Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ep 46 Part 1

قسط نمبر 46 (سیکنڈ لاسٹ 1)
ماہ نے فورا اپنی نگاہ جھکا کہ یہ ظاہر کرا جیسے اسے کچھ فرق نہی پڑتا… شان نے ایک بھر پور نظر اس پہ ڈالی. اور ناشتہ کرنے لگا…سب ہی اماں جان کے اس فیصلہ پہ خوش تھے..
مگر زلیخا بول.پڑی ..
اماں جان اتنی جلدی کیسے ہوگی تیاری ؟؟
بیٹی کی شادی ہے اماں ہزاروں جھمیلے ہوتےہیں..
بیٹی کا.لفظ سن کے جہاں ماہ نے زلیخا کو دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی…
ماہ کی آنکھوں.میں معافی کی درخواست زلیخا پڑھ چکی تھی مگر فلحال وہ اس معملے میں کچھ نہی کر سکتی تھی دل تھا جو بیٹی کی.تکلیف پہ بے چین تھا مگر دماغ اسے اس کی غلطی پہ معافی دینے پہ رضا مند نہی تھا..
ماہ اور شان کی شادی کا سن کے ردا اور عدنان بھی اپنی فوم میں اچکی تھے…
جہانگیر دلاور ,حیدر, سب ہی.علی اور جنید کو ایک ہفتہ اور روکنے پہ زور دے رہے تھے….
جہانگیر نے علی سے کہا….
علی روک جاو یار اس دوران تم شاہین کے پیپر بھی بنوالینا اور پھر شاہمیر بھی تو ساتھ جائے گا.. ؟؟؟؟
اور شنھو میں کہاں جاونگی ؟؟
لاڈو جو کب سے خاموش بیٹھی تھی بول پڑی… لاڈو کی اواز پہ سب ہی اسکی طرف متوجہ ہوئے کہ جبھی اماں جان بول پڑی…
لاڈو راجدہ نے ہم سے تمہارے لیہ اپنے بیٹے حامد کا ہآتھ مانگا ہے…
ہاں بیٹا نازنین کے جانے کے بعد مجھے بھی بیٹی کی.کمی محسوس نہی ہوگی تمہارے آنے سے..
راجدہ بیگم.بھی بول پڑی..
..اس بات پہ.جہاں لاڈو حیران تھی وہی سب ہونقون کی طرح اماں جان کو دیکھ رہے تھے اور پھر حامد کی طرف گھوم.گئے…
اماں جان اور راجدہ تو یہ بات بول کے اپنے اپنے کمروں کی طرف چل.پڑی جبکہ لاڈو انکے جاتے ہی بول پڑی….
شنو(شاہین) تمہیں میرا وجود برداشت نہی تو کوئ بات نہی مین ساری زندگی اسی گھر میں گزار دونگی مگر اسس ٹھرکی.انسان سے شادی نہی کرونگی….
لاڈو کا اشارہ حامد کی طرف تھا وہی حامد جس نے اج صبح ہی اپنی امی سے لاڈو کی بات کی تھی جس کی بنا پہ انہوں نے فورا اماں جان سے لاڈو کا ہاتھ مانگا تھا…..
اور حامد جو لاڈو کے ساتھ کے حیسن تصور میں کھویا تھا وہی ٹھرکی لفظ سن کے اسکے منہ سے چائے چھلکی اور اس نے حیران کن نظروں سے لاڈو کو دیکھا جس نے منٹوں میں اسکی 36 سال کے کریکٹر کو جج کرا تھا..
شاہ اور ناصر کا لاڈو کے منہ سے حامد کی تعریف سن کے اپنا قہقہ کا روکنا مشکل ہوگیا…وہی سب کے لبوں پہ دھیمی دھیمی مسکرائٹ اگئ…
جبک نازنین نے اپنا قہقہ روکنے کی بلکل کوششش .نہی کی…
حامد کو تو لاڈو کی بات سن کے پتنگے لگ گئے. اور اس نے روب دار آواز میں کہا…
مس لاڈو اپ بتانا پسند کرینگی میں نے کیا ٹھرکی پنا کیا اپکے ساتھ؟؟
لاڈو نے زور سے چائے کا کپ رکھا اور حامد کو بھی اسی طرح روب دار آواز میں کہا
oh hello mister
dont call.me lado my name is lareeb so dont cl.me lado or one think i dont like talking with stranger so please shut up
جو ادمی میڈیسن کی دکان پہ.کھڑے ہوکے لڑکیاں تارے ..
حامد تو اپنے لیہ ادمی لفظ سن کے ہی سکتے میں چلا گیا
اسے ہماری زبان میں ٹھر کی کہتے ہیں..اور ہاں میں لاڈو خالی اس گھر کے لوگوں کیلیے ہو ہر ایرے غیرے نتھو خیروں کیلیے نہی…
لاڈو کی آخری بات شاہ اور ناصر اپنا قہقہ چاہ کے بھی نہ.روک پائے اور دلاسہ دینے والے انداز میں حامد کے کندھے پہ ہاتھ رکھا جبکہ شاہ تو بول پڑا..
اب پتہ چلا بھائ میں کیسی اپکی بہن کو ہینڈل کرتا ہو ویسے لاڈو آنٹی جواب نہی اپکا. .
شاہ کی.آخری بات پہ جہاں لاڈو مسکرائ وہی حامد نے خونخوار نظروں سے شاہ کو دیکھا اور کہا…
بہت بول رہا ہے بیٹا ایسا نہ.ہو شادی 4 سال تک میں ملتوع کردو…
حامد کی دھمکی پہ شاہ کو منہ لٹک گیا وہی ماہ اور شان کا ایک ساتھ قہقہ.گونجا ان دونوں کو ہنستا دیکھ سب نے ان کے صدا ایسے ایک ساتھ ہنسنے کی دعا مانگی ….
لاڈو کو فر فر انگلش بولتے ہوئے جہاں سب حیران تھے وہی حامد کا بھی ریکشن ان لوگوں سے کچھ کم.نہی تھا..
جبکہ ردا نے تو باقاعدہ کھڑے ہوکے تالیاں بجائ.اور کہا…
ارے وہ لاڈو آنٹی اپکی.انگلش تو بہت کمال کی ہے اور بولتے ہوئے اپ بہت کیوٹ بھی لگتی ہے…
ردا کی بات پہ.خالی لاڈو مسکرائ..
جبکہ جہانگیر اور دلاور نے پوچھ لیا…
ارے لاڈو کہاں سے سیکھی اتنی اچھی انگلش بولنا…؟؟
لاڈو کوئ جواب دیتی کے جبھی شاہین بول پڑی…
جہانگیر بھائ میں نے سیکھائ اور لاڈو نے پرائیوٹ بی اے کرا ہوا ہے..
یہ بات سن کے سب ہی بہت خوش ہوئے .. جہانگیر حیدر اور دلاور جنید تو ٹیبل سے اٹھ چکے تھے مگر شاہین نے علی کو نہ اٹھنے دیا…
حامد جو کافی دیر سے چپ تھا بول پڑا…
لاڈو بی بی جب اپ اتنا مجھ پہ غور کر سکتی ہیں کہ میں میڈیکل اسٹور پہ.لڑکیاں ٹارتا ہو. بقول اپکے میں ٹھرکی ہو.. تو اپ کو اتنا اندازہ ہوچکا ہوگا کہ کس کے لیہ میں سالوں سے وہاں خالی اس کی ایک جھلک دیکھنے جاتا تھا.. زیادہ ننھی کاکی نہ بنو سمجھ آی.. اور شاہین بھابھی اپ بتائے اپکو کیا نہی پتہ میں کس کے لیہ جاتا تھا کیونکہ گاڑی کے اندر وہ دوسرا نفوس اپ ہی تھی…
حامد کی بات پہ ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا.جبکہ حامد کے پوچھنے پہ شاہین نے ہاں میں گردن ہلائ ..
سبھی اس لڑائ کو انجوئے کر رہے تھے..
کے جبھی… لاڈو غصہ میں ایک بار پھر بول پڑی…
کیوں میڈیکل اسٹور پہ کونسی لنگر باٹنے والی کا انتظار ہوتا تھا…
جو اسی کی راہ مں اسکی ایک جھلک دیکھنے کھڑے رہتے تھے…
لاڈو کے جواب پہ نازنین کا قہقہ گونجا اور اس نے حامد سے کہا…
کیا کہا تھا مجھے اپ نے بھائ مجھے کل ہاں لڑاکا عورت
.اب تو یہ کمی میری ہونے والی بھابھی پوری کرے گی چن چن کے اپ سے بدلے لے گی میری.. ہیں نہ بھابھی..؟؟
نازنین کا لاڈو کو بھابھی بولنا سب کو ہی اچھا لگا وہی حامد نے کمال مہارت سے اپنی مسکراہٹ چھپائ کے جبھی ازلان اور فائزہ بول پڑے…
ارے لاڈو آنٹی ہمارے حامد انکل بہت کیوٹ ہیں..ہاں لاڈو آنٹی قسم سے میں تو انکی اسمارٹنیس پہ ہی مر مٹا ہو یہ بولنے والا عدنان تھا جبکہ ناصر اور پری ایک دوسرے سے ٹیکس پہ.باتیں کرنے میں لگے تھے…
شھنو میں بتا رہی.ہو میں شادی نہی.کرونگی ؟؟؟
لاڈو کی بات سن کے شاہین نے اپنا سر تھام لیا اور علی سے کہا….
علی اپ سمجھائے نہ.لاڈو کو کیا یہ ساری زندگی اکیلی رہے گئ.اس کا اپنا گھر بار نہی ہوگا…؟؟؟
.
شاہین کے بولنے پہ علی نے اپنے دونوں ہاتھ کھڑے کرے اور کہا
“جان علی تم سے محبت اپنی جگہ مگر میں برسوں بعد اپنی ملنے والی اکلوتی سالی کے مسئلہ میں نہی بولنگا اس لیہ تم جانو اور تمہاری بہن یہ بول کے علی بھی وہاں سے رفو چکر ہوگیا اب ٹیبل پی ساری لیڈیز اور ینگ جنڑریشن بیٹھی تھی..
علی کے جاتے ہی لاڈو پھر بول.پڑی…
شنھو میں نہی.کرونگی شادی ان صاحب کو بھی بول دو اور راجدہ آنٹی کو بھی…
لاڈو کی بات پہ ماحول میں ایک دم سنجیدگی چھا گئ..
کہ جبھی حامد کی برداشت جواب دے گئ اور اس نے ٹیبل سے کھڑے ہوکے غصہ میں لاڈو کی طرف دیکھا اور کہا…
تو کان کھول کے تم بھی یہ بات سن لو مس لاریب پہلے تو تم میری محبت تھی جسکو ایک.نظر دیکھنے کے لیہ میں میڈیسن کی دکان پہ.گھنٹوں کھڑا رہتا تھا.. جسکی وجہ سے کوئ اور لڑکی اس دل کو ننہی بھائ… مگر اب تم.میری ضد بن چکی.ہو اس لیہ بنوگی تو تم.اب میری ہی دلہن وہ بھی دو دن کے اندر اندر اور یہ جو تمہاری ابھی تازی تازی نند بنی ہیں نہ اس سے زرا پوچھ لینا.. میری ضد کے بارے میں..پہلے بات میں کبھی ضد کرتا نہی بلفرض اگے کبھی کر بھی لو تو جب تک اپنی ضد پوری نہی کر لیتا چین سے نہی بیٹھتا..
اسلیے صرف دو دن تیاری کرلو میری بننے کیلیے اوکے you wait and watch after two days you are mine…
یہ بول کے حامد تیزی سے وہاں سے نکل گیا جبکہ لاڈو نے ایک پرشکوہ نظر شاہین پہ ڈالی اور اندر کو بھاگئ..
باقی سب بھی شوک کی کیفیت میں تھے خاص کر کے نازنین جس نے اپنے بھائ کا یہ.روپ پہلی بار دیکھا تھا..
¤¤¤¤¤
.شاہین اٹھ کے لاڈو کے کمرے میں جانے لگی تو نازو نے اسے روک کے کہا…
شاہین ابھی اسکو اس کے حال پہ چھوڑ دو جب وہ حامد کے ساتھ بہت خوش رہے گی..تو خودی سیٹ ہوجائے گی نیلم اور نعمان بھائ چلے گئے ورنہ میں ان سے تمہیں حامد کے بارے میں پچھواتی تم.ٹیینش نہ لو بس اب اپنی بہن کی شادی کی تیاری کرو…نازو کی بات سے جہاں سب نے اتفاق کیا وہی شاہین
کو بھی نازو کی بات صحیح لگی…
¤¤¤¤¤¤
اور پھر لاڈو کی زبان اماں جان کے اگے اکے بند ہوگئ…
جب پیسہ ہو اج کے دور میں توشادی کی تیاریوں میں وقت نہی لگتا.. پوری افریدی فیملی.نے لاڈو کی شادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جہاں نازنین اپنی بھابھی کی تیاریوں میں مصروف تھی وہی پری نازو نور اور زلیخا شاہین سب ساتھ ساتھ ماہ کی شادی کی تیاری بھی کر رہے تھے…
مایوں مہندی کے فنکش کا لاڈو نے منع کردیا اور سب نے ان کی بات مان بھی لی..
حامد نے لاڈو کیلیئے ہر چیز لی تھی اسے احساس تھا اسکی محرومیوں کا مگر وہ پاگل حامد کے پیار کو کچھ اور ہی رنگ دیے بیٹھی….
اگلے دن لاڈو اور حامد کا نکاح تھا اس لیہ اج شاہ اور نازنین مل کے حامد کا کمرہ سجا رہے تھے جبکہ شان, ناصر ازلان اور عدنان نے برات لیجانے کا سارا انتظام سنبھالا ہوا تھا . ماہ اور پری ردا نے لاڈو کو تیار کرنے کی زمیداری لی ہوئ تھی نکاح سے ایک دن پہلے لاڈو کی مہندی خود شاہین نے لگائ مگر لاڈو اس سے صاف نراضگی کا اظہار کر رہی تھی اس نے ایک لفظ بھی شاہین سے نہی بولا اور یہی بات شاہین کو تکلیف دے رہی تھی..جب سبھی کمرے سے گئے اور صرف شاہین اور لاڈو رہ گئے تو شاہین نے مہندی لگاتے لگاتے لاڈو سے کہا.
“جانتی ہو مجھ سے بہت ناراض ہو بنا تم سے پوچھے تمہاری زندگی کا فیصلہ کردیا مگر لاڈو تم بھی یہ بات اچھی طریقے سے جانتی ہو کہ حامد تم سے محبت کرتا ہے تو پھر اس انکار کی وجہ ..میں بھی تمہیں خوشحال دیکھنا چاہیتی ہو میرے لیہ تم نے اپنی زندگی کی پرواہ نہی کی تو کیا اب میرا فرض نہی کہ میں تمہارے لیہ کچھ کر سکو بتاو لاڈو تمہیں کیوں اعتراض ہے حامد سے شادی کرنے پہ.اگر تمہاری وجہ مجھے درست لگی تو تمہاری قسم اج ابھی اسی وقت میں خود اس شادی سے انکار کردونگی مگر کم از کم وجہ تو ہو..تھڑکی والی بات کو ہٹا کے وجہ بتاو کیونکہ میں جانتی ہو یہ وجہ نہی……
شاہین نے جب اپنی بات مکمل کرکے اوپر لاڈو کو دیکھا تو وہ رو رہی تھی شاہین نے مہندی ایک طرف رکھ کے اسے گلے سے لگایا..
اور اسکے آنسو صاف کرکے کہا…
کیا بات ہے لاڈو ؟؟
پلیز بولو..
لاڈو نے اپنے آنسو صاف کیہ اور کہا…
شاہین میری حیثیت تمہارے گھر میں ایک نوکرانی کی تھی.میرا اور حامد کا کوئ مقابلہ نہی وہ مجھ سے محبت کے تحت نہی ہمدردی کے تحت شادی کر رہے ہیں ورنہ تم خود بتاو انکو کیا کمی ہیں لڑکیوں کی جو انہیں ایک نوکرانی پسند آئ جسکے ماں باپ نے قرضہ نہ دینے کی صورت میں اسے قرضہ کے طور پہ دے دیا…یہ بول کے لاڈو پھر رونے لگی….
شاہین نے.لاڈو کی.بات سن کے اپنے ماتھے پہ ہاتھ مارا اور کہا.
غلط فہمی کا کوئ علاج نہی…
تم نوکرانی نہی بہن ہو میری وہ تمیں بی جان کے حوالے سے نہی میرے حوالے سے جانتے ہیں اور وہ تمہارے پیچھے جب سے ہیں جب انہوں نے تمہیں پہلی بار میڈیکل اسٹور پہ دیکھا تھا…
اپنے دل سے ساری بدگمانیوں کو دور کرلو اور بس انے والی خوشیوں کی راہ دیکھو.. یقین کرو میرا لاڈو حامد بھائ بہت اچھے اور سلجے ہوئے انسان ہیں….
شاہین کی.آخری بات پہ لاڈو نے روتے روتے سڑا ہوا منہ بنایا اور کہا…
ہاں کتنے سلجھے ہوئے ہیں تمہارے حامد بھائ وہ میں پرسوں دیکھ چکی…
لاڈو کی بات سن کے شاہین کا قہقہ پور کمرہ میں گونجا وہی لاڈو بھی مسکرا پڑی…
¤¤¤¤¤¤
اور پھر لاڈو کے نکاح کو وقت بھی آپہنچا…
وائٹ کاٹن کے سوٹ میں ملبوس حامد کی پرسنیلٹی دیکھنے لائک تھی تو لائٹ پنک اور ریڈ کنٹراس کے شلوار قمیض کے سوٹ میں لاڈو کا روپ بھی نکل.کے آیا تھا…
نکاح کے بعد رخصتی کا شور اٹھا تو افریدی مینشن کے سارے ادمیوں نے بھائ بن کے لاڈو کو رخصت کیا جبکہ ساری عورتوں نے بہن بن کے جب کے اماں جان نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھ کے رخصت کیا مگر شاہین لاڈو کے گلے ر کے جو روئ تو اسے سنبھلنا بہت مشکل ہوگیا
¤¤¤¤¤
حامد کے گھر میں نازنین اور شاہ نے لاڈو کا پر تپاک.استقبال کیا.. ساری رسموں کے بعد نازنین لاڈو کو حامد کے کمرے میں لے آئ کمرے میں گھستے ہی لاڈو نے ایک طائیرانہ نظر کمرے کی سجاوٹ پہ ڈالی تو دل سے کمرے کی سجاوٹ کی تعریف کی..
نازنین لاڈو کو بیڈ پہ بیٹھانے کے بعد کھانے پینے کا پوچھنے لگی مگر لاڈو نے ہرچیز سے انکار کردیا..
نازنین لاڈو کے پاس سے اٹھ کے جانے لگی تو لاڈو نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا نازنین کو اسکے ہاتھ میں کپکپاہٹ محسوس ہوئ…
نازنین فورا لاڈو کے پاس اکے بیٹھی اور کہا….
کیا بات ہے بھابھی اپ کپکپا کیوں رہی ہیں..؟؟؟
نازنین کی بات پہ لاڈو نے اسکے ہاتھوں.کو زور سے دبایا اور کہا…
نازنین مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے حامد مجھ سے بہت ناراض ہونگے میری اور انکی.کافی بحس ہو چکی ہے…
لاڈو کی بات سن کے نازنین نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی جو لاڈو ناشتہ کی ٹیبل پہ شیرنی بنی ہوئ تھی وہ اج بھیگی بلی بنی ہوئ ہے یہ دیکھ نازنین نے ہلکا سا مسکرا کے اسے دیکھا اور کہا….
“بھابھی جو ہوا بھول جائے. میرے بھائ بہت اچھے ہیں پاپا کے جانے کے بعد انہوں نے ہر طرح سے ماما اور میرا خیال رکھا اپنی ساری خواہشیں ادھوری چھوڑ دی مگر اپکی دفعہ میں انہوں نے ضد باندھ لی کئ بار امی نے ان کو لڑکیاں دیکھائ مگر ان کا دل اپ پہ اٹکا تھا اپکو پتہ پے پانچ سال سے وہ اپ سے پہلی نظر کی محبت کرتے ہیں..
بھابھی میرے بھائ نے بہت مشکل وقت دیکھا ہے پلیز اپ ان سے بدگمان مت ہو ایک بار اپ ان پہ اعتبار کرکے دیکھے انشاءالللہ کبھی پشتاوا نہی ہوگا یہ بول کے نازنین نے لاڈو کے گال پہ پیار سے ہاتھ رکھا اور باہر چلی گئ..
نازنین کے باہر جاتے ہی لاڈو نازنین کی باتیں سوچ نے لگی کے جبھی دروازے کھلنے کی.آواز پہ وہ چونکی اور سیدھی ہوکے بیٹھ گئ..
حامد نے کمرے میں اکے اپنے سامنے سجی سنوری لاڈو پہ ایک.نظر ڈالی مگر اسکی.نظر لاڈو کے دودھیا ہاتھوں پہ موجود مہندی پہ ٹک گئ..
اس نے فورا اپنا خیال جھٹکا کیونکہ وہ ابھی تک ناراض تھا لاڈو سے…الماری سے اپنا سوٹ نکال.کے چینج کرنے چلا گیا..حامد فریش ہوکے باہر نکلا تو اسے لاڈو اسی پوزیشن میں بیٹھی دکھی…
اس نے دراز میں سے ایک باکس نکالا اور لاڈو کے سامنے جاکے بیٹھ گیا اور خاموشی سے اسے تکتا گیا…
حامد کے ایسے سامنے بیٹھنے پہ اور مسلسل تکنے پہ.لاڈو کے چہرے پہ گھبراہٹ کیساتھ کیساتھ پسینہ بھی انے لگا جسے حامد نے ہاتھ بڑھا کے صاف کیا تو لاڈو خود میں اور سمٹ کے بیٹھ گئ…
حامد سے اسکی یہ حرکت چھپ نہی سکی .اس نے لاڈو کے مہندی والے ہاتھوں کو تھاما اور انکی.ہتیلیوں پہ جھک کے اپنے لب رکھ دیے حامد نے لب رکھنے کے بعد ایک نگاہ اٹھا کے لاڈو کو دیکھا تو وہ رونے میں مصروف تھی حامد نے اگے بڑھ کے لاڈو کو اپنے سینے سے لگالیا.. لاڈو اسکے سینے سے لگ کے سسک پڑی حامد نے اسکو کافی دیر تک اپنے سینے سے لگائے رکھا جب لاڈو رو چکی تو حامد نے اسے دھیرے سے خود سے الگ کیا..
.. حامد نے اسکے آنسو صاف کیہ اور پوچھا…
اب بتاو مسسس حامد کیوں رو رہی تھی اور کیوں مجھ سے شادی سے انکار کیا..حامد نے پرشکوہ آنکھوں سے لاڈو کے سراپے کو اپنی نظروں کے حصار میں لے کے پوچھا…
لاڈو نے ایک نظر حامد کو دیکھا اور پھر شاہین کے سامنے کہی ہوئ بات دھرادی…
حامد نے لاڈو کی بات سن کے اسے افسوس بھری نظروں سے دیکھا اور اگے بڑھ کے اس کے گالوں پہ اپنے لب رکھےاور پھر اسکی جیولری اترتے ہوئے کہا…
بدگمانیوں کو دل سے نکل دو لاڈو میں تم سے جب سے محبت کرتا ہو جب تمہارا چہرہ پہلی بار نقاب میں دیکھا تھا تمہاری وہ اداس انکھیں میرے دل میں ہلچل مچا گئ تھی.. تم.نے جو وقت اس زندان میں گزارا اسکا تو میں مداوا نہی کرسکتا مگر تمہارے دل میں میرے لیہ جو بے اعتباری ہے اسے اپنی محبت سے اپنے عمل سے ضرور دور کردونگا بس ایک بار اعتبار کرکے تو دیکھو مجھ پہ میں اپنی لاڈو کے سارے لاڈ اٹھاونگا یہ بول کے حامد نے پیار سے لاڈو کو لیٹایا ..اور اس پہ جھک کے اپنی محبت نچھاور کرنے.لگا…..
جاری ہے..