Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 44 Part 3

زلیخا سارے کام نبٹا کے کمرے میں آئ تو وہ حیران رہ گئ کیونکہ جہانگیر نے نہ صرف کپڑے چینج کیے ہوئے تھے.بلکہ آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے سونے بھی لیٹ چکا تھا..زلیخا چینج کرکے بیڈ پہ آئ.اور سونے کے لیہ.لیٹ گئ مگروہ.کروٹ بدل بدل کے سونے کی.کوششش میں تھک گئ تھی مگر نیند اج اسکی.آنکھوں سے کافی دور تھی شادی کے اتنے سالوں بعد یہ آج پہلی بار ہوا تھا کہ جہانگیر نے اپنے کپڑے خود نکال کے چینج کیہ تھے اور زلیخا کو اپنی باہنوں میں لیہ بغیر سو گیا تھا…
مگر زلیخا کو کہاں معلوم تھا کہ عادتیں بدلی جاتی ہے فطرت نہی زلیخا جہانگیر کا سکون تھی اسکی نیند کا خمار تھی.مگر اج جب اسے اس خط کا معلوم ہوا اور یہ بات بھی کہ شاہین کے زندہ ہونے کے بارے میں وہ جانتی تھی اسکے باوجود اس نے یہ بات جہانگیر سے چھپائ.اماں جان نے صبا نے یہاں تک کے بی جان نے بھرے گاؤں کے سامنے اسے زلیل کیا مگر وہ چپ چاپ سنتی رہی اپنی زبان نہی کھولی..کیا اسے جہانگیر کی محبت پہ اعتبار نہی تھا. ؟؟؟
ایسی کیا وجہ تھی؟؟
زلیخا کے چپ رہنے کی بس اسی بات سے جہانگیر اج اس سے ناراض تھا..
“اور جو شخص اپ کو دن رات اپنے ہر عمل سے یہ بات جتاتا رہتا ہو کہ اپ اسکے لیہ کیا معنی رکھتے ہو اسکا اچانک ناراض ہوکے چپ رہنا سوحان روح ہوتا ہے”
زلیخا جب کروٹ بدل بدل کے تھک گئ تو وہ اٹھ کے بیٹھی اور کروٹ لیہ جہانگیر ..کا بازو ہلکا ہلکا ہلا کے پوچھا…
جہانگیر, جہانگیر …
دو تین بار ہلانے پہ جہانگیر جو پہلے سے ہی جاگ رہا تھا جسکا دل اج زلیخا کی اس پہ بے اعتباری پہ رو رہا تھا.
زلیخا کے بار بار ہلانے پہ.لیٹے لیٹے بنا کروٹ لیہ غصہ میں کہا..
“کیا مسئلہ ہے سونے دو جب مجھے …جب میں اس لائق نہی کے مجھ سے تم.کچھ شیئر کر سکو…مجھ پہ اتنا اعتبار نہی کے اپنے دل مین دفن راز کا مجھے راز دار بنا سکو….
تو بس یہ جھوٹا پیار دیکھانے کی ضرورت نہی…..
یہ بول.کے جہانگیر نے دوبارہ آنکھیں بند کرکے لیٹ گیا جبکہ زلیخا کا تو مانو خون ہی خشک ہوگیا….
اس نے آنکھوں میں آنسو لیہ بے یقینی کی.حالت میں جہانگیر سے پوچھا….
اپ کو میرا پیار جھوٹا لگتا ہے؟؟؟؟
زلیخا کی بات جہانگیر نے غصہ سے کہا…
ہاں لگتا ہے اب آواز نہی دینا….
جہانگیر کی بات سن کے زلیخا نے بہتی آنکھوں سے اس کی پشت کو دیکھا اور دھیرے سے کروٹ لے کے لیٹ گئ..
جہانگیر دو منٹ تک ایسی ہی کروٹ لے کے لیٹا رہا مگر جب اسے زلیخا کی سسکیوں کی اواز آی تو اس نے رخ موڑ کے زلیخا کو دیکھا جو گھٹری کی طرح اپنا پورا وجود موڑ کے لیتی تھی اور ہچکیوں کی وجہ سے اسکا پورا جسم جھٹکے لے رہا تھا…..
جہانگیر نے ایک لمبی سانس خارج کی اور اٹھ کے بیٹھ گیا ساتھ میں زلیخا کا ہاتھ پکڑ کے اسے اٹھا کے اپنے سامنے بیٹھایا…
تو زلیخا گردن نیچی کرکے رونے کا شغل فرمارہی تھی. .
جہانگیر نے روب دار آواز میں اس سے کہا….
“ہاں بس ایک یہ ہی تو کام آتا ہے پہلے خود بے اعتباری دیکھاؤ اور جب سامنے والا ناراض ہو یہ شکایت کرے تو رونے بیٹھ جاو…
اتنا اعتبار نہی تھا زلیخا تمہیں مجھ پہ کہ اپنے اس راز میں مجھے بھی شامل کرتی؟؟؟
جہانگیر کی بات پہ زلیخا کے رونے پہ اور روانگی آگئ..
اور اس نے روتے روتے جہانگیر سے کہا..
“اپ پہ تو خود سے زیادہ اعتبار ہے مگر جو عورت اپنی بیٹی کو جیتے جی مار دے اسکی جھوٹی موت کا ناٹک کرے اپنے ہی نواسے کو اپنے مفاد کیلیئے استعمال کرے تو اس سے کسی اچھی بات کی توقع نہہی کی جاسکتی.. اگر کل کو میں اپ کو شاہین کا سچ بتا دیتی تو اپ لازمی بی جان کا پردہ فاش کرتے اور وہ.لازمی اپنی ساخت بچانے کے لیہ اپ کو نقصان پہنچاتی اور اپکو کچھ ہوجاتا تو میں تو ویسے ہی مرجاتی…
یہ بول زلیخا ایک بار پھر روپری تو جہانگیر کو بھی کہی نہ کہی زلیخا کی بات سچ لگی اس نے جب زلیخا کو روتے ہوئے دیکھا تو اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگالیا اور کہا….
اتنی محبت کرتی ہو مجھ سے کے ساری زندگی کچھ نہ کرتے ہوئے بھی چپ چاپ ہر الزام برداشت کرتی رہی… زلیخا نے
جہانگیر کی کسی بات کا جواب نہی دیا بس خاموشی سے اسکی شرٹ پکڑ کے روتی رہی…
جہانگیر نے اسکے گلے سے ڈوپٹہ اتار کے ایک طرف کیا.اور اپنے سے الگ کرکے اسکے آنسو صاف کرنے لگا اور کہا..
اچھا اب رونا بند کرو ادھر دیکھو اوپر میری طرف…
جہانگیر کی بات پہ زلیخا نے نگاہ اٹھا کے اسے دیکھا تو جہانگیر اج پھر اسکی آنکھوں میں کھو گیا…
اس نے باری باری زلیخا کی دونوں آنکھیں چومی اور اسکو بیڈ پہ لیٹایا اور اس پہ جھک کے کہا….
پتہ ہے نہ تمہیں اسطرح نگاہ اٹھا کے تمہارا دیکھنا میری نیت خراب کردیتا ہے…..
زلیخا نے.ایک مکا زور سے جہانگیر کے ہاتھ پہ مارا اور کہا..
ابھی تو اپ کو میری محبت جھوٹی لگ رہی تھی…..
زلیخا کا ایسا شکایتی لہجہ جہانگیر کا دل بے ایمان کرگیا اس سے پہلے زلیخا کچھ اور بولتی جہانگیر نے پہلے اسکی گردن پہ اپنے لب رکھے اور پھر اسکے لبوں پہ جھک گیا….
¤¤¤¤¤
حیدر کافی دیر سےکمرے کے ٹیرس پہ موجود تھا اج جو کچھ بھی ہوا حیدر اس پہ بہت خوش تھا اور اداس بھی ازلان کی شادی میں ہی اس نے ماہ.کو شان کیلیے سوچا تھا مگر شاہمیر اور ماہ.کا سن کے وہ چپ ہوگیا.. مگر اج الللہ نے اس کے دوست سے اسکا رشتہ اور مظبوط کردیا حیدر اپنی ان ہی سوچوں میں گم تھا جب بیڈ پی لیٹی نور نے اسے پکارہ جو نیند ٹوتنے کی وجہ سے جاگی تھی مگر بیڈ پہ حیدر کو نہ پاکے اس نے کمرے کے ٹیرس کے ادھ کھلے دروازے کی طرف دیکھا تو حیدر کی پشت اسے نظر آی اور اس نے وہی لیٹے لیٹے حیدر کو آواز دی..
حیدر نور کی آواز پہ ٹیرس کا دروازہ بند کرکے بیڈ پہ اکے لیٹ گیا تو نور نے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا…
کیا بات ہے حیدر کیا سوچ رہے تھے؟؟؟
بس کچھ نہی آج جو کچھ ہوا سوچوں تو عقل یقین ہی نہی کر رہی کہ محبت ایسی بھی کوئ کرتا ہے جہانگیر نے بتایا تھا علیان کے بارے میں لندن کا مشہور بزنس میں ہے اور اچھا خاصا ہینڈسم ہے کوئ بھی اسے دیکھ کے اسکی عمر کا اندازہ نہی لگا سکتا..
جہانگیر نے مجھے بتایا کہ اسکے سرکل کی کتنی ہی لڑکیوں نے اسے آفر کری شادی کی مگر اس نے نگاہ اٹھا کے کسی کی طرف نہی دیکھا جب کے وہ جانتا تھا کہ شاہین اب نہی رہی پھر بھی اپنی پور زندگی گزار دی.
تو ادھر شاہین کو دیکھو اپنی پوری جوانی اس زندان میں غرق کردی.
اور بی جان کیسی ماں ہیں جو اپنے بچوں کی ہی خوشیاں نکل گئ..
کیسے لوگ ہیں یار یہ لوگ ؟؟؟؟
حیدر نے سامنے دیوار کو گھورتے ہو کہا…
نور جو کافی دیر سے حیدر کے چہرے کو گھور رہی ..
تھوڑا کھسک کے اس کے قریب آئ اور اسکے سینے پہ اپنی انگلی پھیرتے ہوئے کہا…
.
“حیدر یہ جو محبت ہوتی ہے نہ لفظ تو بہت چھوٹا ہے مگر کرنے والوں کی روح تک کو چھلنی کردیتی ہے اور اس میں جدائ صرف دو نفوس کی سوحان روح کا انجام دیتی ہے. مگر میرے رب نے وعدہ کیا ہے.. سچی محبت کرنے والوں کا میں ساتھ دونگا اور بے شک وہ دلوں کے حال جانتا ہے… جبھی تو اتنے سالوں کے بعد بھی آج وہ لوگ ایک ہیں ..ایک عرصہ انہوں نے یہ سوچ کے گزارا کے انکی.محبت اس دنیا میں نہی مگر دل سے کبھی یہ بات قبول نہی کرپائے اس لیہ تو دونوں نے اپنی پوری زندگی ایک دوسرے سے وفا کرتے گزار دی….

نور کی بات سن کے حیدر نے صرف ہاں میں گردن ہلائ جبھی نور کو ایک شرارت سوجھی….
ویسے حیدر ایک بات ہے….نور نے اپنے لہجے میں کمال کی سنجیدگی لاتے ہوئے کہا…
نور کہ بات سن کے حیدر نے آنکھیں بند کرے ہی نور سے پوچھا…
کیا؟؟؟
یہی کے شاہین کتنی خوش قسمت ہے جیسے علی جیسا محبت کرنے والا شوہر ملا یہ بول کے نور اپنی مسکرائٹ چھپاتے ہوئے حیدر سے دھیرے سے الگ ہوئ…
جبکہ حیدر جو آنکھیں بند کرکے سکون سے لیٹا تھا نور کی بات پہ اس نے جھٹ اپنی آنکھیں کھولی اور اپنی گردن موڑ کے نور کو کڑے تیور سے دیکھا اور کہا…
کیا کہا تم نے شاہین خوش قسمت ہے اور تم نہی ہو کیا میرے پیار میں کیا کمی آئ ابھی.تک؟؟؟
حیدر کی بات سن کے نور نے بہت مشکل سے اپنا قہہقہ روکا مگر حیدر اسکی ہزیل گرین آنکھوں میں شرارت دیکھ چکا تھا….
نور جو رخ موڑ کے اپنی ہنسی روکنے کی.کوششش کرہی تھی ..
تبھی حیدر نے اسے ایک جھٹکے سے موڑا اور اس پہ جھک.کے اس کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیہ اور اس کہ گردن اسکے چہرے پہ جگہ جگہ اپنے لب رکھنے لگا نور کا قہقہ پورے کمرے مین گونجے لگا اور ساتھ میں اسکی آواز بھی…
نہی حیدر پلیز مجھے گدگدی ہو رہی ہے پلیز…..
حیدر نے ایک منٹ کے لیہ اپنی کاروائ روکی اور کہاں…
“کیا کہاں تھا خوقسمت کون ہے میں نے سنا نہی””پھر سے کہنا….
نور نے حیدر کی بات پہ اپنی.ہنسی روکی اور کہا…
میں نے کہا کہ نور حیدر سے زیادہ کوئ خوش نصیب نہی جسکا شوہر اسے بے پناہ چاہتا ہے…
نور کی بات سن کے حیدر کے لبوں پہ.ایک حسین مسکراہٹ آئ..
نور نے جب حیدر کو مسکراتے دیکھا تو خود بھی مسکرا کے کہا. ..
اب تو ہٹے اوپر سے مجھے نیند ارہی ہے.
نور کی بات سن کے حیدر پہلے تو اسکا چہرہ تکتا رہا اور پھر یہ کہتے ہوئے اسکے لبوں پہ جھک گیا…
مگر اب میری نیند تو اڑ گئ……
¤¤¤¤¤¤¤
اج کی صبح کافی پرسکون تھی آفریدی مینشن والوں کیلیے مگر ماہ کے لیہ یہ صبح اسکی زندگی میں صرف ویرانیت لائ.. 7 بجے کے قریب ماہ کی آنکھ کھلی وہ اٹھ کے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئ جبھی اسکی نظر اپنے برابر میں سوئ نازنین پہ.پڑی ..
ماہ نے اپنے اوپر سے بلینکٹ ہتایا اور آئینہ کے پاس جاکے کھڑی ہوکے اپنے اپ کو دیکھنے لگی اس کی ساری جیولری اتری ہوئئ تھی چہرہ بھی صاف تھا اور اسکے زخمی ہاتھ میں بینڈج بھی تھی.. ماہ نے ایک.نظر موڑ کے نازنین کو دیکھا اور سمجھ گئ کہ یہ سب اس نے ہی.کیا ہوگا… اپنی ہی سوچوں میں گم وہ فریش ہوکے بالوں کو ایسا آزاد چھوڑ کے نیچے لان کے کونے میں بنی بینچ پہ.جاکے بیٹھ گئ اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پہ فولڈ کرلیے….
ماہ کے سامنے کچھ ماہ پہلے یونی کے گارڈن کا منظر چلنے لگا…..
شاہمیر کیا ہے بہت تنگ کرتے ہو ماہ جو کب سے شاہمیر کے پیچھے ڈور رہی تھی جسکے ہاتھ میں.ماہ کی.چین تھی تھک ہار کے وہی گارڈن کے بیچوں بیچ بیٹھ گئ..
شاہمیر نے جب ماہ کو ہار مانتے دیکھا تو اپنا بھاگنا ترک کرکےاسکے پاس آیا اور کہا.
میڈم یہ لو اپنی چین .بہت چھوٹے دل کی ہو اتنی سی چیز مجھے نہی دے سکتی…؟؟
شاہمیر تمہارے نام تو میں اپنی پوری زندگی کر چکی ہو یہ چین کی کیا اوقات ہے..مگر یہ چین میرے بھائ نے گفٹ کی تھی میں تمہیں لادونگی.دوسری….
ماہ کی بات سن کے شاہمیر کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ ائ اور اس نے پیار سے ماہ کے چہرے پہ آنی والی.لٹ کو اسکے کان کے پیچھے کیا اور..کہا..
جانتا ہو بہت محبت کرتی ہو مجھ سے مگر ماہ کبھی اگر زندگی میں.میں نے
اعتبار توڑا تمہارا تو کیا کروگی ؟؟؟
ماہ شاہمیر کی بات سن کے پہلے تو مسکرائ اور پھر کہا..پہلی بات ایسا ہوگا نہی کیونکہ تم.پہ اور اپنی محبت ہہ.مجھے آنکھیں بند کرکے اعتبار ہے..
اور اگر ایسا ہوا تو میں تمہیں تو کچھ نہی کہونگی ہاں خو کی جان لے لونگی کیونکہ تم.نہی تو اور کوئ….نہی..
ماہ کی بات سن کے شاہمیر نے اسکے ماتھے پہ اپنے.لب رکھے اور کہا.. ایسا کبھی نہی.ہوگا ماہ تم جان ہو شاہمیر جنید کی…
ماضی کی یادوں کو یاد کرکے ماہ کے انسو ایک بار پھر بہہ نکلے….
“مجھے دکھ نہی کسی بات کا
تیری بے رخی ستائے.
جو کہیے سبھی تیرے لفظ تھے..
تو نے کس طرح بھلائے….
مجھے چھوڑ کے دل توڑ کے..
تجھے کیا ملا بتا دے
نہی مل رہا مجھ میں تو
مجھے خود سے تو ملا دے…
ہم نے تو کی تھی دل سے وفا
مگر یہ تونے کیسا صلا ہے دیا…
نہی کرنا دل نے دوبارہ…
بھروسہ یار تیرا…..
کھلے لمبے بال بند انکھوں سے بہتے آنسو وائٹ سوٹ میں باہر سے جاگنگ کر کے اتے شان کو وہ کوئ سید سی فیری لگی..اس سے پہلے شان اس تک پہنچتا ماہ کے پیچھے کھڑی نور کو جو اسکو اندر جانے کا اشارہ کر رہی تھی دیکھ کے اندر چلا گیا…
اپنے برابر میں.کسی اور کے ہونے کے احساس کے تحت جب ماہ.نےآنکھیں کھول کے دیکھا تو نور کو بیٹھا پایا…..
نور کو دیکھ کے ماہ نے فورا اپنی ٹانگیں سیدھی کرکے اپنے آنسو پہنچے اور نور کو سلام.کیا…
نور نے اسکے سلام کا جواب دیا.اور کہا..
ماہ میں جانتی کل جو کچھ بھی ہوا کسی لڑکی.کیلیے یہ سب ایکسیپٹ کرنا بہت مشکل ہے مگر ان سب میں شاہمیر کا بھی کوئ قصور نہی… نور کے بولنے ماہ.نے پہلے نور کو حیران نظروں سے دیکھا اور پھر کہا…
پھپو اپ شاہمیر کی طرف داری کر رہی ہی یہ.جانتے ہوئے بھی کہ.کل کتنی زلت اٹھائ میں نے کتنا بڑا گھاٹے کا سودا کیا میں نے اس پہ اعتبار کر کے…
ماہ تمہاری بات ایک دم درست ہے مگر جب تمہیں شاہمیر کی.کہانی. پتہ چلے تو کیا پتہ تم.شاہمیر کے لیہ اپنا نظریہ بدل سکو…اور پھر نور نے ماہ.کو ایک ایک لفظ بتایا شاہین اور علی کے بچھڑنے سے لے کے بی جان کی اصلیت سب..
نور نے ماہ.کو سب بتا کے پوچھا…جو ایک سکتہ کی.کیفیت میں بیٹھی تھی…
اب بتاو ماہ نقصان کس کا زیادہ تم.نے محبت میں دھوکا کھایا اور اسکی تو پوری زندگی ہی دھوکہ تھی
جاری ہے