Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Part 1

عمر سن حالت میں گھر پہنچا ایسا تو اس نے سوچا ہہ نہی تھا کے حالات اسطرح ہونگے۔۔
“میں اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہو اس کی جگہ کسی کو نہی دونگی”
جنت کی باتیں مسلسل عمر کے دماغ میں گونج رہی تھی ۔۔اقراء کئ بار اس سے اسکی اداسی کی وجہ پوچھ چکی تھی مگر عمر اسے سہولت سے یہ بول کے بہلاتا رہا کے ایسا کچھ نہیں ہے۔۔
عمر کھانا کھا کے چھت پہ بیٹھا تھا ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اقراء اسکو کافی دے کے گئ تھی۔۔
جب حمزہ چھت پہ آیا اسکی طبیعت کافی بہل گئ تھی ۔وہ کھلی ہوا میں آیا تھا اور جانتا تھا کے عمر بھی اوپر ہوگا۔کچھ اس سے باتیں کرکے اسکا دل بہل جائے گا۔۔
حمزہ اوپر آیا اور عمر کے کندھے پہ اپنے بازو
پھیلاتے ہوئے کہا۔۔
ہاں بھئ کیا مدد کی میری کیا کیا انفارمیشن نکالی اپنی فیوچر بھابھی کی۔۔؟؟؟
حمزہ کی بات پہ عمر پھیکی مسکرائٹ ہنسا اور کہا ۔۔
بھائ زندگی ہمیشہ ہم سے دو قدم آگے چلتی ہے ہم کیا چاہتے ہیں کیا سوچتے ہیں وہ سب یہ طے کرتی ہے قسمت سے اسکا یارانہ ہوتا ہے ان دونوں کے ہاتھوں میں ہم انسانوں کی خوشی ،غم ،دکھ ،درد ہر چیز کی ڈور ہوتی ہے۔۔
عمر آسمان میں دیکھتے ہوئے کھوئے کھوئے لہجہ میں حمزہ کو بول رہا تھا ۔۔۔
اےےے ادھر دیکھ میری طرف کیا ہوا ؟؟
حمزہ نے عمر کا رخ اپنی طرف موڑا اور پوچھا مگر عمر کو دیکھ کے اسے جھٹکا لگا کیونکہ عمر کی انکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔
پہلیاں مت بھجا عمر اصل بات بتا ہے کیا؟؟
بھائ جنت بیوہ ہے شادی کے چھ مہینے بعد اسکے شوہر کی ڈیٹھ ہوگئ۔یہ بولنے کے بعد عمر نے جنت اور اس کے درمیان ہونے والی ساری باتیں حمزہ کو بتادی۔۔
جنت کی بیوگی کا سن کے حمزہ کو کافی دھچکا لگا مگر وہ فلوقت اپنے اپکو سنبھال گیا۔۔
عمر مسلسل حمزہ کا چہرہ دیکھ رہا تھا مگر اندازہ نہی لگا پارہا تھا کے اس کے دل میں چل کیا رہا ہے۔۔
اور تھوڑی دیر بعد جو حمزہ نے بولا وہ عمر کیلیے کافی شاکنگ تھا۔۔
پارٹی کی تیاری کہاں تک پہنچی؟؟
ٹیرس کی ریلنگ پہ جھگ کے حمزہ نے کہا۔۔۔
بھائ شاید اپنے ٹھیک سے سنا نہی ۔۔اپکو میں بتا چکا ہو کے جنت کا فیصلہ کیا ہوگا وہ بیوہ ہے اور اپنے شوہر سے دیوانہ وار محبت کرتی ہے۔۔
ہاں جانتا ہو اسکی بیوگی کا مجھے بھی افسوس ہے اور رہا سوال میری محبت کا اس میں بھی کوئ کمی نہی آئے گئ۔۔
ہاں اب معملہ تھوڑا سنجیدہ ہے اسے حل دل سے نہی دماغ سے کرنا پڑے گا وہ تم مجھ پہ چھوڑ دو۔
چلو آؤ نیچے چلے رات کافی ہوگئ۔۔
یہ بول کے حمزہ جانے لگا ۔
جب پیچھے سے عمر نے کہا۔۔
بھائ شاید آپ نے ٹھیک سے سنا نہی میں نے کہا کے جنت اپنے شوہر کی جگہ اس کی محبت کی جگہ کسی کو نہی دے گی۔۔
حمزہ نے بنا پلٹے ہوئے کہا۔
ہاں تو !!!
یہ تو دنیا کی ہر وفا دار بیوی اپنے شوہر کے بارے میں کہتی ہیں پھر بیوہ ہی کیوں نہ ہو۔۔
جب میں اسکے شوہر کے عہدے پہ فائز ہونگا تو میرے بارے میں بھی اسکا یہ خیال ہوگا۔
بھائ یہ جنگ اتنی آسان نہی جتنا آپ سمجھ رہے ہو۔۔
ایوری تھنگ فیئر لوو اینڈ وار ۔۔۔
یہ بول کے حمزہ نے عمر کو آنکھ ماری اور نیچے چلا گیا۔
جبکہ عمر کی سمجھ نہی آرہا تھا کے خوش ہو یا ہریشان۔۔۔۔

#

جنت آفس پہنچی تو آج کیبن خالی تھا۔
جنت نے کچھ سوچ کے عمر کے کیبن میں گئ اور پوچھا۔۔
عمر آج سر نہی ائے؟؟؟
ہاں جنت پتہ نہی بگ بی آج آفس آنے کے بجائے کہی گئے ہیں مجھے بتایا بھی نہی کہاں جا رہے ہیں بس اتنا کہا کے آفس دیر سے اونگا۔۔
تم اگر فری ہو تو یہی بیٹھ جاو۔۔
نہی عمر دو تین ڈیزائن فائنل کرنے ہیں۔اوکے میں چلتی ہو ۔۔
یہ بول کے جنت کے کیبن سے باہر نکلی تو عمر نے سکھ کا سانس لیا اور بڑبڑاتے ہوئے۔۔کہا
اپنی دلہن کی طرف جانے والے سارے راستہ ہموار کرتے ہوئے کہی بگ بی اپنی دلہن کے ہاتھوں مجھے معزور نہ کروادے۔۔
اففف بگ بی پلیز جلدی کرو جو کرنا ہے۔۔
عمر جانتا تھا آج حمزہ نومیر سے ملنے اسکے اسٹور گیا ہے اور اسے چھوڑنے والا کوئ اور نہی عمر ہی تھا۔۔

#

حمزہ نومیر کے اسٹور میں گیا ۔جب اس نے وہاں کے ورکر سے نومیر سے ملنے کو کہا۔۔
ورکر نے اسے نومیر کے آفس میں بیٹھایا اور نومیر کے پاس گیا۔۔
نومیر جو سامان گودام میں رکھوا رہا تھا۔۔ورکر کے کہنے پہ اپنے آفس گیا مگر اپنے۔افس میں حمزہ کو بیٹھا دیکھ جہاں وہ خوش ہوا وہی شوکڈ ہوا اور کہا۔
ارے حمزہ بھائ آپ کیسے ہیں؟؟
میں ٹھیک تم سناؤ لائبہ اور فلک کیسے ہیں؟یہ بولتے ہوئے حمزہ نومیر سےبغلغیر ہوا
سب ٹھیک آپ یہاں کوئ کام تھا؟؟
کام نہی ایک ریکوسٹ لے کے آیا ہو تمہارے پاس اگر تم فری ہو تو کسی کافی شاپ چلے؟؟
ہاں بھائ چلے ۔۔
حمزہ اور نومیر کافی شاپ میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔جب حمزہ نے اپنی بات کا آغاز کرتے ہوئے کہا۔۔
حمزہ جانتا ہو جو بات کرنے جا رہا ہو شاید تم مجھے غلط سمجھو مگر میرا یقین کرنا نومیر میرا دل بلکل صاف ہے ۔۔
آپ بولے بھائ جب اپکو بھائ بولا ہے تو بس پھر بنا ٹینشن لیہ بولے۔۔
نومیر میں جنت سے شادی کرنا چاہتا ہو۔۔۔
آپ جانتے ہیں حمزہ بھائ وہ بیوہ ہے۔۔
ہاں نومیر جانتا ہو ۔مگر یقین کرو اس پہ ترس کھا کے اس کیساتھ ہمدردی نہی کررہا ہے۔۔جب مجھے اسسے محبت ہوئ جب یہ بات میں مجھے معلوم نہیں تھی وہ بیوہ ہے۔۔اور اب جب یہ بات مجھے معلوم ہوگئ تو کسی صورت اسے اکیلے چھوڑنا نہی چاہتا۔۔
مگر حمزہ بھائ آپ جانتے نہی وہ یوسف بھائ سے محبت نہی عشق کرتی ہے ۔مجھے نہی لگتا وہ مانے گی۔بلکہ ہراس شخص کو اپنا دشمن سمجھے گی جو اس سے یہ بات کرے گا۔۔
مگر میں یہ بھی جانتا ہو نومیر کے کسی مرے ہوئے انسان کے سہارے زندگی نہی گزرای جاتی خاص کر ایک عورت کیلیے یہ بہت مشکل ہے۔مجھے صرف تمہارا ساتھ چاہیے باقی میں سب سنبھال لونگا مجھے بھی اپنے یوسف بھائ کی۔طرح سمجھو۔۔
آپ لگتے ہی یوسف بھائ ہیں مگر یہ بات نومیر خالی دل میں سوچ سکا حمزہ کے منہ پہ بول نہی پایا۔۔
ٹھیک ہے حمزہ بھائ مجھے بتائے میں آپکی کیا مدد کرسکتا ہو۔؟؟
حمزہ نے نومیر کو تفصیلی بات سمجھا دی۔۔
اور آخر میں کہا ۔۔
نومیر تمہیں غصہ تو آرہا ہوگا میں اسطرح تمہاری بہن کے متعلق تم سے بات میرا مطلب۔ ہے تمہاری بہن کوپسند تم سمجھ رہے ہو نہ میں کیا بول رہا ہو ۔
حمزہ بھائ میں ان گھٹیا بھائیوں میں سے نہی جو خود توکسی کی بہن کو پسند کرکے شادی بھی کرلیتے ہیں مگر جب بات اپنی بہن پہ آئے انکی بہن کو انکا کوئ دوست پسند کرے تو انکی غیرت جاگ جاتی ہے۔۔
جب میں نے کسی کی بہن کو پسند کیا ہے تو میری بہن کو بھی کوئ پسند کرسکتا ہے آپ کا یہ بھائ آپکے ساتھ ہے ۔
یہ بول کے نومیر مسکرایا تو حمزہ بھی مسکرا پڑا۔۔
جاری ہے۔۔