Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 37 part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 37 part 2
ازلان کی بات سن کے فائزہ کے چہرے پہ ایک دم حیرانی چھاگئ وہ منہ کھولے ازلان کو دیکھنے لگی..
..
دلہن لے روپ میں وہ ازلان کے سامنے کھڑی تھی ازلان نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی..کیونکہ نکاح والے دن ہی شمائلہ نے ازلان کو ایک ایک حقیقت بتا دی تھی کہ فائزہ اسے بچپن سے چاہتی ہے اور یہ سب عامر والا سین اسکا خود کا بنایا ہوا ہے ..
ازلان کو جب یہ پتا چلا کہ اسکی چشمش شیرنی اسے اتنا چاہتی ہے کہ خالی اسکے منہ سے اظہار محبت سننے کے لیہ اس نے اپنا کردار تک مشکوک کردیا تو ازلان کو رشک ہوا اپنی قسمت پہ ..
اور اج اس نے فائزہ کے منہ سے سننے کے لیہ ہی یہ سب ڈرامہ کیا….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
آزلان کی بات سن کے فائزہ کا تو پارہ ہائ ہوگیا..
وہ اپنے دونوں ہاتھ کمر پہ رکھ کے بڑی لڑاکا عورتوں کی طرح ازلان کو کہنے لگی.
…ازلان بہت مشکل سے اپنے جزبات پہ قابو پا رہا تھا کیونکہ ایک تو اسکی محبت دوسرے سارے شرعی حقوق اس کے پاس تھے مگر بہت مشکل سے اسنے اپنے جزبات دبائے اور فائزہ کے سامنے سینے پہ ہاتھ باندھ کے کھڑا ہوگیا…
فائزہ نے کہا…
اوہ ہیلو کون عامر کوئ عامر وامر سے میں محبت نہیں کرتی یہ کہاں سے اگیا عامر یہ تو میں نے تم سے اظہار محبت سننے کے لیہ.یہ سبببببب ابھی فائزہ کہ بات منہ میں ہی تھی کہ فائزہ نے اپنی زبان اپنے دانتوں میں دبائ اور تر چھی نگاہؤں سے ازلان۔کو دیکھنے لگی ..
اور ازلان جو جان بوجھ کہ اپنے چہرے پہ سنجیدگی لائے ہوئے تھا اس کی برداشت یہی تک تھی…..
اس نے اگے بڑھ کے فائزہ کے دلہن میں سجے سراپے کو اپنی باہنوں میں اٹھایا اور اسے لے کہ اسے بیڈ پہ بیٹھایا اور خود اسکے سامنے بیٹھ گیا….
اور ایک ایک کرکے اسکی جیولری اتارنے لگا اور اپنی بات بھی کرنے لگا .
سب سے پہلے اس نے اسکی ناک کو اسکی نتھ سے ازاد کیا اور اپنے لبوں سے اسکی ناک چوم لی اور کہا…
فائزہ …
مجھے معاف کردو میں نے تمہیں بہت تکلیف پہنچائ ہے…
ایک ایک کرکے ازلان فائزہ کی جو جو جیولری اتارتا گیا اس اس جگہ اپنے لب رکھتا گیا اور ساتھ میں اپنے ہر غلطی کی معافی مانگتا گیا.
..اتنی محبت اتنی عزت پہ فائزہ بہتی انکھوں سے ازلان کو دیکھنے لگی..
اس کا سر جب ازلان نے اسکے دوپٹہ سے ازاد کیا تو ازلان نے اسے اپنے سینے سے لگالیا چپکے سے ایک انسو ازلان کا فائزہ کے بالوں میں ہی گم ہوگیا….
دھیرے سے ازلان فائزہ سے الگ ہوا
فائزہ نے جب ازلان کی انکھوں میں انسو دیکھے تو اسے بہت عجیب لگا اس نے اپنے ہاتھ سے ازلان کے انسو صاف کیہ تو ازلان نے بھی اسکے انسو صاف کیہ اور اسکی انکھوں کو چوم لیا..
تو ازلان نے فائزہ سے کہا..
ویسی میں نے تو اپنی غلطی کی معافی مانگ لی.
.مگر جانم ازلان اپکو نہیں لگتا اپکو بھی اعتراف کردینا چاہیے کہ اپ مجھے بہت چاہتی ہیں..
ازلان کے بولنے کی دیر تھی کہ فائزہ نے دونوں ہاتھوں سے …
اپنا منہ چھپالیا تو ازلان نے ایک بار پھر اسے اپنے سینے سے لگالیا اور کہا…
وہ تو احسان ہو میری سالی صاحبہ کا جس نے ہمارے نکاح والے دن مجھے اس شرف سے بخشا کہ میں اپنی وائف کی پہلی محبت ہو…
ازلان کا بولنا تھا کہ فائزہ حیرانی سے ازلان کو دیکھا اور کہا…
.
تو کیا شمائلہ نے اپ کو بتایا یہ سب کے ۔میں اگے کی بات ازلان نے پوری کی..
ہاں کہ اپ مجھ سے عشق کرتی ہیں یہ بول کہ ازلان نے جھک کے فائزہ کے لبوں کو نرمی سے چھوا..اور اٹھ کے الماری میں سے فائزہ کی منہ دیکھائ لایا..
مخمل کے کیس میں ایک چھوٹی سے ڈائمنڈ رنگ تھی جو ازلان نے فائزہ کے ہاتھ میں پہنا دی..اور ایک اور کیس جو سائڈ کی ڈرار میں سے نکالا جس کو کھولنے.پہ فائزہ کی انکھیں میں احساس محبت کے انسو ایک بار پھر جھلملانے لگے ..
وہ ایک گولڈ کے خوبصورت سے گلاسسز تھے جنکے سائیڈ کے ہینڈل بھی گولڈ کے تھے جن پہ ہیروں سے لکھا تھا ..
“شیرنی”
گلاسسز دیکھ کے فائزہ دل سے مسکرائ تو ازلان نے اس کے پہلے لینس اتارے اور پھر اسکو گلاسسسز پہناے اور کہا…
thats like my beautiful chasshmissh sherrni اور اس پہ جھک گیا ..
ایک خوبصورت رات کا اختتام فائزہ اور ازلان پہ جن کا اعتبار ایک دوسرے پہ ڈگمگایا ضرور مگر توٹا نہیں..
