Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

[ ] اندر انے والے نفوس نے جب دیوار پہ بڑی انلاج ہوئ تصویر دیکھی تو الٹی باہر کی طرف ڈور لگائ……
[ ] حیدر نے جب دیکھا کہ.انے والا لوٹ گیا..
[ ] تو حیدر خود اٹھا اور ہاتھ دیکے نور کو بھی.اٹھایا…
[ ] نور کہ جھکے سر کو دیکھ کہ حیدر کو احساس ہوا کہ.شاید نور بہت ڈر گی ہے…
[ ] نور پلیز ایسا میں نے جان بوجھ کہ.نہں کیا اگر انے والا ہمیں اس حالت میں دیکھ لیتا تو بہت باتیں بنتی مجھے اپنی پرواہ نہں مگر میں تم پہ.اٹھتی انگلی برداشت نہں کرسکتا….نور نے ایک دم اسے نگاہ اٹھا کہ دیکھا.نور کو حیدر کی.انکھوں میں اپنے.لیہ صرف پیار اور عزت دیکھائ دی..نور جیسے ہی جانے لگی حیدر نے اسے اواز دی..
[ ] نور؟؟
[ ] جی…..
[ ] مجھے نہں پتہ یہ وقت ان باتوں کا ہے یہ نہں مگر مجھے ایسا لگتا ہے اگر اج نہیں کہہ پایا تو کبھی کہہ نہیں پاونگا….
[ ] میں نے اپنی زندگی کے 24 سال باہر گزارے ہیں ماں باپ.کا چند سال پہلے ایکسڈنٹ ہو گیا.تھا..
[ ] کچھ سال.پہلے جہانگیر سے ملا تو مانو کوی بھای.مل.گیا ہو.. ایک دادی بھی.ہیں مگر انکی.اپنی حالت تحیک نہں اسلیے وہ ہاسپتل میں ہی ہوتی ہیں…جہانگیر سے کافی دفعہ اپکا زکر سن تو اکثر اپکو دیکھنے کا تججسس ہوا..
[ ] اور جب اپکو دیکھا تو لگا اپ ہی.ہیں جو میری تنہایاں دور کر سکتی ہین..میں اپ سے بہت محبت کرتا ہو زندگی بن گی ہیں اپ میری ہمیشہ کے.لہے اپکا ساتھ چاہتا ہو…اپ میری اور جہانگیر ک رشتہ جانتی.ہیں میں چاہ.کہ.بھی اسکا بھروسہ توڑ نہں سکتا….لیکن میں وہاں جاکہ اپنے اور اپکے مطلق اس سے بات ضرو کرونگا…اگر اپکو بھی مجھ سے محبت ہے تو اپکا کمرے میں ایک گفٹ رکھا ہے..اگر اپ نے اسسے میرے یہاں سے جانے سے پہلے پہن.لیا توجھ سے زیادہ کوئ خوش نصیب نہہں ہوگا.اور اگر اپنے نہں پہنا تو تب بھی.اپ سے کوئ شکایت نہں..یہ بول.کہ جیسے ہی حیدر خاموش ہوا ویسے ہی نور نے باہر کو ڈور لگائ. اور نور کو حیدر کا قہقہ اپنے پیچھے سنائ دیا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اماں جان جو کافی وقت سے نور کو ڈھونڈ رہی تھی انہوں نے اپنے پاس سے گزرتی شاہین سے پوچھا….
[ ] شاہین تم نے نور کو دیکھا.کیا…
[ ] جی خالہ جان وہ اوپر کی طرف گی ہیں اپ رکے میں دیکھتی ہو شاہین نور کو ڈھونڈتے ہوے ایک.کمرے میں داخل ہوی مگر جیسی ہی اسکی نظر دیوار پہ لگی جہانگیر کی تصویر پہ.گی اس نے کمرے کے دروازہ سے ہی باہر کو ڈور لگائ…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤حیدر تیار ہوکے نیچے ایا تو کتنی ہی نظریں اس پہ ٹھر گی وہ عالم سے جاکے گلے ملا اوع صباکو سلام.کیا…
[ ] اسٹیج سے اترتے وقت جیسے ہی اسکی نگاہ نور پہ.گی جو اسی.کو دیکھنے.میں مگن تھی ایک دم رخ موڑ گی…
[ ] اور کسی نے نہیں مگر جنید اور بی جان نہ یہہ منظر بہت گور سے دیکھا.اور انکو نور کے.لہیہ.افریدی.کا انکار سمجھ میں اگیا..مایوں.مہندی کا فنکشن ختم.ہوا تو سب چیزوں سے نپٹنے کے بعد جیسی ہی نور اپنے بستر پہ لیٹی تو اسے حیدر کا گفٹ یاد ایا وہ اٹھی اوع گفٹ دھونڈنے لگی جو اسے سامنے ڈریسنگ پہ رکھا مل گیا..جیسی نور نے گفٹ کھولا….
[ ] اندر ایک خوبصورت رنگ تھی اور ساتھ میں ایک چٹ تھی جسمیں لکھا تھا…i love you. noor plz maari zindagi ma bhe noor bekhar do
[ ] چٹ پڑھ کہ نور نے چٹ کو چوم لیا.اور رنگ پہن لی کل کیا ہوگا کیا نہں اسکے اور حیدر کے رشتہ کو اماں جان اپناے گی یہ نہں یہ سب وہ سوچنا نہں چاہتی تھی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اج برات تھی تو ہر جگہ افراتفری مچی ہوی تھی..نور صبح سے حیدر کے سامنے نہہں ای تھی اور یہ.ہی بات حیدر کی جان خشک کییے ہوے تھی..نور کی راہ تکتے تکتے ہی برات لے جانے.کا ٹائم ہوگیا تھا….حیدر کا لٹکا منہ دیکھ کہ جہانگیر صبح سے ہی اپنی ہنسی روک رہا تھا کیونکہ وہ.حیدر کی انکغوں میں نور کے.لیہ پسند دیکھ چکا تھا…
[ ] حیدر اپنی ہی سوچوں.میں گم تھا.جب اسکی نظر سامنے سے اتی نور پہ پڑی ریڈ بلڈ شرارہ اور گولڈن شارٹ قمیز کے ساتھ میچنگ دوپٹہ لیہ بالوں کو ازاد چھوڈے اج وہ ایسی کہی کی شہزادی لگ رہی تھی..مگر جیسی ہی نظر اسکے ہاتھ مے موجود رنگ پہ.گی حیدر ایک د. خوشی سے نور کو دیکھا اور نور ہاں میں گردن.ہلا کے عالم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] بررات کا شاندار استقبال.کیا گیا..نکاح کہ بعد کھانے.کا دور چلا سب ہی کھانے میں مگن تھے نور کھانا کھا چکی تھی اسلیے ہاتھ دھونے جیسی ہی وہ لان سے باہر ای..کسی.نے اسک ہاتھ پکڑ کہ کھینچا اور اسے دیوار سےلگا دیا..
[ ] اس سے پہلے نور چیختی حیدر نے اسکے لبوں پہ.اپنے.ہاتھ رکھ دیے..
[ ] نور نی جب حیدر کو دیکھا تو سکون کا سانس لیا.مگر حیدر کی انکھوں میں محبت کے جزبات دیکھ کہ وہ.نگاہ جھکا گی..حیدر نے اسکا رنگ والا ہاتھ پکڑا اور اس پہ.اپنے لب رکھ دیے..
[ ] تھینک یو نور تم.نہں جانتی تم نے مجھے کتنی بڑی خوشی دی ہے صبح سے جب تم.نہں دیکھی تو تم جانتی نہں ایسا لگا کہ شاید تم انکار کردوگی..
[ ] نور تم بھی.مجھ سے محبت کرتی.ہونا.
[ ] حیدر مجھے نہں پتہ میں اپ سے محبت کرتی ہو یاں نہیں مگر میں اپنی پوری زندگی اپکے ساتھ گزارنا چاہتی ہو…
[ ] نور کا ایسا بولنا کہ حیدر نے اسکے.ماتھے.پہ.اپنے.لب رکھ دیے…نور نے شرما.کہ اپنی.گردن جھکا دی..حیدر نے اسے الگ.کیا تو وہ ڈورتی.ہوی اندر چلی گی اور حیدر دوسری طرف..برات کے بعد ولیمہ بھی ساتھ خیریت سے نیپٹ گیا فجر میں حیدر اور جہانگیر کی فلائٹ تھی اس لیے کوی بھی نہں سویا تھا مگر عالم اور صبا کو انکے.کمرے میں بھیج دیا تھا سب ہی بیٹھے تھے جبھی حیدر اور نور کو اکیلے میں ملنےکا موقع نہں ملا اور اسے میں ان کے جانے کا وقت ہوگیا نور تو جہانگیر کے.گلے.لگ کہ.بہت روی حیدر کو بھی سکون نہں اراہا تھا نور کے بغیر جہانگیر اور حیدر سب سے ملکے.گاڑی میں بیٹھ گے اور نور نے جب تک گاڑی کو جاتے دیکھا جب تک گاڑی نظروں سے اوجھل نہں ہوگی….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] گاؤں کے حدود سے جیسے گاڑی باہر نکلی تو جہانگیر نے اپنے برابر میں بیٹھے اپنے جگر کو دیکھا جو بظاہر تو باہر دیکھنے میں مصروف تھا.مگر جہانگیر جانتا تھ کہ اسکہ دل کی حالت کیا ہے….
[x]
[ ] جہانگیر نے اسے تنگ کرنے کا سوچا…
[ ] حیدر ؟؟
[ ] ہمم حیدر نے باہر دیکھتے دیکھتے ہی جواب دیا ….
[ ] کیا.ہوا نور مانی نہں…
[ ] اور حیدر جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھا بول.پڑا..
[ ] نور تو مان گی مگر تجھ سے کیسے بات کرو یی سمجھ.نہ..ابھی حیدر کے الفاظ منہ میں ہی تھے جب وہ چونکا کہ.کیا بول گیا…..
[ ] اسنے گھبرائ حالت میں جہانگیر کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا..
[ ] جہانگیر اس سے زیادہ اپنے ایکسپریشن چھپا نہں سکتا تھا اس لیہ ہنس پڑا..
[ ] اور ادھر حیدر جو پہلے تو سمجھا نہں مگر جیسے ہی اسے جہانگیر کی بات سمجھ ای وہ.بھی مسکرا پڑا.اور شرما کہ گردن نیچے جھکا.لی..
[ ] اور بس جہانگیر کو موقع مل گی اسے تنگ کرنے کا…
[ ] اوہ حیدر خان شرماتہ بھی ہے جو بنا جیجھک ہر ایک کو اپنی بات بول دیتا ہے وہ اج شرما رہا ہے…
[ ] حیدر نے جہانگیر کو گھورا اور بولا..
[ ] سالہ تجھے سب پتا تھا..
[ ] ہاں اوے سالہ بولا تو رشتہ کینسل…
[ ] ہاں ہاں اب تو تو بھرم.دیکھاے گا…
[ ] ارے نہں یار تو جگر ہے میرا میری نور کو ہمیشہ خوش رکھنا.یار وہ بہت معصوم.ہے..یہاں انے کے بعد بابا نے بھی نور کے لیہ بابا نے تیرا نام لیا تھا اور تو سوچ نہں سکتا حیدر میں اج کتنا خوش ہو کیوں کہ میں نے نور کی.انکھوں میں اج تیرے لیہ محبت دیکھی ..
[ ] حیدر کی.انکھوں میں انسو اگے اور جزبات میں جہانگیر کے گلے لگ گیا…
[ ] جہانگیر اگر مجھے اپنی جان کی بھی بازی.لگانی پڑھے تو بھی میں نور کا ساتھ کبھی نہں چھوڑنگا..
[ ] انشاءللہ بس بابا نے کہا جب تمہارا کورس مکمل ہوجاے گا تو پھر شادی کی ڈیٹ رکھینگے..
[ ] اوہ یار یہ کورس کب ہو گا مکمل حیدر کے جملہ پہ پہلے جہانگیر نے ایک ابرو اچکا کہ دیکھا پھر گاڑی میں دونوں.کا قہقہ گونجا…….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] گاوں سے ہاسٹل اتے ہوے شاہین کو رات ہوگی تھی اسلے ابھی تو اسے علی سے ملنا مناسب نہں لگا اور وہ سوگی….
[ ] صبح سب سے پہلے اس نے علی کو کال.. اور اواز ایسی بنائ کہ اسکی شادی ہوگی..
[ ] ہیلو علی..
[ ] ہاں شاہین تم اگئ… ؟؟؟؟
[ ] ہاں صرف ایک اخری بار ای ہو یونی.کی.کچھ چیزیں لے نے شاہین نے اتنی افسردگی اواز میں کہا کہ.علی واقعی سمجھا.کہ اسکی.شادی ہوگی.. اور شاہین نے اپنی ہنسی بہت
[ ] مشکل سے روکی..
[ ] اچھا کیا ہم مل سکتے ہیں علی نے پوچھا…..؟؟
[ ] ہاں تم یونی کے بیک پہ اجاو میں وہی اراہی ہو…
[ ] اوکے علی نے بول کے کال رکھ دی..
[ ] کال رکھتے ہی شاہین اپنی ہنسی روک نہں پای..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] شاہین یونی.کے بیک سائڈ پہ گی تو اسنے دیکھا کہ علی گردن جھکاے بیٹھا تھا..ایک پل کےلیہ شاہین کو لگا کہ اس نے شاید مزاق کرکے غلطی کی مگر پھر اس نے اہنے اپ کو سنبھالا.اور جاکے علی کے سامنے کھڑی ہوگی..
[ ] علی.نے جب شاہین کو دیکھا تو اٹھ کھرا ہوا..دونوں.ایک دوسرے.کو دیکھتے رہے اس سے پہلے علی کچھ بولتا.شاہین اسکے سینے سے لگ گی اور اسےجہانگیر کا انکار سے لے کر شادی کے تین سال تک کا سب بتا دیا..
[ ] علی نے گلے لگے لگے شاہین سے پوچھا.
[ ] شاہین تم سچ کہہ.رہی ہو
[ ] شاہین نے گلےلگے ہاں میں گردن ہلائ اور علی نے اسے اور اپنے سینے میں بھیچ لیا..
[ ] تھوڑی دیر میں الگ ہوے تو علی نے شاہین کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور بولا…
[ ] شاہین جب تم نے بتایا کہ تم اخری بار ای تو مجھے ایسے لگا کہ میںری سانسیں رک جائینگی مجھے نہں پتا کہ اگر یہ سب سچ ہوتا تو میں کہاں جاتا زندہ ہوتا بھی کہ نہں مگر تم نے اج مجھے یہ بتا کہ اج بھی تم صرف میری ہو مجھے زندگی کی نوید سنائ ہے…
[ ] ہاں مگر جو تم نے مجھے کال پہ مجھے تنگ کیا ہے اسکی سزا ملے گی…
[ ] اور علی کی بات سن کے شاہین نے گھبرا کہ علی کو دیکھا.. اوراسنے علی کی انکھوں میں اپنے لیہ ایک حترام دیکھا
[ ] وہ شاہین کہ چہرہ پہ جھکا تو شاہین نے اپنی انکھین بند کرلی علی نے اسکے چہرہ کو غور سے دیکھا جہاں ایک ڈر تھا اور علی اپنی محبت کو پاک رکھنا جانتا تھا.
[ ] علی نے اپنے لب اسکے ماتھے پہ.رکھ دیہے.
[ ] علی کا لبوں کا لمس اپنے ماتھے پہ پاکہ شاہین نے جھٹ انکھیں کھولی اور علی کو دیکھنے لگی..
[ ] علی نے اسے سینے سے لگایا اور بولا..
[ ] جب تک میں تمہے اپنے نام نہ.کرلو اپنا کوئ بھی حق نہں جتاونگا..اور جس دن تمہیں اپنا بنا لیا اس دن تم پہ اپناا کوی حق نہں چھوڑنگا..
[ ] علی کی بات سن کے شاہین نےاسکے سینے میں ہی انکھیں موند لی¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلنے لگے ان سالوں میں جہانگیر کا کئ بار اپنے گاؤں کا چکر لگایا مگر حیدر صرف کراچی ہی اتا تھا گاوں نہں… ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ان دو سالوں میں علی اور شاہین کی.محبت اور گہری ہوگی..مگر علی پہ ایک قیامت گزری کہ اسکی ماں اس دنیا سے چلی گی.ان دونوں میں شاہین نے علی کو بہت سنبھالا.. علی شاہین ک سینئر تھا.اس لیہ اسکی یونی پہلے ختم ہوگی.. اس نے جاب کے لیہ دو تین جگہ انٹرویو دیا..اور اللہ.کی.مرضی سے اسے اچھی جگہ جاب بھی.مل گی…
[ ] ییہ جہانگیر کے انے سے چھ مہینے پہلے کی بات ہے کہ علی کی سالگرہ ولے دن اس نے شاہین سے وہ تحفہ مانگ جس کا چاہین نے تصور بھی نہیں کیا….
[ ] شاہین اج میں تم سے کچھ مانگو تو منع تو نہیں کروگی….
[ ] نہں علی میںری پوری زندگی تمہارے نام ہے چاہے تو جان مانگ لو ہستے ہستیے دے دونگی..
[ ] تو پھر اج ابھی اس وقت مجھ سے نکاح کرلو….
[ ] علی کی بات سن کہ تو دو منٹ تک اسے سمجھ نہیں ایا کہ وہ کیا جواب دے..
[ ] مگر پھر اس نے علی کو ہاں بول دیا…
[ ] علی پہہلے اسے مارکیٹ لے کے گیا اسے اپنی.مرضی کا ایک جوڑا دلایا.اور پھر دونوں نے مسجد میں نکاح کرلیا..
[ ] علی نے نکاح کے بعد اس سے وعدہ کیا.کہ جب تک وہ اپن زاتی گھر نہں لے گا. اور ترقی نہں کرے گا.اپنا حق استمال نہں کرے گا…
[ ] نکاح کے بعد تو مانو علی کا نصییب کھل گیا.شاہین اسکے لے اللہ کی.طرف سے دیا ہوا بہترین تحفہ ثابت ہوئ..
[ ] اہستہ اہستہ علی ترقی کی.منزل تے کرتا گیا.
[ ] پہلے اسکی پرموش ہوی پھر اسے کمپنی کی طرف سے گھر اور گاڑی ملی.علی نے جب یہ بات شاپین کو بتائ تووہ رو کرسجدہ شکر کرنے چلی گی..
[ ] علی کی.کال ای کہ وہ.گھر میں شفٹ ہوگیا ہے مگر کچھ سامان کم ہے. تم.ہاسٹل سے تھوڑا دور اجاو پھر ساتھ میں مارکیٹ چلینگے…
[ ] شاہین تیار ہوکے ہاسٹل سے تھوڑا دور ای تو اسے مہران کھڑی دیکھای دی..
[ ] شاہین جا کہ اس میں بیٹھ گی…علی نے شاہین کے بیتھٹے ہی گاڑی اگے بڑھادی…
[ ] علی نے بات کا اغاز کیا..شاہین اپ تتو تمہاری فیملی.کو کوئ اعتراض نہں ہوگا نہ.میرے رشتہ.پہ..
[ ] ا
[ ] ہاں علی اب تو انکار کی کوئ وجہ نہں اور دوسری بات بی جان میںری خواہش ک احترام ضرور کرینگی لاڈلی بھی تو ہو انکی….
[ ] (مگر شاہین یہ بھول گی تھی کہ جس کہ انکھوں میں لالچ کی پٹی بندھی ہو اسکے نزدیک رشتوں کی.اہمیت نہں ہوتی)
[ ] مارکیٹ سے انہوں نے کافی شاپنگ کی.علی نے شاہین کو بھی.کافی کچھ دلایا…
[ ] واپس پہ اتے اتے کاف لیٹ ہوگیا تھا اور بارش بھی کافی تیز ہورہی تو مجبورا علی شاہین کو اپنے گھر لے ایا.اور شاہین نے ہاسٹل.کال.کر کے بول دیا کہ بارش کی وجہ سے وہ اپنی فرینڈ کے.ہاں رک گی…
[ ] گاڑی سے نکلتے ہوے اور سامان اندر لے جاتے ہوے وہ دونوں کافی بھگ گے تھے…
[ ] گھر میں داخل ہوکے پہلے علی شاہین کو اپنے کمرے میں لایا… اور اسے چینج کرنے کو کہا..
[ ] اور خود اپنے کپڑے اٹھا کہ دوسرے کمرے میں چینج کرنے چلاگیا…
[ ] علی چینج کر کہ.کمرے میں ایا..
[ ] تو شاہین.کو دیکھ لے ایک.منٹ کے.لی پلک جھپکانا بھول گیا.جو اسکے دلاے بلیک سوٹ میں دوپٹہ کے بغیر اپنے بال سوکھانے میں مصروف تھی..
[ ] شاہین کو جب اپنے اوپر کسی کی.نگاہ محسوس کی تو نگاہ اٹھا کہ کی سامنے دیکھا جہاں علی اسے محوت ہوکے اسےدیکھننے میں مگن تھا.اس سے پہلے شاہین ڈوپٹہ اوڑھتی علی تیزی سے اسکے پاس ایا اور اسک ہاتھ پکڑ کے کھینچا…
[ ] شاہین علی کے اس عمل پہ ایک دم بوکھلا گی اور اپنے اپکو اس سے چھروانے کی.ناکام کوشش کرنے لگی..شاید رشتہ کا کشش تھی جو انکے درمیان اور اسکا حق بھی تھا جو اللہ.کی طرف سے اسے ملا تھا
[ ] علی شاہین کے لبوں پہ جھک گیا اور شاہین کی مزامت اور تیز ہوگی.شاہین پلیز اج منع نہں کرو حق ہے میرا علی نے اسکے کان کے پاس سرگوشی کی.اور علی کے.بولتے ہی شاہین نے کوشش دم توڑ گی اور اسنے اپنا اپ علی کے سپرد کرگیا..برستی بارش چمکتا چاند ان دونوں کے ملن کی گواہ تھے..
[ ] مگر کون جانتا تھا کہ یہ ساتھ صرف دو پل.کا ہے…
[ ] صبح علی کی انکھ کھلی تو اسکی نظر ساتھ سوئ شاہین پر گئ جو اسی کی شرٹ پہنے اسکے سینے پہ قبضہ.جماے سو رہی تھی.. علی کے لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ اگی..اسنے دھیرے سے شاہین کا سر تکیہ پہ رکھا اور جھک کے اسکا چہرہ دیکھنے لگا…علی کو شاہین کے چہرہ اسکے پیار کا خمار دیکھا..اسن جھک کے ہلکی سی اسکی پیشانی چومی اور فریش ہونے چلا گیا..علی فریش ہوکے نکلا تو شاہین اٹھ چکی تھی …جیسی ہی شایین کی نظر علی پہ گئ اس نے جھٹ اپنا منہ بلینکٹ میں چھپالیا.علی نے جب اسکی یہ حرکت دیکھی تو قہقہ لگاے بنا نہں رہ سکا…
[ ] علی نے ڈریسنگ کے پاس کھڑے اپنے بال بناتے ہوے شاہین کو بولا..
[ ] اٹھ جاو میری شرمیلی زندگی اج اپکا پیارا شوہر اپکو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کروئیگا
[ ] علی کے روم سے نکلتے ہی شاہین نے بلینکٹ ہتایا.اور کل رات کے بارے میں سوچ کہ.ایک بار پھر اسکے لبوں.پہ.مسکراہٹ اگی..کل رات علی نے اپنے ہر عمل سے یہ ثابت کردیا کہ شاہین اسکی لیہ کیا ایمیت رکھتی ہے…
[ ] شاہین ایک.بار پھر مسکرا گی.اور فریش ہوکے باہر اگی..باہر اکے جب اسنے دیکھا تو علی ناشتہ کی ٹیبل لگا رہا تھا…
[ ] علی نے جب اسے دیکھا تو اسکے پاس ایا.اور کرسی اگے کرکے اسے بیٹھایا.اور خود اسکے پیروں میں بیٹھ گیا..
[ ] اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیہ اور اسے بولا..
[ ] کل رات کے لیہ بہت بہت شکریہ شاہین.. کل کی رات میںری زندگی کی سب سے حسین رات تھی شکریہ.میرا اعتبار کرنے.کے.لیہ علی سانسوں کی ڈور تو توڑ سکتا ہے مگر اپنی شاہین کا اعتبار نہئ.
[ ] اتنی عزت اتنی محبت پہ شاہین کی انکھین بھیگ گی.علی نے جب اسکی انکھوں میں انسو دیکھے تو اسے فورا تو کا اور ناشتہ کرنے کو کہا……
[ ] ابھی وہ لوگ ناشتہ کر ہی رہے تھے کہ دوڑ بیل.پہ شاہین نے اٹھ کے گیٹ کھولا..
[ ] مگر سامنے بی جان کو دیکھ کے اسکے پیروں کی زمین ہل.گئ.بی جان اندر داخل.ہوئ اور ساتھ میں جنید بھی..اس سے پہلے بی جان اس پہ ہاتھ اٹھاتی علی بیچ میں اگیا….
[ ] …شاہین جو گیٹ کھول.کہ واپس نہں ای تو علی دیکھنے گیا..مگر بی جان کو دیکھ دو پل.کے لیہ وہ بھی رکا مگر جب بی جان شاہین پہ ہاتھ اٹھانے لگی تو علی سے برداشت نہں ہوا اور وہ بی.جان کے درمیان میں اگیا…
[ ] اس سے.پہلے بی جان کچھ الٹا سیدھا بولتی.علی بول پڑا..
[ ] انٹی میں اور شاہین پچھلے پانچ سالوں سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں میں نے اور شاہین نے نکاح کرلیا..یہ سنتے ہی بی.جان نے بے یقینی سے شاہین کو دیکھ تو وہ اپنا سر جھکا گی..
[ ] لیکن جنید سے جب یہ برداشت نہں ہوا تو وہ علی کو مارنے.کہ.لیہ اگے بڑھا.جیسے بی جان نے روک دیا..
[ ] بی جان نے علی سے بولا..
[ ] تو جانتے ہو ہماری حیثیت تم.جیسے ہمارے ہاں نوکر ہوتے ہیں..
[ ] علی نے کہا.انٹی میں شاہین کے لیہ بہت دولت کماونگا اسے دنیا کی ہر خوشی دونگا لیکن پلیز اسے مجھ سے جدا نہں کرے. علی.کو بولتا دیکھ کہ شاہین بی جان کے پیروں میں گر گی امی خدا کے.لیہ مجھے علی سے جدا نہ کرے میں مرجاونگی میں.مانتی ہو میں نے اپک اعتبار توڑا ہے مگر امی.میں نے کوئ گناہ نہں کیا..شاہین بولتے بولتے بی جان کے پیروں پہ.جھک گی..بی.جان نے اسے اٹھایا اور اسکے انسو صاف کے..
[ ] تھیک.ہے ہمیں تم دونوں سے کوئ شکایت نہں مگر ابھی تم ہمارے ساتھ گاؤں چلو گی تاکہ ہم.تمہارے بابا سے علی.کے لیہ بات کرےاور علی اکے سب کے سامنے تمہیں عزت سے لے جاے..
[ ] بی جان.کی بات سن کے جہاں شاہین انکے گلے لگ گی.وہی علی نے بھی انکا شکریہ ادا کیا…
[ ] شاہین نے اپنا بیگ لیا اور بی جان کے ساتھ جانے کے لیہ جیسی ہی نکلنے لگی بی جان نے بولا..
[ ] جاو اپنے شوہر سے تو مل او پھر پتہ نہں موقع ملے یہ نہں. اور شاہین اپنی.خوشی میں اتنی.مگن تھی کہ بی جان کے لفظوں پہ غور نہں کرپائ اور علی سے ملنے اندر چلی گی وہ جاکے سیدھا علی کے سینے سے لگ گی اور علی نے اسکے ماتھے پہ.اپنے لب رکھے اور کہا.میں جلدی اونگا اپنی زندگی لینے..وہ علی سے مل کے بی جان کی گاڑی میں بیٹھ گی. اور گاڑی اگے چلنے لگی.ابھی گاڑی زرا ہی دور گی تھی کہ ایک دھماکہ کی اواز پہ گاڑی رکی شاہین نے جب پہچھے دیکھا تو اس لگا وہ اگلی سانس نہں لے پاے گی. اسکی جنت جہاں اسنے اپنے زندگی شروع کی تھی جہاں وہ اپنی محبت اپنا علی چھوڑ کہ ای تھی وہاں اگ کے شولعوں اور دھویں کہ سوا کچھ نہں تھا. وہ پگلوں کی طرح جیسی ہی گاڑی سے نکلنے لگی بی جان نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اسنے جب بی جان کی طرف دیکھا تو انہوں نے صرف اتنا کہا ہمارا اعتبار تورنے والوں کو ہم.ایسی ہی سزا دیتے ہیں….
[ ]
[ ] جاری ہے..