Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38 Part 1

ایک حسین صبح کا سورج طلوع ہوا..ا
ازلان کی.آنکھ کھلی تو فائزہ اسکے سینے پہ سر رکھ کے سورہی تھی..ازلان نے اسکا سر ارام سے اپنے تکیہ پہ.رکھا اور جھک کے اسکے سر کا بوسہ لیا اور دھیرے سے کہا…
“میری شیرنی”
یہ بول کے وہ فریش ہونے چلا گیا…
فائزہ کی انکھ کھلی تو کل کی رات کا سوچ کے اسکے لبوں پہ.ایک حسسین مسکراہٹ اگئ…
اس نے اپنے برابر میں دیکھا تو ازلان اسے کہی نہی دیکھا..
مگر واش روم سے گرتے پانی کی.اواز پہ اسکے لبوں پہ.ایک مسکرائٹ اگئ…
اسنے تھوڑا پچھے ہوکے بیڈ کے کراؤن سے ٹیگ لگالیا….
اور انکھیں موند لی.کہ جبھی واش روم.کا گیٹ کھلنے کی.اواز ائ تو فائزہ نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی اور سیدھی ہوکے بیٹھ گئ..
جبھی ازلان کی اوز ائ.
صبح بخیر میری شیرنی ازلان ڈریسنگ میں بال بناتے ہوئے فائزہ کے چہرے کے سارے رنگ دیکھ رہا تھا…کل کے بعد ازلان کی مجبت اور اس کے اعتبار نے اسے اور معتبر کردیا تھا..
..
ازلان اہلکا سا مسکرایا اور چلتا ہوا بیڈ پہ.فائزہ کے سامنے بیٹھ گیا.اور کہا ..
شکریہ کل رات مجھ پہ اعتبار کرکے اپنا اپ مجھے سونپنے کے لیہ ورنہ.جو سلوک میں شادی سے پہلے تمہارے ساتھ کر چکا تھا مجھے ڈر تھا کہ کہی تم مجھ بدگمان نہ ہوجاؤ ..
مگر جان ازلان کے چہرے کہ چمک دیکھ کے مجھے یقین ہے کہ میری شیرنی صرف میری ہے…
اب جلدی سے تیار ہوجاو اور فٹافٹ نیچے چلو…..
یہ.بول کہ فائزہ نے اٹھ کے اپنی الماری سےلیمن اور وائٹ کلر کا بھاری بھرکم سوٹ نکلا اور ازلان سے شرمائ.شرمائ فریش ہونے چلے گئ…
ازلان نے ایک نظر بھر کے اسے دیکھا اور اپنے رب کے سجدہ شکر کرنے لگا..
ابھی اس نے سلام ہی پھیرا تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئ
ازلان نے اٹھ کے گیٹ کھولا تو ماہ سامنے کھڑی مسکرا رہی تھی …
ماہ کو دیکھ کے ازلان بھی.مسکرایا اور اسے کمرے میں انے کی جگہ دینے لگا..تو ماہ نے منع کیا اور کہا…
پارٹنر اماں جان ٹیبل پہ اچکی ہیں فٹافٹ فائزہ ..
اوہ سوری بھابھی کو لے کے نیچے اجاو…
یہ بول.کے ماہ.گئ تو ازلان نے دروازہ بند کیا..اور بیڈ پہ لیٹ گیا …
کہ جبھی واش روم کھولنے کی.اواز ای تو ازلان سیدھا..یوا..
نکھری نکھری فائزہ سیدھا ازلان کے دل.میں اتر رہی تھی..
ازلان نے مسکرا کے اسے دیکھا اور اسکو لے کے ڈریسنگ کے پاس ایا..
اور ہیر برش اٹھا کے اسکے بال سلجھانے لگا…فائزہ نے جب نگاہ اٹھا کہ.شیشے میں اپنا اور ازلان کا عکس دیکھا ازلان جو وائٹ کاٹن کے سمپل سوٹ میں ماہ کو وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا اپنا اور ازلان کو اس روپ میں وہ.ہلکا سا شرمائ.اور گردن جھکا گئ…
ازلان کو بال سلجھاتا دیکھ فائزہ کہ.انکھیں نم ہوگئ اتنی توجہ.اتنی عزت کا تو فائزہ نے تصور ہی نہی.کیا تھا…..
بال سلجھا کے بعد ازلان نے برش ڈریسنگ پہ.رکھا اور اپنا ہاتھ فائزہ کے پیٹ پہ رکھ کے اسے اپنے سے لگایا اور ہلکی سی.سرگوشی کی..
فٹافٹ تیار ہوجاو …میں نیچے جارہا ہو کیونکہ.اماں جان ٹیبل پہ اچکی ہیں یہ بول کہ ازلان نے اسکے بالوں کو چوما اور جانے لگا مگر کچھ سوچ کے مڑا اور منہ دیکھائ والے گلاسسز اٹھا کے ڈریسنگ پہ.رکھے اور فائزہ سے کہا….
اسےپہنا لینس نہی اور اج ولیمہ میں بھی یہی پہنو گی کیونکہ مجھے میری چشمش شیرنی پسند ہے….یہ بول کے ازلان نیچے چلاگیا تو فائزہ بھی ہلکا پھلکا تیار ہوکے نیچے اگئ…..
فائزہ کے چہرے پہ دھنک کے رنگ دیکھ کے دلاور اور نازو بہت خوش ہوئے ..نازو اور دلاور ازلان کو بہت پڑٹوکول دے رہے…تھوڑی دیر تو ازلان نے برداشت کیا.مگر پھر ازلان ٹیبل سے.کھڑ ہواگیا. اور کہا…

چاچو اور چاچی ..میں داماد ن

فائزہ کے چہرے پہ دھنک کے رنگ دیکھ کے دلاور اور نازو بہت خوش ہوئے ..نازو اور دلاور ازلان کو بہت پڑٹوکول دے رہے…تھوڑی دیر تو ازلان نے برداشت کیا.مگر پھر ازلان ٹیبل سے.کھڑ ہواگیا. اور کہا…
چاچو اور چاچی ..میں داماد ن سب ہی اپنے اپنے کمروں میں تھھوڑی دیر ارام کرنے.کے غرض سے چلاے گئے..
ازلان اور فائزہ اپنے روم میں ائے تو ازلان کے موبائل پہ شمائلہ کی.کال انے.لگی.جو اس نے ریسیو کرکے فائزہ کو دے دی…
فائزہ اور شمائلہ نے ایک گھنٹہ بعد کی فائزہ کی اواز سے ہی شمائلہ کو لگ رہا تھا کہ وہ کتنی خوش ہے .اور ازلان فائزہ کو یو مسکراتا ہوا دیکھ کے پر سکون ہوگیا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شام میں ولیمہ کی تقریب بھی شاندار رہی مگر شان کی نگاہ شاہ پہ.تھی اج بھی شاہ بہت گھبرایا ہوا تھا…کیونکہ حنا نے اج صبح ہی اسے بولا تھا کہ وہ اسکے ساتھ بھی ٹائم اسپینڈ کرے مگر شاہ کے لیہ یہ بہت مشکل کام تھا….
تو ادھر ناصر پری کو دیکھ کے پریشان ہوگیا تھا اسے اپنے کہانی ادھوری لگ رہی تھی کیونکہ پری اور حماد پورے ولیمے میں ایک ساتھ ہی تھے…….
..
نازنیں ناصر کی.پریشانی بھانپ گئ تھی اس نے ناصر کو بند الفاظوں میں سمجھا دیا تھا کہ.اسے اپنی محبت پانے کے لیہ کچھ کرنا چاہینے
.ماہ.کے نمبر پر بار بار شاہمیر کی کال اراہی تھی جو وہ چاہ.کے بھی اٹھا نہی..پارہی تھی اج ولیمہ کے دن صبح ہی شاپمیر نے ماہ کے نمبر پہ.کال.کی تھی مگر کمرے میں موبائل.ہونے کی وجہ سے وہ.کال پک نہی کرسکی ولیمہ کے.لیہ جب سارے نکلنے لگے تو تب ہی اسے اپنے موبائل کا خیال ایا موبائل ہاتھ میں لیتے ہی شاہمیر کی 50 مسد کال دیکھ کے ماہ بہت پریشان ہوئ سب کے ساتھ ہونے کہ وجہ سے وہ کال دوبارہ نہ.کرسکی …..
ماہ.کال.اٹھانے نے کے لیہ بہانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ایک دم شاہمیر کا میسج ایا….
اوکے رہو بزی …..
dont talk with me…
ماہ.نے جیسی ہی میسج پڑھا تو اسنے اگے پیچھے موقع دیکھ کے جیسی ہی کال ملانے لگی.کہ جبھی زلیخا کی اواز پہ وہ وہی رک گئ..
ولیمہ کے بعد فائزہ کا ازلان کی دعوتیں ایک ہفتہ.چلی اور اسکے بعد وہ.لوگ ہنی مون کے لیہ.پاکستان ٹور پہ چلے گئے…
تو ادھر ماہ شاہمیر کا نمبر ٹرائ.کرکر کے تھک گئ تھی مگر ہر بار موبائل سوئچ اوف تھا…
شادی سے نمٹنے کے بعد سب ہی اپنے پنے کاموں میں لگ گئے تھے تو ادھر ساری ینگ جنریش اپنی اپنی اسٹڈی میں
شام میں شاہ کا روز تین سے چار گھنٹہ کے لیہ غائب ہونا نیلم کو شک میں مبتلا کرنے لگا..
مگر شاہ نے یہ بول کے نیلم کو تسلی دہ کے وہ.اپنے دوست کے ساتھ اسکے کاروبار سیٹ کروانے میں مدد کروارہا ہے…..
نازنین کو یونی لیجانے اور لانے کی زمہداری شاہ نے اٹھائ تو ادھر ماہ نے پورا ایک ہفتہ شاہمیر کو پوری یونی میں ڈھونڈا..
مگر وہ کہی نہ ملا ….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہمیر کے نمبر پہ بی جان کی کال ائ تو اس نے ڈرتے ڈرتے اٹھائ..جو کام بی جان نے اسکو ولیمہ کے دوسرے دن کرنے.کو بولا تھا وہ کام اج ایک ہفتہ لیٹ ہوگیا تھا…
شاہمیر نے کال پک کی .
تو بی جان نے اگے سے کہا…
اگر تم ہمارا کام پورا نہہی کرسکتے شاہمیر تو اور بہت سے لوگ ہیں جو اس لڑکی سے بدلہ لے سکتے ہیں…
جاری ہے…