Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 20
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
[ ] شاہیین نے بے یقینی سے بی جان کو دیکھا…
[ ] تو اپکا اعتبار میں نے توڑا تھا میرے علی کی جان کیوں لی.
مجھے زندہ درگور کردیتے اپ شاہین نے چیخ کے بولا…
[ ] شاہین کا ایسا بولنا تھا کہ بی جان نے ایک تھپڑ اسکے منہ پہ دے مارا…اور اسکے بالوں کو مٹھی میں جکرا…
[ ] تمہاری یہ اوقات کہ تم.ہم سے زبان چلاو۔۔۔
ہمارے لاڈ پیار کا تم نے یہ صلہ دیا ہم نے تم پہ ااعتبار کرکے تمہاری خواہش کا احترام کرکے تمہیں یہاں پڑھنے بھیجا اور تم یہاں یہ گل کھلا رہی ہو. ہمت کیسے ہوی تمہاری ہمیں دھوکا دینے کی ہم تمہیں محلوں میں دیکھنے کے لیے اتنے جتن کر رہے ہیں اور تم نے کیا سوچا کہ تم جھونپڑی میں رہنے کا ہم سے بولو گی تو ہم تمہیں پلکوں پہ بیٹھائنگے…
[ ] شاہین نے ایک جھٹکے سے اپنے بال چھڑواے اور کہا.
اپ ماں نہیں ایک ڈائن ہیں جو اپنی لالچ میں اپنی غرور میں اپنی اولاد کی ہی خوشیاں کھا گی
.یہ بول کے شاہین نے ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور دوڑتی ہوئ جلتے ہوے گھر کے پاس پہنچی جہاں اسکا علی تو نہیں تھا مگر اگ کے جلتے شعلے اور
دھواں تھا۔
.علی علی تم نہیں جا سکتے علییی۔۔۔۔۔۔۔
شاہین نے چیختے ہوے کہاں وہاں کے لوگ جو اگ بھجانے میں مصروف تھے سب نے رک کے اس لڑکی کو دیکھا.
اس سے پہلے شاہین جلتے ہوے گھر میں جاتی بی جان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور ایک اور تھپڑ مارا.لیکن جب بی جان نے وہاں کھڑے ہوے لوگوں کو دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے تو بی جان کو ماحول کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو وہ بول پڑی۔۔۔
ارے یہ میری بیٹی ہے جو پچھلے تین سال سے پاگل کھانے میں تھی اج ہم اسے گھر لے جا رہے تھے کہ راستہ میں اس نے اگ دیکھی تو پھر اسے دورہ پڑھ گیا اس کا شوہر بھی ایسی اگ میں جل کہ مر گیا تھا…اور وہاں کھڑے لوگوں نے بی جان کی باہنوں میں بیہوش اس لڑکی کو افسوس سے دیکھا…
بی جان نے جنید کو اشارہ کیا تو اس نے شاہین کو اٹھا کہ گاڑی میں ڈالا اور بی جان بھی ان لوگوں سے معزرت کر کے گاڑی میں ابیٹھی اور گاڑی گاوں کی طرف روانہ ہوگی..
.¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
جنید اپنی کسی گرل فرینڈ کے ساتھ شاپنگ پہ ایا تھا جہاں اسنے شاہین کو کسی لڑکے کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے دیکھا تو اسنے ساتھ ائ لڑکی کو چلتا کیا اور خود ان دونوں کا پیچھا کیا.
ایک دکان پہ جب علی نے دکاندار سے کہا کہ ہماری بیگم کے لیہ کوئ اچھا سا جوڑا دیکھائے
..یہ سنتے ہی جنید کا ماٹھا ٹھنکا اس نے مزید ان دونوں کا پیچھا کیا اور جب وہ دونوں گھر میں گھسے وہی سے جنید نے گاڑی گھما لی اور فورا گاوں کے لیہ روانہ ہوا.
گاوں پہنچ کہ اسنےبی جان کو اپنی انکھوں دیکھا اور کانوں سنا حال سنایا تو بی جان نے فورا شہر جانے کی تیاری کی کیونکہ اس وقت تنویر اور افندی صاحب کام کے سلسلے میں دوسرے شہر گئے ہوے تھے اس لیہ انہیں اپنا کاماور اسان لگا…
…لیکن بی جان اپنی ان بندوں کو ساتھ لے جانا نہیں بھولی جو ہر برے فعال میں انکے مدد گار تھے..
بی جان تقریبا صبح کے وقت شہر پہنچی اور گھر کے باہر پہنچ کے انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس پاس کے گھر زیادہ دور دور نہیں ہیں۔۔
اگر یہی وہ علی یا شاہین کے ساتھ کچھ کرتی ہیں تو کافی زیادہ معملہ بگڑ سکتا ہے اس لیے انہوں نے اپنے ساتھ ائے بندوں کو بولا۔۔۔
ہم جیسے ہی گھر میں داخل ہو تم گھر کے چاروں طرف گاڑی میں رکھا ایکسٹرا پیٹرول ڈال دے نہ اور ہمارے نکلتے ہی گھر کو اگ لگا دینا….
.
بی جان اندر داخل ہوی تو انہوں بہلا پھسلا کے شاہین کو اپنے ساتھ جانے کو راضی کرلیا اور جنید نے نکلتے ہوے موقع دیکھتے ہی گیس کا پائپ نکال دیا بی جان کے نکلتے ہی ان کے بندوں نے گھر کو اگ لگا دی اور گھر میں گیس جمع ہونے کی صورت میں گھر دھماکہ سے اڑ گیا..
..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
مغرب کے وقت بی جان گاوں میں داخل ہوئ شاہین کو بھی اس دوران ہوش اگیا تھا مگر اس نے بی جان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا..
حویلی کے اندر گاڑی داخل ہوتے ہی جیسی ہی گاڑی روکی شاہین نے اپنا بیگ لیا اور بھاگتے ہوے اپنے کمرے میں چلی گی کیوں کہ یہاں اسکی فریاد سننے والا کوی نہیں تھا.نہ اسکے پاس ثبوت تھا کہ علی کی جان بی نے جان لی نہ اسکے پاس علی کی کوئ شناخت تھی اور نہ اسکے پاس اپنے اور علی کے رشتہ کا ثبوت..
کمرے میں اتے ہی شاہین نے کمرے کی ایک ایک چیز توڑ دی اور چیخ چیخ کے علی کو پکارنے لگی..علی تم نہیں جا سکتے مجھے چھوڑ کے تم نے وعدہ کیا تھا ہمیشہ مجھ سے یو ہی پیار کروگے لوٹ او علی لے جاو مجھے بھی اپنے ساتھ اس جہنم سسے علییییییییی……
…
شاہین کی چیخیں سن کے جیسے ہی وہاں کام کرتی ملازمہ اوپر شاہین کے کمرے کی طرف بھاگی بی جان کی گرجدار اواز نے وہی اسکے قدم روک لیہ..
ااج کے بعد میری اجازت کے بغیر تم یہ کوی بھی ملازم شاہین بی بی کے کمرے میں گیا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا…
لاڈو لاڈو(پرانی ملازمہ)
لاڈو بھاگتی ہوی بی جان کے پاس پہنچی..
جی بی جان…
اج کے بعد شاہین بی بی کے کھانے سے لے کر ہر چیز کا دیھان تم رکھوگی اگر تمہارے علاوہ اور کوئ ملازم اسکے کمرے میں گیا تو اسکی زمیدار تم ہوگی.
یہ بول کے بی جان اپنے کمرے کی طرف چل دی..
..¤¤¤π¤¤¤¤¤¤
شاہین کو روتے روتے کچھ یاد ایا تو وہ بھاگتی ہوی اپنے پرس کے پاس پہنچی اور دیوانہ وار اس میں سے کچھ ڈھونڈنے لگی مطلوبہ چیز جب اسے ملی تو ایک بار پھر اسکی سسکیاں کمرے میں گونجی وہ چیز علی کی ہنستی مسکراتی ہوئ تصویر تھی .جو علی نے شاہین کی بہت منتیں کرنے پہ بادشاہی مسجد میں کھچوائ تھی… شاہین مسجد کی ان یادوں میں کھوگی….
شاہین اور علی باتیں کرتے ہوے بادشاہی مسجد میں گھوم رہے تھے کہ جبھی وہاں گھومتا ہوا ایک فوٹوگرافر ایا اور علی سے تصویر کھچوانے کی ضد کرنے لگا اسکو دیکھ کے شاہین بھی علی کے پیچھے لگ گی…
شاہین ضد نہیں کرو یار تمہیں پتہ ہے نہ میں تصویریں نہی بنواتا…
مان جاو نہ علی کب سے بول رہی ہو تمہیں میںری قسم اور وہی علی کمزور پڑھ گیا..
.شاہین تم بہت چلاک ہو اپنی قسم دے کہ مجھ سے اپنی ہر بات منوالیتی ہو,,
,
ہاں وہ تو میں ہو.
.شاہین نے اترا کہ کہا.
ریڈ شرٹ بلیک پینٹ اور سڑے منہ کے ساتھ علی تصویر بنوانے کھڑا ہوا
.علی کا سڑا ہوا منہ دیکھ کے جیسی ہی شاہین نے اسے گھورا علی ایک دم ہنس پڑا اور وہی لمحہ فوٹوگرافر نے قید کرلیا..
وہ لوگ تصویر دھلواکے باہر اے جسی ہی شاہین نے تصویر دیکھی بے ساختہ اسکے منہ سے ماشاءاللہ نکلا وہ جیسی ہی تصویرعلی کو دینے لگی تو علی نے یہ بول کے تصویر اسکے بیگ میں ڈال دی کہ جب میں نہں ہونگا تو میری تصویر تو تمہارے پاس ہوگی..اس بات پہ دو دن شاہین نے اس سے بات نہیں کی تھی اور جب سے یہ تصویر شاہین کے پاس تھی…
. ………
شاہین یادوں سے نکلی تو ایک بار پھر اسکی انکھوں سے انسو جاری ہوگے اسنے تصویر کو اپنے سینے سے لگا لیا اور روتے روتے سو گی..
“پایا ہم.نے یہ بن تیرے😢😢😢
رنج کی راہیں اور غم کے اندھیرے
اب تو دل روٹھے
درد مناۂے 💔💔💔💔💔💔
ایسی ہے تنہائ.
“”””¤¤¤¤¤¤
رات میں لاڈو جب شاہین کے کمرے میں کھانے لے کے ای تو اس کمرے کی حالت دیکھ کے بہت افسوس ہوا کیونکہ شاہین تو بہت صفائ پسند تھی.
تو یہ سب ….۔۔
.
لاڈو احتیاط سے چلتی ہوئ بیڈ کے پاس ای کھانے کی ٹرے رکھ کے شاہین کو دیکھنے لگی لیکن جیسی ہی اسکی نظر شاہین کے سینے سے لگی تصویر پہ پڑی تو اس نے شاہین کے ہاتھ سے تصویر نکالی تو اسے کچھ کچھ معملہ سمجھ انے لگا…اس سے پہلے وہ تصویر کو کہی رکھتی شاہین اٹھ کے بیٹھ گی اور لاڈو کے ہاتھ سے تصویر چھین کے ایک بار پھر رونے لگی..
لاڈو نے اپنی اس پچپن کی ہمدرد کو دیکھا جو بچپن سے لے کر اج تک اس کی ہر طرح کی مدد کرتی ای تھی. جس نے لاڈو کو کبھی ایک ملازمہ نہیں بلکہ ایک دوست سمجھا….
.
لاڈو کے والدین بچپن میں ہی گزر گئے تھے اسکے والدین اس حویلی کے پرانے ملازم تھے تو لاڈو بھی یہی کی ملازمہ بن کے رہ گی….۔۔
شاہین بی بی کیا ہوا اپکو؟؟
اور یہ اپنے اپنی کیا حالت بنائ ہوئ ہے؟؟
یہ بولنے کی دیر تھی کہ شاہین لاڈو کہ گلے لگ گی اور اسے اہستہ اہستہ سب بتاتی گی…
شاہین کی کہانی سن کے لاڈو کے بھی انسو جاری ہوگے…
اسنے کہا شاہین بی بی صبر کرے اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہیں ایسے روئینگی تو علی بھای کی روح کو تکلیف ہوگی اپ اٹھے منہ ہاتھ دھوے کپڑے بدلہ میں اپکے لیہ دوبارہ کھانا گرم کرکے لاتی ہو…
لاڈو کے جانے کے بعد شاہین نے اسکی باتوں پہ عمل کیا اور فریش ہوکے وضو کرے اپنے رب کے اگے جھک گی.اور رو رو کے علی کیلیے بخشش اور اپنے لیہ سکون مانگتی رہی..
لاڈو دوبارہ کمرے میں کھانے لے کے ائ تو شاہین دعا مانگ رہی تھی اسنے لاڈو کو دیکھ کے منہ پہ ہاتھ پھیرا اور کھانا کھانے لگی کھانا کھاکے لاڈو نے اسے نیند کی گولی دے کہ سلا دیا اور کمرے سے باہر اگی…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤
علی کی موت کو ایک مہینہ گزر گیا تھا اس ایک مہینے میں اس نے ہر پل ہر لمحہ صرف علی کو یاد کیا جب شاہین کو پتہ چلا کہ وہ اکیلی نہیں ہے ایک اور جان بھی اس سے جڑ چکی ہیں….
تو وہ اور ڈر گئ۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
