Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
[ ] شان اور ناصر اسٹیج سے نیچے ائے تو ہر کوئ آآ کے ناصر کو مبارک بعد دے رہا تھا کیونکہ گانا ختم.ہوتے ہی اناوسمنٹ ہوگئ تھی کہ ونر ناصر ہے..ناصر اور شان جب ان تینوں کے پاس پہنچے تو ماہ.اور نازنین نے ناصر کی بھر پور تعریف کی مگر پری چپ چاپ بس ناصر کو دیکھ رہی تھی..مگر ناصر کی اواز پہ ایک دم چونکی..
[ ] پری تم نے بتایا نہی کہ میں نے کیسا گایا…؟؟؟؟؟
[ ] ناصر بھا ئ سمجھ میں ہی نہی ارہا کہ.کن لفظوں میں اپکی تعریف کرو اپنے گایا ہی اتنا اچھا اور اتنا ایموشنل.. ناصر کو بھائ کہنے پہ جہاں ناصر کا منہ بنا وہی ماہ.اور نازنین نے بہت مشکل سے ناصر کا بنا منہ دیکھ کہ اپنا ابھرتا ہوا قہقہ.روکا..
[ ] یہ بول.کہ.پری شان سے ضد کرنے لگی…
[ ] بھائ چلے نہ بہت بھوک لگ رہی.ہے..
[ ] ہاں چلو پری کینٹین چلتے ہیں تم.لوگ بھی اجاؤ.. شان نے ان تینوں کو کہا..
[ ] ہاں تم.چلو شان ہم.اتے ہیں ماہ.نے شان کو جواب دیا..
[ ] شان کے جاتے ہی ماہ نے نازنین کو انکھ ماری ماہ اور نازنین ناصر کے دائیں بائیں اکے کھڑی ہوگئ دونوں نے اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھا.اور ایک ادا سے دونوں نے ناصر کے کان کے پاس سرگوشی..
[ ] منہ مت بناو ناصر..
[ ] وہ تو سنی ہوگی نہ.کہاوت..
[ ] “پہلے بھیا.پھر سئیا..”
[ ] یہ کہ دونوں نے اگے کو ڈور لگا دی.
[ ] جب ناصر کو ان دونوں کی بات سمجھ میں ائ تو وہ بس اپنا غصہ.کنڑول ہی.کرسکا.اور دنوں کے نمبر پر ایک.ہی تیکس چھوڑا..
[ ] ظالم حسیناؤں اپنا وقت انے دو پھر پوچھونگا…..
[ ] ان دونوں کو کینٹین پہنچے ہوئے ابھی تھوڑی دیر ہوئ تھی کہ ناصر بھی وہاں آا پہنچا.اور ماہ.اور نازنین کو گھور کے دیکھا…
[ ] یار شان کچھ ڈھنگ کا منگواؤ اور ہاں میرے دو برگر ایک بریانی کی پلیٹ اور ایک کوک. نازنین کا آڈر دیکھ کہ پری نے خوش ہوکے نازنین سے پوچھا..
[ ] نازنین اپی کیا اپ بھی کھانے پینے کی شوقین ہیں..
[ ] ہاں پری اور تم بھی فوڈی ہو کیا..؟؟؟؟
[ ] ہاں نازنین اپی بہت زیادہ…..
[ ] مگر پری تمہیں پتہ یہ ظلم.سماج ہمیشہ میرے کھانے پینے کو نظروں میں رکھتا ہے..
[ ] نازنین نے سڑ ہوا منہ بنا کہ ماہ کی طرف اشارہ کیا..
[ ] تو پری کو بھی جب اپنی جیسی دکھوں کی.ماری ملی تو وہ بھی اپنا غم باٹنے کے لیہ بولی..
[ ] نازنین اپی یہاں بھی یہہی حال ہے. پری کا اشارہ شان کی طرف ہے تھا..ان دونوں کا معصوم شکوہ سن کے باقی سب کا بھر پور قہقہ گونجا..
[ ] ابھی وہ.لوگ باتیں کررہے تھے..کہ شان کے موبائل پہ شاہ کی کال اگئ…
[ ] ہاں ہیلو شان.کہاں ہو تم.لوگ یار میں کب سے پوری یونی.میں ڈھونڈ رہا ہوں..
[ ] ارے شاہ.ہم لوگ کینٹین میں ہے وہی اجاؤ..
[ ] یہ کہہ کے شان نے کال کٹ کری تو ان لوگوں کا اڈر اگیا شان ناصر اور ماہ نے تو خالی.ایک.ایک کپ.کافی اڈر کی. تھی مگر نازنین اور پری کا اڈر دیکھ کے کوئ بھی اندازأہ لگاسکتا تھا کہ اس ٹیبل پہ کوئ پارٹی ہے.نازنین اور پری تو اپنا اڈر اتے ہی کھانے میں لگ گئ کہ جبھی تھوڑی دیر بعد شاہ بھی کینٹین پہنچ چکا تھا..ٹیبل پہ ایک انجان چہرہ دیکھ کے شاہ پوچھے بنا نہ رہ سکا..
[ ] ارے یہ ڈول.کون ہے بھئ اتنی پیاری سی..
[ ] اور پری اپنے اپکو ڈول کہنے پہ جھینپ گئ.شاہ کے سوال کا جواب شان نے دیا…
[ ] شاہ میری بہن ہے چھوٹی…
[ ] اوہ ہائے لٹل ڈول میں بھی اپکے لیہ اپکے شان بھائ کی طرح ہو..پتہ ہے میری کوئ سس نہی کیا اپ بنے گی میری لٹل سس..شاہ پری کو بلکل بچوں کی طرح ٹریٹ کررہا تھا یہ دیکھ کے سب کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ سوائے ایک کہ جو صرف اپنے کھانے میں لگی تھی..
[ ] ہاں سرور بھائ کیوں نہی…
[ ] ارے ڈول.اپکو میرا نام کیسے پتہ؟؟؟
[ ] شان بھائ نے بتایا تھا کہ ان کے 5 فرینڈ ہیں باقی سب سے تو میں مل.چکی تو اپ ہی بچے…
[ ] پری نے اتنی.معصومیت سے کہا کہ سرور کے چہرہ پہ ایک جاندار مسکراہٹ اگئ..
[ ] چلو بھائ اج سے اپکے تین بھائ.
[ ] میں شان اور ناصر..
[ ] سرور کا ایسا بولنا تھا..کہ نازنین کو پھنڈا لگا جبکہ نازنین کہ اس حرکت پہ سب اسکی طرف متوجہ ہوئے. ناصر نے گھور کے نازنین کو دیکھا جو شاہ سے چھپ نہ سکا..
[ ] کم کھاؤ نہ اتنا کیوں ٹھوس رہی ہو..ماہ نے تپ کہ کہا.
[ ] کیوں اپنی طرح سمجھا ہے جو صرف کھانے کو سونگتے ہیں بھئ کھاؤ پیو موج کرو کیا پتہ کل.ہو نہ ہو..
[ ] نازنین کی بات پہ پری بھی بول پری. ہاں اپی تھیک کہاں بلکل شاہ بھائ میں بھی کھانے پینے کی بہت شوقین ہو اگر اپنے میرے کھانے.کو شان بھائ کی طرح ٹوکا.تو میں ناراض ہوجاونگی..
[ ] اررے نہی بئھی پری میں پاگل ہوجو اپکو ٹوکونگا..
[ ] مگر کچھ لوگ کھانے کے علاوہ بھی اس پاس نظر ڈورا لیا کرے .شاہ نے
[ ] نازنین کو اپنی انکھوں سے اپنے دل میں اتارتے ہوئے نازنین پہ.چوٹ کی..
[ ] شاہ کی بات کا مطلب سمجھتے ہی سب نی اپنی گردن نیچے جھکا کہ اپنی.ہنسی روکنے کی.کوشش کی.
[ ] شاہ کی بات پہ نازنین نے نگاہ اٹھا کے شاہ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھنے میں مگن تھا مگر شاہ کی انکھوں میں جو پیغام تھا نازنین چاہ کر بھی.اسے پڑھنا نہی چاہتی تھی.. نازنین نے کھاتے کھاتے ہی شاہ.کو جواب دیا.
[ ] کیوں بھئ آس پاس کے لوگ کیا دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے جو میں نظر ڈوراؤ…
[ ] نازنین کے جواب پہ.سب کا قہقہ گونجا..جبکہ نازنین کے جواب پہ شاہ.کا منہ لٹک گیا..
[ ] ناصر نے شاہ کے کان کے پاس جھک کے ہلکی سی سرگوشی کی..
[ ] بیٹا بلبٹوڑی سے بچ کے رہنا کیونکہ یہ بلبٹوڑی عینک والے جن کے قبضے میں انے والی نہی….
[ ] ناصر کی بات پہ شاہ نے پہلے تو ایسے گھوا پھر اس کے کان کے پاس جھک کے اسنے بھی اسی کے انداز میں سرگوشی کی…
[ ] تو تیرا کیا خیال ہے سامنے بیٹھی ڈول کے لیہ میں اور شان تجھ جیسے لللو کا انتخاب کرینگے..
[ ] شاہ کی بات پہ ناصر پہلے تو تھوڑا گھبرایا پھر ہلکے سے شاہ سے بولا.. شاہ پری اور شان اس بات سے انجان ہیں پلیز مذاق میں بھی یہ بات کبھی ان دونوں کے سامنے نہی بولنا ہاں ماہ
[ ] اور نازنین واقف ہیں…
[ ] شاہ نے اسے کہا کہ اعتبار کر مجھ پہ…
[ ] یہ بول کے جہاں شاہ مسکرایا وہی ناصر کے بھی لبوں پہ دھیمی مسکراہٹ اگئ..ماہ اور شاہ باتوں میں لگے تھے تو اس لیہ کسی نے ان دونوں کی.کانا پھوسی پہ غور نہی کیا مگر نازنین کے کان ان دونوں کے ہی طرف لگے تھے ..شان اور ناصر نے جب سامنے دیکھا تو نازنین ان دونوں
[ ] کو ہی گھور رہی تھی..
[ ] ناصر نے تو بچنے کے لیہ منہ ادھر ادھر کرلیا جبکہ شاہ.اسکی انکھوں میں انکھین ڈال کے ابرو اچکا کے اسے اسی.کے انداز میں گگھورنے لگا
[ ] نازنین نے جب دیکھ کہ شاہ تو نظر ہٹا ہی.نہی رہا تو نازنین نے اپنی انکھیں گھمائ اور بھینگی بن گئ
[ ] نازنین کی اس حرکت پہ شاہ کا زندگی سے بھر پور قہقہ گونجا. سب نے شاہ کو دیکھا مگر شان شاہ سے پوچھ بیٹھا…
[ ] کیا ہوا شاہ کس بات پہ.اتنے خوش ہو؟؟!
[ ] یار شان بعد میں بتاونگا شاہ نے آنکھ مار کے شان سے کہا تو شان سمجھ گیا.کہ.نازنین نے ہی.کچھ کرا ہوگا….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ازلان ایک بجے کے قریب گھر ایا تو فائزہ وائٹ اور بلیو کنڑاس کے سوٹ میں بلکل ریڈی بیٹھی.تھی اسکو دیکھ کے ازلان کا لگا جیسے وہ کہی جارہی ہے.. اتنے میں اسکا اندازہ صحیح نکللا کیونکہ.نازو
[ ] بھی ریڈی ہوکے ائ تو فائزہ بھی جانے کے لیہ کھڑی.ہوگئ..
[ ] وہ دونوں جانے کے لیہ جیسسی اگے بڑے تو ازلان کو سامنے پایا. فائزہ تو اسکو اگنور کرکے نازو کو بولتی ہوئ باہر نکلی…
[ ] ماما جلدی اجائے دو بجےڈاکٹڑ کی اپائنمنٹ ہے..
[ ] ازلان کی نظروں نے گھر کے باہر نکلنےتک فائزہ کی پشت کو گھورا. وہ پلٹا تو نازو اسی کو تک رہی تھی..
[ ] نازو کے ایسے تکنے پہ ازلان تھوڑا سا نروس ہوا اور پھر سنبھل.کر نازو سے پوچھا..
[ ] چچی کہی جارہی ہیں.؟؟؟
[ ] ہاں فائزہ کے گلاسسس بنوانے لینس لگانے سے اسکے سر میں درد رہنے.لگا ہے..
[ ] اوہ…
[ ] ازلان ؟؟؟
[x]
[ ] نازو نے اسے پکارہ..
[ ] جی چچی……
[ ] بیٹا کچھ ہوا ہے کیا فائزہ اور تمہارے درمیان بہت چپ.چپ ہو تم دونوں ؟؟؟
[ ] چچی کچھ لڑائیاں ایسی ہوتی ہیں جنکو وقت اور حالات کے حساب سے لڑنا پڑتا ہے..
[ ] کیا مطلب ازلان بیٹا میں کچھ سمجھی نہی…
[ ] چھوڑے چچی اپ سے ایک ریکوسٹ ہے..؟؟؟
[ ] ہاں بولو…
[ ] اپکی شیرنی بیٹی کو میں لیجاؤ ڈاکٹر کے پاس؟؟؟
[ ] ہاں لیجاو اس سے اچھی بات کیا ہوگی…
[ ] تیھنکیو چچی….
[ ] یہ بول کے ازلان باہر کو نکلا تو نازو بھی اماں جان کے کمرے کی طرف چل.پڑی….
[ ] ازلان باہر نکلا تو فائزہ انکھین موند کے ایسی کی کار سے تیک لگا کے کھڑی تھی..
[ ] ازلان بنا اواز پیدا کیہ اسکے سامنے جا.کے کھڑا ہوگیا..ایک جانی پہچانی پرفیوم کہ خوشبو محسوس کرکےفائزہ نے پٹ انکھیں کھولی.تو ازلان کو خود کو تکتا پایا…
[ ] وہ ازلان کے سائڈ میں سے نکلنے لگی تو ازلان نے اسکی.کلائ.پکڑ کے کہا.
[ ] چچی.کو دادو نے کام سے روک لیا ہے چچی نے کہا ہے کہ میں تمہیں لیجاو ڈاکٹر کے پاس گلاسس کے لیہ.
[ ] ازلان کے بولنے کے باوجود فائزہ نے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے اپنی.کلائ چھڑوائ.اور کہا..
[ ] تمہارے ساتھ جانے سے بہتر ہے کہ میں بنا گلاسس کے ہہی رہو یہ بول کہ جیسی ہی فائزہ جانے لگی ازلان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھایا. اور خود گھوم کے ڈرائیونگ سیٹ پہ اکے گاڑی اسٹارت کردی فائزہ نے بیٹھتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولنے کی.کوشش کی تو ازلان پہلے ہی دروازہ لاک کرچکا تھا..
[ ] فائزہ نے ااگے بڑھ کے کار کی چابی نکالنی چاہی تو ازلان نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی گاڑی روکتے ہی فائزہ ایک دم پیچھے ہوئ تو ازلان نے اسے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور اسکی.انکھوں میں انکھیں ڈال.کر کہا..
[ ] چپ چاپ بیٹھی رہو ورنہ پھر میں کچھ کرونگا تو تمہیں تکلیف ہوگی..
[ ] اور اتا بھی کیا ہے تمہیں صرف ڈرانا اور تکلیف دینا.فائزہ نے چیخ کے اسے جواب دیا
[ ] جب پیار کیا تمہہں منتیں کری تھی تمہاری جب تم نے کیا.کیا تھا.. اپنے اس عاشق کے گھٹیا پیار کے پیچھے تم اتنی اندھی ہوگئ کہ میںرے انسو
[ ] بھی نظر نہی ائے تمہیں…
[ ] فائزہ نے خود کو اس سے ازاد کروایا اور کھڑکی کی طرف منہ کرکے بیٹھ گئ مطلب صاف تھا کہ ایسے اس ٹاپک پہ.بات نہی.کرنی..
[ ] ازلان نے بھی گاڑی اسٹاڑٹ کردی گاڑی تھوڑی دور ہی.گئ تھی کہ ایک بار پھر ازلان نے.کہا.
[ ] اپنی بڑی امی کے سامنے.کیوں نہی کہا کہ تم کسی.کو پسند کرتی ہو اتنا اچھا موقع ملا تھا تمہیں مجھ سے جان چھڑوانے کہا..ازلان نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا..
[ ] ازلان کا ایسا بولنا تھا کہ.فائزہ کو تو اگ لگ گئ وہ ایک جھٹکے سے مڑی اور کہا.
[ ] تم بھی تو اپنی ماما کو یہ بول کے منع کرسکتے تھے کہ.فائزہ مجھے نہی.کسی اور کو پسند کرتی ہے اور مجھے نفرت ہے فائزہ کے چہرہ سے.. یہ بول.کے فائزہ واپس اپنی پوزیشن
[ ] میں بیٹھ گئ ازلان کو غصہ توبہت ایا مگر وہ خاموش رہا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھادی اور فائزہ اسکی اس حرکت پہ سمجھ گئ کہ اسکی بات ازلان کے دماغ پہ لگی… ڈاکٹر کو دیکھانے سے لے کر گلاسس بنوانے تک.ہر کام ازلان نے کیا مگر نگاہ.اٹھا کہ فائزہ کی طرف نہی دیکھا گھر کے پاس فائزہ کو اتار کے اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی.اگے بڑھادی.فائزہ.کی نظروں نے دور تک اسکی گاڑی کو دیکھا..اور ایک لمبی سانس لیہ کے گھر کے اندر داخل.ہوگئ…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] کچھ دیر میں شان اور ماہ.کی پرفامنس تھی تو وہ سب اڈیٹوریم کی طرف چل پڑے پری ماہ اور نازنین چینجگ روم کے طرف بڑھے تو
[ ] شان بھی چینجگ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ شاہ اور ناصر شان کا باہر ویٹ کرنے لگے.. کہ ایک دم ناصر نے شاہ سے سوال کیا..
[ ] نازنین میں انٹڑسٹڈ ہو کیا؟؟؟؟
[ ] ناصر کے سوال پہ شاہ نے اسکے سوال کا جواب دینے کے بجائے الٹا. سوال کیا..
[ ] پری سے محبت کرتے ہو؟
[ ] دونوں ایک دوسرے کے سوال پہ مسکراگئے..
[ ] ابھی ناصر شاہ.کے سوال کا جواب دیتا کہ اتنے میں شان چینچنگ روم سے باہر ایا..
[ ] بلیک سمل قمیز شلوار پہ بلیک پشاوری چپل پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیہ ہلکی بریڈ اور اپنی.ہزیل گرین انکھوں کے ساتھ وہ سچ مچ کا شہزادہ لگ رہا تھا.ناصر اور شاہ کے منہ سے شان کو دیکھ کے ایک دم ماشاءاللہ نکلا…..
[ ] تو ادھر بیلیک گھیر دار فروک کے ساتھ بلیک چوڑی دار پاجامہ پہنے ہم رنگ دوپٹہ لیہ کالی انکھیں جو کاجل لگنے سے اور حسین ہوگئ تھی بلیک ہی کھوسہ پہنے اور ریڈ لپسٹک لگائے ماہ کو دیکھ کے بھی پری اور نازنین نے بے ڈھڑک ماشاءاللہ کہا جبکہ پری نے تو ماہ کے ساتھ سیلفی لے ڈالی وہ.لوگ آڈیٹوریم پہنچے تو نازنین اور پری تو آڈیینس میں جاکہ بیٹھ گئ جبکہ شان ناصر اور شاہ بیک اسٹیج پہنچ گئے. شان نے جب ماہ کو اتے دیکھا تو پلک جھبکانا بھول گیا…
[ ] شاہ اور ناصر نےماہ.کو اتا دیکھ کے اگے جاکے اوڈیینس میں بیٹھ گئے..
[ ] ماہ نے جب شان کو دیکھا تو ایک عجیب سا احسس ہوا جیسے اس نے اپنا وہم سمجھ کے جھٹک دیا..
[ ] وہ دونوں اسٹیج پہ.ائ تو ایک دم لائٹ بند ہوی تو ہلکی دھیمی ریڈ لائٹ اون ہوگئ ماحول میں ایک سحر سا طاری ہوگیا کہ ایک دم ان کا سانگ پلے ہوا اور وہ دونوں قریب ائے…
[ ] دو لفظ کی ہے باتیں کہی ہے….
[ ] شان نے ماہ کا ہاتھ پکڑ کے اسے گھما کے اپنی طرف کیا…
[ ] کیوں درمیاں پھر رکی رکی..
[ ] ایک جھٹکے سے ماہ.اس سے الگ ہوئ اور گھوم کے شان کے کندھے پہ اکے اپنے ہاتھ رکھے…
[ ] کہہ بھی نہ پائے رہ بھی نہ پائے..
[ ] شان نے ماہ کو اگے لاکے اسے کی انکھوں میں دیکھا..
[ ] کیوں بے وجہ ہے یہ تشنگی..
[ ] ماہ شان سے دور ہوکے اسکے چاروں طرف گھومی…
[ ] ہم میں تم ہو تم میں ہم ہیں
[ ] شان نے ماہ کی طرف ہاتھ بڑھایا ماہ.کا ہاتھ تھام تے ہی
[ ] تم سے ہم ہیں ہم سے تم ہو
[ ] شان نے جھٹکے ماہ.کو اپنی طرف کھینچا ایک پل.کے لیہ ماہ شان کی انکھوں میں کھو گئ….
[ ] قسمتوں سے ملتے ہیں دو دل یہاں.
[ ] شان نےایک دم.ماہ.کو کمر
[ ] سے تھام کر اپنے سے اونچا کیا تو ماہ
[ ] نے بھی شان کے کندھے کو اپنے ایک ہاتھ سے تھاما
[ ] ہر کسی کو نہی ملتا یہاں پیار زندگی
[ ] شان نے ماہ .کو ایک دم اپنے سے لگا کے اونچا کیا اور گول گول گھمانا اسٹارٹ کیا ماہ اور شان نے گھومتے گھومتے ہی.اپنا اپنا ایک ہاتھ ہوا میں چھوڑ دیا..
[ ] ااسٹیج پہ چلتا گانا شان کی محبت کی عکاسی.کرہا تھا تو ادھر ماہ پہ شان کی شخصیت کا ایک سحر طاری ہوگیا وہ.کسی گڑیا کی طرح شان کے ہاتھوں سے گھوم رہی تھی شان کی بولتی انکھوں نے ماہ.کو بہت کچھ جتا دیا تھا.گانا ختم ہوتے ہی پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا.تو ادھر پردہ.گرنے کے باوجود شان نے ماہ کو کمر سے تھاما ہوا تھا تو ماہ نے بھی اسے کندھوں سے تھاما ہوا تھا..
[ ] دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ دونوں ایک دوسرے کی سانسیں اپنے چہرہ پہ.محسوس کررہے تھے..شان نے دل سے دعا کی کہ کاش یہ پل.یہہی تھم جائے..
[ ] تو دور کسی کے کیمرے نے انکے ڈانس کے وہ لمحات اپنے کیمرے میں قید کیہ.جس میں وہ.بے حد قریب تھے..
[ ] ماہ.ایک.جھٹکے سے شان سے الگ ہوئ تو ایک سحر تھا جو توٹا تو شان کو بھی اپنی.پوزیشن کا احساس ہوا تھوڑی دیر بعد. نازنین ,ناصر, شان اور پری بیک اسٹیج پہنچ چکے تھے سب ہی.نے ان دونوں.کی.کیمسٹری کو بہت سراہا..
[ ] پری تو خوشی سے شان کے گلے لگ گئ اور کہا.
[ ] بھائ قسم سے اپنے بہت بہت اچھا ڈانس کیا.پری کے.بولنے پہ شان نے پیار سے اسکے گال پہ.ہاتھ رکھا..تو ادھر ماہ.اپنی.دل.کی.کیفیت پہ.حیران تھی. اسکا گھبراتا چہرہ نازنین سے نہ چھپ سکا..رزلٹ اناؤنس ہونے پہ ابھی 10 منٹ تھے تو پری نازنین ماہ. کے ساتھ چینجنگ روم.کی طرف چلے گئے جبکہ شان انہی کپڑوں میں رہا جس میں سے اب ماہ کی خوشبو اراہی تھی..
[ ] ان تینوں کے جاتے ہی شاہ نے شان سے کہا..
[ ] واللہ.کیا ڈانس تھا. شان ویسے اس سے اچھا موقع نہی تھا اپنی محبت کا اظہار کرنے.کا…
[ ] شاہ کی بات پہ.شان ایک دم چونکا ..اور ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ شاہ کو کہا.
[ ] “جن کا ملنا قسمت میں نہی ہوتا
[ ] ان سے محبت کمال کی.ہوتی ہے”
[ ] شاہ کو شان کی بات سمجھ نہی ائ.اس نے سوالایاں نظروں سے شان کو دیکھا…
[ ] شان کیا مطلب ہے تیری بات کا میں سمجھا نہی…
[ ] شان نے اسکے سوال کا جواب دینے کے بجائے گردن جھکالی..ناصر جو شان کی.حالت سے اچھے سے واقف تھا. اسنے دھیرے سے شاہ کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور اہستہ اہستہ شاہ.کو ماہ اور شاہمیر کے بارے میں بتایا.کینٹین والے واقعے سے لے کے ہر بات اس نے شاہ کو بتا دی شان ماہ سے محبت کرتا ہے اسکا اندازہ بہت پہلے ہی شاہ کو ہوگیا تھا مگر ماہ.کسی اور میں انڑاسٹڈ ہے یہ بات شاہ.کو اج.ناصر سے پتہ چلی.. شاہ کو اپنے دوست کے لیہ بہت دکھ ہوا شان کو دیکھ کے شاہ.کو کبھی.اندازہ
[ ] ہی نہی.ہوا کہ اسکے دل میں کتنا درد چھپا ہے شاہ ارام سے شان کے پاس ایا اور اسکے سامنے اکے کھڑا ہوگیا.جو گردن جھا کے دیوار سے ٹیک لگا کہ زمین کو گھورنے میں مگن تھا….
[ ] شاہ نے اہستہ سے شان سے کہا..
[ ] شان میںری.ماما کہتی ہیں اگر نیت سچی ہو تو الللہ بھی ساتھ دیتا ہے تیرہ محبت سچی ہے انشاءاللہ وہ تیری ہی ہوگی..
[ ] شان کے لبوں پہ.ایک تلخ سی مسکراہٹ ائ…
[ ] شان نے شاہ کو صرف اتنا کہا…
[ ] “محبت تھی اس لیہ جانے دیا
[ ] ضد ہوتی تو اج بانہوں میں ہوتی”
[ ] یہ بول.کے شان نے شاہ.کو انکھ ماری تو شاہ اور ناصر دونوں ہی مسکراگئے..
[ ] مگر شان ناصر نے بتایا کہ شاہمیر اسکے ساتھ فئیر نہی..
[ ] مگر شاہ ماہ اسکو چاہتی.ہے اور بس وہ شاہمیر کے ساتھ خوش رہیے میں بس یہی چاہتا ہو.ضروری نہی ہم.جیسے چاہتے ہوں اسکا ساتھ ملنا بھی ضروری ہو..دور رہ کے بھی محبت نبھائ.جا سکتی ہے..یہ بول.کے شان نے شاہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا.اور باہر جاکہ حال میں بیٹھ گیا.
[ ] شان کے جانے کے بعد شاہ ناصر کے پاس ایا اور صرف اتنا کہا..
[ ] اب بھی تو چاہتا ہے کہ پری تیری محبت سے انجان رہے.. شان کی مثال تیرے سامنے ہے اگے تو خود سمجھدار ہے..
[ ] یہ بول کے شاہ بھی شان کے پیچھے چل دیا…..لیکن ناصر کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرگیا…..
[ ] وہ دونوں بھی جب شان کے پیچھے حال.میں پہنچے تو وہ.شان کے ساتھ وہ تینوں بھی سامنے ہی بیٹھی دیکھ گئ ….
[ ] تھوڑی دیر میں
[ ] رزلٹ اناؤنس ہوا تو ماہ اور شان کو ونر قرار دیا گیا..
[ ] وہ دونوں جب اسٹیج پہ ٹرافی لینے پہنچے تو پورا حال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا.. ان دونوں کے ساتھ ناصر کو بھی سنگنگ کومپیٹیشن جیتنے پہ.ٹرافی سے نوازا گیا..
[ ] ماہ اور شان کو ایک.ہی ٹرافی سے نوازا گیا جسکو ماہ.نے.شان کے ہی حوالے کردی..
[ ] وہ لوگ جب حال سے باہر ائے تو شاہ پری اور نازنین نے ان تینوں سے ٹریٹ کا کہا جو ان تینوں نے ہنستے ہنستے قبول.کرلی..تھوڑی دیر بعد وہ سب اپنے اپنے گھر کی طرف روانہ.ہوگئے..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ازلان افس پہنچا تو اسکے سر کا درد اور بڑھ گیا اج صبح سے ہی اسکی طبیعت تھیک نہی تھی.مگر اج NJ gruops of compnyکے اونر کے ساتھ اسکی دوپہہر کی میٹنگ تھی وہ اسی ارادے سے اج گھر گیا تھا کہ تھوڑا ارام.کرکے وہ میٹنگ کے لیہ جائے گا مگر فائزہ کی باتوں کی وجہ سے وہ اسکو چھوڑ کے سیدھا افس اگیا…
[ ] وہ جہانگیر کے کیبن کی طرف چل.پڑا..
[ ] اسنے دروازہ ناک کیا اور ہلکا سا اندر جھانک جہانگیر سے اندر انے کی.اجازت مانگی..my i comin papa..
[ ] جہانگیر جو لیپ ٹوپ.پہ.مصروف تھا.ازلان کی اواز پہ ایک دم اسے دیکھا اور اسکی اجازت پہ اسے اندر انے کو کہا..
[ ] ازلان کے اندر اتے ہی جہانگیر نے اسکا چہرہ گور سے دیکھا جو بہت ڈل لگ رہا تھا…
[ ] کیا ہو ازلان بیٹا طبیعت تو تھیک ہے تمہاری…؟؟؟
[ ] جی پاپاوہ بس اج سر بہت درد کررہا ہے…
[ ]
[ ] تو اوف لے کے ارام کرلو…
[ ] سوچا تو یہی تھا پاپا مگر اج میٹنگ ہے ہماری NJ group of compny
[ ] کے اونر کے ساتھ….
[ ] اوہہوو میں تو بھول ہی گیا تھا..چلو تم ارام کرو میں اٹینڈ کرلونگا میٹنگ.. ..
[ ] are you sure papa
[ ] ازلان نے جہہانگیر سے پوچھا…
[ ] yes my child if you dout your father experince
[ ] جہانگیر نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ ازلان سے پوچھا..
[ ] ارے نہی پاپا میرا وہ مطلب نہی تھا…
[ ] ہممممم…
[ ] تم ارام کرو اور ہاں اس گروپ کی فائل.مجھے بھجوادو…
[ ] اوکے پاپا.یہ بول.کے ازلان دروازہ تک پہنچا ہی تھا کہ جہانگیر کی اواز پہ ایک دم.پلٹا ..
[ ] ازلان NJ group کے اونر کا نام.کیا.ہے…
[ ] پاپا شاید حیدر……
[ ] ….جاری ہے..
