Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
[ ] ماہ کے گھر سے انے کے بعد شان بہت ڈسٹرب تھا وہ یہ ہی سوچ سوچ کے پریشان ہو رہا تھا کہ.ازلان کے پاپا اور خود اس میں بہت مشاہبت ہے اور ایسا اس صورت میں ہوتا جب کسی سے گہرا تعلق ہو یہ.پھر کوئ.خاص رشتہ.داری ہو..اور ازلان سے تو وہ.پہلی بار اسٹڑیلیا میں ملا تھا جبکہ.اس کی.فیملی.اور خاص کر ماہ.کے پاپا کو تو اس نے پہلے کبھی نہی دیکھا تو کوئ ایسا انسان جسکا اپکی فیملی.اور اپکی.لائف سے ریلیٹڈ نہ.ہو تو کیسے کوئ.کسی سے اتنا مل سکتا ہے. اسی کشمکش میں وہ اپنے گھر کہ.اندر داخل ہوا تو سب لان.میں بیٹھی چائے پی رہے تھے..
[ ] شان اندر جانے.لگا تو پری نے اسے وہی سے اواز لگائ..
[ ] ارے شان بھائ یہہی اجائے نہ.مما نے بہت مزے کی میکرونی بنائ.ہے..پری کی اواز پہ شان چلتا ہوا وہی لان میں جاکے بیٹھ گیا..سب ہی باتوں میں مصروف تھے کہ جبھی حیدر نے نوٹ کیا کہ شان بہت چپ چپ ہے..حیدر نے نور کو اشارہ کیا تو اسے بھی یہہی لگا.
[ ] اور پھر حیدر بول.پڑا ….
[ ] کیا ہو بیٹا اپ تو ماہ.کو چھؤرنے گئے تھے نہ چھؤڑ دیا…؟؟؟
[ ] حیدر کے پوچھنے پہ شان ایک دم اپنی سوچوں سے باہر نکلا.اور کہا..
[ ] ہاں پاپا میں اسکے گھر کے باہر ہی تھا کہ مجھے ازلان مل گیا جسکا میں نے اپ سے زکر کیا تھا جو مجھے اسٹڑیلیا میں ملا تھا.اسکے اصرار پہ پاپا میں اس کے گھر کے اندر گیا وہ ماہ کا ہی بھائ ہے پاپا.. میں جب اندر جا.کے اسکے پاپا سے ملا تو ایک عجیب سی بات ہوئ…پاپا
[ ] کیا ہوا شان کھل.کے بتاؤ.. بیٹا.. نور نے اس سے کہا..
[ ] ماما ازلان کے پاپا.کی شکل مجھ سے کافی ملتی ہے انفیکٹ ہماری انکھوں کا کلر بھی سیم ہے ایک منٹ ایک.منٹ ماما بلکے انکی انکھوں کا کلر بلکل اپکی.انکھوں سے ملتا ہے.. شان کا ایسا بولنا تھا کہ نور ایک دم چونکی…
[ ] کیا مطلب بیٹا…
[ ] ماما وہ ہمارے کوئ ریلیٹف بھی نہی پھر اتنی مشاہبت کیسے..یہ بول کہ شان تو اندر چلا گیا اور پری جو اپنی کسی فرینڈ کی.کال انے پہ.پہلے ہی اندر جا چکی تھی..شان کے جانے بعد حیدر اور نور نے ایک دوسرے کو سکتہ کی.حالت میں دیکھا اور نور کہ منہ سے ایک.ہی لفظ نکلا.جہانگیر بھائ………………………..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ازلان کی.یونی تو اف ہوگئ تھی تو وہ اب اپنے پاپا کے بزنس میں ہاتھ بٹا رہا تھا…اس نے اپنےاپکو افس کے کاموں میں اتنا مصروف کرلیا تھا کہ راتوں کو اکثر لیٹ اتا.یہ مصروفیات واقعی کام کی وجہ سے تھی یہ وجہ کچھ اور تھی یہ بات مابہت اچھی طریقہ سے سمجھ چکی تھی کیونکہ وہ نوٹ کرہی تھی جو ازلان فائزہ کے اگے پیچھے گھومتا تھا اج وہ اسکے سامنے انے سے اپنا راستہ ہی بدل لیتا تھا.جہانگیر نے اسے بہت بار بولا کہ ابھی اتنی ٹف محنت کی ضرورت نہی مگر ازلان ہمیشہ کوئ نہ کوئ بات بنا کہ جہاگیر کو بھلا لیتا………..
[ ] رات میں جب جب وہ لیت اتا تب تک یہ تو زلیخا اس کی راہ تک رہی ہوتی یہ پھر ماہ کھانا ازلان گھر اکے ہی.کھاتا تھا کبھی اگر رات کو دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بنتا تو وہ زلیخا اور ماہ دونوں کو کال.کرکے بتا دیتا……….. …….
[ ] ہر بار کی طرح ازلان اج پھر لیٹ ایا تھا .اج صبح سے زلیخا کی طبیعت کچھ تھیک نہی تھی ناشتہ پہ جب وہ نہی ائ تو ازالان کے پوچھنے پہ ماہ نے اسے بتایا کہ ماما کی طبیعت اج تھیک نہی اس لیہ اس نے کال کرکے زلیخا کواپنا انتظار نہ کرنے کو یہ.کہی.کہ منع کردیا کہ.اسے اج اسےدیر یوجائے گی اج افس میں ہی کچھ کھا لے گ کیونکہ اج افس میں کچھ
[ ] کام زیادہ ہے..
[ ] مگر رات کو اتے ہوے اس نے ماہ کو مسیج کیا.کہ وہ گھر پہچنے والا.ہے وہ جلدی سے کھانا لگائے…
[ ] اور ماہ.کا کل.کمپیٹیشن تھا.اس لییہ وہ.کافی تھک گئ تھی اس لیہ وہ بنا ازلان کا میسج دیکھے سوگئ
[ ] ازلان لانج میں سے گزر کے جانے لگا تو اسےکچن کی لائٹ اون دیکھی بھوک.کی وجہ سے اس نے فریش ہونے کا ارادہ ترک کیا اور کچن کی جانب چل پڑا..
[ ] وہ سمجھا ماہ ہے کچن میں .کونکہ وہ اسے اپنے انے اور کھانے لگانے کا انفارم کرچکا تھا.کیونکہ.جو کوئ بھی.کچن میں تھا اس کی پشت ازلان کی طرف تھی..اور فائزہ اور ماہ جسامت اور قد کاٹھ میں تقریبا ایک جیسی تھی اس لیہ ازلان پہچان نہی پایا کہ کچن میں ماہ.ہے یا فائزہ. ازلان نے فریج میں سے پانی نکالتے ہوئے کہا…..
[ ] یار ماہ.قسسم سے بہت بھوک لگی ہے کھانا جلدی دیے دو..مگر جب پلٹ نے پہ اس نے فائزہ کو دیکھا تو غصہ میں لمبے لمبے ڈنگ مارتے ہوئے وہ کچن سے نکلا اور اپنے کمرے کی طرف چل.پڑا اور فائزہ نے ایک لمبی سانس ہوا میں چھوڑی….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] جب سے ازلان نےافس جوائن.کیا تھا تب سے فائزہ ہر رت اسکا.انتضار کرتی جب تک.وہ.کھانا کھا کہ.اپنے کمرے میں نہی جاتا تھا فائزہ بھی جاگتی تھی….اج بھی کچھ ایسا ہوا جب نازو اسکو ڈنر کا بولنے ائ تو فائزہ اپنا کوئ اسائنمنٹ کمپلیٹ کرہی تھی جس کی وجہ سے اس نے.کھانے کا منع کردیا.. جب سے فائزہ نے گلاسسس کی جگہ لینسس لگائے اکثر پڑھتے ہوئے اس کے سر میں درد ہوتا ہے اج بھی کچھ ایسی ہوا جب اسسے پڑھتے ہوئے زیادہ ٹائم ہوگیا.تو اسے ایک دم اپنے سر میں درد کا احساس ہوا تو وہ کافی بنانے چلی گئ مگر اسےکچن میں جاتے ہی بھوک لگنے.لگی …وہ کچن میں اپنے.لیہ کھانا گرم کرہی تھی کہ جبھی اچانک پیچھے انے والی ازلان کی اواز پہ وہ ایک دم.پلٹی مگر ازلان اسکو دیکھتے ہی.کچن سے نکل.گیا….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اسنے اپنا اور ازلان کاکھانا ٹرے میں نکالا اور ازلان کے کمرے کی طرف چل پڑی..
[ ] ہلکی سے ناک کے ساتھ. وہ کمرے میں داخل ہوا تو ازلان اسے ڈریسنگ کے سامنے اپنے بال بناتا ہوا دیکھائ دیا..
[ ] فائزہ کو دیکھ کے ازلان ایک منٹ لے لیہ حیران ہوا اسے توقع نہی تھی
[ ] کہ فائزہ کے کمرے میں ہوئے واقع کے بعد وہ دوبارہ ازلان کا سامنا کریگی..
[ ] لیکن جب سے فائزہ اورا زلان کے نکاح کی بات گھر میں چلی تھی فائزہ بہت خوش تھی ..وہ سب کچھ بھلا. کہ ازلان کے دل میں ایک بار پھر
[ ] اپنے لیہ وہی چاہت وہی احترام وہی عزت وہی توجہ چاہیتی تھی جو وہ بچپن سے اس کے رویہ میں دیکھتی ائ تھی مگر فائزہ بھول گئ کہ.اس نے خود اپنے پیر پہ کلھاڑی ماری تھی اس نے ازلان کی.انکھوں میں جو نفرت جو غصہ دیکھا تھا وہ خود اپنی حرکتوں کی وجہ سی تھاجو اپنی انا اور غصہ میں وہ خود ازلان کے دل میں قائم کرگئ تھی مگر ازلان کے رویہ میں جو اسنے جنونیت تھی جو فائزہ نے اس رات ازلان کے رویہ میں دیکھا تھا تو اسکی زمدار بھی فائزہ تھی..
[ ] جو صرف اپنی میں میں اپنی خود کی خوشیاں داؤ پے لگا چکی تھی اور اسکا اندازہ بہت جلد فائزہ کو ہونے والا تھا کیونکہ فائزہ کا ایک مزاق اسکی انے والی خوشیوں کے کتنے پل نگلنے والا تھا…..¤¤¤¤¤¤¤
[ ] تم میرے کمرے میں کیا کرہی ہو..ازلان نے بال بناتے بناتے کافی غصہ میں پوچھا…
[ ] وہ میں ازلان کھانا لآئ تھی..فائزہ نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا….
[ ] بھوک نہی مجھے لے جاؤ کھانا ازلان نے غصہ میں کہا..
[ ] فائزہ نے اپن حلق تر کیا اور ازلان کو کہا جو اپنا لیپ ٹوپ جچارج پہ.لگا رہا تھا..
[ ] ازلان کھانے پہ.کیوں غصہ نکال.رہے ہو..میں نے بھی نہی کھایا اجاؤ ساتھ کھاتے ہیں..فائزہ کے ایسے بولنے پہ پہلے تو ازلان حیران ہوا اور پھر آہستہ.آہستہ اس تک چلتا ہوا ایا اسکے ہاتھ سے ٹرے لیہ.کے رکھی اور پھر مزید اسکے قریب ایا..اور بڑے ارام سے کہا…
[ ] کیا بات ہے فائزہ میڈم اج ہم پہ اتنی نوازش کیوں کیا اپکے عاشق نے اج اپکو منہ نہی لگایا..
[ ] اوہ ہاں ازلان کو جیسی کچھ یاد ایا اور اسنے سوچنے کی ایکٹنگ کی..
[ ] مجھے یہ تو بتاؤ تم.نے مجھ سے نکاح کی حامی کیسے بھرلی تم تو اپنے عاشق عامر سے محبت کرتی ہونا کیا کہا تھا تم نےبڑا ہی رومنٹک ڈائیلوگ تھا..ہاں یاد ایا..
[ ] میں عامر سے بہت محبت کرتی ہو وہ میری جان ہے میں اسی سے شادی کرونگی..جب تم.لوگوں کی عاشقی اتنی عروج پہ تھی تو مجھ سے نکاح کی حامی کیوں بھری…کہی دل تو نہی بھر گیا اپکے عاشق کا اپ سے یہ پھر اب مزہ نہی ملتا اسے تم سے. ازلان نے خباژت سے کہتے ہوئے فائزہ کو انکھ ماری…
[ ] ازلان کی باتیں سن کے فائزہ کو لگا کسی نے اسے آگ میں جلادیا مگر فائزہ کی یہ آگ خود لگائ ہوئ تھی..
[ ] فائزہ کی انکھوں سے انسو جاری ہوگئے.اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ازلان کو اپنے سے دور دھکا دیا اپنے انسو بے دردی سے صاف کیہ.اور کہا….
[ ] mr azlan you are mentaily sick you need a doctor go to hell..
[ ] یہ بول کہ فائزہ جیسی ہی جانے لگی ازلان نے اسکا ہاتھ پکڑ کہ اسکو اپنی.طرف کھینچا فائزہ کی پشت ازلان کے سینے سے جا لگی.اسنے فائزہ کا.ہاتھ موڑ دیا.فائزہ کی .انکھوں میں تکلیف کی وجہ سے پھر انسو جمع ہونے لگے مگر وہ ہمت نہی ہاری اور غصہ میں غراتے ہوئے ازلان کو کہا..
[ ] چھوڑو میںرا ہاتھ جنگلی انسان چھوڑو..اور ازلان نے یہ سن کے مزید اسکے ہاتھ پہ.اپنی گرفت سخت کردی اور اسکے کان کے پاس قریب ہوکے بولا..
[ ] فائزہ دلاور دور رہو مجھ سے مجھ سے اب ہمدردی جاتانے کی ضرورت نہی نفرت ہے مجھے تمہارے چہرہ سے سنا تم نے نفرت اور ہاں اج کے بعد میرے سامنے مت انا ورنہ تم.نےجو مجھے ابھی جنگلی لفظ سے مترادف کرایا ہے اس لفظ پہ میں تمہیں عمل.کر کے دیکھاؤنگا سمجھی.یہ بول کہ ازلان نے فائزہ کو گھما کے ایک جھٹکے سے چھوڑا تو وہ زمین بوس ہوگئ اور سکے لمبے گھنے بال.جو جوڑے میں قید تھےایک دم ابشار کی صورت میں اس پہ چھاگئے..وہ ایک دم جھٹکے سے اٹھی اور ازلان کا کالر پکڑ کر چیخ کہ کہا..
[ ] اگر اتنی ہی نفرت ہے مجھ سے تو منع کردو اس نکاح سے کیوں.کرہے ہو مجھ سے نکاح کیوں فائزہ کی اواز تھؤڑی اور بلند ہوئ تو ازلان نے اسکا ہاتایک جھٹکے سے اپنے کالر سے ہٹایااور اسکا منہ اپنے ہاتھ سے ڈبوچا.اور کہا..
[ ] کیوں کہ پہلی بار میںری ماں نے مجھ سے کوئ خواہش کی ہے اس لیہ.مجبوری ہے تمہیں اپنانا مگر کسی بھول میں مت رہنا کہ جو محبت ازلان جہانگیر تم سے بچپن سے کرتا ایا تھا وہ اج بھی کرتا ہے نہ babyایسا سوچنا بھی.مت کہ پھر تمہاری اس معصوم شکل.کے دھوکہ میں اونگا تمہیں تو محبت تو کسسی اور سے ہے نہ تو مت سوچنا تم مجھے اب بیوقوف بنا سکتی ہو اسنے اسکا منہ ایک جھٹکے سے چھوڑا اور اسے اپنے کمرے سے باہر نکال دیا.اور اسکے منہ دروازہ بند کردیا..
[ ] فائزہ بہتی.انکھوں بے یقینی کی.کیفیت میں بند دروازہ کو دیکھتی رہی اور چل.کر اپنے کمرے میں اگئ..کمرے میں اکےاس نے اپنے اپکو
[ ] آئینہ میں دیکھا. بہتی انکھیں بکھرے بال جابجا چہرے پہ انسو کساتھ ساتھ..
[ ] ہونٹوں کے دائیں بائیں ازلان کی انگلیوں کے نشان موجود تھے
[ ] جو اسکا منہ.پکڑنے سے ائے تھے..اسکے کانوں میں ازلان کے کچھ دنوں کہے پہلے کے الفاظ گونجنے.لگے..:
[ ] “فائزہ میں بہت محبت کرتا ہو تم سے میں شادی کرنا چہاتا ہو پلیز مجھے منع مت کرنا بھول جاو عامر کو پلیز “
[ ] فائزہ کو شدت سے اپنی.بیوقوفی کا احساس ہوا جو وہ مزاق میں کرگئ.کاش وہ تھوڑا اپنے غصہ میں قابو پالیتی تو اج حالات کچھ اور ہوتے فائزہ کا کانوں میں ایک بار پھر ازلان کے الفاظ گونجنے لگے..
[ ] نفرت کرتا ہو میں تم سے فائزہ نفرت ہے تمہارے اس چہرے سے”
[ ] فائزہ نے اپنے کانوں پہ.ہاتھ رکھ لیا اسکو رہ رہ کہ.ازلان کی باتیں یاد انے لگی جو ابھی کچھ دیر پہلے ازلان نے اسکی ذات کو نشانہ بناتے ہوئے بولی تھی وہ روتے روتے نیچے بیٹھ گئ.اسسے اج شدت سے احساس ہوراہا تھا کہ کاش میں ازلان کی.محبت کا امتحان نہی.لیتی کاش.(کہتے ہیں کبھی اس مرد کی محبت کا امتحان مت لو جسکی انکھیں بتاتی ہوں کہ وہ تم سے کتنی.محبت کرتا ہے)
[ ] ادھر ازلان نے فائزہ کے جانے کہ.بعد ازلان نے اپنے کمرے میں رکھی.فائزہ.کی تصویر کو اگ لگا دیا جو اس نے کب سے سب سے چھپا کے رکھی تھی….
[ ] “کسی بیگانے کی خاطر تم نے اپنوں کو بھلا دیا”💔💔💔
[ ] جاری ہے..
[ ]
[ ]
