Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

[ ] قسط نمبر.10
[ ] زلیخا کے کمرے سے نکال.کر ماہ لان میں اگی.. اپنی سوچوں میں اتنی.مگن تھی. کہ اسے ازلان کہ.انے کی خبر بھی نہں ہوی..
[ ] کیا سوچ رہی ہو پاٹنر..؟؟؟
[ ] ازلان کی.اواز پہ وہ ایک دم چونکی..
[ ] تم کب اے تم تو بول رہے تھے لیٹ ہوجاونگا..
[ ] بس پاپا کی.کال اگی کے وہ رات میں واپس اجینگے. تو
[ ] کیااااا
[ ] پاپا اج اجاینگے…
[x] ..کیاااا
[ ] پاپا تو اجاینگے تم مجھے بتاو کہ تم کہاں گم.تھی..؟ہمم
[ ] یار اج مامانے اپنا ماضی مھجے سب بتادیا..
[ ] اور پھر ماہ رخ نے سب جو جو اس نے زلیخا سے سنا ازلان کو بتا دیا…
[ ] ازلان کو اپنی ماما کے لے بہت دکھ ہوا…
[ ] لیکن ماہ.پھر نور پھپو کہاں گی…
[ ] یار یہ تو ماماکو بھی پتہ نہں….
[ ] یمم. چلو میں زرا فریش ہو جاو بہت تھک گیا اج..
[ ] ازلان..ماہ نے اسے اوادی..
[ ] ہاں بولو
[ ] بعض فیصلےوقت پر لے تو اچھا ہے تم.سمجھ رہیے ہو نہ میں کیا بول.رہی ہو..
[ ] ہاں یار پہلے اسے تو بول دو جو بلکل ہی انجان ہے
[ ] کیا تم نے ابھی تک.اسے کچھ نہں بتایا..
[ ] ہاں تم تو ایسے بول.رہی ہو جیسے تم اس چشمہ.والی شیرنی کو جانتی نہیں
[ ] اتا بڑا چشمہ.تو اسکی انکھوں پہ.ہے میری.انکھوں میں.کیا خاک دیکھے گی..
[ ] ہاہاہاہاہاہاہا…
[ ] ازلان بس کردو چشمہ.والی شیرنی.ہاہاہاہاہا
[ ] یر اور نہں تو کیا مجھے دیکھتے ہی.بیپھڑ جاتی ہے..
[ ] ازلان نے معصوم شکل.بنا کے.کہا..
[ ] تو تم بھی تو اسسے دیکھ کہ شکاری بن جاتے ہو ہر وقت اسکے چشمہ.کے پیچھے.لگے رہتے ہو..
[ ] تو اور کیا کرو. تم.بتاو..
[ ] ویسے تمہاری حالت پہ.ایک سونگ یاد اگیا…
[ ] کون سا..
[ ] کب تک روٹھے گی.چیخے گی
[ ] چلاےگی…..
[ ] دل.کہتا ہے ایک دن حسینہ مان جاے گی..
[ ] اور دونوں بہن بھای کا قہقہ لان میں گونجا..
[ ] اچھا تم زرا چاے بھج وادو
[ ] میں بھی زرا اپنی چشمش شیرنی کو دیکھ لو..
[ ] اوکے..
[ ] ازلان
[ ] لان سے اپنا فیورٹ سانگ گاتا ہوا اندر گھر میں داخل.ہوا..
[ ] 💗💗💖💕💕💕💕💕💕💕💕
[ ] کہتے ہیں خدا نے اس جہاں میں سبھی کے لیے.
[ ] کسی نہ کسی کو ہے بنایا ہے کسی کے لیہ.
[ ] تیرا ملنا ہے اس رب کا اشارہ مانو.
[ ] مجھ کو بنایا ہے. تیرے جیسے ہی کسی.کہ.لے
[ ] کچھ تو ہے تجھ سہ رباطہہہہ
[ ] باقی کے الفاظ ازلان کےمنہ میں.ہی رہ گیے
[ ] کیوں کا اسکی چشمش شیرنی سامنے ہی نظر اگی.ہمیشہ.کی طرح کچھ نہ.کچھ پڑھتے ہوے..
[ ] ازلان.نہ.اپنے.بالوں میں ہاتھ پھیرا اور چل.پڑا .شیرنی سے مزاکرات کرنے..
[ ] ہاےفائزہ….
[ ] اور فائزہ جو اپنے نوٹ بنانے میں مگن تھی ایک دم نگاہ اٹھا کہ اسے دیکھا اور اپنا چشمہ تھیک.کیا..
[ ] ازلان نے جب اسکی چشمہ کی پیچھے اسکی انکھیں دیکھی تو ہلکی سی سرگوشی کی..
[ ] “تیری جھیل جیسی انکھوں میں ڈوب جانے کو کو دل چاہتا ہے.
[ ] پر کیا کرو کمبخت تیرا چشمہ بیچ میں اجاتا…”
[ ] کچھ کہا اپنے
[ ] نہں تو….
[ ] تم.نے کچھ سنا…
[ ] نہں..اور فائزہ اتنی بھی انجان نہں تھی کے اپنے اس کزن کی انکھیں نہ پڑ سکے.
[ ] فائزہ نے بھی اسکی ہلکی سرگوشی سن لی تھی مگر اپنی مسکراہت چھاپا گی…
[ ] ویسے اخلاقیات کو مدّنظر رکھتے ہوے مسلمان کو سلام.کرنا چاہیے نہ.کہ ہاے……
[x]
[ ] .اور ازلان جو اسکو دیکھنے میں مگن تھا جو بلیک شرٹ کے ساتھ واہٹ چوڑی دار پاجامہ.پہنے .بلیک دوپٹہ.کے دونوں پلؤ اگے.کو گراے لمبے گولڈن بال کو جوڑے میں قید کیے اور انکھوں کو چشمہ.کے پہچھے قید کے ازلان کے دل.کی.دنیا ہلا رہی تھی..
[ ] ایک دم اسکے ہاے بولنے پہ.اسکی اون دا فیس بعیزتی کر چکی تھی.
[ ] اسکے جواب پہ خاموش رہا..
[ ] .پھر جب وہ.چپ ہوی تو ازلان کو پھر اس سے بات کرنے کو دل.کیا
[ ] کیا کرہی ہو نوٹز بنا رہی ہو..
[ ] نہں نہں آٹے دال.کا بہاؤ لکھ رہی ہو..
[ ] بس ازلان کی.برداشت ختم.
[ ] وہ.وہاں سے اتھا اور جاتے جاتے بس اتنا بولا..
[ ] کہ بندے کو کبھی.پیار سے بھی.بات.کرلینی چاہیے..
[ ] اور فائزہ اسکی کمر کو گھور کے رہ گی….
[ ] ازلان کو اپنی ہی کزن بچپن سے ہی.عزیز تھی اور یہ پسند کب محبت میں بدلی اسے پتہ ہی نہں چلا…
[ ] اور فائزہ نے بھی اپنے.لیے ازلان کی.انکھوں میں پسند دیکھی تھی..مگر انتظار کر رہی تھی کہ.ازلان کبھی خود سے کچھ بولے….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ادھی رات کو زلیخا.کو ایسا لگا.کہ.وہ.کسی.کی.بانہوں میں قید ہے.اسکا شک یقین میں جب بدلہجب اسے اپنے.لبوں پہ.کسی کا لمس محسوس یوا.اسنے پٹ انکھیں کھول دی اور جہانگیر کو دیکھنے لگی جو اسے ہی دیکھنے میں مگن تھا..
[ ] یار جب جب ایسے دیکھتی ہو تمیں پتہ ہے اپنا کنٹرول.کھو دیتا ہو…
[ ] اور ایک بار پھر اسکے لبوں کو چھو گیا.اج بھی اسکا گرین انکھوں والا شہزادہبلکل ویسے ہی تھابس انکھوں پہ خوبصورت گلاسس کا پہرہ اگیا تھا..
[ ] وہ ایک دم اتھی ..
[ ] اپ تو دو دن بعد انے والے تھے ازلان نے صبح بولا تھا..
[ ] ہاں میںنے ہی اسے منع کرا تھا تمہے بتانے سے اگر وہ بتہ دیتا تو تمھاری یہ مسکراہٹ کیسے دیکھتا جو میرے سرپرائز پہ ای…
[ ] اور. وہ جہانگیر کے سینے سے لگ گی..
[ ] زلیخا؟؟
[ ] جی..
[ ] اج پھر اماں جان نے تمہں زلیل کیا نہ
[ ] اور وہ اسے الگ ہوکے گردن جھکا گی..
[ ] ادھر دیکھو میری طرف.جاہانگیر نے اسکا چہرہ اوپر کیا..
[ ] اسکی انکھوں میں انسو تھے..
[ ] یار…..
[ ] اسنے زلیخا.کو خود میں بھیچ لیا..
[ ] ایک دن سب تھیک.ہوجاے گا..
[ ] اچھا ایک خشخبری دے نی تھی..
[ ] کیا زلیخا نے اپنے انسو صاف کرتے ہوے پوچھا……
[ ] نور اور حیدر یہی.ہے کراچی.میں ….
[ ] کیااااا…
[ ] اپکو کیسے پتہ میرے ایک دوست جو آسٹڑلیا.میں کالج.میں میرے ساتھ تھا وہ ملا تھا ایک ہفتہ.پہلے ..اسی.نہ.بتایا.کے حیدر دوسال پہلے پاکستان شفٹ ہوگیا ہے فیملی.کے ساتھ اور کراچی میں ہے..
[ ] یالللہ تیرا شکر ہے یہ دونوں تھیک.ہے..
[ ] ہممممممم
[ ] مگر میں بہت تھک.گیا ہو..تووووو.وہ اتنا بول کہ اسپے. جھک.گیا ہٹ جاے جہانگیر جوان بچوں کہ باپ ہے مگر رومینس میں.اپکے.کمی نہں ای
[ ] اےلو عمر کا رومنس سے کیا تعلق یہ بول.کے وہ پھر جھکا..اور کن انکھیوں سے زلیخا کو دیکھا جو غصہ سے اسے ہی دیکھ رہی تھی…
[ ] اچھا نہ.لو ہٹ گیا.مگر قریب تو اجاو قسم سے اتنے دن سے تمہے محسوس ہی نہی کیا..
[ ] زلیخا جانتی تھی.کہ جب تک وہ پاس نہی.اےگی وہ سوے گا.نہں.
[x] ا
[ ] زلیخا جہانگیر کہ سینے پہ سر رکھ کی لیٹ گی..جہانگیر واقع میں تھکا ہوا تھا جبھی اسکے قریب اتے ہی سو گیا مگر زلیخا انے والے وقت کو سوچ کہ خوفزدہ تھی..¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ناصر شان کے گھر سے جب اپنے گھر میں.داخل.ہوا تو پورچ میں.کھڑی.اپنے باپ کی.گاڑی دیکھ کہ.اسکا.موڈ اف ہوگیا.بچپن سے اسکے باپ نے ایکا فاصلہ.قاءم رکھا ہوا تھا..ناصر کو شان کے پاپاکو دیکھ کہ شدت سے اپنے پاپاکے رویہ کا احساس ہوتا اسکے باپ.کو تو صرف پیسہ کمانے سے مطلب تھا..بیوی بچے اور ماں کس حال میں ہے کیا کرتے ہیں خوش ہے بھی.کہ نہں اسسے کوی سروکار نہں تھا..
[ ] وہ.لانج میں ایا تو جمال صاحب وہی دیکھ گے….
[ ] اسلام وعلکم.پاپا.
[ ] ہم کہہاں تھے..
[ ] اسکو شدید دکھ ہوا. کہ.اسکے باپ.نے اسکے سلام.تک کا جواب نہں دیا….
[ ] شان کے گھر تھا..
[ ] شان وہ جو حیدر کا.بییٹاہے..
[ ] جی…
[ ] ہمممم…..
[ ] لائبہ….
[ ] جی.جی اور سکی ماں ارام.ارام سے اسٹک.کے زریعہ.لانج میں ای….
[ ] جی.اپنے بولایا..
[ ] ہاں کسی.کام.کی.عورت نہں ہو تم..کہاں تھا کی.مجھے امریکہ.جانا ہے مگر نہں تم انتہائ سست عورت. مجال ہے کہ.میرا کوی کام دھنگ سے کردو..
[ ] جی میںنے پیکنگ کردی ہے.. ا
[ ] پیکنگ کردی ہے…
[ ] یہ.بول.کی وہ.اوپر اپنے.کمرے میں چلاے گے..
[ ] امی.ایک بات بتاےے.
[ ] لائبہ.جو اپنے جوان بیٹے کہ.سامنے اپنے انسو روک رہی تھی اسکی.اواز پہ.اسکی طرف.دیکھا.
[ ] ہاں پوچھو…
[ ] پاپا کوصرف پیسوں سے مطلب ہے ہم سے نہں ہمارے لیے انکے.پاس وقت نہں….
[ ] یہ بول.کے ناصر اپنے کمرے می چلا گیا..لائبہ.کے پاس سچ میں ان باتوں ک جواب نہں تھا..
[ ] اندر لیتی ثمینہ بیگم.کے انسو اج پھر بہہ ریے تھے یہ.انکے اعمالوں کا نتیجہ تھا.. جس بیٹے کے پیار میں وہ اتنی.اندھی.ہوگی تھی.کہ.اچھا بڑا. حلال.حرام سب بھول.بہٹھی تھی وہی اولاد اج اسکے پاس دو پل.کے لیے نہں بیتھٹی….
[x]
[ ] (پیسوں سے چیزہیں خریدی جا سکتی ہے. رشتہ. پیار اور احساس.نہی.#مریم)
[x] ا
[جاری ہے