Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36 Part 4

کیا بکواس کررہی ہو مجھے پاکستان ائے صرف تین ہفتے ہوئے اور پاکستان انے سے ایک ہفتہ پہلے میں نے تم سے شادی.کی ہے اور شاید تم بھول.رہی ہو میں نے تمہیں ہاتھ نہی لگایا…..
تو پھر یہ بچہ کہاں سے ایا؟؟؟
شاہ نے چیخ کے حنا کو کہا…..
پہلے تو حنا چونکی…
مگر پھر اپنی شکل پہ شیطانیات لاتے ہوئے کھڑی ہوئ اور اپنے ہاتھ اوپر کرکے ایک لمبی انگرائ لی.اور شاہ کے گلے میں ہاتھ ڈالے جیسے شاہ نے ایک جھٹکے سے اسکے ہاتھ اپنی.گردن سے ہٹایے…
حنا کو یہ بات بہت ناگوار گزری اور اس نے شاہ کے قریب اکے کہا..
اس کے ساتھ تو بہت چپکتے ہو کبھی اسکے گال چومتے ہو تو کبھی گود میں اٹھاتے ہو کبھی اسکو اپنا اعتبار دلاتے ہو…
جبکہ اس کے ساتھ تو ابھی نکاح ہوا ہے…
حنا کے منہ سے اپنے اور نازنین کے بارے میں سن کے شاہ کو بہت بڑا جھٹکا لگا….
اس نے بے یقینی سے حنا کو دیکھا اور کہا تم یہ سب کیسے جانتی.ہو….
اوہ.کم اون مائِے لولی ہسبیڈ میں اسی دن پاکستان اچکی تھی جس دن تم ائے …اج تو صرف ڈرامہ تھا..انے کا..تم نے کیا سمجھا میری عزت سے کھیلوگے تو میں تمہیں اتنی اسانی سے جانے دونگی…حنا نے چیخ کے کہا……
بکواس بند کرو حنا تم جانتی ہو یہ سب ایک حادثہ تھا اور مجھے نہی یاد میں نے اس رات کیا.کیا تمہارے ساتھ ……شاہ نے اسی لہجہ میں ہی حنا کو جواب دیا….
بدلہ میں حنا نے اپنے بیگ میں سے موبائل نکالا اور کچھ اون.کرکے شاہ.کے سامنے کردیا….
جیسے جیسے شاہ موبائل کو دیکھتا جارہا تھا اسے لگا وہ اگلے پل سانس نہی لے پائے گا….
اس سے پہلے شاہ کوئ حرکت کرتا…
حنا نے جھٹ اپنا ہاتھ پیچھے کرکے موبائل واپس اپنے بیگ میں رکھ دیا..
شاہ نے بے یقینی سے حنا کو دیکھا اور کہا…
تو یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش تھی تمہاری ؟؟؟
حنا کے ایک جھٹکے سے اپنے بال اپنے ہاتھ سے پیچھے کیہ.اور ایک ادا سے کہا…
یسس ..
اور اگر تم.نے میرے ساتھ کچھ بھی غلط کرنے کا سوچا تو تیار رہنا پہلے یہ.وڈیو میں تمہارے ماں باپ کو بھیجونگی اور پھر نازنین جو یہہی نام ہے نہ تمیاری منکوحہ کا…
اور اگر تم نے مجھے زرا بھی دھوکہ.دینے کا سوچا …
تو نازنین…..نن..
اس سے پہلے حنا اگے کچھ بولتی…
شاہ نے اسکا گلا پکڑ لیا..
اسکا نام اپنی گندی زبان سے مت لینا وہ محبت ہے میری پاک محبت سرور شاہ اسے اپنی جان سے بھی بڑھ کر چاہتا ہے اگر اسے نقصان پہچانے کا تم نے سوچا بھی..تو جان لے لونگا.تمہاری…
یہ بول کے شاہ نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تو حنا منہ.کے بل بیڈ پہ گری…
مگر پھر گردن موڑ کے کہا…
کیوں نہ اسے بھی یہ وڈیو دیکھائ جائے دیکھتے پہیں کتنا اعتبار ہے اسے تم پہ…..
حنا کی بات پہ شاہ ایک دم ڈھیلا پڑا اور کہا…
تم ایسا کچھ نہی کروگی…..
تھیک ہے نہی.کرونگی مگر اگر تم نے میرے ساتھ کوئ بھی چالاکی کرنے.کی.کوشش کی تو پھر مجھ سے بھی کوئ امید مت رکھنا….
شاہ نے حنا کو غصہ سے گھورا اور فلیٹ سے نکل گیا…¤¤¤¤¤¤¤
شان.جو ناصر کے ساتھ ہی کھڑا تھا اچانک نعمان کی اواز پہ دونوں سیدھے ہوئے جو انہی.کی طرف ارہا تھا….
نعمان نے دونوں کے پاس اکے پوچھا….
تم دونوں کو پتہ ہے شاہ کہا ہے کب سے فون ٹرائ.کررہا ہو اسکا….؟؟؟؟
شان اور ناصر پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر شان نے کہا…
انکل وہ ہمارے کسی دوست کو ائیرپورٹ ریسو کرنے گیا ہے …
بس انے والا ہو گا……
شان نے اپنی طرف سے تو نعمان کو بھر پور تسلی دی اور شاید نعمان سمجھ بھی.گئے…
اس لیہ اچھا ٹھیک ہے یہ بول کہ.اگے کو چلے گئے…..
نعمان کے جانے کے بعد شان نے ناصر سے کہا…
ناصر میری چھٹیی حس کہہ رہی ہے جیسسے شاہ ہم سے کچھ چھپا رہا ہے…؟؟؟
شان کی بات پہ.ناصر نے کچھ نہی بولا …
شان نے نازنیںن کی طرف اشارہ.کیا اور بولا…
دیکھ ناصر نازنیںن وہاں اکیلی بیٹھی ہے چل ہم چلتے ہیں اس کے پاس…..
ہاں چل …
نازنین جو اج شاہ کے رویہ کو ہی سوچ رہی تھی کہ اج وہ.ہے کہاں.کہی بھی.جاتا تھا ہر دو منٹ بعد ا لویو جان کا تیکس کرتا تھا اج اسے گئے دو گھنٹہ ہوگئے اس کا کچھ پتا ہی نہی ….نازنیںن اپنے ہاتھوں کو جہاں بھر بھر کے مہندی لگی تھی اور جسکے ڈیزائن میں شاہ کا نام چھپا تھا غور غور سے گھور رہی..تھی ….
وہ.تو یہ سوچ رہی تھی کہ اج پھر شاہ اسے تنگ کرے گا اسکا ہاتھ پکڑ کے اسکے ہاتھوں میں لگی مہندی میں اپنا نام ڈھونڈے گا مگر …..
(کہتے ہیں جب ہم کسی کو اہمیت دیتے ہیں ہر پل اسکے پاس رہتے ہیں چاہے اسکو پسند ہو یہ نہ.ہو اسکو اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں …مگر ہمارا اچانک غائب ہونا سامنے والی.کی.سوچوں کو ہلا دیتا ہے…اس لیہ.کہتے ہیں.محبت تو خاماخائ بدنام ہے یہ عادت ہی.ہوتی ہے جو سانسس چھین لیتی.ہے..مریم##)
نازنین اپنی سوچوں میں ہی گم تھی جب شان اور ناصر اس کے پاس اکے بیٹھے اور کہا…اور دونوں نے ایک آواز میں کہا…
کیا بات ہے بھابھی جان .کن خیالوں میں گم ہو….
نازنین نے پہلے ان دونوں کو گھورا اور پھر مسکرا کے کہا…
بھئ تم.دونوں تو بھابھی نہی بولو بڈھو والی.فیلنگ ارہی ہے…..نازنین کے کہنے پہ شان اور ناصر دونوں نے اپنے ہاتھ سرینڈر والے انداز میں اوپر کیہ اور کہا منظور اب بتاو کیا سوچ رہی ہو شان نے نازنین کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا…
کچھ نہی بس ایسی ہی نازنیںن نے نیچے منہ کرکے افسردہ.انداز میں کہا…
نازنین کی بات پہ شان اور ناصر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ناصر نے کہا…
نازنیںن شاہ سے تمہارا رشتہ بعد میں جرا ہے ہم پہلے دوست ہیں بتاو کیا بات ہے….
ناصر کے پوچھنے پہ نازنین بولی….
پتہ نہی.یار میں اس رشتہ کو دل سے قبول نہی کرپارہی.چاہ کے بھی میں شاہ پہ.اعتبار نہی کرپارہی ہو دل.میں ہمیشہ ایک ڈر سا ہے جب سے نکاح ہوا ہے ایسا لگتا ہے جیسے کچھ بہت غلط ہونے والا ہے….
یہ بول کے نازنین چپ.ہوئ تو شان نے ناصر کو انکھوں انکھوں میں بہت کچھ سمجھا دیا ناصر نے بھی بلکل خاموش ہوگیا ..
اس خاموشی کو ردا کی اواز نے توڑا…..
شان بھائ اپکو پاپا بلا رہے ہیں ….
شان نے ردا سے کہا…
اچھا گڑیا اپ.چلو میں اتا ہو یہ بول شان ردا کے پیچھے ہی چلا گیا جبکہ ٹیبل پہ.نازنین اور ناصر ہی رہ گئے….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤..
پری اپنی دھن میں ہی چلی ارہی تھی کہ کسی چیز سے اسکا سر بری طرح تکرایا…اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی کسی نے اسے کمر سے تھام لیا….
دو منٹ کے لیہ پری کو لگا اسکا پورا سر گھوم گیا…جب پری سامنے نگاہ اٹھا کہ دیکھا تو سامنے کوئ بڑا ہی ہینڈسم سا لڑکا پری.کو تھامے کھڑا تھا اور مستقل اس کے چہرے کو گھور رہا تھا….
ایک دم پری نے اسکا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹایا.تو وہ بھی ہوش کی دنیا میں واپس ایا اور کہا….
سوری لٹل گرل مائے مسٹیک اپ کو لگی تو نہی……؟؟؟
پری نے اسکے جواب پہ بس اتنا ہی کہا …
نہی نہی میں ٹھیک ہو غلطی میری.ہے … …
پری.کی بات پہ.اس لڑکے کے لبوں پہ ایک دلفریب مسکراہٹ اگئ…
یہ بول کے جیسی ہی پری جانے لے لگی کہ اس لڑکے نہ اسے روکا اور کہا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ناصر اپنے موبائل.میں مصروف تھا جبکہ نازنین لان میں میہمانوں پہ.نظر ڈورا رہی تھی جب اسکی نظر پری اور اس لڑکے پہ.پڑی تو نازنین نے ناصر سے کہا…
ناصر ….؟؟
ہمممممم بولو نازنین ناصر نے موبائل پہ.ہہی لگے لگے کہا…
تو اعتبار کے چکر میں لگے رہنا اور یہاں بازی کوئ اور لے جائے گا…..
نازنین کی بات پہ ناصر نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا اور کہا……
کیا مطلب نازنیںن میں سمجھا نہی تمہاری بات….
نازنیین نے ناصر سے کہا…
اپنے پیچھے کا منظر دیکھو شاید کچھ کچھ سمجھ جاؤ ..ناصر نے جب پیچھے مڑ کے دیکھا تو ااسکا.خون کھول.گیا..پری.ہنس ہنس کے اس لڑکے سے باتیں کررہی تھی ..یہ دیکھ کہ ناصر کا خون کھول.گیا…کہ اس کے خون کو اور جوش دینے کے لیہ نازنین نے ہلکی.ہلکی ٹیبل اپنے ہاتھوں سے بجائ اور گانا گایا……
“دیر نہ.ہوجائے کہی دیر نہ.ہوجائے”….
ناصر نے غصہ سے نازنین کو دیکھا اور کہا…
چپ کررو بلبٹوڑی……….
بلبوٹوڑی سن کے نازنین غصہ نہی ہوئ بلکہ کھل.کہ ہنسی نازنین کی ہنسی بریک گیٹ سے اندر اتے شاہ کو دیکھ کے لگا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
پری اس لڑکے کی اواز پہ رکی اور کہا ..
جی کہیے ..
اپ ائ تہنک حیدر انکل کی بیٹی ہے نہ؟؟؟؟؟
جی جی پر اپکو کیسے پتہ…؟؟؟
پری نے حیران نظروں سے اس سے پوچھا….
میں نے اپکو ایک.فیملی پارٹی میں انکے ساتھ دیکھا تھا…….
اوہ مگر میں نے اپکو نہی دیکھا..
پری کی اتنی معصومیت سے کہنے پہ.اس لڑکا.کا قہقہ گونجا تو پری بھی ہنس پڑی ….
لٹل گرل اپکا نام کیا ہے…..؟؟؟
پریشے…..
اور اپکا پری نے اس سے پوچھا…
میرا حماد….
ہم.ویسے لٹل گرل اپکی انکھیئں بہت خوبصورت ہیں…
حماد نے جب پری کی انکھوں کی تعریف کی تو مسکرا گئ کہ جبھی ناصر وہاں ا پہنچا اور کہا…
پری نور انٹی بولا رہی.ہے تمہیں ……
ناصر کی اواز میں کچھ ایسا تھا کہ پری فورا وہاں سے کھسک گئ..
اور حماد بھی ایکسکیوز کرکے وہاں سے چلا گیا..ناصر نے پری کو جاتا دیکھ ایک فیصلہ کیا ..جسکی تکمیل اسے ازلان کی شادی میں ہی دینی تھی…
جاری ہے…