Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
زلیخاں کب گھر پہنچی اسے پتہ نہیں چلا۔۔
ثمینہ بیگم کی آواز پہ بھی اسکی خاموشی نہیں توٹی۔۔۔وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چلی جارہی تھی۔۔
پوری رات وہ گیلے کپڑوں میں ہی رہی اج ہوئے حادثہ کا سوچتے سوچتے کب اسکی انکھ لگی اسے پتہ نہیں چلا!!!!
صبح فجر کی اذان پہ اسکی آنکھ کھولی پورا جسم اسکا سن پڑا تھا.
درد کی شدت سے اسکا پورا سر گھوم رہا تھا.
جیسے تیسے اسنے نماز پڑھی ابھی اسنے اپنی نماز ختم ہی کی تھی کے اسے زور کا چکر ایا اور وہ گ پڑی…..
اسے لگا کے کوئ اسے زور زور سے جھنجھوڑ رہا ہے اسنے اپنی ہلکی سی آنکھیں کھول کے دیکھا تو سامنے اسکی تائئ کھڑی تھی..
او بہن کیا سارا دن سو کے گزارنا ہے اا بج رہے ہیں !!!!
کچھ ہوش ہے کے نہیں؟؟؟؟
تا. تا ی ی !!!!!
کمزوری کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا!!
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے !!!
بی بی یہ نکھرے کسی اور کو دیکھانا ایک ہفتہ بعد شادی ہے تمھاری جمال کیساتھ!!!
تائی کی بات تھی یہ کوئ بم جو ذلیخاں کو جھٹکا دے گیا!!
کیا تائی ؟؟؟
وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی!!!
ہاں!!!! ثمینہ بیگم نے اسے غصہ میں گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
تائی میں جمال سے شادی نہیں کرونگی. !!! ذلیخاں کا ایسا بولنا تھا کے ثمینہ بیگم نے اسکے بال پکڑ کے جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔۔۔
تو پھر نکل یہاں سے!!!
تائی نے اسے ہاتھ پکڑ کے کمرے سے باہر نکالا وہ گرتی اس سے پہلے جمال نے اسے سنبھال لیا.
ارے ارے امی کیا کرتی ہیں دیھان سے !!!جمال نے اسے تھامتے ہوئے شیطانی مسکراہٹ لیے کہا۔۔۔
ارے میری ہونے والی بیگم کہیں لگی تو نہیں اپکے ؟؟؟؟
جمال یہ صاف منع کررہی ہے شادی سے!! ثمینہ بیگم نے ذلیخاں جی طرف حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔
ارے امی اپ جائے میں اپکی بہو کو منا کر لاتا ہو!!!جمال نے ذلیخاں کو گھورتے ہوئے کہا۔۔
ٹھیک ہے جلدی کر اسکا دماغ ٹھیک!!!!!
ثمینہ بیگم کے جاتے ہی جمال نے کمرہ بند کیا اور آرام سے چلتا ہوا زلیخاں کے پاس آیا۔۔۔
ایک گھومتا ہوا تھپڑ اس سے مارا ذلیخاں منہ کے بل بیڈ پہ گری۔۔
جمال نے ایک جھٹکے سے اسے سیدھا کیا اور دونوں ہاتھ اسکے جکڑ کے اس پر جھکا اور کہا۔۔۔
تو جو رنگ رلیا منا رہی تھی نا بیچ سڑک پہ اپنے باس کیساتھ شکر کر اماں کو نہیں بتایا!!!
چاہو تو ابھی تیری عزت کی ڈھجیاں اڑا دو مگر پھر تیرا وہ مکان میرے ہاتھ سے نکل جانے گا.جو صرف تیرے شوہر کے نام ہوگا اس لیے ابھی تک ویٹ کررہا ہو ورنہ کب کا تیرا کھیل ختم کرچکا ہوتا۔۔
سلامتی چاہتی ہے اگر اس یار کی اپنی !!!!
تو عزت سے شادی کی تیاری کر ورنہ کوئی بھی آندھی گولی اسکی سانسیں روک سکتی ہے !!!
سمجھ گئی!!
یہ بول کے جمال ایک جھٹکے سے اس پہ سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔
جمال کے جاتے ہی زلیخاں کی ہچکیاں اور سسکیاں کمرے میں گوجنے لگی!!!
کیا ہوا کام ہوا؟؟؟
ثمینہ بیگم نے جمال کے آتے ہی اس سے پوچھا۔
اماں تیرے بیٹے نے کچی گولیاں نہیں کھیلی!!!
مگر پھر لائبہ کاکیا ہوگا ؟؟؟ثمینہ بیگم نے فکر مندی سے کہا۔۔
اسکے باپ کو کیا بولے گا؟؟؟
ارے میری بھولی اماں!!!
اسکا باپ تو ویسے ہی میرا احسان مند ہے کے میں اسکی لنگڑی بیٹی کو اپنانے کے لیے تیار ہو.!!!
دوسری بات!!!
ذلیخاں کے گھر کی قیمت کڑروں میں ہے۔۔۔
اب اس معصوم کو کیا پتہ دنیا کا !!!!
رہی بات نئ نویلی دلہن کی !!!!!
تو کتنی ہی لڑکیاں ہے جو سسرال میں کھانا بناتے ہوئے جل جاتی ہیں۔۔۔
یہ بات بول کے جمال نے اپنی ماں کو آنکھ ماری اور اس سے اپنے پلین کے لیے داد وصول کی.!!!
ہائے میرا شہزادہ بلکل ماں پہ گیا ہے۔۔
ثمینہ نے اپنے بیٹے کی بلائے لیتے ہوئے کہا۔۔
بس ماں تو دیکھتی جا کیسے تیرا بیٹا اپنا خواب پورا کرتا ہے ۔
دونوں ماں بیٹے لالچ میں اتنے اندھے ہوگئے تھے کے خدا کے عزاب کو بھی بھول گئے۔۔۔
مگر اسکی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جب پڑتی ہے تو پھر کھیل ختم!!
دو دن سے زلیخاں کا کوئی اتا پتہ بھی نہیں تھا نمبر بھی بند جا رہا تھا !!!
جہانگیر کو اپنے کیے پہ بہت شرمندگی تھی۔
وہ زلیخاں سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔
مگر وہ ہے کے اکے ہی نہیں دے رہی تھی اور اسکے گھر جانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔۔۔۔
وہ اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کے اسے اپنے کیبن میں کسی کے ہونے کا احساس تک نہیں ہوا۔۔
اپنی بند آنکھیں جب اسنے کھولی تو سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ کے اسکے لب مسکرا اٹھے اور اٹھ کے اسکو گلے سے لگایا۔۔
ارے حیدر تو کب ایا…؟؟؟
جب تو پچھلے 15 منٹ سے آنکھیں بند کرکے اپنی سوچو میں گم تھا۔۔
بس یار حیدر میں بہت پریشان ہو۔
ہاں اسکا تو مجھے اندازہ ہورہا ہے۔۔
میں دو دن سے لاہور میں تھا کل آیا ہو!!!
تجھے اتنی کال کی تو نے ایک بھی ریسو نہیں کی اور اماں جان سے پتہ چلا کے اس مہینے کے آخر میں تیری شادی ہے ؟؟
یہ چکر کیا ہے؟
تونے تو بولا تھا تو زلیخاں سے محبت کرتا ہے!!!
ویسے کہاں ہے ؟؟
اپکی پرسنل سیکریٹری نظر نہیں آرہی!!!
ار وہ دو دن سے نہیں آرہی!!!
کیوں کیا ہوا…؟؟؟؟
حیدر کے پوچھنے پہ جہانگیر نے اسے اس رات کی کہانی الف سے یے تک سب سنادی !!!
اب تو گھور کیا رہا ہے ؟؟جہانگیر نے جب بات ختم ہونے پہ خود کو حیدر کو تکتا پایا تو چڑ کے کہا۔۔
میں یہ سوچ رہا ہو کے تو یہ بھی کر سکتا ہے یقین نہیں آتا !!!
ویسے کون سی فلم دیکھ لی تھی اس دن.؟؟؟
ہاہاہا !!!حیدر نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا!!!
یار تجھے ہنسی آرہی ہے اور یہاں مجھے اسکی فکر ہو رہی ہے!!
اب تو نے کام ہی ایسا کیا ہے اسکا ناراض ہونا تو بنتا ہے.!!!
چل ایک کام کرتے ہیں کل تک اسکا ویٹ کرتے ہیں اگر نہیں ائ تو پھر اسکے گھر چلینگے.!!
ہاں تو ٹھیک بول رہا ہے!!!
اب اٹھ جا قسم سے بہت بھوک لگی ہے!!!
اجا چل تجھے اج اپنی فیورٹ نہاری کھلاتا ہو.!!
#
بات سنو !!!
ثمینہ بیگم نے صفائی کرتی ہوئی زلیخاں کو آواز دی!!
جی تائی !!!
صفائی سے فارغ ہوکے اپنے آفس میں جاکے اپنا استعفیٰ دے انا
اور اپنی تنخواہ بھی لے انا!!!!
جی!!
تائ کو تو اس نے حامی بھر دی۔۔۔۔
۔
مگر زلیخاں یہ سوچ کے پریشان ہوگئی کے وہ جہانگیر کا سامنا کیسے کرے گی۔
یاالہی!!!!
میری مشکل آسان کردے!!!!
اسنے بھیگتی آنکھوں کیساتھ آسمان کی طرف دیکھ کے دعا کی اور شاید قبولیت کا وقت تھا جو اسکی دعا عرش پر جا پہنچی…
نیلے رنگ کا سادہ سا سوٹ پہنے انکھوں میں ہلکا سا کاجل لگائے اسکی آنکھوں کی ترنگ اج نرالی تھی مگر اگر کوئ اسکی آنکھوں کو دیکھتا تو شاید اج اسکے دل کا حال سمجھ جاتا!!!!
وہ بجھے دل کے ساتھ آفس پہنچی!!
بہت ہمت کرکے اسنے جہانگیر کے آفس کا دروازہ ناک کیا!!!
اجائے۔۔۔جہانگیر کی اجازت ملتے ہی وہ اندر گئ۔۔
جب آنے والے نے دو منٹ تک کچھ نہیں بولا تو مجبورا جہانگیر کو اپنی نگاہ اٹھانی پڑی۔
سامنے زلیخاں کو دیکھ کے اسے ایسا لگا کے کسی نے اسکے جسم میں سکون بھر دیا ہو!!!
وہ دیوانہ وار اسکی طرف لپکا اور اسے سینے سے لگا لیا!!!
آج زلیخاں نے بھی کوئی مذحمت نہیں کی اسکے سینے سے لگی رہی۔۔
وہ اس سے الگ ہوا اور کہنے لگا۔۔۔۔
زلیخاں تم کہاں تھی ؟؟؟؟
میں نے تمھیں کتنی کال کی تمھارا نمبر ہی بند جا رہا تھا۔
اسنے اسے دو سیٹر صوفے پہ بیٹھایا۔
بیٹھو تم یہاں!!!
خود اسکے پیروں میں بیٹھ گیا….
اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا!!!!!!!
زلیخاں میں اپنی اس رات کی حرکت کے لیے بہت شرمندہ ہو پلیز مجھے معاف کردو..!!
میں بہت محبت کرتا ہو تم سے زلیخاں !!!
اسکے اقرار پہ زلیخاں نے ایک دم نظرے اٹھا کے اسے دیکھا!!!
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہو ان دو دنوں میں مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ تم سی دوری میری جان لے لے گی اور میں جانتا ہو تمہاری آنکھوں میں میں نے اپنے لیے محبت دیکھی ہے پلیز ذلیخاں مجھ سے شاد ی کرلو !!!
ذلیخاں کی آنکھوں سے آنسو روا تھے اسے اپنی قسمت پہ ہنسی آرہی تھی..
آج محبت ملی بھی تو کب جب سب کچھ اسکے ہاتھ سے چلا گیا کل اسکی زندگی کی لگام کسی اور کے ہاتھ میں ہوگی!!!
بولو نہ تم چپ کیوں ہو….. ؟
تم دوگی نہ میرا ساتھ…..؟؟
ذلیخاں نے اپنے ہاتھ اسکے ہاتھوں سے نکالے اور کھڑی ہوگئی
اسکے کانوں میں جمال کی دھمکی گونجنے لگی…
اگر تو نے اس شادی سے انکار کیا تو کوی بھی اندھی گولی تیرے یار کی سانسیں روک سکتی ہے!!!
ذلیخاں نے تکلیف سے اپنی آنکھیں بند کیااور اسکی طرف پلٹی..
جہانگیر نے بہت یقین سے اسکے طرف دیکھا!!
لیکن زلیخاں کے الفاظوں نے اسے عرش سے فرش پہ لا پھینکا!!!
میری کل شادی ہے میرے تایا کے بیٹے کے ساتھ جہانگیر میں اج اپنا ریزائن دینے ائ ہو۔۔۔۔
یہ بول کے زلیخاں نے اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی جہانگیر نے اسے کھنچ کے دیوار سے لگا دیا.
وہ اسکے اتنا قریب تھا کے اگر وہ تھوڑا بھی ہلتی تو اسکے لب اسکے لب سے تکرا جاتے!!!
کیا بکواس کی ہے ابھی تم نے ذلیخاں ؟؟؟
زرا پھر سے بولو!!!!!
ذلیخاں جہانگیر جے اس عمل سے ڈری نہیں بلکے نیچیں نگاہیں کیے ہی جواب دیا..۔۔۔
یہ ہی کے کل میری شادی ہے!!
جب تھوڑی دیر تک کوئی آواز نہیں ائ تو اس نے نگاہ اٹھا کے جہانگیر کو دیکھا!!!
جہانگیر کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔
ذلیخاں نے دل سے دعا کی کے کاش اسے اس وقت موت اجائے ۔۔
کیا تمہاری مرضی سے یہ شادی ہو رہی ہے؟؟؟جہانگیر نے بیت غصیلی آواز میں پوچھا۔۔۔
مگر وہ چپ کھڑی رہی۔۔۔
ذلیخاں میں کچھ پوچھ رہا ہو؟؟؟
ہاں!! ذلیخاں نے بہت دھیمی آواز میں کہا۔۔
جہانگیر اس سے دور ہوا.۔۔
[غصہ میں جہانگیر نے پوری شدت سے اپنا ہاتھ کا مکا بناکے اپنی کانچ کی ٹیبل پہ مارا کانچ کی ٹیبل ٹوٹھ کے اسکے ہاتھ پہ لگ گئی۔۔
خون کا ایک فوارہ نکلا جو زمین کو رنگنے لگا.
اسکا افس ساوئنڈ پروف تھا اسلیے ٹیبل ٹو ٹنے کی آواز باہر نہیں گئ۔۔
..
ذلیخاں نے جب جہانگیر کا ہاتھ دیکھا جو خون میں رنگا ہوا تھا.
بھاگتی ہوی اسکے پاس ائ۔۔
یہ کیا کیا اپنے جہانگیر؟؟؟؟
یااللہ !!!!
میں کیا کرو ؟؟؟؟
اب اٹھے دیکھے جہانگیر کتنا خون نکل رہا ہے اسنے اپنا رومال اسکے ہاتھ پہ باندھتے ہوئے کہا۔۔۔
روکے میں برف لاتی ہو!!!!
آفس کے چھوٹے سے فریج سے اسنے برف نکالی اور جہانگیر کے ہاتھ پہ ملنے لگی۔۔
آنسو اسکی آنکھوں سے جاری تھے۔۔۔
جہانگیر اسکی ساری کاروائی بہت خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہاتھ بڑھا کے اسنے ذلیخاں کے آنسو صاف کیے اور کہا۔۔
پرواہ بھی کرتی ہو اور ساتھ بھی نہیں دیتی!!!
جہانگیر کے الفاظ پہ اسکے ہاتھ روک گئے!!!
ایک دم جہانگیر کھڑا ہوا اپنی آنکھیں صاف کی بالوں پہ ہاتھ پھیرا اور کہا۔۔۔
چلو آؤ میں تمہیں گھر چھوڑ دو کیا پتہ پھر کبھی تمہیں دیکھ سکو یہ نہیں ۔۔۔۔
یہ بول جہانگیر کیبن سے نکل گیا۔۔۔
ذلیخاں اپنا مردہ وجود کو گھسیٹتے ہوئے آفس سے باہر نکلی اور اسکی گاڑی میں جاکے بیٹھ گی!!!
گاڑی میں دونوں نفوس بلکل خاموش تھے!!!
ایک دم جہانگیر نے گاڑی کا ٹیب اون کردیا گانے کے الفاظ جہانگیر کو ایسے لگے جسے ان دونوں پہ ہی بنے تھے.
کیسے بھو لونگا تو یاد ہمیشہ ائے گا!!!
تیرے جانے سے جینا مشکل ہوجائے گا!!!
اب کچھ بھی ہو دل پہ تو کوئ زور تو چلتا نہیں!!!!
دل تیرے بن کہیں لگتا نہیں !!!!
وقت گزرتا نہیں!!!!
کیا یہ ہی پیار ہے!!!!
گانا سن کے ایک بار پھر دونوں کی آنکھ سے آنسو جاری ہوگئے ۔۔
جنہیں جہانگیر نے تو رگڑ ڈالا!!!
مگر ذلیخاں نے رخ کھڑکی کی طرف موڑ کے انہیں بہنے دیا۔۔
جاری ہے۔۔
