Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 35 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 35 Part 1
[ ] نازنین غصہ میں ماہ کے کمرے میں پہنچی تو ماہ منہ تک چادر تانے سو رہی تھی کمرے میں گپ.اندھیرا تھا …
[ ] نازنیں کی برداشت یہی تک تھی…
[ ] نازنین نے غصہ میں پہلے کھڑکی کے پردے ہٹائے پھر کمرے کی لائٹ اون کی…
[ ] باہر کمرے کے دروازے سے جھانکتے نفوس نازنین کی.ایک.ایک کاروائ بڑی غور سے دیکھ رہے تھے…….
[ ] کہ جبھی عدنان کے پیچھے کھڑی ردا نے االٹی.کرنےکی ایکٹنگ کرنی شروع کردی اور اپنی.ناک.پہ.بھی اپنے ہاتھ سے ہوا دینی لگی ردا کی اس حرکت پہ جہاں سب حیران تھے وہی ..
[ ] عدنان نے اسےگردن موڑ کے دیکھا اور اپنی ایک ائبرو اچکا کے پوچھا…..
[ ]
[ ] کیا ہوا ردا …؟؟؟؟
[ ]
[ ] اف عدنان کم ازکم بندہ نہانے کا چور ہے تو باڈی اسپرے ہی لگالے اف اتنی گندی بدبو ہے تمہارے پسسینے کی میرا تو سر چکرانے لگاا…..
[ ] …
[ ] ردا بولنے پہ.جہاں سب نے بہت مشکل سے اپنا قہقہ روکا وہی پری تو اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں بے دیھانی پہ.ناصر کے کندھے پہ سر رکھ گئ ناصر کو ایک خشگوار حیرت ہوئ مگر جب پری کو جب احساس ہوا اپنی پوزیشن کا تو فورا سیدھی ہوکے ناصر سے نظرے چرا گئ….
[ ] عدنان نے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیا اور کہا…..
[ ] اور تمہارے اپنے اا تیل کے بارے میں کیا خیال ہے جو تم اپنی بال بڑھانے کے لیہ.لگاتی ہو میں اتنی دیر سے یہ سمجھنے کی.کوشش کررہا ہو کہ یہ چوہے مرنے کی بدبو کہاں سے ارہی ہے وہ تو پھر اچانک مجھے یاد ایا..کہ یہ مرے ہوئے چوہے کی بدبو سے بنے تیل کی خوشبو ہے جو ردا دی گریٹ نے لگایا ہوا جس سے بال تو لمبے ہونگے نہی ..مگر تمہارے سر میں جو نر مادہ جوئیں ہے نہ وہ ضرور تم.کو بدعا دے رہی ہونگی
[ ] کے ہائے ہم. کہاں پھنس گئے….
[ ] عدنان نے اس ایکٹنگ سے یہ سب بولا
[ ] کہ پری دور فٹ دور ہوکے ہنسنے.لگی جبکہ شاہ نے تو اپنے ہاتھ کا مکا.بنا کے اپنے منہ میں ڈبالیا.تاکہ اپنی ہنسی کو روک سکے جبکہ شان اور ناصر کوا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا….
[ ] ردا نے غصہ.میں عدنان کے بال کھینچ ڈالے تو عدنان نے بھی اسکے بال کھینچ کے اسکے بالوں کا گھونسلہ بنا ڈالا کے جَھی شان نے عدنان کو ڈانٹا اور شاہ کو ردا نے…
[ ]
[ ] بس کرو تم دونوں جب دیکھو لڑتے رہتے ہو چپ.کرکے کھڑے رہو….
[ ] شاہ اور شان کے ڈاٹنے کے بعد دونوں چپ تو ہوگئے مگر خونخوار نظروں سے ایک دوسرے کو گھورنا نہ بھولے….
[ ] …
[ ] خونخوار تیور لیہ نازنین ماہ کے بیڈ تک ائ اور کھیینچ کے ماہ کی.چادر اتاری جو وہ اوڑی ہوئ تھی.اور ساتھ میں بولنے بھی لگی….
[ ] پہلے کسی گدھے کی وجہ سے دھوکا.دیتے ہیں اور اگر ناراض ہوتو بخار چڑھا کے لیت جاتے ہیں …
[ ] ماہ جو اچانک چادر ہٹنے پہ.ہڑبڑا کے اتھ بیٹھی تھی مگر سامنے بیٹھی نازنین کو جب بیٹھے دیکھا جو غصہ مییں اسکو سنا بھی رہی تھی اور گھوربھی رہی تھی.تو ایک دم گردن جھکا کے رونے لگی..
[ ]
[ ] تو ادھر اپنے اپ کو گدھا کہنے پہ شاہ نے حیران کن نظروں سے نازنین کو دیکھا تو ناصر نے بہت مشکل سے اپنی .ہنسی روک کے اسکے کندھے پہ تسلی بھرا ہاتھ رکھا…اور کہا…..
[ ]
[ ] …بلبٹوڑی کو جھیلنا ہہی اب تیری قسمت ہے…
[ ] ناصر کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ نے اسکے پیٹ پہ ایک کونی ماڑی …..
[ ] نازنین بولتے بولتے ماہ کے بیڈ پہ.اسکے سامنے ہی بیٹھ گئ…
[ ] مگر جب ماہ کو گردن جھکا کے روتے دیکھا تو خود بھی رونے لگے اور اسے کھینچ کے اپنے گلے لگالیا…
[ ] دونوں دل.کھول.کے جب رولی تو پیچھے سے اتی دو نفوس کی.اواز پہ بہت مشکل سے نازنین نے اپنی ہنسی..روکی…
[ ] شان اور ناصر اندر ائے اور دونوں نے بیک وقت کہا…
[ ] ملکہ نازنین پلیز ہماری خطاوں کو بھی معاف کیجیے اور اپنا دل صاف کیجیے ……
[ ] شان اور ناصر نے اتنی اداکاری سے یہ جملہ.کہا …
[ ] کہ.نا چاہتیے ہوئے بھی نازنین کا قہقہ چھوٹ گیا..
[ ] ..
[ ] نازنین ارام سے چلتی ہوئ ان دونوں تک ائ جو بچوں کی طرح اپنے کان پکڑے ہوئے تھے…
[ ] کہ جبھی ناصر نے کہا…
[ ] لیڈی ڈائنہ بس بھی کردے .تیری شکل بتا رہی تو اس نکاح سے کتنی خوش ہے…..
[ ] ..
[ ] ناصر کا ایسسا بولنا تھا کہ سب کا ایک ساتھ قہقہ گونجا مگر نازنیں نے شرم سے اپنی گردن جھکالی ..کہ جبھی شاہ کی اواز پہ اہک دم گونجی جو پردے کے پاس کھڑے ہوکے فرصت سے اپنی زوجہ کو دیکھنے میں مگن تھا….
[ ] “
[ ] “”جب ائے سامنے نظروں کے تم..
[ ] ہوشوحواس میرے ہوجائے گم …
[ ] “محترمہ”
[ ] دعائیں کرو مییں سجدہ.کرو یہ میں کہو….
[ ] “اسلام وعلیکم .”””
[ ] شاہ.کی بات پہ جہاں سب نے ہوٹنگ کی وہی پری نے کہا….
[ ] الللہ نازنین اپی اپ بہت لکی ہیں کہ شاہ بھائ اپ سے اتنی محبت کرتے ہیں…
[ ] پری کی بات پہ نازنین نے پیار سے پری کے گالوں پہ.ہاتھ رکھا اور. کہا…
[ ] اپ تو سب سے زیادہ لکی ہو….اس معملے میں ….
[ ] نازنین.کہ بات پہ جہان ماہ نے اسے گھورا تو کچھ ایسا ہی حال ناصر کا تھا…
[ ] مگر باقی سب نازنین کی اس بات کا مطلب پوچھنے لگے ..
[ ] …
[ ] جبکہ سرفہرست شان اور پری تھے…
[ ] شان اور پری کے ایسے اچانک یو پوچھنے پہ..نازنین کا احساس ہوا کے وہ.غلط وقت پہ.غلط بات بول گئ…
[ ] ….
[ ] شاہ نے جب نازنین کی گھبرائ ہوئ شکل دیکھی تو بول.اٹھا….
[ ]
[ ] ارے پری اپکی بھابھی کے کہنے کامطلب ہے کہ جیسے سب اپ کو یہاں اتنا پیار کرتے ہیں انشاءاللہ
[ ] اپکا دولہا بھی اپکو ایسے ہی چاہے گا….
[ ] شاہ کے جواب پہ جہاں سب پرسکون یوئے وہی پری بھی شرماگی کہ جبھی ناصر نے شاہ کے کان میں کہا..
[ ] بچ گئے ورنہ اس بلبٹؤرئ نے تو اج مشکوک.کردیا تھا…
[ ] ناصر کی بات پہ شاہ نے گھور کے اسے دیکھا…
[ ] کہ جبھی ازلان نے اینٹری دی اور سب کو یو مسکراتے دیکھ کے کہا….
[ ]
[ ] اوہ شکر ہے بڑوں بڑوں میں میل ملاپ تو ہوا…ازلان نے ماہ اور نازنہین پہ رکھ کے کہا…..
[ ] نازنین نے ماہ سے کہا….
[ ]
[ ] یار فائزہ کہاں ہے دیکھی نہی سب ہی ہیں یہاں سوائے فائزہ کے؟؟؟؟
[ ]
[ ] یار دادو نے اج ہی اسے نظر بند کردیا ..
[ ] کہنے لگی ازلان سے پردہ کرو …
[ ] .ماہ نازنین کے سوال کا جواب دیتی اس سے پہلے ہی ازلان بول پڑا …
[ ] ازلان کی مظلوم شکل دیکھ کے شان .ہنستا ہوا ازلان کے قریب ایا اور اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھ کے کہا…..
[ ]
[ ] یار تم.لوگوں کو نہی لگتا ازلان کا حال.اس گانے کے جیسا ہے….؟؟؟
[ ] کونسا گانا ازلان نے اچانک پوچھا…..
[ ] “دیدار کو ترسے انکھیاں ..
[ ] نہ دن گزرے ..نہ کٹے راتیاں….
[ ] جھلک دیکھلاجا…
[ ] ایک بار اجا اجاا “””””
[ ] شان کے گانے پہ.ازلان نے اسکی گردن دبوچی اور کہا……
[ ] سالے تیرا وقت انے دے پھر پوچھونگا….
[ ] ایک بار پھر افریدی مینشن میں ہنسی گونج اٹھی تھی ایک بار پھر سب ایک دوسرے پہ اعتبار کرنے لگے تھے سب ہی خوش تھے ….
[ ] مگر انے والا وقت ان کی زندگیوں میں کیا کہرام لانے والا تھا یہ کوئ نہی جانتا تھا….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] شاہمیر تم.نے بات کی اس لڑکی سے..؟؟؟
[ ] ہاں دادو میں نے کی تھی اس سے بات مگر ابھی شادی ہے اسکے بھائ کی اس کے بعد وہ اپنے والدین سے بات کرے گی…
[ ] بی جان جنہوں نے اڑجنٹ شاہمیر کو کال.کرکے بلایا تھا تاکہ وہ.معلوم کرسکے کہ کب وہ اپنے دشمن کا سامنا کرینگی…مگر افریدی ہاوس کی خوشیوں کا سن کے ان دماغ میں ایک بار پھر ایک شیطانی چولہ گھوما ..
[ ] جسکا زکر جب انہوں نے شاہمیر سے کیا تو وہ بھی خوش ہوا……
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[x] ماہ.کے کمرے
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ..ماہ.کے کمرے سے سارے نیچے لانج میں ائے تو سب کے ساتھ نازنیں کو دیکھ کے سب ہی خوش ہوئے نازنین نے سب سے پہلے نیلم.کو سلام کیا .یہ بات شاہ.کو بہت اچھی لگی ….
[ ] باری باری وہ سب سے ملی ..کہ جبھی وہ ماہ سے بولی….
[ ]
[ ] ماہ. ابھی مارکیٹ چلو میرے ساتھ میں نے غصہ میں کوئ شاپنگ نہی.کی…
[ ] نازنیں کی بات پہ زلیخا بول.پڑی….
[ ] نازنین میرے لیہ جیسی ماہ ردا پری اور فائزہ ہیں ویسے ہی تم.ہو تمہارے لیہ میں نے سیم.ماہ.کا جیسا ڈریس بنوایا.ہے….
[ ] تم.ٹینشن نہی لو سب مکمل ہے تمہارا……
[ ] زلیخا کی.بات پہ نازنین نے اٹھ کے اسکے گلے.لگ گئ اور پھر بولی آنٹی میں شکریہ نہی بولونگی کیونکہ اپ میری ماں کی جگہ ہے ہاں.مگر کھانے کا ضرور بولونگی قسم سے آنٹی اس ماہ سے لڑائ کے چکر میں میں نے زیادہ نہی کھایا……
[ ] نازنیںن کی بات پہ سب دل.کھول.کے مسکرائے …
[ ] جبکہ شاہ کا دل کیا کہ کاش وہ اس کے ساتھ بھی ایسسے لاڈ کرے….
[ ]
[ ] شان جو کافی دیر سے شاہ.کو دیکھ رہا تھا نازنین کو گھورتے ہوئے ..
[ ] اس نے شاہ کے نمبر پر ایک ٹیکس چھوڑا اور نیچے منہ کرکے ہنسنے لگا….
[ ] موبائل کی بپ پہ جب شاہ نے اپنا موبائل. نکالا تو اس پہ شان کے نام.کا ٹیکس جگمگا رہا تھا..
[ ] اس نے حیرانی سے شان کو دیکھا اور پھر ٹیکس کھولا…
[ ] مگر ٹییکس کھولتے ہی شاہ اسکی طرف لپکا مگر شان شاہ کا ارادہ سمجھ چکا تھا اس لیہ فورا باہر کو ڈور لگائ…
[ ] شان نے شاہ کو میسج بھیجا….
[ ] ابے سالے بس کردے کب سے گھور رہا ہے اپنی بیوی کو بھی کوئ ایسہ نگاہوں سے گھورتا ہے..کیا انکھوں سے نگلے گاٹینشن نہی لے تیری ہی ہے ہاں ویڈنگ نائٹ کا اگر تو سوچ رہا ہے اسے دیکھ کے تو لعنت ہے یار تجھ پہ شرم.کر تیری ہی بیوی ہے…
[ ] .¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ایسی قہقوں ہنسی میں مایوں اور مہندی کا فنکشن بھی اگیا صبح ہی سے سب کاموں میں مصروف تھے …
[ ] زلیخا کمرے میں آی تو جہانگیر کسی سے بات کرہا تھا..
[ ] گر کال رکھتے ہی وہ اچانک اداس ہوگیا…..
[ ] اور زلیخا سمجھ گئ کہ کس کی کال ہوگی…..
[ ] زلیخا نے جہانگیر کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہا…..
[ ] کیا ہوا جہانگیر عآلیان بھائ سے بات کررہے تھے…
[ ] ہاں زلیخا میں نے بہت کہا پاکستان انے کو مگر ہر بار وہ یہی کہتا ہے کہ میری بہت تلخ یادیں اس زمین سے جڑی ہیں میں نہی اونگا…..
[ ]
[ ] جہانگیر رہنے دے انشاءاللہ جب ہماری.ماہ کی شادی ہوگی تو میں خود انہیں کال کرکے بولاونگی….
[ ] زلیخا تو بول کے چلی گئ مگر جہانگیر اپنی اور عالیان کی.پہلی.ملاقات میں کھوگیا….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] کافی سال پہلے جب جہانگیر کسی کام سے حویل سے لاہور کی طرف جا رہ تھا بہت زخمی حالت میں علیان جہانگیر کی گاڑی سے تکرایا تھا..جہانگیر تو یہ دیکھ کے ڈر گیا .کہ کہی اس کی گاڑی سے تو یہ سب نہی.ہوا مگر جب جہانگیر کا ڈاکٹروں نے بتایا کہ یہ پہلے سے ہی اتنی زخمی.حالت میں تھے مگر اپکی گاڑی کی تکر سے انکے دماغ پہ چوٹ ائ ہے اس لیہ وہ.کوما میں ہے مگر وہ کب ہوش میں ائینگے کچھ نہی.کہ سکتے…
[ ]
[ ] اور پھر چار سال بعد عالیان کو ہوش ایا جہانگیر کو اسے دیکھ کے بہت دکھ ہوتا تھا وہ بس دیواروں کو تکتا رہتا اور روتا رہتا ..جہانگیر نے اسے بہت پوچھا کے وہ.کون ہے کہاں سے ہے مگر اس نے اپنے نام کے علاوہ جہانگیر کو کچھ نہی بتایا….
[ ] کومے سے باہر انے کے ایک سال بعد اس نے جہانگیر سے کہا کہ وہ پاکستان میں رہنا نہی چاہتا ….
[ ] جہانگیر نے اسے اپنے ایک دوست کے پاس لندن بھیج دیا..
[ ] سال میں ایک دو بار جہانگیر اسے ملنے ضرور جاتا…عالیان کو جہانگیر نے اپنی دوست کی.مدد سے کاروبار سیٹ کرکے دیا. جس میں الللہ.نے اسکا ایسا ہاتھ پکڑا کہ اج وہ.لندن کا مشہور بزنس مین ہے…..
[ ] کئ بار جہانگیر اور اسکے لندن والے دوست نے اسے نمازوں .میں سجدوں میں کسی کا نام لیتے روتے دیکھا ہے مگر وہ دونوں چاہ کے بھی وہ نام جان نہی پائے کیونکہ اواز اتنی ہلکی ہوتی تھی کہ وہ لوگ سن نہی پاتے تھے….
[ ] پاکستان سے لندن جاتے ہوئے جہانگیر نے پوچھا تھا کہ وہ.کیوں یہاں رہنا نہی چاہتا تو عالیان نے بس یہی جواب دیا جب جینے کی وجہ ہی نہی رہی تو پھر یہاں رہنے کا مقصد بہت بار اصرار پہ عالیان نے خالی.یہ بتایا کہ اسکی محبت اسکی بیوی ایک حادثہ میں مرگئ بس اسی لیہ وہ یہاں رہنا نہی چاہتا……..
[ ] !!
[ ] جہانگیر نے ایک.لمبی سانس لے کے ماضی سے باہر نکلا اور نیچے جاکے مایوں کے فنکشن کا انتظام دیکھنے لگا…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] پاکستان نے کال انے کے بعد ایک بار پھر عالیان کے دماغ میں اسکے ماضی کی.کچھ تلخ یادیں تو کچھ حسسین یادیں گھومنے لگی جو اسکی محبت کا جیتا جاگتا ثبوت تھی….
[ ] 41 سال.کا وہ خوب صورت مرد جسکی پڑسینلٹی سے کافی لڑکیوں نے اسکی زندگی میں شامل ہونے کی.کوششش کی مگر اسکے روب سے
[ ] کوئ اسکی زندگی.میں شامل نہی ہوسکا..عالیان کو الللہ نے بے تحاشہ دولت سے نوازا تھا مگر پھر بھی پوری پوری رات اپنے رب کے اگے سجدہ.میں روتا…اج پھر پاکستان کا سن کے عالیان کی.انکھوں سے ایک بار پھر اشک رواں ہوگئے اسنے گاڑی کی چابی اٹھائ اور اپنا رخ لندن کے مشہور برج کی طرف موڑ دیا…کئ خوبصورت یادیں اسکے زہین میں گھومنے لگی اسکے انسو میں پھر روانگی اگئ..گاڑی برج پہ روک کے وہ.گاڑی سے اترا اور اس برج کے نیچے بہتے پانی کو دیکھنے لگا …جب جب اسے پاکستان میں اپنے اپ پہ بیتے ظلم کی یاد اتی وہ اس پل پہ اکے گھنٹوں پانی کوتکتا رہتا…
[ ] کافی دیر بعد وہ اٹھا اور اپنی گاڑی میں جا کے بیٹھ گیا .اپنے والٹ نکال کے اس نے ایک تصویر دیکھی تو ایک بار پھر اسکی انکھوں سے انسو جاری ہوگئے…..
[ ] اس نے اپنی گاڑی میں ایک گانا پلے کیا سالوں سے وہ ایک یہہی.گانا سنتا ایا تھا اسے لگتا تھا کہ یہ گانا اسکی زندگی کی عکاسی کرتا تھا …
[ ] گانا اون کرتے ہی اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور تیزی سے اگے بڑھادی اور گانے کے بولوں میں کھوگیا……..
[ ]
[ ] ” پاس ائے.
[ ] دوریاں پھر بھی کم.نہ ہوئ.”
[ ] “ایک ادھوری سی ہماری کہانی رہی”
[ ] اسمان کو زمین یہ ضروری نہی
[ ] جو ملے جو ملے”””
[ ] عشق سچا وہی جسکو ملتی نہی منزلیں منزلیں …
[ ] “رنگ تھے نور تھا
[ ] “جب قریب تو تھا””
[ ] ایک جنت سا تھا یہ جہاں….
[ ] “وقت کی ریت پہ کچھ میرے نام سا تھا لکھ کہ چھوڑ گیا تو کہاں….
[ ] (ہماری ادھوری کہانی :::)
[ ] اور اج پھر اسکی ساری رات سڑکیں ناپتے ہوئ گزرنی تھی……
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] صبح ہی سے اماں جان نے ..افریدی مینشن کے ہر فرد کو کاموں میں لگایا ہوا تھا لڑکیاں جلدی جلدی اپنی شام کی تیاری کرہی تھی تو لڑکے سارے باہر کی سجاوٹ میّ لگے تھی شان اور ازلان صبح سے اماں جان کی.ہدایت پہ باہر لان کی سجاوٹ میں مصروف تھے جبکہ شاہ اور ناصر کیٹڑنگ والوں کے پیچھے لگے تھے باقی گھر کے سارے بڑے مرد اپس میں باتین کرہے تھے ناصر کسی.کام سے اندر ایا تو اپنی دشمن جان کو اداس بیٹھا دیکھ کے پوچھا. کیا ہوا پری کیوں اداس ہو…
[ ]
[ ] اس سے پہلے پری.کچھ بولتی نور کی غصیلی اواز گونجی جو سامنے ٹیبل پہ بیٹھ کے ابٹن اور مہندی.گھول رہی تھی….
[ ] ان شہزادی کو اپ مایوں کے سوٹ کے نیچے کھوسے پہنے ہیں بازار جانے کی ضد کررہی ہے سب مصروف ہے ناصر اب تم بتاو میں کس کے ساتھ اسے بھیجو…؟؟؟.
[ ] نور کی بات سن کے ایک بار پھر پری کا منہ لٹک گیا مگر ناصر کی اگلی بات پہ وہ خوشی سے کھل اٹھی….
[ ] کوئ بات نہی آنٹی میں لے جاتا ہو پری جلدی سے تیار ہوجاو مگر واپسی میں انٹی میں گھر سے ماما کو لیتے ہوئے آؤنگا اپکو کوئ اعتراض تو نہی…
[ ]
[ ] ارے نہی نہی لے جاؤ بیٹا اپ پہ اعتبار ہے مجھے..
[ ] نور کی اجازت پہ ناصر اور پری بازار کے لیہ نکل.پڑے وہ لوگ کراچی کے ایک مال میں گئے پری خوشی خوشی اپنے کھوسہ دیکھ رہی تھی اور ناصر اسکو خوش دیکھ کے خوش ہورہا تھا. کہ اچانک.مال میں بھگڈر مچ گئ .ناصر اور پری نے جب بھاگتے ہوئے لوگوں سے پوچھا کے یہ بھگڈر کیسی تو وہاں سے بھاگتے ایک آدمی نے بتایا کہ اس مال میں بم ہے …بم کا نام سنتےہی.ناصر نے پری کا ہاتھ تھاما اور تیز تیز بھاگنا شروع کردیا…
[ ] کہ ایک دم رش کی وجہ سے ناصر کا ہاتھ پری سے چھوٹا پری روتی ہوئ سب سے دھکے کھا رہی تھی کہ ایک دم زور دار دھماکہ.ہوا اور موت کا سناتا چھاگیا…
[ ]
[ ] ..
[ ] جاری ہے…
