Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

[ ]
[ ] دو تین گھنٹہ بعد جہانگیر نے ہلکا سا دروازہ.کھول.کے زلیخا کو دیکھا کے وہ سو ری ہے یہ اٹھ گی…
[ ] اور جب اسنے کمرے کا روازہ.کھول.کے سامنے کا منظر دیکھا تو اسے بہت افسوس ہوا..
[ ] زلیخا جاءنماز میں بیٹھی دعا.مانگ رہی تھی.اور زارو قطار رو رہی.تھی..
[ ] جہانگیر نے جا.کے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ ایک دم چونکی….
[ ] ارے یار میں ہوں..
[ ] کیا مانگ رہی تھی.اتنا رو روکے اللہ.سسے..
[ ]
[ ] زلیخا نے نگاہ اٹھا.کہ.اسے دیکھا…
[ ] ..
[ ] یاررررر ایک تو تم جب ایسی نگاہ سے دیکھتی ہو تو قسم سے بہت مشکل سے کنٹرول.کرتا ہو…
[ ] زلیخا.نے یہ.سنتے ہی.ہلکا سا مکا اسکے سینے پہ.مارا…
[ ] او میںری ظالم محبوبہ
[ ] جہانگیرررررر …….
[ ] زلیخا نے شرم سے منہ اسکے سینے میں چھوپا لیا…
[ ] ..
[ ]
[ ] اچھا.سنو..
[ ] جی.زلیخا نے اس سے الگ ہوتے ہوے بولا…
[ ] ایک.گھنٹہ.میں ہمارا نکاح ہے… تمہں کوی اعتراض تو نہں..
[ ] نہں….
[ ] ہ. ہم چلو جلدی سے ریڈی ہوجاو کپڑے تمھارے. شاپنگ بیگ میں ہے..
[ ] اسکا.اشارہ صوفے پہ.رکھے بیگ کی طرف تھا….
[ ] اور ہاں…
[ ] جاتے جاتے ایک دم جہانگیر کو کچھ یاد ایا..
[ ] یار وہ ایک بات پوچھنی تھی…
[ ] جی….
[ ] سائز تو تھیک.ایا..نہ
[ ] جی
[ ] وہ.اپنی.بے دیھانی میں بول.گی
[ ] جب خیال.ایا کہ.کیا بول.گی تو بھاگ کہ.واشروم میں بند ہوگی..
[ ] اور اسسے اندر تک.جہانگیر کا قہقہ سنای دیا.
[ ] ,,,,,,,—–———-. [ ] حیدر نکاح خواہ.کے ساتھ اگیا تھا. [ ] یار تو جا.کے دیکھ بھابھی تیار ہوی کے نہں. [ ] ہاں یار جاتا ہو.. [ ] جہانگیر سن حیدر کی.اواز پہ.ایک دم جہانگیر رکا… [ ] ہاں بول…. [ ] حیدر نے.اگے بڑھ کے اپنے جگر کو گلے سے لگا لیا….اور بولا.. [ ] [ ] [ ] [ ] یار اج تو سچ میں شہزادہ لگ رہا ہے.. [ ] حیدر نے پیار سے اپنے دوست کو دیکھتے ہوے بولا جو وائٹ قمیز شلوار میں جچ رہا تھا… [ ] ہم پتہ ہے مجھے.. [ ] جہانگیر نے فرظی کالر جھاڑ تے ہوے کہا.. [ ] بس بس اپ جا جلدی بھابھی کو دیکھ کی تیار ہوی کہ.نہں.. [ ] ہاں جاتا ہو.. [ ] اور حیدر نے سچے دل.سے اپنے یار کی.خو شیوں کی دعا مانگی….———
[ ] جہانگیر نے جب دروازہ کھول کہ اندر جھانکا تو پلک جھپکانا بھول گیا…
[ ] ریڈ کرتی..گرین چوڑی دار پاجامہ اور نیٹ کا دوپٹہ لیے وہ سچ مچ کی.کوی اپسرا لگ رہی تھی.. وہ دھیرے دھیرے سے چلتا ہوا زلیخا.کے پاس ایا..اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے.بولا….
[ ] زلیخا بہت خوبصورت لگ رہی.ہو ..دل چاہ رہا ہے ایسی.ہی سامنے بیٹھا کہ دیکھتا رہو..مگر کیا ہے نہ ابھی نکاح کا ٹائم ہوگیا ہے…
[ ] دوپٹہ اوڑھ لو قاضی صاحب ارہے ہیں.. اوکے..
[ ] جی…ب
[ ] جہانگیر کے نکلتے ہی قاضی صاحب کمرے میں داخل ہوے اور نکاح پڑھانا شروع کیا..
[ ] زلیخا بنتہ.شبیر کیا اپکو جہانگیر بنتہ افریدی کے ساتھ 20 لاکھ حق مہر سکہ رائجل وقت نکاح قبول.ہے..
[ ] اسنے انکھیں بند کرکے صبح کے واقعے کو یاد کیا… اور ایک انسو چپکے سے اسکی انکھ سہ بہ نکلا.دھڑکتے دل پہ اسنے قابو پایا.اورکہا..
[ ] جی.قبول ہے..ایک دواور پھر
[ ] تیسری باری پہ اسنے قبول بول کے. اپنے سائن کر دیے..کل تک جو اپنی قسمت کو کوس ری تھی اج اسے رشک ہے اپنی قسمت پہ….
[ ] نکاح خواہ زلیخا کے سائن کے بعد جہانگیر کی طرف کی رسومات سے بھی فارغ ہوکے… چلے گے..
[ ]
[ ]
[ ]
[ ]
[ ] سب تقریباً چلے گے تھے
[ ] ..*#############
[ ] سب کے جانے کے بعد جہانگیر حیدر کو لے زلیخا کے کمرے میں داخل.ہوا ..
[ ] زلیخا جو اپنی.ہاتھوں کی.لکیروں کو گھور رہی تھی.انجانی اواز پہ.ایک دم چونکی…..
[ ] اسلاموعلیکم بھابھی..
[ ] زلیخا نے سلام کی اواز پہ اپنا سر اٹھا کہ دیکھا وہ کوی جہانگیر کی عمر کا خوش شکل لڑکا تھا..
[ ] زلیخا یہ ہے میرا دوست میرا جگر.اور اب میرا بزنس پاٹنر..
[ ] حیدر……..
[ ] زلیخا نے اسکے سلام.کا جواب دیا..
[ ] کیی ہے اپ حیدر نے زلیخا سے پوچھا….
[ ] ..تھوڑ ی بہت گفتگو کے بعد حیدر کھڑا ہوا اور جہانگیر سے مخاطب ہوا.
[ ] چل یار اب مجھے اجازت دے..؟؟؟؟؟
[ ] اچھا چل.اجا میں تجھے گیٹ تک چھوڑ دو..
[ ] اوکے..
[ ] . اچھا بھابھی پھر ملاقات ہوگی اوک اللہ حافظ. ….
[ ] یے بولا کے جہانگیر حیدر کے ساتھ نیچے لان میں اگیا…
[ ] تونے کیا سوچا ہے جہانگیر کب لے کے جاے گا بھابھی کو حویلی…
[ ] جہانگیر جو اپنی سوچو میں گم تھا اچانک چونکا..
[ ] یار یہی میں سوچ رہا ہو..
[ ] اچھا تونے بھابھی کو شاہین کا تو بتایا ہے نہ..؟؟؟؟؟؟؟
[ ] نہیں.
[ ] اور جہنانگیر کا یہ بولنا اور حیدر کا زور سے چیخنا..
[ ] کیاااااااااااا………
[ ] تو پاگل.تو نہں..
[ ] تو نے اتنی بڑی بات چھپای ان سے……
[ ] یار میں کیا کرتا اس وقت حالات ہی ایسے تھے. تجھے اندازہ نہں میں اسے کس. کنڈیشن میں وہاں سے.لایا ہو. ان سب باتوں کا وقت نہں ملا…
[ ] اور تجھے لگتا ہے کہ اب وہ تیرا اعتبار کرے گی؟
[ ] پتہ نہں یار..
[ ] اللہ مالک ہے…
[ ] چل تو جا بھابھی کے پاس…
[ ] میں بھی نکلتا ہو..
[ ] چل.اوکے
[ ] ہاں تیری فلائٹ کب کی.ہے Australia کی..
[ ] یار جہانگیر جانا تو کل.ہے مگر تو بتہ تو ہندل کر لے.گا سب حویلی میں ..
[ ] یار حیدر تجھے پتہ ہے بابا کا کوی مسلہ نہں.. مگر اماں بی اور بی جان(جہانگیرکی بڑی خالہ)انکو ہندل کرنا…
[ ] یار میں کیا کرو…
[ ] ابھی.زلیخا.کو بھی اپنا اعتبار دلانا ہے…
[ ] جہانگیر وہی گھاس پہ.اپنا سر جھکا.کہ.بیٹھ گیا ہے..
[ ] حیدر نے اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور دلاسہ.دیا..
[ ] یار اب جب محبت کو اپنا لیا ہے تو ہمت کر.
[ ] چل تو جا میں بھی.اوپر جا.کہ.پہلے یہ لڑأی تو جیتو..
[ ] بھر حویلی.کہی.ورلڈ وار کو بھی جیتنا ہے..
[ ] ہاہاہاہااا
[ ] جا میںرے چیتے اللہ حافظ..
[ ] حیدر کے جاتے ہی اسنے سارے لوک چیک.کیے کیوں کہ.اگر یہ زلیخا والا معملہ نہں ہوتا تو پھر اج اسکوحویلی پہچنا تھا گھرکے سارے نوکر پڑسو ہی.حویلی.پنچ گئے تھے.اسلیے گھر میں کوی.نہں تھا..
[ ] حیدر جب کمرے میں ایا تو زلیخا سو رہی.تھی.اسنے پہلے اپنے کپڑے بدلے پھر اسکے پاس بیٹھ گیا…اسکے چہرہ کے ایک ایک .نقوش کو اپنے لبوں سے چھو کے دیکھنے.لگاا.
[ ] زلیخا.کو جب اپنے لبوں.پے کسسی چیز ک. احساس ہوا تو اسنے انکھیں کھول دی..اور اپنے اوپر جھکے سر جو دیکھنے لگی..
[ ] جہانگیر کو جب یہ محسوس ہوا کہ زلیخا جاگ گی.ہے تو سیدھا ہوا اور زلیخا کو دیکھنے لگا..
[ ] خوش ہو.؟؟؟؟
[ ] جو جہانگیر کی.اتنی قربت میں سرخ ہوگی…
[ ] جہانگیر نے زلیخا کو اپنے ساتھ لیتاتے ہوے پوچھا…
[ ] جی.کیا اپ خوش ہے..
[ ] زلیخا مجھے نہں پتہ.کے میری.ایسی کون سی.نیکی تھی.جسکے بدلہ.اللہ نے میری محبت پہ.ُکن بول دیا.اور تمہں میرا بنا دیا..
[ ] بڑے بڑے وعدہ نہں کرتا.. مگر تمھارا ساتھ کبھی نہں چھوڑونگا…تمہں اتنی.عزت اور محبت دونگا.کہ.تم اپنے سب غم بھول.جاوگی…لیکن….
[ ] لیکن کیا؟؟
[ ] زلیخا کو ایک دم کسی انہونی کا.احساس کا.ہوا..
[ ] زلیخا ایک دم اسکے سینے سے ہٹ گی.اور اٹھ کے بیٹھ گی….
[ ] اسکو دیکھ کے جہانگیر بھی.اٹھ کے بیٹھ گیا..
[ ] پلیز مجھے غلط نہں سمجھنا؟؟؟؟
[ ] بولے بھی……..جہانگیر..
[ ] جہہانگیر نے.اگے بڑھ کے زلیخا کے ہاتھ.اپنے.ہاتھو ں میں لے اور بولنا شروع کیا….
[ ] یار میری.منگنی.بچپن میں میںری خالہ زاد سے تہ.تھی اس مہنیے کہ.لاسٹ میں شادی ہے میںری.. اج شام میں مجھے لاہور اپنی.حویلی پہچنا تھا.
[ ] … جہانگیر نے یہ.سب اتنی جلدی.ایک سانس میں بولا کہ وہ خود بھی حیران تھا کہ اسنے کب اتنی.اسپیڈ میں اپنی.بات کسی.کو بولی تھی…
[ ] زلیخا نہ یہ سب سن کہ.بہ یقینے سے جہانگیر کو دیکھا اور ایک دم.کھڑی.ہوگی…..
[ ] جیسے اسنے جانے.کہ.لیے قدم.بڑھائے ……..
[ ] جہانگیر نے اسے کھنچ کہ.اپنے اوپر گرا لیا….
[ ] کہاں جا رہی ہو؟؟؟؟؟؟
[ ] چھوڑے مجھے اپنے مجھے دھوکا.دیا….
[ ] اچھا کب دیا؟؟؟؟؟؟؟
[ ] زلیخا نے بہتی پر شکوہ نگاہو سے جہانگیر کو دیکھا…
[ ] یاللہ یہ انکھیں مرواینگی…
[ ] ادھر او….
[ ] زلیخا ایسی ہوگی جیسے سنا ہی نہں…
[ ] اففففففففف¤¤¤¤¤¤
[ ] جہانگیر نے زلیخا کو گھورا اور چلتا ہوا اسکے پاس ایا…
[ ] ایک دم اسنے اسے بانہوں میں اٹھا لیا….
[ ] یہ پلیز جہانگیر مجھے نیچے اتارے…
[ ] اسنے ارام سے اسے بیٹھ پہ.لیتایا اور خود بھی لیٹ کے اسکا سر اپنا سیننہ پہ رکھ لیا….
[ ] اب چپ کر کے میری سنو..¤¤¤¤ میں جانتا ہو تمہے تکلیف ہوی.میری باتوں سے…
[ ] لیکن تم خود بتاوں صبح سے ایک بار بھی ایسا ایک بھی موقع ایا کہ.میں تم سے تفصیلی.بات کرتا.. تم جس کنڈیشن میں تھی…اگر میں تمھے یہ سب بتاتا تو کیا تم مجھ سے نکاح کرتی ؟؟؟نہں نہ..
[ ] میں جانتا ہو سب کچھ ہندل.کرنا بہت مشکل ہے مگر تم میرا ساتھ دوگی تو میں سب سنبھال لوگااا
[ ] اماں جان.کو سنبھالنا مشکال.ہے بسس باقی بابا کا تو میں لاڈلاہو..
[ ] اور وہ جو اپکی.منگیتر اس کا کیا ہوگا… یار میں نے.کبھی اس س٦ بات نیں.کری میں حویلی.میں بہت کم رکتا ہووو…..
[ ] ایک دو بار اسسے دیکھا تھا بس اسنے بھی.کبھی مجھ سے بات کرنے کی.کوشش نہں کی….
[ ] اگر اپکی اماں جان نےمجھے قبول.نہں کرا تو کیا اپ.مجھے چھوڑ دینگے…
[ ] زلیخا نے اپنا سر اٹھا کہ اسں سے پوچھا…
[ ] نہں یار اگر تمہں چھوڑنا ہی ہوتا تو نکاح.ہی.کیوں کرتا.. زلیخا میں یہ نہں بولتا کہ حویلی جا کے میں سب تھیک کردونگا سب کچھ اسان نہیں
[ ] مگر تم.میرا ساتھ دو میرا اعتبار کرو. یار..
[ ] پتہ ہے اس دل نے کیا دھمکی دی ہے. اس نے اسکا ہاتھ اپنے دل.پہ رکھتا ہوے کہا…
[ ] کیا زلیخانے پوچھا…
[ ] کہ اگر تمہں چھوڑا تو یہ دھڑکنا چھوڑ دے گاا
[ ] زلیخا نے یہ سن کے شرم سے اپنی آنکھں جھکا لی. لیکن.. ؟؟
[ ] اب بلکل چپ وہ زلیخا پہ جھکا پھر ایک دم اپنا سر اتھایا اور کہا…
[ ] اب تو دھکا.نہں دوگی؟
[ ]
[ ] اور زلیخا اسکے سینے میں منہ چھوپاگی..
[ ] ایک رات اختتام کو پہنچ رہی تھی جسکا گواہ صرف اور صرف اللہ تھا………
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] تمھارے سوا کچھ نہ چاہت کرینگے
[ ] کہ جب تک جینگے محبت کرینگے..