Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 22 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22 Part 2
[ ] مریم عمران#
[ ] قسط نمبر 22#اعتبار (پارٹ2)
[ ] نور کو روتا دیکھ کے نیلم.کی انکھیں بھر ائ نیلم سمجھ سکتی تھی.نور کی.حالت کیونکہ وہ خود اس دور سے گزر چکی تھی نکاح کے وقت ایک لڑکی کو سب سے زیادہ ضرورت اپنے گھر والوں کی ہوتی ہے.. نور کو روتا دیکھ کے نیلم اس کے پاس اکے بیٹھ گئ اور اسے اپنے سینے سے لگالیا…
[ ] نعمان نے اٹھ کے نور کے سر پہ ہاتھ رکھا اور کہا.نور میں بھی تمہارے بھائیوں کے جیسا ہو تم.فکر مت کرو ہم سب ہے نہ تمہارے ساتھ انشاءللہ سب تھیک.ہوجائےگا..
[ ] ماحول کو خشگوار کرنے کے لیہ نعمان نے بولا..
[ ] حیدر بھئ کیوں نہ.نور کی پسند کی شاپنگ ہوجائے اسکا بھی تو حق اپنی.مرضی.کا نکاح کا جوڑا لینا..
[ ] نیلم.تم.جاؤ اور اچھی سی نور کی شاپنگ کروا کے لاؤ…
[ ] جی کیوں نہی نیلم نے جواب دیا..
[ ] کہ.جبھی حیدر بول پڑا..
[ ] نعمان بھائ اگر اپ برا نہی مانے تو میں نور کو لے جاؤ شاپنگ پہ میں چاہتا ہو نور میںرا خریدا ہوا ڈریس نکاح میں پہنے..
[ ] حیدر کی بات سن کے جہاں نعمان اور نیلم کے لبوں پہ مسکراہٹ اگئ وہی نور کا سر شرم سے جھک گیا..
[ ] ہاں ہاں کیوں نہی یار تم لوگ جاؤ شاپنگ گرنے میں نکاح خواں کا انتظام کرتا ہو…
[ ] تھوڑی دیر بیٹھ کہہ وہ دونوں شاپنگ پہ چلے گئے..
[ ] حیدر نور کو لاہور کے سب سے بڑے شاپنگ مال.لے کہ ایا اور نور جو گاؤں سے کبھی باہر نہی گئ اسکی ہر چیز وقت سے پہلے اسکے کمرے میں موجود ہوتی تھی. انتی بڑی جگہ کو دیکھ کے گھبرا گئ اور گاڑی کے پاس ہی رک گئ…حیدر اسکی جھجھک محسوس کر چکا تھا اس لیہ اس کے پاس ایا اور کہا.
[ ] مانا میڈم اپ کو مجھ پہ.اعتبار نہی مگر اس کے علاوہ اپ کے پاس کوئ اور اپشن نہی.کل سے اب تک.اپکو یقین تو ہوگیا ہوگا کہ میں اعتبار کے قابل ہو.. حیدر کی بات سن کے نور کو شدید جھٹکا لگا اور کل سے اب تک اسے حیدر کے رویہ کی سمجھ ائ جو بلکل خاموشی سے اسکے ساتھ تھا.اور وہ سوچنے پہ مجبور ہوگئ..
[ ] تو کیا یہ میرے دل کی.کیفیت سمجھ گئے تھے تو کیا یہ.مجھ سے خفا ہیں..
[ ] نور کو خاموش گردن جھکائے کھڑا دیکھ کہ اس نے نور کا ہاتھ تھاما اور مال کے اندر چل پڑا
[ ] اور مال.کے اندر ایک الگ ہی دنیا اباد تھی اتنے سارے لوگوں کو دیکھ نور گھبراگئ اور اپنے ساتھ چلتے حیدر کا بازو تھام.لیا.حیدر جو اپنی ہی دھن میں چلا جا رہا تھا نور کی اس حرکت پہ.اس کے لبوں پہ مسکراہٹ اگئ…
[ ] حیدر نے نے نور کے لیہ.بلڈ ریڈ اور بوتل گرین کلر کا شلوار قمیز کا سوٹ لیا اور اسکے لیہ.دو تین گھر میں پہنے والے ڈریسس لیہ اسکے بعد اسنے نور کے ڈریس کے کلر کا اپنے لیہ میچنگ کُرتا لیا اور شاپ سے باہر اگیا اس کے بعد جوتے اور تھوڑی بہت اور شاپنگ کے بعد وہ نور کو لے کے ایک جیولری شاپ پہ ایا وہاں سے اس نے نور کے ڈریس کی میچنگ کی جیولری لی اور ایک خوبصورت سی نتھ لی نور شاپ میں ادھر ادھر اور جیولری دیکھ لی جب حیدر ے اسکے لیہ اسکی منہ دیکھائ.کو تحفہ لیا اور نور اس شاپنگ کے دوران خاموشی سے اسکے ساتھ گھوم رہی تھی کہ.اچانک بول پڑی حیدر…
[ ] حیدر نے بل.پہ.کرتے ہوئے مصروف انداز میں کہا.
[ ] ہاں……
[ ] وہ م.ج.حھ..ے نہ.
[ ] نور نے جھجھکتے ہوئے کہا…..
[ ] حیدر اس کو شاپ سے باہر لے ایا وہ سمجھ گیا تھا نور کی جھجھک اس شاپ کیپر کے اگے..
[x]
[ ] اب بولوں بنا جھجھک… حیدر نے نور کو شاپ سے نکلتے ہوئےکہا..
[ ] نور حیدر کے سامنے اپنی.انگلیاں اپس میں مڑور رہی تھی بول پڑی..
[ ] وہ حیدر میں نے چوڑیاں لینی ہے..
[ ] اور نور کی بات سن کے حیدر کو وہ.کوئ معصوم سی گڑیا لگی…
[ ] ہاں کیوں نہی او جتنی.لینی.ہے لیہ لے نہ
[ ] (اور ایک ہمارے فیملی.کے.لوگ ہیں زرا سا انکو چوڑیوں ک بولوں تو ایسا گھوڑ کہ.دیکھتے ہیں جیسی کوئ جنگ فتح کرنے کا بول دیا ہو..ہنہ 😡😡😡 اور صاف بولتے ہیں گھر میں بیٹھوں اور سائز بتاو مل جائنگی یعنی حد ہے.مریم)
[ ] نور چوریوں کی شاپ دیکھ کے بہت خوش ہوئ حیدر اسکو خوش دیکھ کہ بہت پر سکون. ہوا..
[ ] حیدر نے نور کو کافی ساری چوریاں ڈلائ.
[ ] شاپنگ سے فارغ ہوکے وہ.لوگ مال سے نکل.گئے مگر کوئ تھا جس کی نگاہوں سے وہ.لوگ چھپ نہ سکے..
[ ] گاڑی میں حیدر نے سامان رکھا اور بیٹھ گیا نور پہلے ہی گاڑی میں بیٹھ گئ تھی گاڑی ابھی تھوڑی دور ہی گئ تھی کہ.ا نور نے اپنے دل.میں کب سے مچلنے والا سوال حیدر سے پوچھ لیا
[ ] حیدر؟؟
[ ] ہاں نور حیدر جو سگنل کھلنے کا ویٹ کرہا تھا.نور کے پکارنے پہ بولا.
[ ] اپکو لڑکیوں کہ.شاپنگ کا کافی تجربہ ہے..
[ ] نور کا ایسا بولنا تھا کہ حیدر قہقہ گاڑی میں گونجا..نور نے حیدر کو قہقہ لگائے دیکھا تو سڑا ہوا منہ بنا کہ پھر بولی…
[ ] اس میں ہنسنے کی.کی بات ہے. ؟؟؟
[ ] اور حیدر نور کی بات پہ.بول پڑا…
[ ] جبھی تم اتنی خاموشی سے مجھے شاپنگ کرتے ہوئے گھور رہی تھیں اور نور اپنی چوری پکڑے جانے ک باوجود مکر گئ..
[ ] کوئ.نہی.اپکو کوئ.غلط فہمی.ہوئ ہے میں تو نہی گھور رہی تھی…
[ ] اچھا جی… حیدر ہلکا سا اس کیطرف جھکا اور کہا .لڑکیوں ک نہی مگر اپنی نور کی پسند اور ناپسند سے واقف ہو..
[ ] اور نور جو سمجھ رہی تھی کہ شاید وہ ناراض ہے اسکی.اس بات پہ.ہلکی پھلکی ہوگئ..
[ ] مگر نور.میں تم سے ناراض ہو.حیدر کے بولنے پہ نور نے فورا اسکی طرف دیکھا..
[ ] کس بات پہ حیدر؟؟
[ ] یہ میں تمہیں نکاح کے بعد بتاونگا..حیدر کی بات سن کے نور خاموش ہوگئ..
[ ] وہ.لوگ گھر پہنچے تو نیلم.نے انہیں بتایا کہ.آدھے گھنٹہ میں نکاح خواں انے والا ہے..نیلم.حیدر سے نور کے کپڑے لیہ کے اسے تیار کرنے چلی گئ تو وہی حیدر بھی تیار ہونے چلا گیا..نیلم جب نور کو تیار کرچکی تو ماشاءاللہ کہے بنا نہ رہ سکی..
[ ] نور تم بہت خوبصورت لگ رہی الّللہ تمہیں نظر بد سے بچائ..ہلکے سے میک اپ میں نور کا حسن نکل کے ایا تھا اسکی گہری ہزیل گرین انکھیں کاجل لگنے سے اور حسین ہوگئ تھی..اوپر سے ناک کی نتھ نے اسکی خوبصورتی پہ چار چاند لگا دیے تھے..
[ ] نیلم.نور کو تیار کر کے ہٹی تو دروازہ کھٹکٹا کے نعمان اندر داخل ہوا جس کے ساتھ نکاح خواہ بھی تھااور نور کے سر پہ.ہاتھ رکھا
[ ] اور ادھر نکاح خواں نے نکاح پڑھانا شروع کیے ایک بار پھر نور کی انکھین اپنے گھر والوں کو یاد کرکے برس پڑی اور اس نے خاموشی سے نکاح نامہ پہ سائن کردیے..
[ ] نور کے نکاح کے بعد حیدر کا نکاح بھی ہو چکا تو سب نے دعا کی…
[ ] نعمان کے ساتھ اسکے دو دوست بھی گواہ.کے طور پہ.موجود تھے..
[ ] نکاح خواں اور
[ ] نعمن کے دوستوں کے جانے کے بعد نیلم.نور کو باہر لائ.
[ ] اور حیدر جو نعمان سے باتوں میں مشغول تھا..نور کہ دیکھ کہ اپنی انکھین جھبکانا بھول گیا ..
[ ] نیلم نے نور کو حیدر کے ساتھ بٹھایا.کہ جبھی اسکا ایک سالہ بیٹا نور کی گودھ میں چڑھ کر بیٹھ گیا اور نور کی.ایک ایک چیز چھو کہ دیکھنے لگا…سرور کی.اس حرکت پہ سب کے لبوں پہ.مسکراہٹ اگئ..
[ ] کھانے کے بعد نیلم نور کو حیدر کے کمرے میں چھوڑ ائ جہاں وہ ارام کرنے لیٹا تھا…..وہاں حیدر اندر جانے کا سوچ رہا تھا کہ جہانگیر کی.کال اگئ..
[ ] جہانگیر کی.کال یس کرکے حیدر نے کان سے لگائ تو جہانگیر کیی اواز سن کے اسے لگا جیسے وہ بہت رویا ہو…..
[ ] جہانگیر تیری طبیعت تو تھیک ہے کیا تو رویا ہے؟.
[ ] ارے نہی.یار بس ایسی ہی کبھی سوچا نہی تھا کہ میں.اپنی نور کے ہی.نکاح میں موجود نہی.ہونگا…
[ ] حیدر کو ایک بر پھر شرمندگی نہ ان گھیرا..
[ ] جہانگیر تو سنبھال خود کو ورنہ میں بھی رو پڑونگا..
[ ] اور حیدر کی بات سن کے جہانگیر ہنس پڑا…
[ ] جہانگیر تیری بھابھی سے بات ہوئ؟؟
[ ] ہاں ہوئ تھی کل رات اس کے بعد سے نہی ہوئ..
[ ] کیسی ہیں بھابھی..کوئ مسئلہ تو نہی ہوا..نہی مگر حیدر حویلی.کے اندر انے والوں میں سے ایک.جنید بھی تھ جسکو زلیخا نے خود اپنی.انکھوں سے دیکھا تھا..
[ ] مجھے یقین ہے حیدر یہ کام. بی جان کا ہی ہے.
[ ] اب تو کیا کریگا جہانگیر میری مان تو فورا پاکستان پہنچ ڈوڈی اور بابا اکیلے سنبھال نہی پاءینگے…
[ ] ہاں یار پوری کوشش کرہا ہو.مگر چار دن بعد کی فلائٹ ہے…
[ ] ہممم..
[ ] اچھا حیدر اب تم.لوگ جلد سے جلد اسٹڑیلیا جانے کی تیاری کرو میں کراچی والے تیرے فلیٹ سے اپنے ایک بندے کو بھیج کہ.تیرا سارے ضروری کاغزات اور تیرا پاسپوڑٹ تی سی ایس کروا دیا ہے کل تک پہنچ جائے گ تجھے بس کل تم لوگ نور کے کاغزات بنوانے کی تیاری.کرو…
[ ] ہاں تھیک ہے بات کرواؤ نور سے تیری…؟؟
[ ] نہی.مجھے پتہ ہے وہ رو پڑے گی کل ہی کروادینا…اوکے..
[ ] اور دو تین باتوں کے حیدر نے کال کاٹ دی..
[ ] حیدر سے کال کاٹنے کے بعد کمرے میں داخل ہوا..
[ ] نور جو بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کے انکھیں موند کے بیٹھی تھی دروازہ کی.اواز پہ سیدھی ہوکہ بیٹھ گئ..
[ ] اسلام وعلیکم حیدر نے کمرے میں اتے ہی سلام کیا.
[ ] جسکا.جواب نور نے گردن ہلا کے دیا.
[ ] حیدر اہستہ سے چلتا ہوا بیڈ پہ ایا اور بلکل نور کے سامنے بیٹھ گیا اور غور سے اسے دیکھنے لگا..
[ ] ااور نور حیدر کے ایسے دیکھنے پہ.اپنی ہتھلیاں اپس میں رگڑ نے لگی..
[ ] حیدر نے نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اسکو اواز دی. .
[ ] نور..
[ ] نور نے نگاہ اٹھا کہ حیدر کو دیکھا جس کی انکھوں میں اج الگ ہی چمک تھی..اور حیدر جو اسکی انکھوں میں ہی ڈوب گیا تھا. ہاتھ بڑھا.کہ ارام سے اسکی ناک سے نتھنی کو الگ کیا.
[ ] درد تو نہی ہوا حیدر نے نور سے پوچھا.. تو نور میں نہ گردن ہلائ..
[ ] نور زیادہ لمبی چوڑے میں وعدہ نہی کرونگا. تم سے زیادہ اج مجھے ڈر لگ رہا ہے کبھی نہی سوچ تھ کہ.تم.یو اچانک میری زندگی میں شامل ہوجاوگی..پلیز نور ساری زندگی مجھ پہ اعتبار کرنا مجھے پتہ ہے گاڑی میں تم.جب ہم.گاؤں سے نکلے تھے تمہیں مجھ پہ بلکل اعتبار نہی تھا اور تم.اپنی جگہ صحیح تھی مگر مجھے شکوہ ہے نور تم.سے کیا تم نے مجھے ایسا سمجھا کہ.میں تمہارا اعتبار اپنے دوست اپنی بہن جیسی بھابھی کا اعتبار توڑونگا..نہی نور تم میری زندگی ہو تم ہی ہو جو میری تنہایوں میں اپنے نور سے روشنی کرے گی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ہم.اپنی نئ زندگی کی ابتداء اپنے گھر جاکہ.کرینگے کسی قسم.کا کوئ بھی ڈر اپنے دل سے نکال دو نور…یہ.بول.کہ حیدر نور کو کھڑا کرکے ڈریسنگ کے پاس لایا اور اسکی جیولری اتارنے لگا.. جب اسکے بال حیدر نے کھولے تو حیران رہ گیا اور بولے بنا نہ رہ پایا..
[ ] نور تمہارے بال بہت خوبصورت ہے یار.. نور کے کالے لمبے بال جو کمر سے بھی نیچے تھے..اور نور حیدر کی.تعریف پہ شرما گئ..
[ ] جاو چینج کرکے او. حیدر نے نور سے کہا..
[ ] نور اپنے کپڑے اٹھا کہ چینج کرنے چلی گئ. دس منٹ تک.جب نور نہی ائ تو حیدر کو ٹینشن ہوئ کہ.کہی نور اندر رو تو نہی رہی..
[ ] نور نور حیدر نے واش روم کا دروازہ ہلکا سا ناک کرکے پوچھا.تو نور نے دروازہ.کھولا تو وہ.ابھی تک نکاح کے جوڑِے میں پریشان سی کھڑی تھی..
[ ] کیا ہوا نور. ؟؟؟
[ ] حیدر یہ.شرٹ کی دوری نہی کھول رہی نور نے ایک بار پھر اپنے یاتھ گردن کے ہیچھے لی جاکے ڈوری کھولنے کی.کوشش کی..
[ ] اور حیدر تو اسکے بنا دوپٹہ کے ساراپے میں ہی.کھوگیا کہ جبھی نور کی اواز پہ چونکا..
[ ] لاؤ میں کھول دو حیدر نے نور کو اپنی طرف گھمایااسکے سارے بال اگے کیہ.اور ڈوری کھولنے لگا جب ڈوری.ہاتھوں سے نہی.کھولی تو اس نے ہونٹوں سے کھولنے کی.کوشش کی اور نور جو ڈوری کھولنے کا انتظار کرہی اچانک اپنی گردن پہ جب ایسے حیدر کے. ہوہنٹوں کا لمس محسوس ہوا تو اسکے پورے جسم.میں کپکپاہٹ شروع ہوگئ جیسی ہی.حیدر نے ڈوری کھولی نور فورا واش روم.میں بھاگی اور بند ہوگئ حیدر اسکی حرکت پہ.مسکرا اٹھا.اور نور کا.باہر انے کاویٹ کرنے.لگا..نور جب باہر ائ کافی گھبرا رہی تھی وہ.خاموشی سے حیدر کے برابر میں اکے لیٹ گئ .حیدر نے اسے کھینچ کے اپنے سینے سے لگایا اور کہا گھبراؤ نہی نور کچھ نہی کررہا سوجاؤ تھک گئ ہوگی.. اور نور جو واقعی گھبرائ ہوئ تو فوار اسکے سینے سے لگتے ہی سو گئ…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤
[ ] صبح نور اور حیدر جلدی اٹھ گئے تھے نعمان اور حیدر تو صبح ہی نور کے کاغزات بنوانے میں لگ گئے جن میں ان کو تین دن لگے وہ بھی بہت خواری اور بہت پیسا کھلانے کے بعد اس دوران نور کی بھی جہانگیر سے بات ہو چکی تھی..
[ ] جس دن ان کی فلائٹ تھی اس دن جہانگیر نے صبح ہی.نور سے بات کی تھی اوا کافی دیر تک بات کی تھی مگر جہانگیر اور نور کو کیا پتا تھ کہ دونوں اخری بار ایک دوسرے سے بات کرہے ہیں..سارا سامان گاڑی میں رکھنے کے بعد نور نیلم.کے گلے لگ کے بہت روئ تو ادھر سرور بھی اپنی پری کے جانے.کا سن کے روننے لگا..سب سامان جب گاڑی میں حیدر نے رکھ دیا تو نور سے اسکا بیگ مانگا جس میں ان دونوں کے پاسپورٹ وغیرہ اور کچھ ضروری سامان تھا.لاؤ نور یہ بھی پیچھے رکھ دو..
[ ] نہی حیدر تھیک ہے میں پکڑ لونگی…. نعمان اور حیدر اگے بیٹھے اور نور پیچھے ابھی گاڑی ائیرپورٹ سے تھوڑ دور تھی جب نعمان نے حیدر کو کہا..
[ ] حیدر مجھے ایسا لگ رہا ہے کوئ ہمارا پیچھا کررہا ہے..نعمان کہ کہنے پہ جب حیدر نے بیک میرر سے دیکھا تو اسکو بھی یہہی.لگا ان لوگوں نے گاڑی اگے پیچھے کرکے دیکھا تو انکا شک یقین میں بدل گیا..اور نور کی.ہوا تو تب بیرنگ ہوئ جب. اس نے اپنی برابر والی.کار میں جنید کو بیٹھا دیکھا.جو اسے ہی گھور رہا تھا .نور نے حیدر کو فورا بولا اور نعمان نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھادی.نعمان ان لوگوں کو چکما دیے کہ.دوسرے روڈ پہ.گاڑی لے ایا تھانعمان اور حیدر نے پیچھے مڑ کہ دیکھا تو جنید کی گاڑی نہی تھی.مگر جیسی ہی.انہوں نے اگے دیکھا تو ایک ٹرک انکے سامنے ارہا تھا نعمان نے جیسے ہی گاڑی کو ٹرک سے بچانے کے.لیہ گاڑی.کو موڑا گاڑی ایک جھٹکے سے پلٹ گی اور رگڑتی ہوئ سامنے فٹ پاٹھ سے تکرا گئ..نعمان تو گاڑی ٹکرانے سے ہی دور جا گرا جب کہ نور اور حیدر گاڑی ٹکرانے سے بیہوش ہوگے.
[ ] بانچ منٹ بعد گاڑی میں گرمائش کی وجہ سے حیدر کی انکھ کھلی تو اسکی سر بری طرح چکرا رہا رہا تھا اس نے نکلنے کی.کوشش کی.مگر گاڑی الٹی.ہونے کی وجہ سے اسکو مشکل ارہی.رھی جیسی ہی اسنے لیٹے لیٹے نور کو دیکھنا چاہا تو نور گاڑی کے گیٹ سے لتکی ہوئ تھی اور بیہوش تھی.مگر اسکے پیچھے لگنی والی اگ نے حیدر کے ہوش اڑا دیہ وہ جییسے تیسے گاڑی سے نکلا اور نور کو نکلنے لگا اچانک جب اسکو نعمان کا خیال ایا تو اس نے ادھر ادھر نگاہ ڈورائ تو وہ ایسے سامنے روڈ پہ بیہوش دیکھا.حیدر نے نور کو ہوش میں.لانے.کی.کوشش کی نور نور اتھو نور جلدی.کرو نور اور حیدر کے دو تین بار اسکو جھنجھورنے پہ نور کو ہوش اگیا کوئ مجزہ ہی تھا ک نور اور حیدر کو ایک خراش تک نہی ائ نور اور حیدر جیسی گارڑی سے نکلے تو نور کی نظر اپنے بیگ پہ گئ نور نہ جھٹ اپنا بیگ اٹھایا.روڈ سنسان ہونے کی وجہ سی.وہاں زیادہ ٹرفک نہی تھا. حیدد اور نور جیسے ہی باہر نکلے تو انکی نظر دور سے اتی اسی گاڑی پہ پڑی جس میں جنید تھا. حیدر نے فورا نور کا ہاتھ تھاما اور سامنے لگی جھاریوں میں چھپ گیا اور دو منٹ بعد پوری گاڑی دھماکہ سے اڑ گئ..
[ ] حیدر نے ٹائم دیکھ تو انکی فلایٹ میں صرف ادھا گھنٹہ باقی تھا جب تک جنید ان کی تباہ ہوئ گاڑہ تک پہنچتا وہ نور کو لیکہ ٹیکسی میں بیٹھ گیا اور ائرپورٹ کی طرف چل پڑا…
[ ] نعمان کو جب ہوش ایا تو وہ ہسپتال کے بیڈ پہ تھا جو لوگ اسے ہسپتال چھوڑ کہ گئے تھے انہی نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ انکی گاڑی کا ایکسڈینٹ ہوگیا تھا اور گاڑی پوری تباہ ہوگئ تھی جب یہ بات ڈاکٹر نے نعمان کو بتائ تو وہ سمجھا نور اور حیدر مرگئے یہ سوچ کہ.نور اور حیدر نہی رہے نعمان کی.انکھ سے انسو جاری.ہوگئے..
[ ] ادھر نور اور حیدر جیسے تیسے اءیرپوٹ پہچے اور اسٹڑیلیاں پہنچ گئے وہاں جاکے نور کو لگا کہ جیسے وہ کسی اور ہی.جہان میں پہنچ گئ اور جب نور حیدر کے گھر میں داخل ہوئ تو اسےلگا یہ.کوئ محل.ہے جو بہت ہی خوبصورت ہے حیدر نے نور کو اپنی دادای سے ملایا..نور وہاں جاکہ. بہت خوش تھی .حیدر نے اپنا ولیمہ.بہت شاندار طریقہ سے کیا مگر اپنے یار کو نہی بھولا ولیمہ پہ ہی حیدر نے نور کو وہ.لاکٹ گفٹ کیا جو اس نے لاہور سے خریدا تھا. اس نے نور کو اتنی.محبت اتنا پیار دیا.کہ نور اسکے پیار میں
[ ] اور زیادہ خوبصورت ہوگئ تھی حیدر نے حویلی میں کراچی والے افریدی ہاس میں بہت جگہ جہانگیر کا پتہ.کرنے کی.کوششش کی مگر ہر بار نکام.رہا.پھر شان اور پریشے کے انے سے نور اور زیادہ مصروف ہوگئ اسے فخر تھا اپنے بھائ اور بھابھی پہ جنہوں نے نور کو حیدر کے حوالے کرکے حیدر پہ اعتبار کرکے کوئ غلطی نہی کی. اپنی مصروف زندگی میں کبھی کبھی وہ اس رات کا سوچ کے خوفزدہ ہوجاتی اور اپنے گھر والے کے لیہ پریشان ہوجاتی جو پتہ نہی کہاں چلے گئے تھے…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ادھر حویلی میں صبح جب نور کے غایئب ہونے کی اطلاع ملی تو پورے گاوں میں بات پھیل گئ..کہ نور حیدر کے ساتھ بھاگ گئ بی جان نے کوئ کسر نہی چھوڑی تھی اپنی بھانجی کو بدنام کرنے میں بلکہ انہوں نے اپنی بہن کے بھی کان بھرے کہ.ان دونوں کوبھاگانے میں زلیخا کا ہاتھ ہے..اور ادھر امنہ.بیگم نے زلیخا کو ہر ممکن کوشش کی حویلی سے نکالنے کی مگر ڈوڈی نے اپنی بھابھی کو اکیلا نہی چھوڑا ہ.لیکن یہ سب باتیں لوگوں کے طنز اور طعنے افریدی صاحب برداشت نہی کر پاِئ اور اس دنیا سے چلے گئے دلاور نے بہت مشکل سے اپنے اپ کو سنبھلا تھا کیونکہ جہانگیر ابھی تک نہی ایا تھا…….¤¤¤¤¤¤
[ ] ادھر جنید کے کسی دوست نے نور کو کسی لڑکے ساتھ دیکھ کہ جو گاؤں اتا جاتا تھا. جیند کو اطلاع کر دی اورجنید نے ہر ممکن کوشش کی نور کو اغواہ کرلے اور اسے وہ شاید کامیاب بھی ہوتا اگر نعمان نہ دیکھ لیتا مگر جب گاڑی تباہ ہوئ تو وہ سمجھا حیدر اور نور کا کام تمام مگر وہ یہ نہی جانتا تھا جیسے اللہ رکھے اسے کون چکھے.لاہور سے واپسی پہ جنید کے ساتھ جو ہوا وہ شاید اسکا مکافات عمل تھا.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ادھر نعمان نے جب جہانگیر کو نور اور حیدر کی موت کی خبر دی تو جہانگیر کو دو دن تک ہوش نہی رہا.اور جب وہ توٹے دل کے ساتھ حویلی پہنچا تو ایک اور دل دہلانے والی خبر اسکا انتظار کرہی تھی کہ اسکے پیارے بابا اتنی بدنامی برداشت نہی کرسکے اور اسے چھوڑ کے چلے گئے وہ ڈودی کے گلے.لگ کے بہت رویا کیونکہ اس کو اپنے بابا کا اخری دیدار بھی نصیب نہی ہوا.بس پھر وہ سب کچھ چھوڑ کے اپی.فیملی کو لہ کےہمیشہ ہمیشہ کے لیہ کراچی اگیا….مگر کراچی میں اکے اس نے افریدی ہاوس میں نہی بلکہ.کوئ اور گھر خریدا.. جس کا نام بھی اس نے افریدی ہاوس رکھا…..
[ ] کبھی کبھی جہانگیر اپنے یار اور نور کو یاد کرکے رو پڑتا مگر پھر جب اسے یہ پتہ چلا کہ یہ دونوں زندہ ہے تو اسکی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہی تھا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] (ماضی ختم.ہوگیا )
[ ] جاری.ہے
