںرا اتنے سے گزارا نہہں..
[ ] شان اور ناصر یہ سن کے.مسکرانے لگے..
[ ] اچھا روکو میں اڈر کرتا ہو…
[ ] شان میںرے لیے دو برگر اور دو سموسہ منگوانا..نازنین نے اپنا اڈر لکھوایا….
[x]
[ ] توبہ توبہ نازنین کچھ تو رحم.کرو
[ ] اہ تم تع رہینے دو میرا پیٹ ہے جتنا مرضی کھاو. نازنین نے ایک ادا سے کہا..
[ ] ہاں بہن میں بھی یہی بول رہی ہو پیٹ ہے فریج نہں جو بھری جا رہی ہو..
[ ] ویسے نازنین تم.اتنا کھاتی.ہو جاتا کہاں ہے..
[ ] وہی جہاں سب کا جاتا ہے..نازنین نے تپ.کے جواب دیاشان اور ناصر کا ان دونوں.کی.لڑآی سن کے ہس ہس کے برا حال ہوگیا..
[ ] اچھا اچھا.گرلز شان نے دونوں کو تو کا.نازنیں تمہارا ادڑ ارہاہے..
[ ] ماہ تمہارا؟
[ ] ایک برگر اور کافی بس..
[ ] اوکے.شان نے کینٹین بوائے کو اپنا ناصر اور ان دونوں کا اڈر لکھ وایا .اور پھر چاروں باتوں میں لگ گے تھے…
[ ]
[ ] ناصر میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنا گانا جو کمپیٹیشن میں گانےوالے ہو سرپرائز رکھا ہے نازنین نے ناصر سے پوچھا..؟؟؟
[ ] ہاں جو صرف اسی.دن پتہ.چلے گا..
[ ] شان تمہں تو پتہ ہوگا..ماہ نے پوچھا…
[ ] نہں اس نے مجھے بھی نہں بتایا..
[ ] اوہ.ہو چلو دیکھتے ہیں تمہارا سرپرائز.پھر ..
[ ] ہممممم..ابھی وہ باتیں کرہے تھے کہ انکا اڈر اگیا…
[ ] ایک دم ناصر کو کچھ یاد ایا تو وہ بول.پڑا..
[ ] یار سنا ہے اپنے اکاوںٹنگ کے سر کی طبیعت تھیک ننہیں انکی.جگہ شاید انکا بیٹا ہمیں سمیسٹر پرھاہیں..
[ ] ہممم سب نے ایک ساتھ کہا..
[ ] ناذنیین.نے کیچپ کی بوتل اٹھای اور کیچپ اپنی.پلیٹ میں ڈالنی لگی.لیکن کیچپ نکل کے ہی نہں دے رہا تھا…
[ ] اف اسکو کیا مصیبت اگی اس کیچپ کونکل کے.ہی نہں دے رہا تھا..
[ ] ماہ نے بولا نازنین کیچپ بھی بول.رہا ہے خدا کے.لیے مجھے چھوڑ دو..
[ ] یہ سن کے سبکا قہقہ چھوٹا..
[ ] ماہ تم چپ کروگی
[ ] . اوکے اوکے ماہ نے اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھ لی..
[ ] ایک دم کیچپ بوتل سے نکلا اور سیدھا انکی ٹیبل کے پاس سے گزتے ہوے لڑکے.کی شرٹ کو رنگ گیا..
[ ] نازنین کو اس سے پرواہ نہں کے کیچپ.اڑ کے کہاں گیا اسس کو تو بس اسکی.خوشی تھی.کہ سموسہ بنا کیچپ.کے نہں کھانا پڑے گا..
[ ] جیسی ہی کیچپ نکلا تو نازنین نے کہا شکر ہے یہ نکلا تو ورنہ بنا کیچپ کے سموسہ.حلق سے نہں اترتے..
[ ] ایک دم جب نازنین.کو محسوس ہوا کہ.سب خاموش ہے.
[ ] تو اس نے سب کو دیکھا جو ٹیبل پہ سر جکاے اپنی.ہنسی کنٹرول.کرنے میں مصروف تھے..
[ ] ارے تم لوگوں کو کیا ہوا.ہنس کیوں رہے ہو..
[ ] اتنے میں کسی نہ ٹیبل بجای تو نازنین نے ٹیبل بجانے والے کو دیکھا.تو اسکا بھی.قہقہ چھوٹا..
[ ] کیونکہ کیچپ اڑ کے اسکا منہ رنگ چکا تھا..
[ ] اپکو مینرز ہے کہ.نہں ایک دم اسکی اوراز کینٹین میں گونجی تو سب کو سانپ سونگیا..
[ ] نہں ہے اب..
[ ] یہ بول.کے نازنین پھر ہسنے لگی..
[ ] ہاں وہ تو دیکھ رہا ہے گائے کی طرح اپکا کھانا پینہ جو چل رہا ہے..
[ ] اسکا اشارہ نازنین.کی بھری برگر اور سموسہ کی پلیٹ کی طرف تھا..
[ ] ایک دم نازنین کو غصہ ایا..
[ ] او ہیلو مسٹر تم.جانتے ہو میں کون ہو..
[ ] اوہ اوہ.مس بہت افسوس ہوا یہ جان کے.کہ.اتنا کھانے سے اپکی یاداشت چلی.گی کہ.اپکو اتنا بھی.یاد نہں کہ.اپ کون ہو.
[ ] اور ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا جس میں اسکے اپنے دوست بھی شامل.تھے…
[ ] ہیلو مس بلبٹوری ائندہ اتنا مست ہوکے نہں کھانا کہ کسی چیز کا ہوش نہئں ہو.. ورنہ.کراچی کے چڑیا گھر میں داخل.کروا اونگا وہاں اندھی ہوکے کھانا جو کھانا ہو..
[ ] یہ بول کے جیسے ہی وہ جانے.لگا ..
[ ] نازنین جو اتنی.انسلٹ پہ غصہ سے لال ہورہی تھی.ایک منٹ روکو.
[ ] وہ جاتے جاتے پلٹا اور دونوں ہاتھ سینے پہ.ہاتھ باندھ کہ پوچھنے لگا….
[ ] یس مس بلبٹوری..
[ ] نازنین نے کیچپ کی بوتل اٹھای اور سارا کیچپ اسکے اوپر ڈال دیا..
[ ] یہ دیکھ کہ ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا.اور اپنے والٹ میں سے دس روپے کا نوٹ نکلا اور اسکی فرنٹ کی پوکٹ میں ڈال دیا..اور ایک ادا سے بولا..
[ ] دس روپہ والے برائٹ سے اب کوی داغ بچھ کے دیکھاے..
[ ] یہ بول.کے جانے.لگی..اور وہ.لڑکا بیچارا جس کا منہ.اپنی اتنی انسلٹ پہ کھلا تھا.اسکو یقین ہی نہں ایا.کہ اسکے ساتھ کسی لڑکی.نے یہ.کیا..
[ ] ایک دم پھر وہ واپس مڑی اور اسکو قریب اکے بڑی ارام سے بولا.
[ ] نازنین سے پنگا اس نوٹھ چنگا..
[ ] پھر اپنے دوستوں.کی طرف مڑی جو بے یقینی سے نازنین کو دیکھ رہے تھے..
[ ] تم.لوگوں کو نہں لگتا اب ہمیں کلاس کے لیے جانا چاہیے..
[ ] یہ.بول کہ وہ.اگے کو چل دی.اسکے دوسست بھی.اسکی ساتھ چل دیے
[ ] مگر اس لڑکے نے اتنی بےعزتی پہ صرف اتنا کہا..
[ ] اب تم.مجھ سے بچ کہ دیکھاو….
[ ] وہ لوگ کینٹین سے نکل کے کلاس کی طرف جا رہے تھے جب ماہ نہ بولا..
[ ] نازنین تم.نے کچھ زیادہ ہی اسکی انسلٹ کردی ہالاکے غلطی تمہاری تھی.
[ ] ہاں یہ تو ہے شان اور ناصر نے بھی اسکی ہاں میں ہاں.ملای..
[ ] نازنین کو ایک دم احساس ہوا کہ واقع ہی کچھ زیادہ ہوگیا..
[ ] یار مجھے غصہ اگیا تھا اسکے بلبٹوری کہنے پہ
[ ] تمہں اسکو سوری بولنی چاہیے نازنین
[ ] ہاں نازنین ماہ تھیک بول رہی ہے.. شان اور ناصر نے ایک ساتھ بولا…
[ ] چلو ابھی تو کلاس میں چلو پھر کہہی دیکھے گا تو بول دونگی سوری پتہ نہیں کیسے سر ہونگے اکاونٹنگ ویسے ہی لیٹ ہوگے..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] وہ.لوگ کلاس مے پہنچے تو دیکھا سر نہں اے تھے یہ دیکھ کہ سب نے سکھ کا سانس لیا..
[ ] ماہ.اور نازنین اک ساتھ بیٹھے تھے.تو شان اور ناصر ان کے پیچھے ابھی پوری کلاس میں یہ ہی باتیں چل رہی تھی کہ نئے سر کیسے ہونگے..
[ ] کہ.وہ ہی.لڑکا جس سے نازنین کا کینٹین میں جھگڑا ہوا تھا کلاس میں ائنٹر ہوا.. ان چارو نے جب اسے دیکھا ایک.منٹ کے.لیے تو سمجھے کہ.شاید وہ.انکی.کلاس کا.ہے مگر جب وہ لیکچر کی جگہ پہ کھڑا ہوا اور انونس کرا..
[ ] hellow studant i am your new accouting sir mr.sarwar shah.
[ ] میں نعمان سر کی جگہ(سرور شاہ کے پاپا) اپکو اکاونٹنگ پڑھاونگا.. سوری ایک پرسنل.ایشو کی وجہ سے ٹھوڑی دیر ہوگی..
[ ] اور جہاں ساری.کلاس یہ دیکھ کہ خوش تھی.کہ.انکا نیو سر انہی.کی.عمر کا ہیے..
[ ] وہی ان چارو نے ایک دوسرے کو دیکھا اور نازنے تو مانو بہیوش ہوتے ہوتے بچی..
[ ] نازنین کی شکل دیکھ کے جہاں ماہ.نے بڑی مشکل سے اپنا ابھرتا ہوا قہقہ.روکا تو دوسری جگہ شان اور ناصر کی.حالت بھی.کچھ ماہ.جیسی تھی.
[ ] ماہ نےہلکی سی نازنین کے کان کے پاس سرگوشی کی
[ ] اب تیرا کیا ہوگا کالیا..¤¤¤¤¤¤
[x] .
[ ] چلے سب پہلے اپنا انٹرو دیں..
[ ] سرور نے جیسی ہی.نظر پوری.کلاس میں ڈورای ایک دم جب اسکی.نظر نازنین پہ پڑی تو غصہ سے اسکی دماغ کی رگیں تن گی.اور اس نے بہت غور سے نازنین کو دیکھا جیسے کہ رہا ہو کہ.اب بچ کے دیکھاو..
[ ] اور نازنین کی نگاہ جیسے ہی.سرور سے ٹکرای اسنے فورا اپنے اگے کتاب کرلی یہ دیکھ کہ.سرور کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ اگی.
[ ] اوہ ماہ یہ تو اپنے اکاوونٹنگ کے سر نکلےاب..
[ ] اب کیا تو نے کیچپ ڈال کے برائٹ کی افر کی تھی. یہ تجھے نظروں کی وارننگ دیں گے..
[ ] اچھا سب کلاس اپنا اپنا اج تعارف کرواے اپنی.اپنی.ہوبی کے ساتھ….
[ ] پڑھای ہم.کل سے اسٹارٹ کرینگے
[ ] سب ہی اپنا اپنا انٹرو دینے لگے جب نازنین کی باری ای تو سرور شاہ اہستہ اہستہ اسکے پاس ایا.نازنیں نے اپنا نام بتایا..اور ہوبی جیسی ہی بتا نے لگی تو سرور نے بہت ارام سے.کہابلبٹوری کھانے کے الاوہ اپنی ہوبی بتانا..
[ ] یہ بول کے وہ جیسی ہی جانے لگا پھر ایک دم اسکے قریب اکے بہت ہی ہلکی اوارز میں کہا.جیسے صرف ماہ نے اور نازنین نے سنا..
[ ] know miss nazneen.game is begain
[ ] اور اپنی انکھوں پہ دو نگلیوں کا اشرہ.کرکے پھر اسکی طرف کیا جیسے کہ رہا ہو میری نظر تم پہ.ہی.ہے
[ ] اورنازنین کا دل کیا کہ کہی سے پتھر لاکے اسکا سر پھاڑ دیں…
[ ] اسکے بعد سب اپنا انٹرو کرواتے رہے..اور پیریڈ اف ہوگیا.
[ ] کلاس سے نکلتے یہ شان ناصر اور ماہ کا نہ روکنے والا قہقہ اسٹارٹ ہو گیا..
[ ] نازنین نے جب ان لوگوں کو غور سے دیکھا..تو تینوں کی.ہنسی کو بریک لگ گی
[ ] .نازنین نے پر شکوہ نگاہ سے تینوں کو دیکھا اور بولا یار تم لوگ ہس رہے ہو یہاں میری جان ہحلق میں اتکی.ہے…
[ ] ہاں تو کیوں اسکے سامنے ہیرون بن رہی تھی…ماہ نے بولا..
[ ] ارے یار مجھے کیا پتہ تھا وہ ہمارا اکاءونٹنگ کے سر ہیں..
[ ] اوپر سےایکشن دیکھو..
[ ] میرا تو دل.کررہا تھا اسسے فرنچ فرائز کی طرح تل.دو..
[ ] کیچپ کی بوتل میں ڈال کے زور زور سے ہیلاو..
[ ] ماہ. شان اور ناصر اسکے سامنے تھے جبکہ نازنین ان لوگوں کہ سامنے تھی.. اس لیہ اپنے پیچھے کھڑے ہوے شخص کو نہں دیکھ پائ.اور بنا روکے بولنا شروع ہوگی..
[ ] اور کیا بول رہا تھا کہ.میں اپکا نیو سر ہو……..
[x]
[ ] ناگ لگ رہا تھا وہاں کھرڑے ہو کے..
[ ] ماہ نے اسے بہت بار انکھیں دکھای مگر نازنین نے دیکھ کے ان سیکھی کردی..جب کے شان اور ناصر نے اپنی ہنس چھپانے کے چکر میں اپنا.منہ نیچے کرلیا..
[ ] ایک دم اپنے پیچھے سے اتی اواز سن کے نازنین.کا دل.کیا.کہ کوی جادو ہو اور وہ غائب ہو جاے….
[ ] اور کچھ رہ گیا تو بول دو مس نازنین کیونکہ اج کہ بعد اپ کی حالت بولنے والی نہں ہوگہی
[ ] نازنین کے پیچھے سرور شاہ انکھوں میں غصہ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا..
[ ] نازنین نے جب پلٹی نہں تو سرور اسکے اگے ایا.اور اپنی انگلی اٹھا کہ وارن کیا.. اور کہا
[ ] you just wait and watch..
[ ] پھر شان کی طرف مڑ اور.کہا.
[ ] شان پاپانے.. اوہ مطلب نعمان سر نے کہا تھ کہ انکے اسائنمٹ کا شڈول اپکے پاس ہے تو وہ کل.اپ لے کے ائےیگا تو میں کل.گروپ فائنل کردو..
[ ] جی سر میں کل.لے اونگا..شان نے کہا.
[ ] oh come on..
[ ] میری عمر میں اور اپکی عمر میں زیادہ فرق نہں تو اپ مجھے شاہ.ہی بولاو. اور اپنا ہاتھ اس سے اور ناصر سے ملا.کہ.چلا گیا مگر نازنین کو گھورنا نہں بھولا
[ ] .کل جوائن کرنے سے پہلے نعمان صاحب نے شاہ.کو بولا تھا کہ اسائنمٹ کی ڈیٹیل شان کہ پاس ہوگی..اس سے لے لینا
[ ] بس کلاس ختم.کرکے وہ.ان ہی کی طرف اراہا تھ جب نازنین کی باتیں سنی…
[ ] شاہ کے جانے کے بعد سب نے نازنین کو دیکھا.جو نیچے منہ کرکے کھڑی تھی..
[ ] اگر سیمسٹر تک سکون سے رہنا چاہتی ہو تو اج ہی معافی مانگ لو..
[ ] ماہ نے نازنین کو کہا اور اگے کو چل دی. یہی بات ان دونوں نے بھی کی…
[ ] ہاں نازنین کل ان سے کلاس کےبعد معافی مانگ لو..
[ ] جاری ہے…
