Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 44 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44 Part 1
علی جہانگیر سے الگ ہوا تو اسکی نظر ساکن حالت میں کھڑی بی جان پہ گئ …
وہ چلتا ہوا بی جان کے سامنے جاکے کھڑا ہوگیا اور کہا..
جب اپ جیسے لوگ زمینی خدا ہونے کا دعوا کرتے ہیں دوسروں کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرتے ہیں تو پھر خالی ایک جھٹکا دیتا ہے میرا اللّٰہ انہیں یہ ثابت کرنے لے لیہ کے وہ رب ہے اور تم لوگ خالی زمین کے کیڑے جنکو وہ اپنے جلال سے جلا سکتا ہے…
یہ بول کے علی چپ ہوا تو ..
اماں جان جو کب سے خاموشی کی مورت بنی ہوئ تھی چلتی ہوئ بی جان کے سامنے آئ اور گھوما کے ایک ٹھپر بی جان کے منہ پہ مارا .
.اماں جان کا ٹھپر بی جان کے گال پہ نہیں انکی روح پہ پڑا تھا..
. وہ گال پہ ہاتھ رکھ کے بے یقینی سی حالت میں اماں جان کو دیکھنے لگی جبکہ اماں جان کے تھپڑ مارنے پہ سب نے ایک دوسرے کو ہونقوں کی طرح دیکھا…
تم تو بہن تھی میری تم پہ اعتبارکرکے آنکھ بند کرکے تمہارے ہر بات مانی اپا اپا کہتے میں تھکتی نہیں تھی اور تم نے مجھے ہی ڈس لیا ارے ڈائین بھی ساتھ گھر چھوڑ دیتی ہے تم نے اپنی ہی بہن کی خوشیاں نگل لی تمہارے پیچھے میں نے اپنے بچوں کی خوشیوں کو تر جیع نہی دی ارے تم تو اپنے غرور میں پیسوں کی ہوس میں اتنی آندھی ہوگئ کہ تم۔اپنے ہی بچوں کی خوشیاں نگل گئ.. شاہین کو تم نے زندہ زندان میں دفن کردیا اسکی ہی اولاد کو اس سے دور کرکے اپنے ذاتی مفاد کے لیہ استعمال کیا… تنویر تم سے سات سمندر دور بیٹھا ہے اور جنید جو تمہارے ہی رنگ میں رنگ کے زندگی بھر کی معزوری کو گلے لگا بیٹھا اور صبا اسکی مثال تو کتے جیسی ہی دھوبی کا کتا نہ گھر کا گھاٹ کا… اماں جان نے سخت تیور لیہ صبا کی طرف دیکھا تو وہ شرم سے گردن جھکا.گئ..
.
دولت چاہیے نہ تمہیں دیتی ہو سب کچھ دیتی ہو مگر کیا کروگی قبر میں لے کے جاوگی یہ پھر خرید لوگی اپنے بچوں کی۔خوشیاں اپنے گھر کا سکون…
.جو تم خود اپنے ہاتھوں سے بر باد کر چکی.ہو….
اماں جان کی باتوں سے بی جان کو کوئ فرق پڑا یہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتانے والا تھا….
اماں جان بول کے چپ ہوئ تو شاہمیر بی جان کے سامنے اکے کھڑا ہوا اور کہا.
شمع ماما نے بس مجھے پالا تربیت میری اپنے کی اپنے کہاں دن تو میں دن کہا اپنے کہاں رات تو میں نے کہاں
رات..
اپکے اس بدلے اس پیسے کی حوس کے چکر میں کیسی لڑکی کے سچے جزبات سے کھیل گیا سرے عام اسکی عزت کا تماشہ بنا دیا مگر میں بھول گیا تھا کہ جب کوئ کسی کے لیے گڑھا کھودتا ہے تو پہلے خود اس میں گرتا ہے…
میں واقعی ماہ کے قابل نہیں تھا جبھی تو اللّٰہ نے میرے دل میں اسکی محبت نہی ڈالی اور جسکے دل میں ڈالی اج وہ اسی کے نام سے جڑی ہے..
.
شاہمیر نے یہ بات کہہ کے ایک نظر مسکرا کے شان کو دیکھا تو شان نے بھی اسکی طرف مسکرا کے دیکھا…
زندگی میں اگر میں نے کسی کی دل وجان سے عزت کی تھی وہ اپ تھی اگر کسی عورت کی عزت کی تو وہ اپ تھی,اگر کسی عورت سے محبت کی تو اپ تھی ..
اپ نے مجھ سے میری ماں کا ساتھ مجھ سے چھینا مجھے زندہ رکھنے کے سودے میں اپنے میرے ماں کی ساری زندگی انکی جوان کے وہ پل جو وہ میرے ساتھ اپنے شوہر کیساتھ گزرانا چاہتی تھی اپ نے سب اپنے غرور اپنے ہوس کے نظر کردیے…
شمع ماما کی زندگی اپنی جہنم بنا دی میرے جنید بابا اج معزوری کی زندگی گزار رہے ہیں صرف اپکی وجہ سے…
میں نفرت کرتا ہو اپ سے دادو…
اوہ سوری دادو کہلانے کے لائق نہیں اپ۔۔
آمنہ بیگم اپنے بھلے میری زندگی کی بولی لگائ اور شاید اپ میری ماں کو ساری زندگی قید میں رکھ کے جیت بھی جاتی میں کبھی اپنے والدین سے نہ مل۔پاتا کبھی اپکی اصلیت نہیں جان پاتا
مگر کیا ہے نہ آمنہ بیگم.
“پیر با ببول کا بو گے.
تو آم ہم کھا نہیں سکتے.”
اپ ماں کے نام پہ دھبہ ہیں جو اپنی جیت کے نشے میں اپنی اولاد کی ہی خوشیاں ہار بیٹھی مجھے نفرت ہے آپ سے.. نفرت آخری کا جملہ شاہمیر نے چیخ کے کہاں …
…شاہمیر آہستہ سے جہانگیر کے سامنے آیا اور اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کے کہا..
..
نیلام کرنے آیا تھا انکل اپکی عزت مگر دیکھے اپنا ہی زات کا تماشہ مجھے دیکھنے کو ملا یہ بولتے ہوئے شاہمیر کی آنکھیں جھلک پڑی…
شاہمیر نے ایک بار پھر کہا…
ماہ بے قصور ہے انکل اس نے مجھ سے محبت کرنے کے علاوہ اور کوئ گناہ نہیں کیا وہ ایک باکردار لڑکی ہے.. مجھے پتہ ہے کہ میرا گناہ معافی کے قابل نہیں مگر ہوسکے تو مجھے معاف کردے….
یہ بول کہ جب شاہمیر رونے لگا تو علی چلتا ہوا شاہمیر کے قریب آیا اور کہاں…
کیا کیا تم نے ماہ کیساتھ شاہمیر مجھے بتاؤ….؟؟؟؟؟
علی کی روبدار آواز پورے لانج میں گونجی کے جبھی حیدر نے علی کو سب بتادیا. جو جو شاہمیر بی جان کے کہنے پہ ماہ کیساتھ کرچکا تھا…
حیدر کے بتانے پہ۔علی نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی اور وہ بھی جہانگیر کے سامنے ہاتھ جوڑ کے کھڑا ہوگیا…
علی کا ہاتھ جوڑنا تھا کہ جہانگیر نے جہاں تڑپ کے علی کے ہاتھ نیچے کیہ وہی شاہمیر کو بھی گلے لگالیا…
اور کہاں بیٹا غلطی کرنا بہت آسان ہے مگر اس سے بھی زیادہ مشکل ہے اپنی غلطی ماننا اور اس غلطی کی معافی سب کے سامنے مانگنا..
..میں نے تو تمہیں۔معاف کردیا ہے مگر تم ہم سے زیادہ ماہ کے قصوروار ہو ان سب میں سب سے زیادہ اگر نقصان ہو تو اسکا ہوا محبت میں اتنے بڑے دھوکے کے بعد وہ کبھی کسی پہ اعتبار نہیں کر پائے گی….کوئ اور بھی ہے جو اس نقصان کا خمیازہ بھگتے گا؟؟
جہانگیر نے یہ بول کے شان کی طرف دیکھا تو وہ نظرے جھکا گیا….
شاہمیر آہستہ سے چلتا ہوا شان کے سامنے آیا اور اپنے ہاتھ جوڑ دے مگر شان نے فورا اسکے ہاتھوں کو پکڑا اور اپنےگلے سے لگالیا…
شان کے گلے لگتے ہی شاہمیر پھر روپڑا سب ہی اس ملن پہ خوش تھے مگر اماں جان کی نظر زلیخا پہ تھی جو گردن جھکا کے رو رہی تھی کہ جبھی اماں جان نے گرجدار آواز میں اسے آواز دی…
زلیخا ادھر آو…
اماں جان کی آواز سن کے پہلے تو زلیخا گھبرائ مگر پھر آہستہ آہستہ بی جان کے پاس جاکے کھڑی ہوگئ. گردن جھکا کے زلیخا جو یہ سوچ رہی تھی کہ پھر اماں جان اسکی بے عزتی کرینگی مگر اماں جان نے جب اسے گلے سے لگایا تو اسکی حیرانگی دیکھنے لائق تھی.
اماں جان نے زلیخا کو گلے لگاتے لگاتے کہا….
مجھے معاف کردو میری بچی تم نے تو میرے گھر کی عزت کی رکھوالی کی مجھے بچانے کے لیہ اپنے پہلے ہونے والے بچے کی بھی پرواہ نہیں کی مگر میں نے ہمیشہ تمہیں زلیل کیا
..میں۔۔۔
اس کے اگے الفاظ اماں جان بولتی زلیخا ان سے فورا الگ ہوئ اور ان کے دونوی ہاتھ پکڑ کے انہیں چوما اور کہا..
بس امی اپنی اولاد سے کوئ ماں معافی نہیں مانگتی یہ بول کے وہ پھر اماں جان کے گلے لگ گئ…
کے جبھی اماں جان کی نظر جہانگیر پہ پڑی جو آنکھوں میں آنسو لیہ انہیں ہی دیکھ رہا تھا انا کی اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان جہانگیر کا ہوا تھا جو دوست جیسے باپ کھونے کے بعد ماں کے پیار سے بھی محروم رہا…
اماں جان زلیخا سے الگ ہوئ تو جہانگیر کے پاس گئ اور اس کے سامنے جاکے کھڑے ہوکے کہاں…
جان معاف کریگا اپنے اماں جان کو؟؟؟
اماں جان جہانگیر کو پیار سے جان بولتی تھی.. اماں جان کا بولنا تھا کہ جہانگیر اماں جان کے گلے لگ کے سسک پڑا تو دلاور اور اور نور بھی اماں جان کے گلے لگ کے رونے لگے عالم جو اپنی ہی شرمندگی میں یہ منظر دیکھ کے رو
رہا تھا جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد کوئ بھی بڑے بھائ کا فرض نہیں نبھایا تھا…
انکھوں میں آنسو آس لیہ یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ جبھی اماں جان کی نظر اس پہ پڑی اور انہوں نے اشارہ کرکے اسے بلایا تو وہ بچوں کی طرح ڈورتا ہوا ان سب کے گلے لگ گیا یہ منظر دیکھ کے سب ہی ینگ جنڑریشن نے خوش ہوکے تالیاں بجائ..
امں جان سب سے الگ ہوئ تو حیدر کی طرف بڑھی اور اس سے کہاں جب میری سب اولادیں اکے میرے گلے لگی تو کیا تمہں الگ سے کاڑد دیا جائے گا کیا میرے گلے لگنے کے لیہ..؟؟
اماں جان کی بات سن کے جہاں حیدر کی آنکھیں بھیگی وہی دلاور نے کہا….
نہی امی انہیں اپکی چپل زیادہ یاد ارہی ہے…
دلاور کی بات پہ جہاں سب کا قہقہ گونجا وہی حیدر اماں جان کے گلے لگ کے رونے لگا..تو اماں جان نے اس سے بھی اپنے رویہ کی معافی مانگی…
ساری ینگ جنڑیشن اپنے بڑوں کے اس ملاپ پہ بہت خوش تھے تو حامد مسلسل لاڈو کو گھورے جارہا تھا… لاڈو نے کئ بار اسے کڑے تیور سے گھورا مگر حامد پہ کوئ اسر نہی ہوا..
..اماں جان جب سے مل کے الگ ہوئ تو بی جان سے کہا…
بتاو امنہ بیگم جیتا کون تم یہ میں ؟؟؟؟
بی جان نے ایک غصیلی نظر سب پہ ڈالی اور باہر کو چل دی جبکہ باقی سارے لوگ جو انکے ساتھ اج افریدی ہاوس کی بیٹی کا تماشہ دیکھنے آئے تھے سب ہی جاتے ہوئے بی جان کو لعن طعن کررہے تھے…
جنید اور شمع جانے لگے تو شاہمیر نے انہیں آواز دی اور انہیں اپنے ساتھ چلنے کو کہا…
شاہین اور علی کے بھی بار بار اسرار پہ جہانگیر کے بھی بار بار بولنے وہ دونوں رک گئے..
جبکہ آفندی صاحب کسی سکتے کی حالت میں بی جن کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کے حویلی کی طرف چل پڑے..
بی جان جنکا ضمیر اتنی زلالت کے بعد بھی نہیں جاگا جو گاڑی میں بیٹھ کے ایک بار پھر آفریدی ہاوس کو برباد کرنے کا سوچ رہی تھی. ..مگر اللّٰہ نے انکا حساب کتاب لینا شروع کردیا تھا..اس سے پہلے وہ کسی کو کال کرتی آفریدی ہاوس میں بم بلاسٹ کروانے کے لیہ.
.. کہ جبھی ڈرائیور کی زرا سے غفلت کہہ لو یہ اللّٰہ کا بی جان کی لگام کھینچنا تھا. .گاڑی سامنےسے آتے ٹرک کے اندر گھسی اور ایک زور دار دھماکہ ہوا۔۔۔۔
¤¤¤¤¤
سب ہیں اپنے کپڑے جینج کرکے فری ہوکے ایک بار پھر لان میں جمع ہوگئے جب کے ٹائم زیادہ ہونے کی وجہ سے نازنین اور شاہ کی فیملی بھی رک گئ تھی.. صبا نے نہ صرف اماں جان سے معافی مانگی بلکہ زلیخا سے بھی سب کے سامنے معافی مانگی اور زلیخا نے صرف کھلے دل سے انہیں معاف کیا بلکہ گلے سے بھی لگایا…سب ینگ جنڑیشن بھی انہی کیساتھ بیٹھی تھی کہ جبھی شان نے سب سے آنکھ بچا کے کچن میں موجود سب کیلے چائے بناتی ہوئ زلیخا کے پاس گیا….
زلیخا جو محوت ہوکے چائے بنانے میں مگن تھی شان کو کچن میں دیکھ کے پہلے تو چونکی اور پھر شان سے پوچھا….
کیا بات ہے شان کچھ چاہیے کیا؟؟؟
شان کو سمجھ نہیں ارہا تھا کہ وہ کیسی اپنی بات زلیخا سے کہے پھر بھی اس نے ہمت کی اور کہا..
ممانی اگر اپکی اجازت ہوتو کیا میں ماہ کے پاس..میرا مطلب ہے اسکے کمرے میں…..
شان کی بات کا مطلب زلیخا اچھے سے سمجھ گئ اور کچن میں بنے ایک کیبنٹ میں سے چابیوں کے گچھے میں سے ایک چابی دی اور کہا….
ماہ نے یقینن اندر سے کمرہ لاک کیا ہوا ہوگا یہ رہی اسکے کمرے کی چابی.
شان اب تم اسکے شوہر ہو ہم سب سے زیادہ اب تمہارا حق ہے اس پہ میری بیٹی جس اذیت سے گزری ہے وہ کسی سے بھی دھکی چھپی نہیں نے بھی کوئ کسر نہیں چھوڑی اسے زلیل کرنے کی
.یہ بولتے ہو زلیخا کی آنکھیں چھلک پڑی…..
تم سب سے پہلے اسکے دوست ہو شان جو بات تم اسے اپنی دوستی کے زریعہ سمجھا سکتے ہو شوہر کے روپ میں نہیں
..تم سمجھ رہی ہو نہ میری بات..؟؟؟
شان نے زلیخا کے ہاتھ سے چابی لی اور اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کے انہیں چوما اور کہا….
مجھ پہ اعتبار کرے ممانی صرف ایک دو مہینے میں اپکے سامنے میں اپکی پرانی ماہ لاکے کھڑا کرونگا یہ میرا وعدہ ہے…
شان کی بات سن کے زلیخا کی روتی آنکھیں ہنس پڑی.. اس نے پیار سے شان کے گال پہ ہاتھ رکھا اور کہا…
مجھے اعتبار ہے اپنے بیٹے پہ….
شان زلیخا سے چابی لے کے ماہ کے کمرے کی.طرف چل پڑا…
¤¤¤¤¤
سب بیٹھے تھے مگر ایک گہری خاموشی تھی..شاہین کے برابر میں علی اور لاڈو بیھٹے تھے جبکہ سامنے حامد کی فیملی اور باقی سب تھے حامد کی امی اور اماں جان ارام کرنے اپنے اپنے کمروں میں چلی گئی تھے جبکہ جمال بھی جا چکا تھا مگر لائبہ یہی رکی تھی..
زلیخا نے سب کو چائے دی مگر جب وہ جہانگیر کو چائے دینے لگی تو جہانگیر نے انہیں جن نظروں سے دیکھا وہ کافی تھی زلیخا کی جان آدھی کرنے کے لیہ جبکہ رہی کسر جہانگیر کے اگلے جملے نے پورے کردی…
…
“یہی رکھ دو موڈ نہی میرا پینے کا تمہاری ہاتھ کی چائے””
سب کے موجودگی کا احساس کرتے ہوئے زلیخا نے اپنے آنسو صاف کیہ اور چائے کا کپ رکھ کے سامنے جا بیٹھی…
..
جبھی جنید نے علی سے پوچھا…
علی دھماکہ بہت شدید تھا تمہارا گھر پور جل کے راکھ ہوگیا تھا تو تم مطلب کیسے…؟؟؟
جو سوال علی کو دیکھ کے کب سے شاہین کے لبوں پہ مچل رہا تھا وہ جنید نے پوچھ لیا…
علی نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ نیچے رکھا اور کہا…
“جسکو اللّٰہ رکھے جنید اسے کون چکھے..”
میرا بچنا ایک معجزہ ہی تھا اپ لوگوں کے گھر سے نکلتے ہی کچن کی کھڑکی طرف آیا تاکہ شاہین کو جاتا دیکھ سکو مگر کچن میں مجھے گیس کی بو آئ میں نے جب چولھے کابٹن دیکھا تو وہ تو بند تھا مگر گیس کا پائپ نکلا ہوا تھا .جب میں نے گیس کا پائپ کہاں سے توٹا ہے یہ دیکھنے کے لیہ کھڑکی سے باہر جھانکا تو مجھے کجھ لوگ گھر کو اگ لگاتے ہوِئے دیکھائ دیے میں جیسی ہی کھڑکی سے چھلانگ لگائ تو دھماکہ ہوگیا..دھماکہ کی شدت اتنی تھی کے میں روڈ کے اس پار گرا اور بیہوش ہوگیا…
پھر.
. پھر یہ مجھے جب میں حویلی سے واپس کراچی ارہا تھا تو مجھے یہ سڑک کے کنارے بیہوش ملا..اگے کی بات جہانگیر نے مکمل کی…
گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے میں جب سڑک کے کنارے بیٹھا تو یہ مجھے منہ کے بل گر ہوا بیہوش ملا.. علی کے سر پی پتھر لگنے سے کافی چوٹ آئ تھی اسکی حالت دیکھ کے لگتا نہیں تھا کہ یہ بچے گا مگر دیکھو..تین سال بیہوش رہنے کے بعد یہ آج تمہارے سامنے لندن کا مشہور بزنس مین بن کے بیٹھا ہے جس نے نہ تو کبھی کسی لڑکی کا ساتھ قبول کیا اور نہ کبھی کسی لڑکی کی طرف نگاہ اٹھا کے دیکھا….
جہانگیر کی بات پہ سب ہی ہنس پڑے کے جبھی جہانگیر کی نظر لاڈو پہ پڑی جو گردن جھکا کے بیٹھی تھی…
ارے لاڈو تم سے تو ملاقات ہی نہیں ہوئ…
بی۔جان نے تو پور گاؤں میں مشہور کردیا تھا کہ تم.بھاگ .۔۔
..اگے کی بات جہانگیر بول نہیں پایا…
مگر لاڈو کی جگہ شاہین نے اسکی بات کا جواب دیا اور کہا..
جہانگیر بھائ….
اس نے اپنے پوری زندگی اپنی دوستی کے نام کردی.. امی نے اس سے کہا یہ تو ساری زندگی میرےساتھ اس زندان میں گزارے یہ پھر جس سے اسکے ماں باپ نے قرضہ لیا تھا جو امی نے اتارا تھا.. یہ پھر اسکی بیوی بن جائے..مگر لاڈو نے میرا ساتھ قبول کیا اور اپنی پوری زندگی سوچے سمجھے بغیر میرے نام کردی….
دوستی کی ایسی مثال دیکھ کے سب کی آنکھیوں میں نمی اگئ…
کہ جبھی نازنین جو اپنے بھائ کے برابر میں بیٹھی تھی اپنے بھائ کی نظروں کا مفہوم سمجھ کے ہلکے سے حماد کے کان میں سرگوشی کی…
“بھائ کچھ تو شرم کرلے کب سے آپ شاہین آنٹی کو گھورے جارہے ہیں
….حامد جو چاہے پیتے ہوئے لاڈو کو اپنی نظروں کے حصار میں قید کرر رہا تھا ایک دم بوکھلا گیا اور غصہ میں پہلے شاہین کو گھورا اور پھر کہا…دھیمی آواز میں کہا..
“لاحول ولاہ قوت..
نازنین کھانے میں اتنا منہ چلاتی ہو کبھی دماغ بھی چلالیا کرو میں شاہین بھابھی کو نہیں اسکے برابر میں بیٹھی لاڈو کو دیکھ رہا ہو جو میری پہلے نظر کی محبت ہے… صحیح نام رکھا ہے شاہ نے تمہارا بلبٹوڑی تم صرف کھانے میں دماغ چلاتی ہو یہ پھر تم سے لڑوا لو لڑاکا عورتوں کی طرح اج مجھے شاہ سے دلی ہمدردی ہے ہمت ہے اسکی کے وہ تم کو جھیل رہا ہے توبہ توبہ تم تو واقعی بلبٹوڑی ہو….
حامد کی بات سن کے جہاں برابر مین بیٹھے شاہ نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ نکلنے سے روکا اور چائے کے کپ کو اپنے منہ سے لگالیا..
.وہی نازنین صدمہ سے منہ کھولے اپنے بھائ کو دیکھنے لگی..مگر جب اس کی نظر شاہ پہ پڑی تو وہ دانت پیس کے ہلکی سی سرگوشی میں بولی…
تم تو اپنا منہ بند رکھو تھڑکی انسان..
اور بھائ اپ اپ جیسے بھائ ہو تو محلے کی عورتوں کی کیا ضرورت اپ تو محلے کی عورتوں کی طرح مجھ سے لڑ رہے ہیں..::::
ہاں تو تم بھی تو محلے کی بی جمالوں عورتوں کی طرح غلط نظریے لگا رہی ہو…
جاری ہے….
