Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 34 part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34 part 2
[ ] قسط نمبر 34#(پارٹ 2)
[ ] لائبہ.کو ایسے دیوانہ وار بھاگتے دیکھ ناصر ایک دم.پریشان ہوگیا..
[ ] ناصر تو کیا حال میں موجود ہر شخص لائبہ کو ایسا بھاگتا دیکھ جو بہت مشکل سے چل رہی تھی اور بھاگنے کی وجہ سے وہ.بہت بار لڑکھڑا کے گرتے گرتے بچی تھی سب ہی پریشان حال لائبہ کو دیکھ رہے ناصر پیچھے سے اوازیں دیتے دیتے تھک گیا. مگر لائبہ نے اج نہ سن نے کی قسم کھائ ہوئ تھی ناصر کی ماں کو یو دیوانہ وار بھاگتے دیکھ اسٹیج پہ.بیٹھا شاہ بھی کھڑا ہوگیا…
[ ] حال میں میوزک کی وجہ سے نعمان ناصر کی اواز نہی سن پایا….. جو چیخ چیخ کے لائبہ کو یہ بول رہا تھا..ماما رک جائے کہاں جا رہی ہیں اپ گر جائنگی….
[ ] لائبہ جیسے تییسے نعمان تک پہنچی انسوؤں سے تر چہرہ لیہ اس نے نعمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور. نعمان جو اپنے.موبائل پہ.کسی کو کال ملانے میں مصروف تھااچانک اپنے.کندھے پہ.کسی کےہاتھ رکھنے پہ پلٹا..
[ ] مگر پلٹتے ہی لائبہ کو دیکھ کہ.اسکے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کے گرا. تو ادھر لائبہ بھی بھائ بھائ بولتے نعمان کے سینے سے لگ گئ…..
[ ] لائبہ کے سینے لگتے ہی نعمان کو ہوش ایا اور اس نے لائبہ کو اپنے اپ سے الگ کیا اور اس حیران نظروں سے دیکھنے لگا…
[ ] ناصر جو اپنے ماں کے پیچھے یہاں تک پہنچا تھا اپنی ماں کے منہ سے بھائ لفظ جو وہ نعمان کو بول رہی تھی ناصر حیران رہ گیا..
[ ] نعمان نے دیوانہ وار لائبہ کو چھوا اور بولنے لگا..
[ ] لائبہ میری گڑیا تت…ممم.. یاا…یہاں لائبہ یہ بول کے نعمان نے دیوانہ وار اسے ماتھے پہ بوسہ دیا اور اسکو سینے سے لگالیا…دونوں بہن بھائ کہ انکھوں سے انسو جاری تھے.. لائبہ نے نعمان کے سینے سے لگے لگے نعمان سے شکوہ کیا…بھائ اپ کہاں چلے گئے تھے ہمیں چھوڑ کے اپکو پتہ ہے بابا بھی مجھے چھوڑ کے چلے گئے بھائ…
[ ] لائبہ کو ایسا بولنا تھا کہ نعمان نے اسے اپنے اپ سے الگ کیا اور کہا..
[ ] لائبہ بابا چلے گئے ایسے بولتے ہوئے نعمان کوئ بچہ لگ رہا تھا…
[ ] ہاں بھائ اپ کو بابا بہت یاد کرتے تھے…..بھائ. ..
[ ] حال میں کھڑے سب ہی لوگوں کی انکھیں نم تھی کہ جبھی نیلم نے اگے بڑھ کے نعمان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو ادھر ناصر جس کی انکھیں بھی بھیگی ہوئ تھی اپنے ماں کے قریب ایا…
[ ] نیلم کو دیکھتے ہی نعمان نے بھیگتی انکھوں سے مسکراتے ہوئے کہا…
[ ] نیلم میری گڑیا دیکھو مل گئ اج.. میں بولتا تھا نہ تم سے میںری گڑیا ملے گی..نیلم.نے مسکرا کے نعمان کو دیکھا اور پھر لائبہ.کے گلے لگ کے کہا…
[ ] میں کل ہی نعمان لائبہ کے گھر گئ تھی نکاح کا دعوت نامہ لے کے کیونکہ یہ ہی ناصر کی ماما ہے…
[ ] ناصر کے نام پہ لائبہ چونکی اور ناصر
[ ] کو دیکھا جو بلکل اسکے پاس کھڑا تھا..
[ ] لائبہ نے ناصر سے کہا….
[ ] ناصر یہ بیٹا تمہارے سگے ماموں ہیں اور بھائ یہ ناصر اپکا بھانجا….
[ ] لائبہ کے بولنے پہ.نعمان نے اگے بڑھ کے اسے گلے سے لگایا تو ناصر کی انکھوں سے بھی انسو جاری ہوگئے کہ جبھی شاہ اسٹیج سے نیچے ایا اور لائبہ سے..کہا….
[ ] ارے پھپو اپنے بھتیجے سے تو مل لے…شاہ.کی بات پہ.سب کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ… لائبہ.نے اگے بڑھ کے شاہ.کے ماتھے پہ.پیار کیا.تو اہستہ اہستہ جاہنگیر اور حیدر بھی اکے لائبہ سے ملے جبکہ شان اور ماہ.کو تو حیرت ہوئ کہ ناصر اور شاہ کزن ہے ..
[ ] شان نے ناصر اور شاہ.کو مبارک باد دی تو ادھر شاہ اور ناصر بھی گلے لگے گئے…
[ ] باری باری سب لائبہ.سے ملے ازلان اور فائزہ نے بھی شاہ اور ناصر کو مبارک بعد دی تو نعمان نے حامد اور اسکی.امی سے لائبہ.کا تعارف کروایا…
[ ] مگر ناصر کی.نظریں جسکو ڈھونڈ رہی تھی.وہ.ڈریسنگ روم سے باہر انے کا.نام ہی نہی.لے رہی تھی کہ جبھی وہ رداکیساتھ باہر اتی دیکھائ دی تو ناصر کو لگا اج اسکی دنیا ہی بدل گئ..
[ ] اپنی انکھوں جیسے کلر کا شراراہ پہنے گولڈن بال کمرے پہ چھوڑے ہوئے ہاتھوں میں بھر بھر چوریاں ڈالےلبوں پہ.ہلکی سی پنک گلوز انکھیں جو کاجل لگنے سے اور ظالم ہوگئ تھی…اپنے شرارے کو ایک ہاتھ سے تھامے پری سچ مچ کی کوئ ڈول ہی لگ رہی تھی….پری پہلے اکے ناصر سے ملی.اسے شاہ اور اسکے رشتہ کہ.مبارک باد دیکے جیسے ہی جانے.لگی تو ناصر نے اسے اواز دے کے کہا….
[ ] پری میںری ماما سے نہی.ملوگی؟؟؟؟
[ ] ارے کیوں نہی.ناصر بھائ چلے ملوائے…
[ ] یہ بول کے پری اور ناصر ایک ساتھ چلنے لگے ان دونوں کو ساتھ چلتا دیکھ کہ جہاں ماہ مسکرائ وہی شاہ بھی مسکرایا…
[ ] ناصر پری.کو لائبہ کے پاس لے کے گیا اور کہا…
[ ] ماما یہ پریشے ہے شان کی بہن….
[ ] لائبہ نے پری کو بہت پیار سے اپنے پاس بیٹھایا اور کہا..
[ ] ماشاءالللہ.اپ تو ڈول لگ رہی ہو …
[ ] لائبہ.کی ایسی تعریف کرنے پہ.پری جھینپ گئ اور لائبہ سے ایکسکیوز کرنے کے دوبارہ نازنین کے پاس چلا گی..تو لائبہ نے پری کے جاتے ہی.کہا..میںری بہو تو واقعی ڈول ہے ناصر..لائبہ کے ایسے بولنے ہہ ناصر نے شرم سے اپنا سر جھکا لیا..
[ ] .تھوڑی دیر ہی گزری تھی. کہ مولوی صاحب اگئے اور نازنین کا نکاح پڑھانے ڈریسنگ روم.کی طرف چل پڑے…
[ ] حامد نے نکاح ہوتے وقت نازنین کے سر پہ.ہاتھ رکھا تو نازنین کی انکھیں بھیگ گئ…
[ ] کب اسکا نکاح ہوا کب اس نے سائن کیہ.ایک سکتہ تھا نازنین کا جو مبارک باد کے شور پہ توٹا….
[ ] سب نے ہی اسے اکے.مبارک باد دی نیلم نے بھی اس کا لائبہ سے تعارف کروایا اور شاہ اود ناصر کا رشتہ بتایا.
[ ] سب کی مبارک باد دینے کے بعد جب سب سے آخر میں ماہ نے اگے بڑھ کے جیسے ہی اسے گلے لگانا چاہا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا اور کہا..
[ ] ابھی تمہارے دوست کا نکاح ہوجائے تو اسے جاکہ مبارک باد دینا مجھے تمہاری مبارک باد کی ضرورت نہ ائ سمجھ .نازنے نے یہ سب اتنی ہلکی آواز میں کہا.کہ صرف ماہ.ہی سن پائ ماہ انکھوں میں انسو لیہ تیزی سے ڈڑیسنگ روم سے باہر نکل گئ…
[ ] شاہ.کا بھی نکاح ہوا تو ایک بار مبارک باد کا شور اٹھا….
[ ] شاہ کے نکاح کے بعد نازنین کو باہر لایا گیا..
[ ] نازنین کو دیکھ کے ایک منٹ کے لیہ شاہ کی ڈھرکن رک سی گئ اس نے خود سے ہی سرگوشی کی…
[ ] یار یہ بلبٹوڑی تو بہت حسسسین لگ رہی ہے اس نے اسٹیج کے اوپر اتی نازنین کا ہاتھ تھام کے اسے اوپر چڑھایا تو نازنین نے اسے خونخوار نظروں سے دیکھا اور بیٹھتے ہی اپنا ہاتھ شاہ کے ہاتھ سے چھڑوانا چاہا.. تو شاہ نے اسکے ہاتھ پہ گرفت اور مظبوط کردی…
[ ] نازنین نے اسکے پیر پہ اتنی زور سے اپنی.ہیل ماڑی کے تکلیف کے باعث شاہ.کو اسکا ہاتھ چھوڑنا پڑا…
[ ] شان ناصر ازلان فائزہ ردا عدنان پری سب ہی نے اکے ان دونوں کے ساتھ لی..سیلفی لی کے جبھی پری بول پڑی….
[ ] ارے ماہ اپی نہہی دیکھ رہی….
[ ] یہ بول کے پری کی نظر سامنے ٹیبل پہ بیٹھی ماہ پہ پڑی تو وہ فورا اسے اسٹینج پہ.لائ اور نازنین کے برابر میں.لا کے بیٹھایا اور ایک بار پھر سیلفی کا سلسلہ اسٹارٹ ہوا..ماہ کے چہرے پہ پھیلی افسردگی وہاں کھڑے کسی شخص سے چھپ نہی سکی…
[ ] ماہ کی انکھیں نازنین کے رویہ سے ایک بار بھر بھرنے لگی…وہ ایکسکیوز کرکے نیچے اگئ…
[ ] کہ جبھی شاہ نے شان کو انکھ ماری تو شان نے سمجھ کے اسٹیج سے نیچے اترا اور ڈی جے کو ایک سانگ لگانے کو کہا….
[ ] کہ جبھی حال کی تمام لائٹیں بند ہوئ اور ایک اسپاٹ لائٹ اسٹیچ پہ.بیٹھے شاہ اور نازنین پہ پڑی کے جبھی شاہ نے نازنین کاہاتھ پکڑ کے ایک دم نازنین کو کھڑا تو سوالیاں نظروں سے شاہ کو دیکھا تو شاہ نے اسے اکھینچ کے اپنے قریب کیا..کہ اتنے سانگ پلے ہوا…
[ ] “”بلاوے تجھے یاریا اج.میری گلیاں “”
[ ] شاہ نے اہستہ سے نازنین کے سیٹ ہوئے ڈوپٹہ میں سے اسکی کمر تھامی اور اسے اپنے ساتھ لگایا اور اہستہ.اہستہ ہلنا شروع کیا…
[ ] “بساؤ تیرے سنگ میں الگ دنیا”
[ ] نہ.ائے کبھی دونوں میں زرا بھی فاصلہ “”
[ ] ایک بار پھر شاہ نے نازنین کو کمرے سے تھام کے اپنے قریب کیا اور پھر تھوڑا دور کرکے اسے گھومایا.ایسے کرنے سے نازنین کی شور کرتی چوریاں شاہ کے دل کے تار ہلا رہی تھی.. .
[ ] “بس ایک تو ہو ایک میں اور کوئ نہ
[ ] ہے میرا سب کچھ تیراب.
[ ] تو سمجھ لے
[ ] .شاہ نے پھر ایک بار نازنین کو گول گول گھمایا…
[ ] “تو چاہے میںرے حق کی زمین رکھ لے
[x] تو چاہے میںرے حق کی زمین رکھ لے.”
[ ] شاہ نے پھر نازنین کو کمر سے تھاما اور اپنے سے لگایا…
[ ] “تو سانسوں پہ بھی نام تیرا لکھ دیے.
[ ] میں جیو جب جب تیر دل ڈھرکے “”
[ ] شاہ نے نازنین کا ہاتھ پکڑ کے اپنے دل پہ رکھا..تو نازنین نے نگاہ اٹھا کے شاہ کو دیکھا شاہ.کی انکھوں میں صرف نازنین کے لیہ.محبت ہی.محبت تھی جسے دہکھ کے بھی نازنین نے ان دیکھا کردیا نازنین کسی گڑیا کی طرح شاہ کے اشاروں پہ چل رہی تھی کہ اچانک کچھ یاد انے پہ نازنین نے شاہ سے کہا..
[ ] مجھے چھوڑوں شاہ کیا بیہودگی ہے..؟؟؟؟؟
[ ] نازنین کے بولنے پہ شاہ نے کہا اسے محبت کہتے ہےیں مسسز شاہ..
[ ] تم شاہ کی زندگی ہو تمہیں شاہ نے چھوڑنے کے لیہ نہی تھاما…
[ ] شاہ کا ایسا بولنا تھا کہ نازنین بول پڑی…
[ ] اور تم نازنین کی.موت……
[ ] نازنین کے ایسے بولنے پہ شاہ نے ایک دم نازنین کو چھوڑا تو وہ اپنی جگہ پہہ بیٹھ گئ اور شاہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا.. کہ جبھی حال کی تمام لائٹیں اون ہوگئ..اور پورا حال تالیوں سے گونج اٹھا سب نے ہی نازنین اور شاہ کی جوڑی کو سراہا..
[ ] مگر شاہ.کا ذہین نازنین کے اخری جملے میں اٹک گیا.
[ ] تھوڑی دیر بعد کھانا کھلا تو سب کھانے میں مصروف ہوگِئے کہ جبھی کھانے کی پلیٹ لیجاتی زلیخا کی ٹکر
[ ] سامنے سے اتے شخص سے ہوئ..زلیخا نے معزرت کرنے کے انداز میں جب اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا.. تو اسکا اگلے gaya پل.کا سانس لینا مشکل ہو
