Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Last Part
ماہ کی صبح آنکھ اپنی گردن پہ کسی چیز کے احساس کے تحت کھلی جب دماغ اسکا اچھی طرح بیدار ہوا تو وہ کوئ چیز نہیں تھی بلکے شان کے لب تھے جو اسکے تل پہ تھے….
رات کا منظر سوچ کے ماہ کا چہرہ بلش کرنے لگا…..کل رات شان کی محبت کی بارش میں بھیگ کے اسے احساس ہوا کہ اگر وہ اپنی انا اپنی ضد پہ قائم رہتی تو نہ جانے کتنے حسسین پلوں سے محروم رہتی….
(“اکثر ہم ضد اور انا میں اپنے رشتوں کے کافی احساسات کو روندھ دیتے ہیں بعد میں جب احساس ہوتا ہے رشتہ تو باقی بج جاتا ہے مگر وقت نکل جاتا ہے جو چاہ کے بھی واپس نہی اتا”
مریم.عمران#
شان دیوانہ وار اسکے گردن کے تل کو چومنے میں مگن تھا.
.ماہ کی پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے اسکی پشت کو شان نے سختی سے اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا..
ماہ نے جب گھڑی میں ٹائم دیکھا تو9بج رہے تھے
نازنین نے کل اسے وارننگ دے دی تھی کہ ناشتہ وہ ہی لائے
کیونکہ کے لاڈو کی طبیعت کے باعث اسے منع کر دیا تھا. ناشتہ کا نازنین نے۔۔۔
جب شان کی حرکت میں رتی برابر بھی فرق نہی آیا بلکہ اسکی گستاخی گردن سے ہٹ کے کمر پہ اور پھر کمر سے گردن تک دوبارہ گئ تو ماہ نے اس سے کہا…
شان؟؟
ہاں جان شان…
شان نازنین کا ناشتہ لے کے جانا ہے 9 بج رہے ہیں مجھے چھوڑے مجھے فریش ہونا ہے….
ماہ کا ایسا بولنا تھا کہ اب تل پہ لبوں کی جگہ پہ شان کے دانتوں کا احساس ہوا ماہ کو۔۔۔
ماہ کی تکلیف کی وجہ سے سی کی اواز نکلی اور اس نے کہا…
شان کیا کرہے ہیں؟؟؟ درد ہو رہا ہے..
ماہ کے بولنے پہ شان نے ماہ کا رخ اپنی طرف موڑا تو اپ دونوں ایک دوسرے کے سامنے تھے..
شان کے چہرے ک رومانی انداز ماہ کو گردن جھکانے پہ مجبور کر گیا۔
کہ جبھی شان نے کہا.
.درد ہوا نہ ..؟؟؟
اب اگر کبھی مزاق میں بھی چھوڑنے کی بات کی تو جان لے لونگا….
تم میری ہو بس میرا اللّٰہ مجھے جدا کرسکتا ہے تم سے اب اور کوئ نہیں۔۔..
شان کی بات پہ ماہ فورا شان کے سینے سے لگ گئ اور کہا.
سوری شان میرا وہ مطلب نہیں تھا.
. یہ بول کے ماہ اسکے سینے سے پیچھے ہوئ تو اسکی نظر شان کی آنکھوں کی طرف گی…
ہزیل گرین آنکھیں جو اج الگ ہی منظر بیان کررہی تھی ۔۔
ماہ مہبوت ہوکے انہیں دیکھنے لگی اور پھر بولی…
شان اپکی آنکھیں بہت حیسن ہے؟؟؟
ماہ کی بات پہ شان کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ آی اور اس نے کہا…
اچھا جی خالی آنکھیں حسین ہیں میں نہیں۔؟؟
شان کی بات ہہ ماہ نے ایک مکا اسکے ہاتھ پہ مارا اور کہا.
شان بہت خراب ہیں اپ.
. یہ بول کے ماہ نے اپنی کب سے ادھوری خواہش کو پورا کیا اور شان کی انکھوں کو باری باری چوما اور کہا…
اب اٹھ جائے دیر ہوجائے گی تو نازنین ناشتہ میں میرا خون پیے گی..
ماہ کی بات پہ شان بس اسے گھورتا رہا اور ماہ کے لبوں پہ جھک گیا…
اپنی سانسوں کی مہک جب وہ ماہ کی سانسوں میں ڈال کے ہٹا تو ماہ کے چہرے پہ حیا کے رنگ دیکھ کے مہبوت رہ گیا..
اس سے پہلے شان کوئ اور گستاخی کرتا ماہ نے اسکے ہاتھ پہ چٹکی نوچی….
شان کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی ماہ فور بیڈ سے اتری…..
جبکہ شان نے اپنا ہاتھ سہلاتے ہوئے الماری سے اپنے کپڑے نکالتی ماہ سے کہا….
بہت ظالم ہو یار…
بچ کے کہاں جاوگی آوگی تو میرے پاس ہی نہ…
ماہ جب اپنے کپڑے الماری سے نکال چکی تو واش روم کی طرف بڑھ کے کہا..
اچھا جی پہلے پکڑ کے تو دیکھائے…
ماہ کی بات سن کے شان نے اپنی ایک آئیبرو اچکا کے اسے دیکھا اور جیسی ہی بیڈ سے چھلانگ لگا کے نیچے اترا..
ماہ فور واش روم کے اندر گھسی اور دروازہ اندر سے بند کر لیا..
شان نے ایک مکا واش روم کے دروازے پہ مارا اور کہا…
اب کیا ہوا ماہ ڈرپوک ….
ماہ نے بھی اندر سے آواز لگائ
better luck next time…
ماہ کی بات سن کے شان کے لبوں پہ ایک حسین مسکراہٹ اگئ اور اس نے ہلکی آواز میں سرگوشی کرکے کہا..
جان شان…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ شاہ کیا مسئلہ ہے اٹھ بھی جائے کیا گھوڑوں کا پورا استبل بیچ کے سو رہے ہیں..
. شاہ……. ہہہہ.
نازنین نے اب کی بار غصہ میں شاہ کو جھنجھوڑ ڈالا.. نازنین جو کب سے فریش ہوکے شاہ کو اٹھانے میں لگی تھی جسکی وجہ اسکی بھوک تھی…..
..شاہ نے آنکھیں بند کرے کرے کہا….
اتنی دیر سے فضول کی کوششوں میں تھک رہی ہو…. ایک پیاری سی کس دے دیتی تو کیا جاتا…
بس نازنین نے ایک آئیبرو اچکا کے لیتے ہوئے شاہ کو دیکھا..
اور سائڈ ٹیبل پہ رکھا پانی سے بھرا جگ شاہ پہ انڈیل دیا…
شاہ.جو سمجھ رہ تھا نازنین ابھی کس کرے گی مگر اپنے ارمانوں پہ پانی گرتا دیکھ وہ ہر بھڑا کے اٹھ بیٹھا اور گھور کے نازنین کو دیکھنے لگا اس سے پہلے شاہ اسے پکڑتا دروازے پہ۔ہوئ دستک پہ دونوں سٹپٹائے جبکہ شاہ نے واشروم کی طرف ڈور لگائ تو نازنین نے جاکہ دروازہ کھولا تو سامنے نیلم تھی…
نازنین نے نیلم کو سلام کیا تو اس نے مسکر کے نازنین کے سلام کا جواب دیا اور اسکو دعائیں دی…
.نازنین نے انہیں اندر آنے کو کہا تو نیلم نے اسے منع کردیا اور کہا…..
بیٹا اپ دونوں فریش ہوکے نیچے اجاو ماہ کا فون آیا تھا مجھے وہ لوگ نکل چکے ہیں ناشتہ لے کے….
جی ماما بس شاہ ریڈی ہوجائےتو ہم آتے ہیں….
نیلم نے مسکرا کے اسکے گال پہ ہاتھ رکھا اور کہا…
اچھا لگا بہت تمہارا ماما کہنا۔۔
سدا سہاگن رہو…
اوکے اب میں جاتی ہو تم دونوں فٹافٹ اجاو…
یہ بول کے نیلم گئ تو نازنین بھی اندر اکے اپناکمرہ سمیٹنے لگی..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
منہ دیکھائ کے طور پہ شاہ نازنین کو عمرہ پہ لے جارہا تھا اور وہاَں سے پھر وہ لوگ اپنے ہنی مون پہ نکل جاتے
ایک مہینے کا اسٹے تھا ان دونوں کا اور ولیمہ کے اگلے دن کی انکی فلائٹ…
شان کو بھی اس کے اگلے دن حنا کو لے کے جانا اور یہ سب اسے دودن کے اندر کرنا تھا کیونکہ اسی مہینے کے لاسٹ میں ایک بڑا پراجیکٹ پہ کام کرنا تھا شان کو اسکے ملنے پہ حیدر اور جہانگیر کو بہت بڑا منافع ملنے والا تھا اور نہ ملنے پہ بہت بڑا نقصان…
¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہ اور نازنین نیچے آئے تو شان اور ماہ آئے ہوئے تھے…
نازنین اور ماہ ایک دوسرے سے بڑی چاہ سے ملی جبکہ شان کو شاہ کی شکل دیکھ کے اپنی ہنسی چھپانا بہت مشکل ہوگیا…شان شاہ سے گلے ملا.. تو شاہ نے اسے کسسس کے گلے لگایا اور اسکو دباتے ہوئے کہا…
سالے کمینے میں میری پوری شادی میں دیوداس بن کے پھرتا رہا اور تونے مجھے کچھ نہی بتایا زرا ناشتہ کرنے دے تو بتا ہو تجھے…
شان نے بھی اسکے گلے لگے لگے کہا…
ماہ کے سامنے کوئ بات نہیں کرنا ابھی میں نے اسے کچھ نہی بتایا اس لیہ یہ غصہ چھوڑ اور دعا دے مجھے کہ کل کی رات تونے میری وجہ سے حسسین گزاری…
یہ بول کے شان شاہ سے الگ ہوا تو شان کو گھورنے لگا اور پھر ان دونوں ک قہقہ پورے لانج میں گونجا…..
¤¤¤¤¤
ابھی شاہ کی شادی سے فارغ ہوئے تو پری اور ناصر کی شادی کا شور اٹھ گیا.
.جہاں شان شاہ جہانگیر حیدر ازلان عدنان اور دلاور حیدر کیساتھ شادی کی ساری ارینجیمنٹ دیکھ رہے تھے وہی نازنین اور ماہ بھی بازار کا چکر لگا لگا کے ادھی ہو چکی تھی.. نور زلیخا نازو تو بس گھر کے ارینجیننٹ میں لگی تھی….
اللّٰہ اللّٰہ کرکے پری کی مایوں کا فنکشن نبٹا تو ادھر ناصر کی مہندی کا فنکشن بھی ختم ہوا…
جمال کا ایسسا رویہ خاص کر جہانگیر اور حیدر کیلیے نیا تھا وہی ناصر اور لائبہ کو بھی یہ جان کے شدید حیرت ہوئ کہ زلیخا اور جمال آپس میں تایا زاد ہیں ثمینہ بیگم نے نہ صرف زلیخا کو دیکھ کے سکتے میں آئ بلکہ اس سے اپنے رویہ کی بھی معافی مانگی…
مہندی کا فنکشن ختم ہوا تو اگلے دن برات تھی کہ جبھی برات کی صبح جمال نے ناصر کو بلایا…
ناصر جمال کے کمرے میں پہنچ کے ناکک کیا تو جمال نے اسے اندر انے کی اجازت دی….
جمال نے اس کے اگے ایک فائل رکھی اور اس سے کہا کہ کہ پری سے کہنا اس پہ حیدر کے سائن لے کے آئے…
جمال کے بولنے پہ جب ناصر نے فائل کھول کے پڑی تو اسکے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئ..
. اس نے سکتے کی حالت میں جمال کو دیکھا اور پھر اسکے بعد کمرے موجود لائبہ کی طرف….
.. پاپا.یہ سب…
یہ تو اس پرواجیکٹ کی فائل ہے جس پہ اپ اور حیدر انکل کام کر رہے ہیں…؟؟؟
ہاں یہ وہی فائل ہے اور میں چاہتا ہو یہ پراجیکٹ مجھے ملے اور یہ کام تم کروگے۔۔
اپنی بیوی کے زریعے اس پہ حیدر کے سائن لے کے….
جمال کی بات سن کے ناصر نے جھٹکے سے فائل دور اچھالی اور جمال کے قریب اکے کہا….
اب میں سمجھا اپ کو اتنی ہماری پرواہ کب سے ہونے لگی….
یہ اپکی بھول ہے مسٹر جمال کہ میں چند پیسوں کی خاطر اپنی دوستی بیچونگا اور اپنے محبت کا استعمال کرونگا اپنے ایسا سوچا بھی کیسے….
یہ بول کے ناصر جیسی ہی جانے لگا..
جمال کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ…
تو ٹھیک ہے اگر تم یہ کام نہیں کرسکتے تو اج اکیلے ہی برات لے کے جانا وہاں اور بتاتے رہنا وجہ ماں باپ کے نہ آنے کی اگر تمہاری ماں نے تمہارے ساتھ جانے کی ضد کری یہ تم نے میری بات نہیں مانی تو تمہارے ماں کو ابھی اسی وقت تمہارے سامنے طلاق دے دونگا اور رہا سوال اس پراجیکٹ کا تو وہ حیدر اور شان کی موت کے بعد مجھے مل ہی جائے گا… اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے.
جمال کی بات سن کے ناصر سکتہ میں آگیا..
وہ جب جمال کی طرف پلٹا تو اسکی آنکھیں آنسو سے لبریز تھی..
ناصر آہستہ سے چلتا ہو لائبہ کے پاس آیا اور اسے جھنجھوڑ کے کہا…
ماما کیا یہ سچ میں میرا باپ ہے..؟؟
کیونکہ باپ ایسے نہیں ہوتے ماما۔۔
.یہ بول کے ناصر چیخ پڑا
.. اس نے بے دردی سے اہنے آنسو رگڑے اور جمال کے سامنے کھڑے ہوکے کہا.
ٹھیک ہے میں اپکا یہ کام کرونگا مگر یہ مت سمجھیے گا کہ یہ سب میں پری کی محبت میں کر رہا ہو.
نہیں۔
اپنی دوستی کیلیے میں اپنی مجبت ہنستے ہنستےچھوڑ سکتا ہو..
اگر اس کام کے بعد میرے یار کو کچھ ہوا یہ اپنے پری کو ٹارچر کیا کسی بھی چیز کے لیہ یہ اپ نے ماما کو کوئ نقصان پہچایا تو اسکا خمیازہ اپکو اپنے بیٹے کا مرا ہوا منہ دیکھ کے بھگتا پڑے گا…
یہ بول کے ناصر جمال کے کمرے سے نکل کے تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگا تو لائبہ بھی شکست خور کی حالت میں اسکے ہیچھے چل.پڑی..
جمال کے چہرے پہ ایک شاطرانہ مسکراہٹ اگئ ..
لائبہ نے بہت کوشش کی ناصر کے کمرے کا دروازہ کھلوانے کی مگر ناکام رہی..
¤¤¤¤
برات کا شاندرا استقبال کیا گیا ناصر کے چہرے کی سنجیدگی اپنے یاروں کے خوش چہرے دیکھ کے غائب ہوگئ….
نکاح کے وقت لال بلیڈ ریڈ اور گولڈن کنٹراس شرارے میں ملبوس پری کو سنبھالنا مشکل ہوا وہی نور کی بھی یہ حالت تھی..
.جبکہ حیدر اور شان ان دونوں سے ہی چھپتے پھر رہے تھے….
رخصتی کے وقت شان بچوں کی طرح پری کے گلے لگ کے رو پڑا تو حیدر جہانگیر کے گلے لگ کے نور کو پری سے الگ کرنا اور مشکل ہوگیا…
مگر جیسے تیسے پری رخصت ہوئ…
ساری رسموں کے بعد پری کو ناصر کے کمرے میں بیٹھایا گیا…
زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ناصر کمرے میں داخل ہوا…
شیروانی اتار کے وہ پری کے سامنے اکے بیٹھ گیا اور غور سے اسے دیکھنے لگا.
.. ناصر کے اسطرح دیکھنے پہ پری کو بہت گھبراہٹ ہورہی تھی..
.کہ جبھی وہ ناصر سے پوچھ بیٹھی……
کیا دیکھ رہے ہیں؟؟ میں نروس ہو رہی ہو….
پری کی بات پہ ناصر اسکے تھوڑا اور قریب آیا..اور اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے..
اور ارام ارام سے اسکی جیولری اتارنے لگا اور کہنے لگا…
تم میری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہو میرے اللّٰہ کی طرف سے سوچا نہیں تھا کبھی کہ تم اسطرح کبھی میرے سامنے پورے حق سے بیٹھوگی.. یہ بول کے ناصر اسکے لبوں پہ جھک گیا..
فلحال وہ ابھی جمال کہ باتیں سوچنا نہیں چاہتا تھا…
تھوڑی دیر بعد وہ پری سے الگ ہوا تو ایک باکس میں سے خوبصورت سے گولڈ کے کنگھن اور چیین نکال کو پری کو پہنائ اور کہا…
زندگی کی ہر سانس تک میں تم سے محبت کرتا رہونگا. جیسے جیسے زندگی گزرتی جائے گی میرے محبت عشق میں بدلتی جائے گی..
یہ بول کے وہ پری کو لیٹا کے جیسے ہی اس پہ جھکنے لگا پری نے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھ کے اسے روکا تو ناصر نے اس سے کہا..
کیا ہوا پری.؟؟؟
وہ وہ..ناصر مجھے بہت بھوک لگی ہے میں نے کھانا ٹھیک سے نہی کھایا اب اگر ایسے دولہن بنی میں کھانا کھاتی تو سب میرا کتنا مزاق اڑاتے…
پری کی بات پہ ناصر نے مسکرا کے اس کے لبوں کو چھوا اور اٹھ کے بیٹھ گیا اور کہا….
تو پہلے کیوں نہی بتایا.
. ابھی لایا میری پرنسس کچھ کھانے کو۔۔۔
یہ بول کے ناصر نے جھک کے اسکے لبوں کو ہلکا سا چھوا اور اٹھ کے جانے لگا..
مگر کچھ یاد آنے پہ فورا مڑا اور کہا…
کپڑے جینج نہی کرنا میرے آنے تک…یہ بول کے ناصر گیا تو پری نے شرما کے اپنا منہ جھکا لیا…
ناصر کچن میں جاکے پری کیلے پاستہ بنانے لگا کہ اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی پلٹا تو سامنے جمال کھڑا تھا…
جمال کو دیکھ کے ناصر نے اسے اگنور کیا تو جمال نے اس سے کہا…
تم نے پری سے بات کی ڈیل کے بارے میں وہی ہے جو ہمیں یہ ڈیل دلاواسکتی ہے.
..
ناصر نے غصہ مںی چمچہ فرائ پیین میں پٹخا اور جمال کو کہا…
کہہ دونگا اپکو اپکی ڈیل سے مطلب ہے .
.بول دونگا پری کو وہ میری لیہ کر دے گی یہ ڈیل فائنل….
اس سے پہلے جمال اس سے اور کچھ بولتا.. کچھ ٹوتنے کی اواز پہ دونوں چونکے ناصر نے فورا چولھا بندھ کیا اور کچن سے باہر نکل کے جھنکا تو اسے کوئ نہیں دیکھا…
ناصر جیسی ہی پلٹ کے مڑا تو اسکا چوکیدار ہانپٹا کانپٹا اس تک پہنچا..
ناصر نے اس طرح اسے اندر اتا دیکھا تو اسکے ادرگرد خطرے کی گھٹنیاں بجنے لگی…
ناصر نے چوکیدار سے پوچھا کیا بات ہے لالہ تم اسطرح کیا بات ہے…؟؟؟
وہ ناصر بھائ چھوٹی بی بی ابھی بنگلے سے باہر بھاگی ہیں روتی ہوئ..
دلہن کے جوڑے میں…
لالہ کی بات سن کے ناصر کے پیروں کے نیچے زمین نکل گئ.
اس نے فورا بنگلہ کے باہر کی طرف ڈور لگای جبکہ جمال کو اس سب ڈرامہ سے کوئ لینا دینا نہیں تھا وہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا…
¤¤¤¤¤
فل اسپیڈ بارش میں وہ بھاگ رہی تھی نہ اسے ڈوپٹہ کا ہوش تھا نہ کسی اور چیز کا وہ اور کسی سے نہیں اپنے مجازی خدا سے ڈر کے بھاگ رہی تھی
اسے کسی چیز کا ہوش نہیں تھااسے بس اپنی عزت اپنے مجازی خدا سے بچانی تھی…جو وہ کسی ڈیل کے پیچھے نیلام کرنے والا تھا…
اس سے پہلے پری سامنے سے آتی گاڑی سے ٹکراتی کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کھینچا تو وہ اسکے سینے سے تکراگی.
..اس نے جب نگاہ اٹھا کے تکرانے والے شخص کو دیکھا تو وہ اور کوئ نہیں اسکا مجازی خدا تھا.. وہ وہی اسکی باہنوں میں جھول گئ…
¤¤¤¤
5 منٹ تک جب ناصر کچھ کھانے کا لے کے نہیں آیا تو پری خود اسکے پیچھے چل پڑی.
مگر کچن کے پاس جاکے جب اس نے ناصر اور جمال کی باتیں سنی جسے وہ کوئ اور ہی رنگ دے بیٹھی سنتے ہی باہر کو بھاگی…
ناصر نے لالہ کے بتانے پہ جب پری کے پیچھے بھاگا تو وہ اسے تھوڑی دور بھاگتی دیکھائ دی… ناصر نے اسے کافی آوازیں دی مگر .بارش تیز ہونے کی وجہ سے وہ سن نہیں پائ اگر ناصر بروقت پہنچ کے اسے نہ بچاتا تو پری کسی بڑے حادثہ کا شکار ہو سکتی تھی…
¤¤¤
ناصر اسکو باہنوں میں اٹھا کے اپنے کمرےمیں لایا..اسکی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ اسے اچانک ہوا کیا…۔۔۔
ناصر نے سب سے پہلے اسکے کپڑے بدلے اور جیسی وہ اسکے ماتھے پہ اپنے لب رکھنے لگا..
پری کی آنکھ کھل گئ.
.پری نے جب اپنے اوپر جھکے ناصر کو دیکھا تو اسے پوری طاقت سے دھکا دیا ناصر بیڈ سے دور جاکے گرا کی جبھی پری کی نظر فروٹ باسکٹ میں رکھی چھڑی پہ گئ…
پری نہ جھٹ اس چھڑی کو اپنے ہاتھ میں لیا اور کہا..
دور رہنا گھٹیا انسان آگر زرا بھی میرے پاس آیے تو مار لونگی خود کو..
.کس کو بیچنے کا پلین بنا رہے تھے مجھے بتاو کس کے اگے مجھے کھانے کی طرح اگے پیش کرنے والے تھے گھٹیا انسان..
ناصر سمجھ گیا کہ پری نہ اسکی اور جمال کی باتیں سن لی۔
ناصر دھیرے دھیرے اگے بڑھنے لگا تو پری نے چھڑی اپنی کلائ پہ رکھ لی اور کہا..
اگے مت انا گھٹیا انسان تم تم نے ہم سب کو دھوکا دیا..
مجھ سے محبت کے دعویدار تھے تم اور مجھے ایک ڈیل کے پیچھے کسی کے ساتھ سلانے
ابھی پری کے الفاظ منہ میں ہی تھے .
ایک زنانے دار ٹھپر پری کی بولتی بند کر گیا..ناصر اس سے زیادہ برداشت نہیں کرسکا..
ناصر نے آگے بڑھ کے اسکے ہاتھ سے چھڑی لی اور کہا…
بس بہت ہوا.
.بہت دیر سے بکواس سن رہا ہو تمہاری….جو چاہے سمجھو مجھے مگر اگر یہ بات اس کمرے سے باہر نکلی یہ تم نے کسی کو بتائ تو بدلے میں شان کو کچھ بھی ہو اسکامجھے الزام مت دینا.
.تمہیں بس حیدر انکل سے سائن لینے ہیں یہ بول کے ناصر کمرے میں محلق اسٹڈی روم میں جاکے روم کا دروازہ لالک کرکے دروازے سے ٹیک لگا کے نیچے بیٹھ گیا اور رونے لگا .
ناصر نےچیخ کے کہا۔۔۔۔
مجھے نفرت ہے تم سے جمال نفرت..
تو ادھر پری ایک بار پھر بیہوش ہو چکی تھی… ناصر اگر یہ سب پری کیساتھ نہیں کرتا تو شاید اسکا باپ اسکی پری کی بھی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا….
¤¤¤¤
صبح ناصر جب اسٹڈی روم سے باہر نکلا تو پری اسے فرش پہ بیہوش ملی..
. اس نے اسے باہنوں میں اٹھایا تو اسکی نظر پری کے مہندی والے ہاتھوں پہ پڑی..
.ایک بار پھر ناصر کی انکھیں جھلک پڑی…ناصر جیسی ہی بیڈ پہ اسے لیٹانے کیلیے جھکا پری نے آنکھیں کھول لی
…ہزیل گرین انکھوں میں خوف دیکھ کے ناصر اس سے ہیچھے ہوا اور اس سے کہا..
اگر کسی کے سامنے بھی ہمارے درمیان ہونے والی کوئ بھی بات کسی کو بھی بتائ تو اپنے بھائ کی موت کے زمیدار تم خود ہوگی اور ہاں شان ناشتہ لے کے انے والا ہے اپنا حلیہ درست کرو….۔۔
ناشتہ پہ پری شان کے گلے لگ کے روپری تو سب نے سمجھا بھائ سے محبت کی وجہ ہے رونے کی۔۔
ولیمہ کی فنکش عروج پہ تھا جبکہ پری کا چہرہ دیکھ کے کوئ اندازہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اسکو کل رات کتنا حسین تحفہ منہ دیکھائ میں ملا..
¤¤¤¤
ولیمہ کے بعد سب ہی اپنے کاموں میں جٹ گے.
نازنین اور شاہ عمرہ پہ نکل چکے تھے تو شان بھی حنا کے پاپا سے اسکی صلاح کراکے اچکا تھا…
جہانگیر حیدر ازلان دلاور شان سب ہی اس پراجیکٹ پہ دن رات کام کر رہے تھے..
.جبکہ ناصر صرف خانہ پوری کرنے آفس جاتا تھا….
پری نے اپنے اوپر چپ کا لبادہ اوڑھ لیا تھا..
لائبہ سے وہ صحیح طریقے سے بات کرتی مگر ناصر کو دیکھتے ہی وہ خاموشی کا لبادہ اورھ لیتی…
ناصر بھی اکثر خاموش رہتا..
..لائبہ پری کو ساری حقیقت بتا چکی تھی اس سے معافی بھی مانگ چکی تھی.مگر پری چاہ کے بھی کچھ بھلا نہیں پا رہی تھی….
ناصر نے جیسے تیسے کرکے شان کے آفس سے اس پراجیکٹ کی فائل چرالی تھی..
پراجیکٹ جمال کو مل بھی چکا تھا…
جس پہ سب ہہ شاکڈ تھے کیونکہ انکی سینپل اور کولٹی کا ایک نام تھا..
مگر جب انہیں یہ پتہ چلا کہ پراجیکٹ جمال اینڈ سسنز کو ملا تو سب نے چپ سادھ لی مگر شان نے اپنے مخبروں کو اس کام کے پیچھے لگا دیا تھا کہ ہماری پراجیکٹ کی فائل کہاں گم ہوئ اور کانٹریکٹ ہمیں کیوں نہی ملا..
اج پراجیکٹ کو ایک مہنیہ ہوچکا تھا۔۔
.مگر شان کے ہاتھ کوئ ثبوت نہیں لگا۔۔۔۔
کچھ ٹائم بعد ہی صحیح مگر اج اسکاانتظار ختم ہوا جب اس نے فائل چرانے والے بندے کو دیکھا تو اسکے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئ شان نے ویڈیو اٹھائ اور ناصر کے آفس کی طرف چل پڑا..
ناصر افس کے لیہ تیار ہو رہا تھا کہ جب پری اسکے پاس آی اور اس ایک مہینے میں پہلی بار اس سے مخاطب ہوئ..
پاپاکے ڈبلیکیٹ سائن میں نے اپکو کر دیے تھے اب اپکو براجیکٹ بھی مل چکا ہے لہذا اب مجھے طلاق چاہیے ایک ہفتہ کے اندر اندر میں شام میں پاپا کی طرف چلی جاونگی اپ کل تک پیپر تیار کروالیے گا…
پری تو بول کے چلی گئ مگر ناصر کیلیے اگلا سانس لینا مشکل ہوگیا..
وہ بنا ناشتہ کیے آفس کیلیے نکل گیا.
ابھی وہ آفس پہنچا ہی تھا کہ شاہ نے اکے اسے ایک دم سرپرائز دیا ابھی وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے کہ آیک دم اسکا آفس کا دورازہ کھلا اور شان غصہ میں اندر داخل ہوا…
شان نے جاکے۔فورا ناصر کا گریبان پکڑ لیااور کہا…
سالے کمینے.
. دوستی کے نام پہ کالا دھبہ ہے تو پراجیکٹ چاہیے تھا تو مانگ لیتا دھوکہ تو نہیں دیتا اعتبار تو نہیں توڑتا میرا..
یہ بول کے شان کی آنکھوں سے انسو جاری ہوگئے تو کچھ ایسا حال ناصر کا بھی تھی جبکہ شاہ جو اچانک اکے اپنے دوستوں کو سرپرائز دینے والا تھا. یہاں اکے وہ خود سرپرئز ہوا تھا.
شان نے اسکا کالر جھٹکے سے چھوڑا اور موبائل کی ویڈیو ان کرکے اسکے سامنے رکھ دی جہاں ویڈیو دیکھ کے ناصر نے شرمندگی سے اپنی انکھیں بند کی وہی شاہ ویڈیو دیکھ کے دنگ رہ گیا کیونکہ ناصر اس ویڈیو میں صاف فائل چوری کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا…شان اپنے آنسو رگڑتے ہوئے اسکے آفس سے نکلا..
تو ناصر انے اپنے انسو صاف کرکے جمال کے کیبین کی طرف غصہ سے ڈورا…جبکہ شاہ اب تک شاک کی کیفیت میں تھا..۔۔۔
اس سے پہلے ناصر کیبن کا دروازہ کھول کے اندر جاتا اندر سے اتی اواز سن کے ناصر کی روح فنا ہونے لگی..
..ہاں باہر نکلا ہے آفس سے گولی سیدھی اسکے دل پہ مارنا شان. حیدر بچنا نہیں چاہیے…
یہ جمال کے الفاظ تھے جو جان چکا تھا کہ شان کو سب پتہ لگ چکا ہے اس لیہ اس نے شان کو مارنے کیلیے بندے ہائر کیے..
ناصر فورا الٹے قدم اٹھاتا ڈورتا ہوا افس سے باہر نکلا تو ایک بلیک پیجارو اسے کھڑی دیکھائ دی جسکا نشانہ گاڑی کا لاک کھولتے شان پہ تھا.
ناصر نے شان کو اواز دی..
.
شان جو غصہ میں ناصر کی اواز پہ پلٹ نہیں رہا تھا.. ناصر نے اس تک پہنچ کے اسکی ہشت کو پکڑ کے گھومایا تو جو گولی شان کے دل پہ لگنی والے تھی وہ ناصر کے دل پہ لگی ..
ناصر ایک جھٹکے سے شان کے گلے لگ گیا.
.شان جو سکتہ کی کیفیت میں تھا اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتا ایک اور گولی چلی جو شان کے ہاتھ پہ لگی..
ناصر نے شان کے گلے لگے لگے کہا…
مجھے معاف……کردینا..میں. جبور پری. ی.
اسکی بات بھی پوری نہیں ہوئ اور ناصر نیچے گر گیا..اور کچھ دیر بعد شان بھی..
لگاتار گولی.کی آواز پہ جہاں شاہ.کا سکتہ توٹا وہی جمال بھی.اپنی.آفس کی کھڑکی تک.پہنچتا اس سے پہلے اسکے موبائل پہ کال آی جمال نے فون ریسیو کرکے کان سے لگایا..
ہیلو ہلیو سر…
سر گولی.اپکے بیٹے کو لگ گئ وہ بھی دل پہ .ہم.انکی.مدد نہی کرسکے کیونکہ کافی بھیڑ جمع ہوگئ ہے…..
یہ بات سن کے جمال فورا کھڑکی تک پہنچا تو سامنا کا.نظرا قیامت کا منظر پیش کررہا تھا..
روڈ پہ اسکے بیٹے کا ساکت وجود پڑا تھا…
جمال فورا نیچے کی طرف بھاگا…
ا
گولی.کی آواز پہ شاہ کا سکتہ توٹا تو اس نے کھڑکی سے نیچے جھانکا تو اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دے گئ….
وہ تیزی سے نیچے پہنچا تو اتنے میں جمال.بھی نیچے پہنچ چکا تھا..
شاہ تیزی سے شان اور ناصر کے پاس پہنچا…شان.کے ہاتھ پہ گولی لگی تھی مگر اسکی سانسیں چلی رہی تھی مگر جیسی اسکی نظر ناصر کے دل پہ.پڑی اس کا ہآتھ فور اپنے دل پہ.گیا..اور اس نے چیخ کے..کہا….
کوئ ایمبولینس کو بلاو…اور پھر ان دونوں کے پاس جھک گیا اور باری باری دونوں کو چہرہ ہلانے لگا… اور روتے روتے کہنا.لگا…
دونوں میں سے اگر کوئ بھی گیا نہ دوستی چھوڑ کے تو دیکھنا میں کیا کرتا ہو تم دونوں کیساتھ اٹھو دونوں یا ر اٹھونا…
شاہ.اس وقت کوئ بچہ لگ رہا… ایمولینس کے سائرن پہ.سب نے اسے راستہ دیا. جمال اور شاہ ان دونوں کے لے قریبی ہسپتال لے گئے…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ماہ کچن میں کھڑی ہوکے ماسی.کو ضروری ہدایت کر رہی تھی جب اس کسی نے پیچھے سے اکے
ہگ کیا.پہلے تو ماہ چونکی مگر جانے پہچانے خوشبو سونگھ کے اس نے بنا پلٹے کہا…
کیسی ہیں اپ مسسز شاہ… ؟؟؟
ماہ کے سوال پہ نازنین سڑا ہوا بنا کے پیچھے ہوتی ہوئ کہنے لگی…
ہمیشہ پہچان جاتی ہے تو. ؟؟
کیا کرو تجھ سے محبت ہی اتنی دھوار دار ہے.. ..
ماہ کی بات سن کے دونوں کا قہقہ کچن میں گونجا…. کہ جبھی نور کی اواز کچن میں آئ…
ارے نازنین تم.کب آئ بیٹا؟؟
بس آنٹی کل.رات اور سوچا اپ لوگوں.کو سرپرائز دے دو…
ہم واقعی سرپرائز ہوگئے ہم..
وہ تینوں لانج میں اکے بیٹھے تھے کہ.جبھی نازنین کے نمبر پہ.کال آنے لگی..
نازنین نے کال پک کری تو شاہ کی روتی ہوئ آواز اسپیکر سے باہر آئ..
ہاں ہیلو. نازنین ..یار ناصر اور شان کو گولی.لگی تم فٹافٹ نور آنٹی اور ماہ کو لے کے ہسپتال پہنچو..ہسپتال کا اڈریس دے کے کال.کٹ کردی…
شاہ نے تو. اپنی بات کہی کے کال کاٹ دی کی تو نور اور ماہ نازنین کا ہونقوں زدہ چہرہ دیکھ کے خوفزدہ ہوگئ.کہ جبھی ماہ نے پوچھا..
کیا ہوا نازنین کیا بول رہا شاہ تھا…؟؟؟؟
ماہ کے پوچھنے پہ نازنین نے سکتے کی حالت میں اسے جواب دیا..
ما.ہ…و.ہ.شاا..ن…اور..ناااا.صر کو گولی.لگی ہے..
نازنین.کا بولنا تھا کہ ماہ اور نور رونے لگی…
یالللہ میرا شان میری پری.. اور ناصر… ؟؟؟
وہ لوگ تیزی سے ہسپتال کی طرف نکلی…
¤¤¤¤¤
پری اپنا سارا سامان سمیٹ رہی رتھی.کہ ایک.دم.اسکے ہاتھ ناصر اور اسکی برات والی پک لگی…دو موتی توٹھ کے اس فریم پہ.گرے اور پری نے وہ تصویر اپنے پاس رکھ لی..
ابھی وہ اپنا سامان سمٹ رہی تھی کہ.اس نیچے سے لائبہ کے چیخنے کی اواز آئ..پری سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے نیچے پہنچی تو لائبہ دھاڑے مار مار کے رو رہی تھی..پری فورا انکے پاس پہنچی اور کہا….
کیا ہوا آنٹی اپ رو کیوں رہی ہیں کیا ہوا؟؟؟
لائبہ نے جب پری کو دیکھا تو فورا اسے گلے لگالیا…اور اسکے گلے لگے کہا..
پ..ر..ی..ناصر کو گولی لگی ہے دل پہ.میرا بچہ….
لائبہ کی بات سن کے پری سکتے میں آگئ بے ڈھرک اسکی آنکھوں سے انسو جاری.ہونے لگے وہ اور لائبہ جیسے تیسے ہسپتال پہنچے تو وہاں سب موجود تھے….
¤¤¤¤¤
شاہ.اور جمال.ان دونوں کو لے کے ہاسپٹل پہنچے… ناصر اور شان کو فورا آپریشن ٹھیٹر لیجایا گیا….
اتنے میں شاہ نے سب کو کال کرکے بتادیا….
تھوڑی دیر میں سب وہاں پہنچ گئے پری تو سکتے کی حالت میں تھی کیونکہ.ایک طرف اسکا بھائ تو دوسری طرف اسکا شوہر.. وہ کچھ بھی بولنے کی.حالت مین نہی تھی.. جبکہ.نعمان ایک طرف اپنی بہن کو سنبھال رہا تھا جبکہ دوسری طرف اپنے بیٹے کو ایک عجیب سی.کشمکش تھی شاہ کی حالت قابل رم تھی اسکی پوری شرٹ اسکے دوستوں کے خون سے آلودہ تھی.
ماہ.اور نور نے جاءنماز سنبھالی.ہوئ تھی…..
سب ہی ان دونوں کی.زندگیوں کو مانگ رہے تھے الللہ سے گ رہے تھے…
جمال تو بس گردن جھکا کے اپن ہاتھوں کو گھور رہا تھا..جس پہ اسی کے بیٹے کا خون لگا تھا…
.اس کے کانوں میں ناصر کے الفاظ گونجنے.لگے…
یاد رکھنا مسٹر جمال اگر میرے یار پہ.ایک.آنچ بھی آئ تو اسکا خمیازہ اپکو اپنے بیٹے کی موت کی صورت میں بھگتا پڑ گا….
جمال نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی کے جبھی آپریشن ٹھیٹر کا دروازہ کھلا تو سب ڈاکٹر کی طرف ڈورے…
سب سے پہلے حیدر نے ڈآکٹر سے پوچھا…
ڈاکٹر میرے دونوں بیٹے کیسے ہیں؟؟؟
حیدر کی بات سن کے جمال نے چونک کے اسے دیکھا…
اور شرمندگی کے آنسو اسکی آنکھوں میں چمکنے لگے…
.
دیکھے حیدر سر..جس لڑکے کے ہاتھ پہ.گولی لگی تھی وہ تو اب خطرے سے باہر ہے کیونکہ گولی ہڈی میں نہی گھسی اس لیہ ہاتھ کو بھی زیادہ نقصان نہی ہوا…
مگر..
مگر کیا؟؟؟
ڈاکٹر اب کی بار شاہ اور جہانگیر ایک ساتھ چیخے…
جمال.تو ان سب کو دیکھ کے ایک بار پھر حیران ہوا جو اسکے بیٹے کیلیے پریشان ہورہے تھے….
دیکھے اس کے گولی بلکل دل.کے قریب لگی تھی گولی.تو ہم نے نکال دی ہے باقی اب اگے الللہ.کی.مرضی ہے اگلے 48 گھنٹے بہت اہم ہیں یہ تو اسے ہوش اجائے گا یہ پھر…..
وہ شاید زندہ نہ رہ سکے.. کیونکہ مریض میں جینے کی امنگ نہی….
یہ بول.ڈاکٹر تو چلا گیا مگر لائبہ جنونی انداز میں
جمال.تک.بڑھی اور اسکا کالر پکڑ کے چیخنے لگی
ہوجاؤ …خوش مسٹر جمال چڑھ گیا میرا بیٹا تمہاری دولت کی حوس کی بھینٹ…دفعہ ہوجاو میری نظروں کے سامنے سے اج کے بعد میر تم سے کوئ واسطہ نہی جاو خرید کے لاو میرے بیٹے کی زندگی ان پیسوں جاو مناو جشن اس کانٹرکٹ کو حاصل کرنا کا جو تم نے اپنے بیٹا کی ا خوشی پیچ کے حاصل کیا….
اگر میرے بیٹے کو کچھ بھی ہوا نہ جمال تو میں تمہین جان سے ماردونگی..یہ ایک ماں کا وعدہ ہے تم سے.. کہا تھا اس نے تم سے کہ اگر تم نے اسکے یار کو یہ اسکی بیوی.کو کوئ.نقصان پہچایا تو اسکا مرا ہوا منہ دیکھو گے..
اور میں دعوے سے کہہ سکتی ہو کہ یہ گولی ان دونوں پہ چلانے والا کوئ اور نہی تم.ہی.ہو تمممم…
یہ بول.لائبہ نے اسکا کالر چھوڑا اور اسکو دھکا دیا…
تو جمال وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ کے چیخ چیخ کے رونا لگا…
جمال کو روتا دیکھ سب کی آنکھیں نم تھی… کسی کو بھی یقین نہی اریا کہ کوئ باپ اتنا بھی گر سکتا ہے….
جمال کو اپنے کندھے پہ.کسی کے ہاتھ کا احساس ہوا ..جمال نے جب مڑ کے دیکھا تو حیدر تھا…
جمال وہی اس کے پیروں پہ جھکا تو حیدر نے فورا اسے کھڑا کیا..اور کہا..
کیا کر رہے ہو ؟؟؟
جمال بس کرو…..
نہی حیدر لائبہ نے سچ کہا میں باپ کہلانے.کے لائق نہی میں نے ہی اپنے بندے بھیجے تھے شان کو مارنے جب وہ.میرے آفس سے اور میں نے ہی …پھر اس نے حیدر کو سب بتا دیا کہ.کیسسے اس نے ناصر کو.بلیک میل کیا..
جمال کی بات سن کے سب سکتے میں اگئے. جبکہ پری تو شاک میں تھی اسسے کسی کا ہوش ہی نہی تھا…اسے تو بس کسسی کی آواز سننی تھی بس….
جمال کی بات سن کے حیدر نے اسکے جڑے ہاتھ نیچے کیہ اور کہا.
یہ بات میں جانتا ہو جمال تمہیں کیا لگتا ہے NJ کپمنی کا مالک اتنی آسانی سے اتنا بڑا پراجیکٹ جانے دیتا یہ اتنا مدہوش ہے کہ اسسے پتہ نہی کہ اس کی پراجیکٹ کی فائل کہاں گئ…ناصر کی جگہ کوئ اور ہوتا تو شاید اج دنیا مین نہی ہوتا مگر میں دیکھنا چاہتا تھا کہ.جسکی گارنٹی میری بیوی اور میرے دوست نے لی تھی.. وہ.کیا چند پیسے کے خاطر اپنا دوستی بیچ سکتا ہے مگر جب مجھے پتہ چلا گولی ناصر نے شان کے پیچھے اپنے دل پہ کھائ تویقین مانو مجھے رشک آیا ناصر اور شان کی دوستی پہ..
اور رہا سوال تمہیں معاف کرنے کا…تو اس تم سے بد نصیب پوری دنیا میں کوئ نہی جسکی بیوی اسکی شکل دیکھنا نہی.چاہتی جسکا بیٹا اسکی.لالچ کی بھینٹ چڑھ گیا..حیدر کے بولنے پہ سب ہی چپ تھے جبکہ جمال نےایک بار پھر اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیے..
حیدر نے اسے گلے سے لگایا اور سچے دل سے معاف. حیدر کے بعد جمال نے سب سے معافی مانگی.. اور جہانگیر اور زلیخا نے بھی اسے معاف کردیا….
تین گھنٹہ بعد شان.کو ہوش ایا اور باری باری سب اس سے ملے مگر ماہ تو سب کی.جانے کے بعد ماہ شان کے گلے لگ کے روپڑی.. مگر تکلیف کے باعث شان گنودگی مین تھا..
شان جب مکمل ہوش میں آیا. ..ساری عورتیں گھر جا چکی تھی اور نعمان اور نیلم لائبہ کو بہت مشکلوں سے اپنے ساتھ لے گئ
شاہ جب شان کے کمرے میں سب کے جانے کا پہینچا تو وہ چھٹ کو گھور رہا تھا… شاہ اس کے پاس جاکے بیٹھ کے غور غور سے دیکھنے لگا…
شان نے آئیبرو اچکا کے شاہ کو دیکھا اور پوچھا..
کیا دیکھ رہا ہے..؟؟
تو اتنا بے حس تو نہی ہے شان.. تونے ایک بار بھی ناصر کا نہی پوچھا…
جو لوگ اعتبار توڑتے ہیں. چند پیسوں .کے پیچھے اپنی دوستی کو بیچ دیں انکا یہی حال ہوتا ہے جو اج اسکا ہے. میرا بس چلتا تو اپنے ہاتھوں سے اسکی جان لے لیتا….
شان بول کے چپ.ہوا ..تو شاہ اسے سکتے کی حالت میں دیکھنے لگا… اسے تو اندازہ ہی نہی تھا کہ شان ناصر سے اتنا بدگمان..ہے…
شاہ نے شان سے کہا…
جب دوستی کی ہے تو دوستوں پہ اعتبار بھی کرنا چاہیے.. یاد ہیں یہ تیرے ہی الفاظ تھے جو تو نے مجھے بولے..
ہاں یاد ہےمگر….
مگر وگر کچھ نہی.تو جانتا یہ گولی جو ناصر کے دل.پہ.لگی ہے.. یہ تیری دل پہ.لگنے کیلیے چلائ گئ تھی..
شاہ کی بات سن کے شان نے پریشانی کے عالم مین اسے دیکھا..
اور یہ گولی تجھ پہ چلوانے والا کوئ اور نہی ناصر کا باپ تھا…
شاہ نے پھر ایک ایک بات شان کو بتا دی…
شان تو جیسے سن کے سکتے میں ہی آگیا..اور کھڑے ہوکے شاہ سے کہنے لگا..شان نے ساری ڈرپ وغیرہ اتارا دی…
یار چل یار مجھے ناصر کے پاس لے چل. پلیز یہ بول کے شان رونے لگا تو شاہ کی بھی انسو گرنے لگے…
شان کوئ فائدہ نہی وہ کل سے بیہوش ہے ڈاکٹر نے اس کے بچنے کی.کوئ گارنٹی نہی دی وہ کہتے .کہ اسے جینے کی چاہ نہی…اب کے یار وہ واقعی ناراض ہوگیا جھوٹ موٹ کا ناراض ہونے والا ہمارا یار اج دنیا سے ہی رخ موڑ کے بیٹھ گیا…
یہ بول کہ شان پھر رو پڑا تو شان نے کہا…
دو ٹھپر لگاونگا..اسے.. اسکی.ہمت کیسے ہوئ مجھ سے روٹھنے کی چل ابھی اسکے پاس…
شاہ نے بہت مشکل ڈاکٹر سے ناصر سے ملنے کی اجازت لے شان کو لے کمرے میں چلاگیا…
شان نے جب ناصر کو دیکھا تو وہ لڑکھڑا گیا..
شان نے اسے احتیاط سے ناصر کے پاس کرسی پہ بیٹھایا..شان ناصر کو دیکھنے لگا جسکی پورا وجود مشینوں میں جکڑا ہوا تھا…جسکی ہارٹ بیٹ رک رک.کے آرہی تھی…
ناصر کو دیکھ کے شان کے سامنے ایک سال پہلے کا واقعی چلنے.لگا…
“کیا ضرورت تھی بیچ میں کودنے کی خاماخائ میں تجھے کچھ ہوجاتا تو..خالی پرس ہی چھین رہے تھے لینے دیتا…
شان کی بات پہ ناصر نے کہا..
خالی پرس لیتے تو جانے دیتا تجھے چھری دیکھائ.تو برداشت نہی ہو ا..اور جو یہ تیرے لگ گئ ہلکی سے اسک کیا.اگر کچھ ہوجاتا تو تجھے…شان نے غصہ سے کہہ کے گھور کے ناصر کو دیکھا..
ارے یار…
سانسوں کا کیا ہے سانسیں ہیں آنی جانی…
قربان دوستی پہ 100 زندگانی..
ماضی سے شان نکلا تو ہچکیوں سے رونا لگا. اپنے انسو صاف کیہ اور غصہ سے ناصر کو کہا…
چل.بس بہت ہوا اٹھ جا اب ورنہ سمجھ ہماری دوست ختم. چل جلدی سے انکھیں کھول اپنی..چل نہی تو میں سوری بولتا ہو بس اب اترا نہی نہی تو یار اٹھ جا یار ورنہ میری بھی سانسں رک جائنگی..یہ بول کے شان ناصر کے سینے پہ جھک گیا اور زور زور سے رونے لگا کہ.جبھی ناصر کے جسم.نے ہلکی.سی.جنبش کی اور ہلکے ہلکے اسکے لب ہلنے لگے.شاہ نے جب ناصر کے جسم میں حرکت دیکھی تو فورا شان سے کہا…
شان دیکھ ناصر ہوش میں ارہا ہے دیکھ.. شاہ.کی بات پہ شان نے جب ناصر کو دیکھا تو فورا اپنا کان اسکے قریب لے کے گیا اور جو لفظ اسے سنائ دیا وہ اور کوئ نہی اسکا اپنا نام تھا…
دوسیکنڈ پعد ناصر کا پورا جسم جھٹکے کھانے لگا…
شاہ ڈور کے جاکے ڈاکٹر کو بولاکے لایا..
ناصر کی پوری باڈی جھٹکے کھا رہی تھی..
ڈاکٹر نے فورا ان دونوں کو کمرے سے باہر نکالا…
شاہ نے سب کو فون کردیا تھا سب ہی ہاسپٹل میں جمع تھے
ادھہ گھںٹہ بعد ڈاکٹر باہر نکلے تو شان ڈور کے انکے پاس پہنچا اور روتے روتے پوچھنے لگا…
ڈاکٹر میرا یار.؟؟
ڈاکٹر نے اس دیوانہ کو دیکھا جو اپنے زخم.کی.پرواہ کیہ بغیر اپنے یار کا پوچھ رہا تھا….
ڈاکٹر نے مسکرا کے شان کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہا..
he is out of danger
سچی محبت کو کبھی میرا الللہ رسوا نہی کرتا اور دوستی کا رشتہ تو ہی اتنا انمول. مجھے جلیس فیل ہو رہی ہے اپ تینوں کی دوستی سے اس نے شاہ.کی طرف دیکھ کے اشارہ کیا…
اپ کا دوست موت کو مات دے آیا ہے الللہ.بھلا اتنی جلدی اپ کا دوست کیسے لیتا معجزہ سمجھے اپ اپ سے جب اپ ااسکے لیہ زندگی کی دعا ہے اتنی مظبوط تھی.دل سے نکلی دعا عرش تک جاتی ہے اور عرش والا فرش والوں کو کبھی خالی ہاتھ نہی لوٹا تہ اپ کو دوست بلکل تھیک ہے اور ہوش میں ہے اور اپنے دوستوں سے ملنے کیلیے بولا رہا ہے جاو مل لو مگر زیادی باتیں نہی.کرنا..
ناصر کی.زندگی کی.خبر وہاں موجود سب کو سکون دے گئ..شان اور شاہ کمرے میں پہنچے.. تو جہاں ناصر ان دونوں کو دیکھ کے رویا وہی وہ دونوں بھی بچوں کی طرح رونے لگے..
شان اور شاہ.ایک ساتھ ناصر کے گلے لگے تو ایک بار پھر ان تینوں کی سسکیوں سے کمرہ گونج اٹھا..
جب دو منٹ تک وہ.لوگ ناصر کے گلے لگے رہے. تو مجبورا ناصر نے کہا.
ظاموں ابھی تو دل نے ڈھرکنا شروع کیا ہے ہٹھو اوپر سے.. ..موٹے لوگوں…
ناصر کی درد میں ڈوبی.آواز سن کے وہ دونوں فورا پیچھے اور تینوں مسکرادیے.. ناصر جیسی ہی شان سے سے معافی مانگنے لگا.. شان نے فورا اسکے پیٹ میں گھونسا. مارا…اور کیا کوئ میلو ڈرامہ نہی.
باری باری سب اکے اس سے ملے ناصر نے حیدر سے معافی مانگنی چاہی تو اس نے ناصر کے کان کھینچے مگر ناصر کو جس کا انتظار تھا وہ نہی آئ..
حیدر اور جہانگیر باہر نکلے تو جمال فورا ان کی طرف لپکا اور کہا.
کیسا ہے میرا بیٹا درد تو نہی ہورہا اسسے. .؟؟
جمال کی حالت دیکھ کے جہانگیر اور حیدر دونوں کو تکلیف ہوئ..
حیدر نے جمال سے کہا…
اولاد زیادہ دیر تک اپنی والدین سے دور نہی رہ سکتی. جاو اندر وہ منہ سے نہی بول رہا مگر تمہاری راہ دیکھ رہ ہوگا.. معافی مانگنے سے کوئ چھوٹا بڑا نہی ہوتا..
یہ بول کے حیدر چپ ہوا تو جہانگیر نے بھی اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اس دلاسہ دیا..
دھڑکتے دل کیساتھ جمال اندر گیا.تو ناصر انکھیں بند کرکے لیٹا تھا جمال خاموشی سے اسکے پاس کھڑا ہوکے اسکے پیروں کو جیسے ہی ہاتھ لگانا چاہا ناصر نے فورا اہنے پیر پیچھے کیہ اور انکھیں بند کیے ہوئے..بولا
باپ اولاد کے پاوں چھونگے تو اولاد کو الللہ دنیا میں ہی دوزخ کا نظارہ کروا دے گا..
باپ بیٹوں کو سینے سے لگاتے ہیں..
شان اور شاہ ناصر کو اسکے باپ کا بلکنا بتا چکے تھے اس لیہ ناصر اپنے باپ کی آہٹ سے ہی سمجھ گیا تھا کہ وہی ہیں….
بابا بہت درد ہو رہاہے. ناصر نے روتے روتے جمال سے کہا تو جمال نے ڈور کے اسکے سر پہ.بوسہ.دیا اور جھک کے اسکے سینے پہ.جہاں گولی.لگی تھی اپنے لب رکھے اور روتے روتے کہا..
اپنے بیٹا کا درد میرا رب دور کرے گا بہت ہمت والا ہے میرا بیٹا یہ بول کے جمال نے ناصر کے ماتھے پہ.اپنے.لب رکھ دیے..
“اور بے شک باپ کی دعا عرش تک.جاتی ہے”
کمرے کے باہر کھڑے سارے لوگوں کی انکھیں یہ.منظر دیکھ کے بھر آئ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ناصر کو ہاسپٹل میں پورا ایک ہفتہ رکھ کے چھٹی دے دی گئ…
اپن جان عزیز سے وہ اپنے گھر میں ملا.. اسکی سوجی آنکھیں نماز کی طرح ڈوپٹہ اسکے سارے راز ناصر پہ.کھول گیا کہ اس نے کس طرح رو روکے اسکی زندگی کی بھیگ مانگی..
سب نے ناصر اور شان کا بھر پور طریقے سے خیال رکھا.جمال تو بچوں کی طرح ناصر کے لاڈ اٹھا رہا تھا اور برسوں بعد ناصر بھی اپنے باپ سے ہر ناز اٹھوا رہا تھا.سب کے دل جمال کی.طرف سے صاف ہوچکے تھے.سوائے لائبہ کے سب کے لاکھ سمجھانے پہ بھی اس نے جمال کو معاف نہی کیا..
..پری نے ایک مہینے ناصر کا بھر پور خیال رکھا بیوی کی.حیشیت سے اسکی ہر چیز کا خیال رکھا…مگر اپنے لب نہی کھولے ناصر اسکی آواز سننے کیلیے ترس گیا
ایک مہینے بعد سب اج جمال کے گھر پہ ڈنر پہ انوائٹڈ تھے فائزہ کی طبیعت کے باعث دلاور نازو اور ازلان نہی ائے تھے اور نہ اماں جان..
ڈنر کے بعد سارے ینگ جنڑریشن لان میں بیٹھی گپے لگا رہی تھ مگر ان سب میں گم سم سے پری پہ سب کی.نظر تھی.جب عدنان نے ناصر سے کہا..
ناصر بھائ اج تو کچھ سنا دے میری بڑی خواہش ہے اپکو سننے کی..
ہاں ہاں ردا نے عدنان کی ہاں ہان ملائ.اور کہا پری اپی کیلیے ہی سنا دے…
سب کے بولنے پہ.ناصر نے پری کیلیے گانا شروع کیا…
“میرے دل کی رانی تو..
میرے سپنوں کی منزل..
بن تیرے کیسی یار…
وہ جیت ہو یہ ہار…
تو ہے جینے کی وجے..
کر میرا اعتبار…..
بن تیرے کیا ہے جینا…..”
ناصر کا گانا ختم ہوا تو سب نے ہی اسے داد دی مگر اسکی نظر پری پہ تھی کہ ایک دم پری کی آواز پہ سب چپ ہوگئے..
.
“دل پہ غصہ کرو تو بھی کیا فائدہ..
کوئ.قانون. نہ عشق کا قائدہ…
بات ایک نہ بھلائ کوئ دل سے کبھی..
سن لے میری دھائ کوئ دل سے کبھی..
درد اتنا دیا تونے ورنہ کہاں مانگتا ہے
جدائ کوئ دل سے کبھی…
“
پری کے گانے کے اختتام.پہ سب کو سکتہ.ہوگیا.شاہ نے شان کی طرف اشارہ کیا تو نازنین اور ماہ بھی ایک دوسرے کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی..جبکہ ردا اور عدنان بلکل چپ تھے..
سب کے جانے کا وقت ہوا تو شان پری کے پیچھے کچن میں گیا.. تو پری شان کو دیکھ کے چونکی..اور کہا..
کیا ہوا بھائ.کچھ چاہیے ؟؟
پری جب انسان ہی نہی ہونگے تو غلطیوں کو کیا کرینگے ہم جانے دیتے ہیں اگے بڑھتے ہیں اور ناصر جیسا دوست اور شوہر قسمت والوں.کو ملتا ہے باقی میری بہن کافی سمجھدار ہے….
یہ بول کے شان تو چلا گیا مگر پری کا دل صاف کرگیا..
¤¤¤¤
سب نبٹا کے پری اپنے کمرے میں آئ تو ناصر اپنی شرٹ اتارنے کی.کوشش کر رہا تھا جو تکلیف کے باعث اس سے اتر نہی رہی تھی….
پری تیزی سے ناصر کے پاس پہنچی اور اسکی شرٹ اتارنے لگی اور پھر الماری میں سے ایک نئ شرٹ لائ.اور ناصر کو پہنانے لگی..شرٹ پہنانے کے بعد ناصر کو اس نے بیڈ پہ بیٹھا کے اسے میڈیسن دی.. ناصر کی نظر مسلسل پری.کے چہرے پہ تھی..
میڈیسن دے کے جیسی ہی.پری.مڑی ناصر نے اسکا ہاتھ پکڑ کے کہا..
جب جانا چاہو چلی جانا میں طلاق ابھی ناصر کے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ پری کا زناتے دار ٹھپڑ ناصر کی بولتے بند کر گیا..ناصر نے حیران نظروں سے اسے دیکھا.. پری نے اگے بڑھ کے ناصر کا کالر پکڑ کر کہا..
آئندہ خود سے الگ کرنے کا سوچا بھی تو اپنے ہاتھوں سے جان لے لونگی…اپ سے الگ ہوئ تو مرجائے گی پری یہ بول کے پری نے ناصر کے ماتھے پہ.اپنے لب رکھ دیے اتنے حسیین اظہار پہ ناصر کی انکھوں سے آنسو جاری تھے تو پری کی انکھیں بھی بھیگ رہی.تھی..
ناصر نے دومنٹ تک اسے دیکھا اور پھر اسکے لبوں پہ جھک کے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا..
پری میں جان ہے ناصر کی تمہیں نہی پتہ تمہاری خاموشی میری زندگی کم کر رہی تھی.. یہ بول کے ناصر پری کو الگ کیا اور اسکے انسو صاف کرتے ہوئے پھر کہا…
بس اب جلدی سے میری شہزادی اجانی چاہیے وہیسے ہی وہ بہت لیٹ ہوگی..
یہ بول.کے ناصر نے.شرارتی مسکراہٹ لیہ پری کو دیکھاجبکہ.ناصر کی بات پہ پری شرما کے دوبارہ اسکے سینے میں منہ چھپا گئ..
…
لائبہ.بیڈ پہ انکھوں پہ ہاتھ رکھ کے لیتی تھی کہ جمال کمرے میں ایا…
دو منٹ تک تو وہ لائبہ کو دیکھتا رہا اور پھر بیڈ پہ.لیٹ کے لائبہ.کو کھینچ کے اپنے سینے سے لگالیا اور اسے سے اپنے ہر گناہ کی.معافی مانگی.. اور بیوی تو ہوتی ہی ہے شوہر کے پیار کی بھوکی..
¤¤¤¤¤¤¤¤
(پانچ سال بعد)
ماما دیکھے آئ ایم ریڈی…
ارے واہ میری پرنسس دیکھو بھائ کہاں ہے جلدی…
اوکے ماما…
یہ تھی ازلان اور فائزہ کے جڑواں بچے پانچ سال کا آیان اور پانچ سال کی نمرہ..
آیان کبھی نوکک بھی کر لیا کرو یار..جہانگیر جو زلیخا سے کس لینے کے موڈ میں تھا مگر آیان جسکی آنکھیں ہو بہو..جہانگیر کے جیسی تھی بولا پڑا..
تو بڈی اپ دروازہ لاک کرکے دادو سے رومینس کیا کرے.. نہ اف اس گھر کے بڑوں کو بھی مینرس سیکھانے پڑینگے…
جہاں جہانگیر صدمہ کی.حالت میں آیان کو دیکھ رہا تھا وہی زلیخا کا قہقہ کمرے میں گونجا اور اس نے کہا..
جہانگیر بھول جاو رومینس اب یہ بول کے زلیخا آیان کیساتھ نیچے چلی گئ…
ارے ازلان کب ریڈی ہونگے اپ ردا پالر سے تیار ہوکے آگئ ہے اور اپنے ابھی.عدنان کو بھی تیار کروانے مین مدد کرنی.ہے..
ازلان جو کرتے کے بٹن لگا رہ تھا. ایک جھٹکے سے فائزہ کا ہاتھ پکڑ کے اپنے قریب کیا اور کہا..پہلے تم.تو پاس آو…¤¤¤¤¤
حیدر اور شان اگے بیٹھے تھے جبکہ نور اور ماہ.احمد اور احد کیساتھ پیچے.. یہ.منظر تھا شان کی گاڑی کا..ماہ اور شان کے ٹوئنس بے بی جو ابھی صرف دو سال کے تھے…
¤¤؟؟
پری حمزہ.کو تیار کر دیا….
جی جی وہ نیچے ماما کےپاس ہیں اپ .یہ بول کے جیسی پری کا پیر کارپیٹ میں اٹکآ وہی ناصر نے اسے فورا تھاما اور کہا..
دیھان سے یار ابھی میری شہزادی کو کچھ ہوجاتا تو..
اچھا یعنی میری پرواہ نہی. تم ہی تو ہو میری شہزادی اور انے والی شہزادی کی.ماما دونوں جان ہو میری.. اب جلدی چلو پتہ نہہی عدنان اور ردا وہی نہ لڑنا شروع یوجائے…¤¤¤¤
ماما ماما جلدی سے تلے نہ و تھانا تھل دیا ہوگا..
شاہ اور نازنین کی تین سال کی بیٹی علشباہ جو ہو بہو شاہ.کی کاپی تھی اور کھانے کے معملے میں نازنین کی.کاپی.
¤¤¤
اج ردا اور عدنان کا نکاح ہے یہ سارے لوگ وہی جا رہے ہی..
ان پانچ سالو میں
اماں جان..جیند اور ثمینہ بیگم.نہ رہی مگر اماں جان کی خواہش پہ اج آفریدی مینشن میں ردا اور عدنان کا نکاح تھا..
فنکشن اپنے عروج پہ تھا نکاح کے بعد سب بچوں کو بڑوں نے سنبھال لیا جبکہ انکی مممی پاپا اج ہلے گلے مین مصروف تھے اور باری باری ردا اور عدنان کو چھیڑ رہے تھے جبکہ. باقی بڑے اج اپننے بچوں یہ خوشحال دیکھ کے بہت پرسکون تھے..
ختم….
