Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode Part 2

نازنین کے گھر کے اگے گاڑی روکی تو نازنین نے اپنے انسو پونچے اور دروازہ کھول کے باہر نکلی…
شان اور ماہ بھی گاڑی سے نکلے تو… تو نازنین نے کہا…
یہ ساری بات صرف ہم سب کے درمیان رہنی چاہیے…
نازنین کی بات سن کے جہاں شان نے اسے حیران نظروں سے دیکھا.وہی ماہ کی بھی حالت کچھ ایسی تھی…
ماہ نے نازنین کی شکل گور سے دیکھتے ہوئے کہا….
نازنین اتنا سب کچھ جاننے کے بعد سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے بعد تم اب بھی شاہ کو بچا رہی ہو؟؟؟
ماہ کی بات پہ نازنین طنزیہ ہنسی اور کہا…
ماہ میرا شوہر ہے وہ اسکے علاوہ میں کیسی اور کے ساتھ کا تصور بھی نہی.کر سکتی..کیا کرو دل میں نہی روح میں بس چکا ہے وہ میری .دل سے کھرچنا چاہو تو دل ڈھرکنا چھوڑ دے گا اور روح سے کھرچنا چاہو تو میری روح چھلنی ہوگی.. دونوں صورت میں نقصان میرا ہوگا..
اس نے بے وفائ کی مجھے دھوکا دیا مجھ سے میرا اعتبار توڑا میرا.. اسکی زندگی میں شامل ہوجاونگی مگر معاف نہی کرونگی کبھی بھی…کیا.ہے نہ ماہ اب خواہش نہی کسی چیز کی….اس کی دلہن بھی بنوگی اسککی سیج بھی بناوگی مگر اب دل کبھی اسکو دیکھ کے نہی ڈھرکے گا.. دنیاوی رسم تو نبھانی ہے ایک طلاق یافتہ عورت کا اس معاشرہ میں کوئ مقام نہی. عورت کتنی بھی بولڈ ہوجائے مرد سے مقابل نہی کرسکتی…بس اب جو دل ٹوتا ہے تو دوبارہ نہی جوڑے گا محبت جو خاموش ہوئ میری اب کبھی اپنے ہونےکا احساس نہی ڈلائے گی…جو رشتہ میرے الللہ نے شاہ سے جوڑا ہے وہ مرتے دم تک نبھاونگی….
یہ بول کے نازنین تیزی سے اندر بڑھ گئ…
تو ادھر شان اور ماہ نے حیرت سے اپنی اس دوست کو دیکھا جسکی زندگی لوگوں کی زندگی میں ہنسی مسکرائٹ لانا تھی اور اج قسمت نے اس کی سب سے بڑی خوشی سے ہی اسکی خوشی چھنوائ….
ماہ اور شان گاڑی میں بیٹھ کے گھر کی طرف چل.پڑے…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نازنین گھر کے اندر داخل ہوئ تو شکر ہے کہ کوئ بھی نہی تھا…لاڈو حامد اور امی اج باہر کھانا کھانے گئے تھے نازنین تیزی سے اپنے کمرے کے اندر داخل ہوئ اور دروازہ بند کرکے اس سے ٹیک لگا کے بیٹھ کے رونے لگی اور روتے روتے وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گی اور روتے روتے کہنے لگی….
کیوں شاہ کیوں کیا یار کیوں میرا اعتبار توڑا کیو……..؟؟؟
پہلے عشق نے تونے مجھ جو دھوکا دیا ہے..
دوجا لوگوں کو بھی ہسنے کا موقع دیا…
جھوٹی تیری قسمیں جھوٹے تیرے تھے وعدے..
جھوٹی تیری تھی یاریاں….
نازنین اٹھ کے بیٹھی وواش روم سے فریش ہوکے نکلی.تو اسکے نمبر پہ شاہ.کی.کال.آنے لگی.
.تھوڑی دیر تک تو وہ موبائل.کو گھورتی رہی اور پھر پور طاقت سے موبائل کھینچ کے دیوار پہ.دے مارا….
اور پھر ایک بار بیڈ پہ گر کے رونے.لگی…..¤¤¤¤¤
¤¤¤¤¤¤
حیدر مینشن میں سب ٹیبل.پہ بیٹھ کے ناشتہ کر رہے تھے کہ جبھی شان کی نظر گیٹ ے اندر داخل ہوتے شاہ اور ناصر پہ.پڑی…
شان غصہ سے ناشتہ کی ٹیبل سے کھڑا اور تیزی شاہ کی طرف بڑھ کے اسے دھکا دیا…
نکل یہان سے دھوکے باز لوگوں کا میرا گھر میں کوئ کام نہی نکل یہاں سے…
حیدر نور تیزی سے ٹیبل سے اٹھ کے شان تک پہنچے.. حیدر نے گرجدار آواز میں کہا….
شان یہ کیا طریقہ ہے کس انداز میں تم شاہ سے بات کر رہے ہو….؟؟؟
حیدر کی بات پہ شان ایک دم رکا اور گھور کے شاہ کو دیکھتے ہوئے کہا….
پاپا اپکو نہی.پتا اس نے نازنین کیساتھ کیا.کیا…؟؟
یہ بول کے شان نے دبارہ شاہ کی طرف بڑھا اس سے پہلے وہ پھر شاہ کو دھکا دیتا ناصر نے درمیان میں اکے کہا….
ایک بار اسکی بات تو سن لے….
تو چپ رہے تو بھی اسکا ساتھ دے رہا ہے افسوس ہے تجھ پہ بھول رہا ہے تو ناصر نازنین کا احسان اسکی وجہ اج تم اور پری ایک ہو اب اسکی باری آئ تو تو اس کمینے کا ساتھ دے رہا.ہے…
شان کے بولنے پہ نور شان پہ چیخی…
زبان سنھال کے بات کرو شان یہ.کس لینگویج میں بات کر رہے ہو شاہ سے…
حیدر نے پھر کہا…
پری تم.اپنے کمرے جاو اور شان اب تمہاری آواز نہی آنی چاہیے.. پری تو ڈر کے فورا اپنے کمرے کہ طرف بھاگی. حیدر شاہ کی طرف بڑھا جو گردن جھکا کے رو رہاتھا حیدر اسے کندھے سے تھام کے اندر لایا… اور پوچھا…
بتاو کیا ہوا ہے.. سچ سچ؟؟؟
حیدر کے بولنے.پہ پہلے شان نے جب کل کا ماجرا اسے بتایا تو حیدر تو شوکک میں تھا ہی..یہ سب سن کے نور کی آنکھوں سے انسو جاری.ہوگئے….
حیدر نے افسوس سے شاہ کو دیکھا اور کہا….
شاہ یہ تم.نے کیا کیا ایک مہینے بعد تمہاری شادی ہے اور یہ کونسا کھیل.کھیلا ہے تم.نے ..حیدر کی آواز اونچی اور غصہ سے بھری تھی…
حیدر کی بات ہہ شان نے کہا…
ارے پاپا اگر یہ سب یہ سوچتا تو اج ایسی گردن جھکا کے نہی بیٹھا ہوتا…
اگلی.بات ماہ نے کہی…
چاچو اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اپکو ہتہ.ہے نازنین نے کیا.کہا…
کہ وہ کسی بھی صورت میں اسکو شاہ کو نہی چھوڑے گی. بلکہ دنیاوی طور پہ اسکی بیوی بھی بنے گی.. کل جب ہم نے اسے گھر کے باہر چھوڑا تو اس نے ریکوسٹ کی کہ یہ بات ہم پانچو کے علاوہ اور کسی کو پتا نہی چلے….
ماہ.کی بات سن کے شاہ نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی کہ جبھی ناصر نے کہا…
حیدر انکل ان سب میں شاہ بے گناہ ہے.
ناصر کا ایسسا بولنا تھا کہ.شان نے غصہ سے اسے گھورا اور کہا…
واہ بھی واہ کیا دوستی نبھائ جارہی ہے.. کل کیا تو اندھا تھا جو کل تجھے وہ لڑکی اور اسکی حالت نہی دیکھی ..
شان کی بات پہ اب کے ناصر کو بھی ٹپ چڑھ گئ اور اس نے کہا…
آنکھوں دیکھا بھی کبھی غلط ہوتا ہے جب دوستی کا رشتہ کسی سے جوڑتے ہیں تو اس پہ.یقین بھی کرتے ہیں..
اوہ تو یہ کہنا چارہا ہے کے کل وہ محترمہ اسکے کمرے اسکے ساتھ لیٹ کے لوری سن رہی تھی یہ کوئ ڈرامہ کی شوٹنگ ہو رہی تھی جس میں وہ اسکی بیوی بنی تھی…..
شان کی بات پہ ناصر نے اسے گھورا اور حیدر سے کہا. .
انکل.میں اپکو سب سچ سچ بتاتا ہو..
یہ بول کے ناصر نے سب سچ سچ حیدر اور وہاں بیٹھے ہر نفوس کو بتا دیا سب کو جھٹکا اس بات ہہ.لگا کہ حنا کے ساتھ ان سب میں نازنین کا اپنا ہی.کزن شامل ہے….
ناصر بول کے چپ.ہوا تو ماحول میں ایک دم سناٹا چھا گیا…
اس ماحول میں شاہ.کی آواز گونجی…
میں نے صرف حنا سے نکاح کیا تھا بس اور اس سے کبھی کوئ تعلق نہی جوڑا…..میری پہلی اور اخری بیوی اور کوئ نہی نازنین ہے…
یہ بول کے شاہ کی آنکھیں ایک دم بھیگنے.لگی…
نور اور حیدر گہری سوچ میں گم تھے کہ.جبھی شان تھوڑدیر تک شاہ کو گھورتا رہا اور پھر خاموشی سے جانے کیلیے جیسی مڑا تو شاہ کی آواز آی…
شان میں مجبور تھا کیونکہ کہی نہ کہی میں قصور وار سمجھتا تھا خود کو….
شان نے اسکی بات سنی اور بنا پلٹے کہا…
میں کسی سرور شاہ.کو نہی.جانتا جو خالی دوستی کرنا جانتا ہے دوستوں پہ.اعتبار کرنا نہی…. معاف کرنا مسٹر سرور شاہ مجھ میں نازنین جسا حوصلہ نہی…. اگر نازنین تمہیں معاف کردے تو میں کردونگا….ورنہ.بھول جانا شان حیدر کو یہ بول کے شان اپنے کمرے کی طرف چلا گیا…تو شاہ ایک بر پھر شرمندگی کے باعث گردن جھکا گیا.
حیدر نے اگے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا اور کہا…
سب ٹھیک ہوجائے شاہ حب تم بے قصور ہو تو پریشان نےمت ہو..
¤¤¤¤¤¤¤¤
نازنین جیسے اپنے اوپر ایک کھوکھلی خوشی کا خول چڑھا لیا تھا سب کے سامنے بلکل نازمل بیہو کرتی مگر بند کمرے میں اسکی حالت قابل رحم ہوتی.. ماہ نے اسے شاہ.کی سچائ بتا دی تھی مگر پھر بھی اس نے یک بار بھی شاہ سے بات نہی کی..
لاڈو نے بھابھی کی طرح نہی بہن کیطرح نازنین کی شادی مین بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو ادھر ناصر ازلان عدنان اور شان نے بھی نعمان کو کسی چیز کی ٹینشن نہی لینے دی..مگر شان نے اس پورے عرصہ میں ایک بار بھی شاہ سے بات نہی کی….
حیدر جہانگیر کو یہ سارا معملہ بتا چکا تھا .مگر اگر شاہ سے اسے ہمدردی تھی تو نازنین کی طرف سے شاہ پہ غصہ.. شادی میں ایک ہفتہ رہ گیا تھا… شان کسی ضروری کام سے کہی سے اراہا تھا کہ اچانک کوئ لڑکی اس کی گاڑی کے سامنے اگئ.. اگر بروقت شان بریک نہی لگاتا تو یقینن وہ شان کی گاڑی سے ہٹ ہوجاتی…
شان نے فورا گاڑی سے اتر کر اسکی طرف بڑھا مگر جب کال چادر میں موجود اسکی نظر حنا پہ پڑی تو وہ دنگ رہ گیا.. اسکی حالت ایسی تھی کہ اگر اسے بروقت ہاسپٹل نہی لے کے جایا جاتا تو وہ یقینن وہ نہی بجتی….
شان نے فورا اسے گودھ میں اٹھایا اور ہاسپٹل کی طرف اپنی گاڑی موڑ دی…
.وہ تیزی سے حنا کو ہاسپٹل کے اندر لے کے بھاگا. …
ڈاکٹروں نے جب حنا کی.کنڈیشن دیکھی تو فورا ڈآکٹرنی نے شان سے کہا….
ہمیں فورا ان کا آپریشن کرنا پڑے گا.. ورنہ.انکو کچھ بھی.ہوسکتا ہے……
شان نے انکو اجازت دے دی…
حنا جیسی اپریش ٹھیٹر کے اندر گئ شان نے نور کو کال کرکے سب بتا دیا اور اسے ہاسپٹل کا آڈریس دے کے انے کو کہا…..
دوگھنٹہ بعد ڈاکٹر اپریش ٹھیتر سے باہر نکلی.. شان اور نور تیزی سے ان کی طرف بڑھے اور کہا.
کیا ہوا ڈاکٹر سب ..خیریت ہے…
سوری تو سے بٹ ہم.بے بی کو نہہی بچاسکے. حنا ابھی بیہوش ہیں تین چار گھنٹے بعد انہین ہوش اجائے گا….
بچے کا سن کے نور اور شان کو بہت افسوس ہوا.. مگر جو الللہ.کی.مرضی….
نور نے حیدر کو کال کرکے سب بتا دیا .اور یہ بھی بتایا کہ.وہ اور شان ابھی ہاسپٹل میں ہیں..
ماہ چونکے دو دن سے نازنین کے گھر پہ تھی اس لیہ اسے اس سارے معملے سے لاعلم تھی….
چار گھںنٹے کے بعد حنا کو ہوش آیا. مگر اپنی گودھ خالی دیکھ کے اس کی چیخیں پورے ہاسپٹل میں گونجنے لگی…
ان میچور بریگنسی تھی اس لیہ بچہ نہی بچ سکا شان نے اس بچے کا نام رکھ کے اسے دفنا دیا…
حنا کو یو روتا دیکھ کے نور کی.انکھیں چھلک پڑی.
بہت مشکل سے نور نے حنا کو چپ.کروایا تو اس کی نظر شان پہ پڑی… اس نے شان سے کہا….
پلیز مجھے نازنین سے ملنا ہے اس سے معافی مانگنی ہے اسے بتانا ہے کہ شاہ نے صرف اس سے محبت کی.ہے شاہ.صرف اسکا ہے..ہے…
حنا کی بات پہ شان نے اس سے کہا…
حنا ابھی بہت مشکل ہے اس سے ملنا پرسوں اسکی شادی ہے وہ شاید تم سے نہ ملے…
شان کی بات سن کے حنا ایک بار پھڑ روپڑی…
جبکہ نور نے اس سے کہا…
تم ابھی ارام.کرو حنا میرا وعدہ ہے کل میں تمہیں نازنین سے ضرور ملواونگی…
نور کی بات سن کے شان نے چونک کے نور کو دیکھا نور نے اسے آنکھوں کے اشارے سے چپ رہنے کو کہا..
شان نے ایک نرس کو خاص ہدایت کیساتھ اچھی خاصی رقم.دے کے اسے حنا کی دیکھ بھال کرنے کو کہا….
¤¤¤¤¤¤¤
نازنین اور شان کا نکاح ہو چکا تھا اس لیہ اج ان دونوں کی.کمبائینڈ مہندی تھی…..ماہ نے نازنین سے کہا…
یار کچھ دیر کیلیے میں گھر ہوکے آتی ہو فنکشن شام.مہیں ہے اس سے پہلے مین اجاونگی..
نازنین کے.لبوں پہ.ماہ.کی بات سن کے ہلکی سی مسکرائٹ اگئ. اس نے ماہ سے کہا..
لگتا ہے شان بہت رومینٹک ہے جبھی تو تیرا دل نہی.لگ رہا یہاں رات سے بار بار موبائل چیک کر رہی ہے….
نازنین کی بات سن کے ماہ.کی.آنکھیں بھیگنے لگی. ..نازنین نے جب ماہ کو یو روتے دیکھا تو فورا اس تک آی اور کہا کیا بات یے ماہ میں تو مزاق کر رہی تھی…
ماہ نے کہا..
نازنین ایسی کوئ بات نہی بس میرا اور شان کا رشتہ ایسا نہی.جیسا تو سمجھ رہی.ہے …
مطلب ماہ.میں کچھ سمجھی نہہی….
نازنین کے ایسے بولنے پہ.ماہ نے نازنین نے اس رات کا سارا واقعہ سنادیا…
ماہ.کی بات سن کے نازنین نے زور سے اپنا ہاتھ اپنے سر پہ مارا اور کہا….
ماہ تم پاگل تو نہی ہو..وہ شوہر ہے تمہارا اسکا حق بنتا ہے اگر اس نے تمہارا اعتبار توڑا بھی تو تمہاری جان بچانے کے لیہ…
تمہیں یاد ہے ایک بار تم نے شان سے کہا تھا کہ تم بھی اس لڑکی سے ملنا چاہتی ہو جسکا عکس اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہے.. وہ کوئ اور نہی تم ہو..ماہ.. شان تمہں دیوانوں کی طرح چاہتا ہے.. جس دن وہ تمہیں بیہوشی کی حالت میں شاہمیر کے فلیٹ سے لایا تھا اس دن اسکا رو رو کے برا حال تھا..
ُزلیخا آنٹی کی منتیں کی تھی شان نے کہ وہ تمہاری اور شاہمیر کی شادی کردے..
ماہ تم.بہت خوش قسمت ہو جو تمہیں شان جیسا شوہر ملا.ہے ورنہ کچھ لوگ تو سانسین چھین کے کہتے ہیں تم میری ہو…نازنین شاہ کا محبت بھرا نداز یاد کرکے رو پڑی…
ماہ نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو نازنین نے فورا اپنے انسو صاف کیہ اور کہا…
ماہ کیا تم بھی شان سے محبت کرنے لگی ہو..؟؟
نازنین کے سوال پہ ماہ نے گردن ہاں میں ہلائ تو نازنین سے اسے خوشی سے گلے لگالیا……
ماہ اپنے گھر کے لیہ نکلی تو نازنین کے نمبر پہ نور کی کال اگئ نور کی بات سن کے نازنین کو تھوڑی حیرت ہوئ مگر اس نے کہا..
ٹھیک ہے آنٹی اپ اجایے دس منٹ میں میں ریڈی.ہوجاتی.ہو…
دس منٹ کے بعد نور نازنین کے گھر کے باہر موجود تھی گاڑی خاموشی سے اپنے راستوں پہ.گامزن تھی نہ نور اسے بتایا کہ وہ کس سے اسے ملوانے کے لیے کے جارہی ہے اور نہ نازنین نے اس سے پوچھا…
گاڑی جب ہاسپٹل کے باہر رکی تو نازنین نے نور کو سوالیاں نظروں سے دیکھا اور پوچھا…
آنٹی یہاں کون ہے؟؟
اندر او ملواتی ہو..
نور نازنین کو ایک کمرے میں لے گئ وہاں جاکے جو نفوس اسے بستر پہ دیکھا تو اس کے جسم میں جہاں غصہ کی لہر ڈوری وہی افسوس بھی ہوا کیونکہ یہ وہ ا حنا.نہی تھی جو اس سے غرور سے ملی.تھی ….
نازنین جیسی ہی اسے دیکھ کے پلٹی حنا کی.اواز کانوں میں گونجی….
نازنین رک جاو پلیز …تمہارے اور شاہ کے ساتھ برا کرنے کی سزا مجھے الللہ دے چکا جس کے پیچھے میں نے یہ سب کیا.. وہ مجھے تننہا چھوڑ گیا..اس سے مجھ سے نہی.میرے پیسوں سے محبت تھی دیکھو نازنین جو محبت کی حرام.نیشانی میں پیٹ میں لے کے گھوم رہی تھی جسکے بل بوتے پہ میں نے اتنا بڑا کھیل کھیلا الللہ نے مجھ سے وہی چھین لیا دیکھو اج میں خالی دامن ہو… یہ بول کے حنا بلک بلک کے رونے لے… نور نے اگے بڑھ کے اسے دلاسہ دیا تو بچے کا سن کے نازنین کی بھی آنکھیں بھیگ گئ….
نازنین شاہ صرف تم.سے محبت کرتا ہے تمہارے علاوہ وہ کسی کا سوچ بھی نہی سکتا …پلیز وہ.مجھے طلاق بھی دے چکا ہے.. میں صرف اس دنیاوی بیوی تھی بس… پلیز مجھے معاف کردو نازنین خدا کا واسطہ مجھے معاف کردو…حنا نازنین کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کے رونے لگی… تو نازنین نے نور کی طرف دیکھا نور نے بھی ہاں میں گردن ہلائ…
نازنین نے اگے بڑھ کے اسکے دونوں ہاتھ نیچے کرے.. اور اسکو گلے سے لگا کے کہا…
میں سب جان چکی ہو مگر تمہیں تمہارے کیہ کی سزامیرا رب دے چکا…
تمہیں پتہ حسن بھائ شادی کر رہے ہیں…؟؟؟
حنا کی آنکھوں میں حیرانگی اامڈ آی..
نازنین اب فرق نہی پڑتا. .جب شاہ نے مجھے طلاق دے اس کے بعد حسن جب تک صحیح رہآ جب تک میرے اکاوئنٹ مین پیسے تھے اس کے بعد اس نے اپنا نمبر بھی بند کردیا اور غائب ہوگیا..میں فاقے کرنے.لگی ..جب فلیٹ کے مالک نے مکان.کے کرایہ کے بدلہ مجھے پہ غلط نگاہ ڈاُی تو میں وہاں سے فرار ہوکے جیسی ہی روڈ تک آی تو شان کی گاڑی سے تکرا گئ…
یہ بول کے حن ایک بار پھر رونے لگی….
اتنی.دیر میں شان اندر آیا اور کہا..
حنا دو ہفتہ کے بعد تمہاری لندن کی فلائٹ ہے پری کی شادی نازنین کے ولیمہ کے اگلے دن سے اسٹارٹ ہے اس سے ببٹ جاو تو میں پھر تمہیں خود تمہارے پاپا کے پاس لے کے جاونگا…
مگر…