Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
[ ] (پاڑٹ ون)
[ ] نور نوراٹھو…. جلدی نور…
[ ] نور نے زلیخا کے جھنجھوڑنے پہ جھٹ سے انکھیں کھول کے بیٹھ گی اور بوکھلا کے نور ک پریشان چہرہ دیکھا….
[ ] کیا ہوا بھابھی اپ پریشان کیوں ہیں اور یہ.لائٹ کو کیا ہوا چلی گی کیا.روکے اپ پریشان نہی ہو میں ابھی کسی کو بلاتی ہو وہ لائٹ کو دیکھے گا.نور اپنی ہی دھن میں بولی.جارہی تھی اس نے زلیخا کو دیکھا ہی نہی جو کمرے کا گیٹ ہلکے سا کھول کہ باہر کو جھانک رہی تھی..
[ ] نور نے جیسی ہی زلیخا کو دیکھا جو دروازہ سے چھپ کے باہر دیکھ رہی تھی ایک دم اسے کچھ غلط ہونے کا.احساس ہوا.اوروہ زلیخا سے پوچھ بیٹھی…
[ ] بھاَبھی اپ باہر ایسے چھپ کے کیا دیکھ رہی ہے..نور کی اواز پہ.ایک دم زلیخا نے ڈور کے اسکے منہ پہ.ہاتھ رکھا..
[ ] شششش نور اواز مت نکالو…
[ ] کیوں بھابھی کی ہوا نور نے زلیخا کا ہاتھ اپنے منہ پہ سے ہتھا کہ اہستہ سے بولا..
[ ] نور حویلی میں کوئ چار پانچ لوگ گھس گئے ہیں انہوں نے یہ تو چوکیدار کو مار دیا ہے یہ پھر بیہوش کردیا ہے. ہمیں ابھی اسی وقت کیسے بھی.کرکے حویلی سے نکلنا ہوگا نور کیونکہ یہ لوگ تمہارے لیہ ائے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے یہ کام بی.جان اور جنید کا ہے..میرا موبائل نیچے حال میں رہ گیا.اور حیدر بھی حویلیی میں نہی…
[ ] زلیخا کی بات سن کے نور ایک دم گھبرا گی. اور بولی لیکن بھابھی حیدر کو تو خود میں نے اپنے کمرے میں جاتے دیکھا تھا پھر وہ اچانک کہاں چلے گئے. یہ بول کہ نور رونے لگی…
[ ] نور نور میںری جان رو نہی میں ہونہ تمہارے ساتھ. بس تم یہ بتاو تمہیں حویلی کا کوئ چور راستہ پتا ہے جس سے ہم.حویلی.کے مین گیٹ تک پہہنچ سکے..اور نور نے روتے روتے کہا ہاں بھابھی اس کمرے میں ایک اسٹور ہے جس میں ایک دروازہ ہے جسکے پار یہاں سے سیدھا باغیچے میں جانے کی سیڑھیاں ہیں لیکن بھابھی وہ دروازہ بند رہتا ہے اور بھاری بھی بہت ہے کیا ہم دونوں اسے کھول پائینگے؟؟
[ ] ہاں نور بس تم کوئ چادر لے لو موٹی کیونک.باہر بارش بہت تیز ہورہی ہے..
[ ] نور اور زلیخا نے چادر سے اپنا منہ ڈھاپا.اور فورا اسٹور کے اس دروازہ کی طرف بڑھی مگر جاتے جاتے زلیخا اسٹور ک دروازہ اندر سے بند کرنا نہ بھولی.ان دونوں نے بھر پور کوشش کر کے دروازہ کھول.لیا اور اجلدی جلدی سیڑھیاں اترنے لگی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اماں جان اور افریدی صاحب بانو بیگم کے کسی رشتہ دار کی شادی.میں گئے ہوِئے تھے..نازو اور ڈودی نازو کے گھر..بارش تیز ہونے کی.وجہ سے سارے نوکر بھی جلدی جلدی اپنا کام نبٹا کے اپنے اپنے کواٹروں میں چلے گئے تھے..سب کے جانے کے بعد حیدر نے سب دروازہ چیک کیے اور سونے کے لیہ لیٹ گیا ابھی اسکو سوئے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئ تھی کہ اسک موبئل بج اٹھا حیدر نے بغیر دیکھے نیند میں ہونے کی وجہ کال.اٹھا لی.اور اگے سے جو خبر حیدر کو سننے کو ملی حیدر کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گی….
[ ] ہیلوکون؟؟؟
[ ] ہیلو میں اسی گاوں کا رہنے والا ہو .میں شہر سے گاوں ارہا تھا جیسی ہی میں گاوں.کے اندر داخل ہوا نہہر کے پاس جہانگیر بھای کی گاڑی کا ایکسڈینٹ ہوئ گاڑی دیکھی اور جہانگیر بھائ بھی اندد بیہوش پڑے ہیں ہ اپ جلدی یہاں اجاےانہی.کے موبائل سے میں نے اپکو کال کی.اور حیدر یہ خبر سنکے اتنا گھبرا گیا کہ نہ اس نے نمبر دیکھا اور نہ اسکے دماغ میں یہ بات ائ کے جہانگیر تو ایک ہفتہ بعد واپس انے والا تھا تو اس وقت جہانگیر گاوں میں کیا.کرہا ہے…
[ ] حیدر نے فٹافٹ اپنا والٹ لیا گاڑی کی چابی اٹھی اور فورا نور کے کمرے کی طرف بھاگا جہاں زلیخا تھی..
[ ] اسنے دروازہ ناک کیا..
[ ] تو زلیخا کی ایک دم دروازہ کی اواز سے انکھ کھلی اس نے اندر سے ہی پوچھا کون؟؟؟
[ ] بھابھی میں حیدر..
[ ] حیدر کی اواز پہ اس نے دروازہ کھولا..
[ ] ارے حیدر تم اس وقت سب خیریت ؟؟؟
[ ] بھابھی میں تھوڑی دیر کے لیہ باہر جا رہا ہو اپ پریشان مت ہویے گا.میں ابھی واپس اجاؤنگا.حیدر نے زلیخا کو نہی بتایا کال کے بارے میں ورنہ وہ خاما خائ پریشان ہوتی..
[ ] ارے حیدر شاید باہر بارش ہورہی ہے تم کیسے جاوگے ؟؟؟
[ ] بھابھی اپ.میری فکر مت کریگا بس اپ دروازہ اپ اندر سے بند کرلے اور اپنا اور نور کا خیال رکھیے گا.یہ بول.کے حیدر چلا گیا.حیدر کے جانے کے بعد زلیخا کو تو نیند نہی ائ.اور وہ کھڑکی کے پاس اکے کھڑی ہوگئ کہ اچانک لائٹ چلی گیا.اور پھر اسنے باغیچے میں کسی کو کودتے سیکھا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نور اور زلیخا جلدی جلدی سیڑھیاں اترنے لگے..اخری سیڑھی پہ پہنچ کے نور اور زلیخا کو اسٹور کے باہر والے گیت کو کھولنے کی.اواز ائ….اواز سن کے ان دونوں نے دوڑنا شروع کردیا حویلی سے نکلتے ہی اچانک وہ سامنے سے اتی کار سے تکڑاتے تکڑاتے بچی¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] حیدر ابھی ادھے راستہ ہی پہہنچا تھا کہ.ایک بار پھر اسکے نمبر پی.کال ائ..اور اس نے جھٹ موبائل اٹھا کہ کان سے لگایا یہ.سوچ کہ شاید اسی.آدمی کا فون ہو جس نے اسے جہانگیر کی خبر دی تھی.مگر کال پہ.جہانگیر کی.اواز سن کے بے ڈھرک اسکا پاؤں بریک پہ گیا اور گاڑی ایک جھٹکے سے رکی
[ ] یار حیدر میں کب سے کال کررہا ہو گھر پہ.کوئ.کال.ہی نہی اٹھا رہا نہ زلیخا نہ.نور نہ.ڈوڈی …؟؟
[ ] اور حیدر بہت مشکل سے اپنی اواز پہ قابو پایا.جو گھبراہٹ سے.لڑکھڑا رہی تھی..
[ ] ہیلو ہیلو جہانگیر اواز نہی.ارای .میں تو باغیچے میں ہو اماں جان اور بابا تو باہر گئے ہیں اور ڈوڈی بھی باہر گیا ہو ا…یار جہانگیر بارش بہت تیز ہورہی ہے اواز نہی اراہی.ہیلو ہلیو جہانگیر میں بعد میں بات کرتا ہو.. حیدر نے کال کاٹتے ہی گاڑی موڑی اور فل اسپیڈ میں گاڑی حویلی.کی.طرف ڈورائ وہ سمجھ چکا تھا کہ اسے ٹریپ کی گیا ہے تاکہ وہ حویلی سے نکلے..اور اسکے اگے کا سوچ کی اسکا دماغ سن ہونے.لگا وہ سمجھ گیا تھا یہ سب بہ جان اور جنید کا کیا دھرا ہے..حیدر نہ زور کا.مکا اسٹرینگ پہ.مارا اسے اپنے.اپ پہ.بہت غصہ تھا کتنا جہنگیر اسکو سمجھ کہ.گیا تھا اور کیسے وہ.ان لوگوں کے ہاتھوں بیوقوف بن گیا…حویلی.تک پہنچنے تک .اسکے لبوں پہ ایک.ہی.دعاتھی..
[ ] “یاللہ.پاک.نور اور بھابھی کی.حفاظت کرنا یااللہ پاک ورنہ.میں کیا.منہ دیکھاونگا جہانگیر کو کیا منہ دیکھاونگا بابا یااللہ.پاک ان دونوں.کی.حفاظت کرنا..اور شاید قبولیت ک وقت تھا کہ.حب وہ حویلی تقریبا پہچنے والا تھا تو اسے سامنے سے کوئ دو نفوس بھاگتے ہوئے دیکھے اگر بر وقت حیدر بریک.نہی.لگاتا تو سامنے سے اتے دونوں نفوس اسکی.گاڑی سے تکراجاتے…
[x]
[x]
[x]
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اور جب نور اور زلیخا نے گاڑی سے بچنے کے بعد جب گاڑی چلانے والے کو دیکھا تو ان کی.جان میں جان ائ یہ ہی حال حیدر کا تھا جب اس نے ان دونوں کا صحیح سلامت میں دیکھا تو اسی وقت اس نے اللہ.کا شکر ادا کیا.لیکن ان دونوں کا اس حالت میں اتنی تیز بارش میں دیکھ کے حیدر سمجھ چکا تھ کہ.حویلی.میں کچھ گڑبڑ ہوئ ہے..
[x]
[ ] حیدر نے زلیخا سے پوچھا کہ وہ دونوں اس وقت حویلی کے باہر کیا کرہی.ہے…اور زلیخ نے حیدر کو حویلی.کے اندر کا سب بتا دیا تو حیدر نے بھی انہیں بتایا کہ.کیسے اسے ٹریپ کرکے حویلی کے باہر بلایا..
[ ] حیدر تم ابھی اسی وقت نور کو لیہ.کہ شہر کی طرف نکل.جاؤ..
[ ] نہی بھابھی میں اپکو اکیلا چھوڑ کہ کہی نہہی جاونگی نور بول کے روتے ہوئے زلیخا کے گلے لگ گی..
[ ] زلیخا نے اس کو الگ کیا اور سمجھایا…
[ ] نور میں تمہارے اور حیدر کے بارے میں سب جانتی ہو مجھے جہانگیر سب بتا چکے ہیں نور خدا کا واسطہ ہے وقت کی.نزاکت کو سمجھو..کل.کو پھر کچھ نہ.کچھ ایسا ہوگا اور ضروری نہی کہ قسمت ہر بار ہمارا ساتھ دے میری فکر مت کرو میرے ساتھ میرا الّللہ ہے جب میں نے ہم نے کسی کے ساتھ غلط نہی.کیا تو ہمارے ساتھ بھی غلط نہی ہوگا…یہ بول.کہ زلیخا حیدر کی طرف مڑی..
[ ] حیدر نور مجھے میری بہنوں کی طرح عزیز ہے اسکا ساتھ کبھی مت چھوڑنا تم پہ.اعتبار کرکے اپنی اور اپنے شوہر کی سب سے قیمتی چیز تمہں سونپ رہی.ہو یہ.بول کہ.زلیخا رونے.لگی..
[ ] حیدر نے کہا..
[ ] بھابھی نور میںری زندگی ہے اور جہانگیر میری جان میںری کوئ بہن نہی میں اپکو دل سے بہن مانتا ہو اور اپکی بہت عزت کرتا ہو میں اپکا اعتبار کبھی نہی.توڑنگا..
[ ] حیدر نے نور کو ساتھ لیہ لے گاڑی میں بیٹھنے لگا.جیسی نور گاڑی کے پاس پہنچی ایک بار پھر وہ ڈور کہ زلیخا کے گلے لگ کے رونے لگی اور پھر گاڑی میں جا کے بیٹھ گی حیدر نے بھی ایک.الویداعی نظر حویلی اور زلیخا کی طرف ڈالی اور گاڑی فل اسپیڈ میں ڈورادی..
[ ] گاڑی کے جاتے ہی زلیخا نے.الّللہ سے ان دونوں کی سالامتی کی دعا مانگی اور حویلی کے اندر چل.پڑی ابھی وہ باغیچے میں پہنچی تھی کہ اسے وہ پانچوں لوگ باہر نکلتے ہوئے دیکھائ دیے.زلیخا ان لوگوں کو دیکھ کے رک گی بارش تو تقریبا تھم.چکی تھی وہ.لوگ نقاب میں تھے اس لیہ زلیخا ان لوگوں کو پہچان نہی پائ.مگر شاید الّللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا.ان میں سے ایک کا موبائل بجا اور اسنے بات کرنے کے لیہ.اپنا نقاب نیچے کرا نقاب نیچے کرتے ہی جو چہرہ اسکو دیکھا اسکا شک یقین میں بدل گیا.کیونکہ.وہ اور کوئ نہی جنید ہی تھا اور جنید کو یہاں دیکھ کہ.اسے کسی.کے.لکھے لفظوں پہ یقین ہوگیا.وہ لوگ جیسے ہی باہر نکلے زلیخا نے اندر کو ڈور لگای اور اپنے.کمرے میں اکے سانس لیا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نور حیدر گاوں کی حدود سے نکل.چکے تھے..گاڑی میں خاموشی تھی.دونوں نفوس اپنی.اپنی پریشانیوں میں گم تھے ایک رات میں کیا سے کیا ہوگیا نور کی انکھوں سے جب سے ہی انسو جاری تھے حیدر نے بھی اسے چپ.نہی کروایا کیونکہ.جو لڑکی کبھی گاوں سے باہر نہی نکلی اج وہ گاؤں سے باہر تھی وہ.بھی ایک
[ ] غیر محرم کے ساتھ حیدر کے ساتھ لاکھ محبت صحیح مگر ایک لڑکی.کبھی اپنی عزت سے زیادہ.کسی.کو نہی چاہتی مانا کہ حیدر کی انکھوں میں اس نے ہمیشہ اپنے.لیہ.عزت اور احترام دیکھا مگر رات کے اس پہر وہ اکیلی تن تنہا اسکی جان حلق میں تھی…….
[ ] حیدر نے جہانگیر کو کال.کی.جو اس نے ایک ہی بار میں پک کرلی
[ ] اور بنا حیدر کو سنے بول.پڑا..
[ ] یار جہانگیر کہا ہو کب سے کال.کرہا ہو سب خیریت تو ہے نہ سب تھیک تو ہے تو چپ.کیوں ہے کچھ بولے گا.اور جہانگیر کو پھر حیدر کی سسکیوں کی اوز سنائ دی.. اور جہانگیر کو کچھ انہونی کا خدشہ ہوا کیا ہو ا حیدر تو رورہا ہے ہوا کیا ہے بول.میری جان یار..
[ ] جہانگیر میں تیرا بھرم نہی رکھ سکا جو تجھے مجھ پہ.تھا میہں تیرے اعتبار پہ.پورا نہی اترا..
[ ] حیدر ہوا کیا ہے کچھ بولے گا جہانگیر کی چیخنے کی.اواز فون سے باہر ای..
[ ] اور پھر حیدر نے حویلی سے لے کر انے والی ٹریپ کال تک سب سنا دیا اور زلیخا نے نور کو اسکے ساتھ بھیج دیا یہ بھی بتا دیا..
[ ] جہانگیر دومنٹ تک.کچھ نہی بولا حیدر سمجھا کہ جہانگیر کی کال.کٹ گی..
[ ] ہیلو ہیلو جہانگیر میری اواز ارہی ہے..
[ ] اور پھر جہانگیر کی انسؤں سے بھری اواز گونجی …
[ ] حیدر مجھے فخر ہے تجھ پہ.کے تو میرا یار اور فخر ہے اپنی جان زلیخا پہ.جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کہ میری نور کی.حفاظت کی تجھے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہی. اب تم.لاہور میں میرے اہک دوست کے ہاں جاوگے سیدھا اور سب سے پہلے یہ بول.کے جہانگیر دومنٹ کے لیہ چپ ہوا.
[ ] اور کیا جہانگیر ؟؟؟
[ ] تم دونوں کل ہی نکاح کروگے جو حفاظت اج زلیخا نے نور کی کی ہے تو ساری زندگی کرے گا مجھے اعتبار ہے تجھ پہ اور تم.دونوں جلد سے جلد اسٹڑیلیاں چلے جانا…
[ ] جہانگیر یہ تو کیا بول.رہا ایسے کیسے تیرے بغیر یہ کیسے اور نور کبھی نہی مانے گی..
[ ] نور جو حیدر کو جہانگیر سے بات کرکے کچھ سکون میں ہوئ تھی اسے یقین ہوگیا تھ کہ اس نے غلط شخص سے محبت نہی کی غور سے حیدر کی باتیں سن رہی تھی..حیدر نے جب نور کو خود کو تکتا پایا تو موبائل نور کی طرف بڑھادیا.اور کہا جہانگیر بات کرے گا تم سے…
[ ] نور نے حیدر سے موبائل.لیا اور کان سے لگایا..
[ ] ہیلو نور میری جان.کیسی ہو…
[ ] اور جہانگیر کی.اواز سن کے نور ایک بار پھر رو پڑی…
[ ] نور نور رو نہی.میری بات سنو کچھ نہی.ہوگا میں سب تھیک کردونگا انشاءاللہ بس تم.اپنے بھائ کی اک با مانو گی پلیز منع مت کرنا.تمہیں میری قسم !!!!
[ ] جی بھائ بولے..
[ ] ابھی تم.لوگ یہاں سے سیدھا میرے دوست کے گھر جاوگے جو لاہور میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتا اور.. ؟؟
[ ] اور کیا.بھائ….؟؟؟
[ ] کل.وہاں تم.حیدر سے نکاح کروگی….
[ ] جہانگیر کی بات سن کے نور سکتہ.میں اگئ. اور خاموش ہوگئ.فون سے نکلتی جہانگیر کی اواز اسے ہوش میں لائ..
[ ] ہیلو ہیلو نور بات سنو میری..
[ ] اور نور نے کہا.. بھائ.اپکے بنا بابا کے بنا گھر والوں کے بغیر میں کیسی بھائ نہی ہوگا مجھ سے پلیز نہی.کرے بھا ئ.. یہ بول کہ.نور ایک بار پھر رو پڑی..
[ ] نور میری گڑیا پلیز میری بات مان جاؤ خدا کے لیہ اپنے بھائ کا مان رکھ لو تمہیں اعتبار ہے نہ حیدر پر.؟؟؟
[ ] جی بھائ تو بس اللہ کا.نام لے کہ نکاح کرلو الّللہ بھی.جانتا ہے نور تمہارے دل.کا حال اور الّللہ.کا.بھی یہ ہی فیصلہ ہے پلیز نور مان جاؤ…. جہانگیر نے پھر نور کی منتیں کی..
[ ] تھیک ہے بھائ اپکا حکم سر انکھوں پہ یہ بول.کہ نور نے موبائل.حیدر کو دے دیا اور چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپا کے سسک پڑی حیدر کو جہانگیر کو اپنے دوست ک اڈریس دیا اور کال.کٹ کردی….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] بی جان موقع کے کی تلاش میں تھی.جو اسے مل گیا تعلق توڑنے کے باوجود بی جان افریدی حویلی کی ہر.حرکت پہ نظر رکھی ہوئ تھی جہانگیر کی غیر موجودگی میں بی جان کو اپنا پلین کامیاب ہوتا دیکھ رہا تھا اگر کوئ رکاوٹ تھی تو وہ صرف حیدر اواسکا.بھی بی جان نے حل نکال لیا تھا اس لیہ بی جان بھی امنہ بیگم اور افریدی صاحب کو دیکھانے کے لیہ ہی انکے سامنے اپنے رشتہ داروں کی شادی میں شریک ہوئ اور وہاں بھی اپنے چند ایک رشت داروں سے کہہ کے زبردستی ان دونوں کو رکوایا جب کافی دیر تک جنید کی کوئ.کال نہی.ائ تو بی جان نے جنید کو کال.کی جب وہ حویلی سے نکل رہا تھا..
[ ] ہاں ہیلو جنید ہم.کب سے تمہارے فون کا انتظار کرہے ہیں کام ہوا کہ نہی ؟؟؟
[ ] نہی.امی نور یہاں نہی ہے میں نے پوری حویلی چھان ماری اور ایک بات اور امی زلیخا بھی نہی ہے..
[ ] اور بی جان جنہوں نے جنید کو نور کو اغواہ کرنے بھیجا تھا تاکہ کچھ دن اسکو غائب کر کے واپس بھیجے اور غائب ہوئ.لڑکی.کو کون اپناتا. پھر بی جان پلین کے مطابق ایک بار پھر نور کا رشتہ لے کے جاتی اور مجبور ہوکے افریدی کو نور کا رشتہ جنید سے کرنا پڑتا ایک بار شادی ہوجاتی تو جنید اپنا بدلہ نور سے لیتا اور بی جان جہانگیر سے اسکی بہن کی زندگی عزاب بنا کہ جس نے کسی.اور کے چکر میں شاہین کو ٹھکڑا کے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل.کیا جس کی وجہ سے انکی بیٹی نے خودکشی کی اور رہی جایئداد کی بات تو بعد میں خودبخود بی.جان کے پاس اجاتی مگر بی جان بھول گئ تھی جب الّللہ چال چلتا ہے تو پھر انسان چال چلنے کے قابل نہی رہتا…
[ ] جنید تم ابھی نکلو ہم جانتے ہیں ہمیں صبح کیا کرنا ہے تم.نکلو فورا… یہ بول کے بی جان نے.کال کاٹ دی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] زلیخا نے کمرے میں اکے سب سے پہلے نماز پڑھی اور حیدر اور نور کی سلامتی.کی دعا مانگی سلام پھیر کے وہ ابھی بیڈ پہ لیٹی تھی کہ نیچے حال سے فون کی.اواز پہ.وہ بھاگتی ہوی گی اور کال اٹھائ اور کال پہ.جہانگیر کی اواز سن کے وہ رونے لگی.زلیخا کو روتا دیکھ کہ جہانگیر نے اس کو چپ کروایا اور کہا..
[ ] زلیخا میری جان میری حیدر سے بات ہوگی اس نے.مجھے حویلی.اور اپنی کال والی بات سب بتا دی مجھے فخر ہے زلیخا تم پہ تم نے صحیح فیصلہ کیا اور ایک خشخبری یہ.ہے کہ.کل ان دونوں کا.نکاح بھی.زلیخا کے منہ.سے فورا شکر نکلا.زلیخا کل.کل مجھے پتہ ہے بی جان کوئ نہ.کؤی تماشہ ضرور کرینگی مگر زلیخا تم.کل کسی کو کچھ نہی.بولوگی کچھ نہی مجھے یہاں چار پانچ دن لگ جائنگے بس زلیخا.میری خاطر اپنے لب سی.لینا پلیز تمہارے منہ.نکلا.ایک بھی لفظ حیدر اور نور کی زندگی برباد کرسکتا ہے..
[ ] نہی.جہانگییر اپ پرییشان نہ.ہو میں کچھ نہی.بولونگی پلیز مگر اپ جلدی اجائیگا مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے..
[ ] ہاں.میری جان میں کوشش کرہا ہو جلد سے جلد پہچنے کی..
[ ] وہ…جا..ہنگیر…مجھے.اپکو کچھ بتانا ہے..
[ ] ہاں بولو جان..
[ ] جہانگیر ان پانچ لوگوں میں سے ایک جنید تھا.اور پھر زلیخا نے جہانگیر کو بتایا.کہ.اس نے جنید کو دیکھا..
[ ] کیا زلیخا تمہے پورا یقین ہے..
[ ] ہاں جہانگیر…
[ ]
[ ] تھیک ہے اب میں ان سے خود نبٹونگا مگر کل.تم کچھ بھی.مت کہنا کسی.کو ..
[ ] جی…
[ ] اچھا سنو..
[ ] جی..
[ ] ائ.لو یو یار بہت مس کراہا ہو اچھا اپنا خیال رکھنا میں کال رکھتا ہو.مجھے اپنے دوست کو کال.کرنی اسے اطلاع دینی.ہے حیدر اور نور کی..
[ ] تھیک اپنا خیال رکھیے گا اور ہاں ائ.لو یو ٹو یہ.کہہ کے زلیخا نے فورا فوں رکھ دیا اور وہاں جہانگیر کے لبوں پہ اتنی پریشانی میں بھی مسکراہٹ اگئ
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] حیدر اور نور تقریبا صبح کے وقت نعمان کے گھر پہنچے (جہانگیر کا دوست) نعمان جو اپنی وائف نیلم اور اپنے ایک سال کے بیٹے سرور کے ساتھ کچھ مہینوں کے لیہ.کام کے.سلسلے کی وجہ سے لاہور ایا تھا.نعمان اور جاہنگیر کی.ملاقات اتفاق سے ایک بزنس پاڑٹی میں ہوئ جو دوستی میں بدل.گی…
[ ] نور اور حیدر جب نعمان کے گھر پہنچے تو نعمان اور نیلم.نے ان کا اچھے سے استقبال.کیا.نیلم.کو وہ.ہری انکھوں والی ڈری.ہوئ.لڑکی بہت معصوم لگی جو حالات کا شکار ہوگئ.نعمان نے اپنی.بیوی کو سب بتادیا تھا.نعمان کے گھر پہنچ کے پہلے وہ دونوں.فریش ہوئے پھر دونوں کچھ دیر ارام.کرنے چلے گئے..پوری رات ٹینشن اور ڈرائیو کرکے حیدر بہت ٹھک گیا تھا اس لیہ لیٹے ہی سو گیا ایسا ہی.کچھ حال نور کا بھی..تھا.
[ ] نور دوتین گھنٹہ بعد اٹھ گئ تو کمرے سے باہر نکل.ائ جہاں نیلم.اپنے ایک سال کے بیٹے کی پیچھے بھاگ رہی تھی کھانے کا باؤل.ہاتھ میں لے.کے نور کے سلام پہ وہ چونکی.اور مسکرا گئ.تھوڑی دیر بعد وہ.پھر اپنے بیٹے کے پیچھے بھاگ رہی تھی.جو نور کے.پیچھے چھپ.گیا.نور نے نیچے بیٹھے کے اسکے پھولے پھولے گالوں پہ.پیار کیا اور اسے اپنی گودھ میں بیٹھا لیا.وہ نور کو غور غور سے دیکھنا لگا خاص کرکے اسکی.انکھین اور پھر اچانک اسکے گلے لگ گیا اور نیلم.تو یہ دیکھ کے حیران ہوگئ کہ وہ ارام سے نور کے ہاتھ سے کھانا کھانے.لگا جو اسنے چپکے سے نیلم سے لے لیا.تھوڑی دیر میں حیدر بھی وہاں اگیا اور نور کو دیکھ کہ.اسے سکون.ملا جو مسکرا رہی تھی..نعمان نے اکے دونوں سے انکا حال چال پوچھا اور پھر حیدر اور نور کو بتا یا.کہ.دو گھنٹہ بعد ان دونوں کا نکاح ہے.نکاح کا نام سن کے نور ایک بار پھر رونے.لگی.
[ ] …….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] جاری.ہے
