Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 45
No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
ماہ نے پہلے بے یقینی کہ حالت میں نور کو دیکھا اور پھر ایک دم کھڑے ہوکے ہنسنے لگی.
زور زور سے تالیاں بجانے لگی.
. نور کو وہ اس وقت کوئ دماغی مریض لگی..نور آہستہ آہستہ اسے پکارنے لگی…
ماہ یہ تم کیا کرہی ہو. ؟
نور کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ وہ خود بھی اپنی آواز نہیں سن پارہی تھی…
کہ ایک دم ہنستے ہنستے ماہ زور زور سے رونے لگی اور روتے روتے نور کا کندھے پکڑ کے جھنجھوڑ کے کہا…..
“مگر پھپو ان سب میں میری زات کہاں گئ..؟؟؟
میرے جزبات کا کیوں تماشہ بنایا گیا میرا کیا قصور تھا یہ بول کے ماہ نے نور کو کندھا چھوڑا اور بے دردی سے اپنے آنسو رگڑ کے پھر نور سے کہا…
پھپو میں نے تو شاہمیر سے سچی محبت کی تھی نہ میں تو اسکے علاوہ کچھ نہیں سوچا اس کے پیچھے اپنے ماں باپ تک کو دھوک دیا…
یہ بولتے ہوئے وہ ایک دم چپ ہوئ اور پھر اپنے بالوں کو بچوں کی طرح سمیاٹا اور کہا…
ہاں پھپو دھوکا.۔۔
..
میں نے جس کے پیچھے اپنے ماں باپ کو دھوکہ دیا اج اسی سے میرے رب نے مجھے دھوکہ دلوایا..
ہاں ایسا ہی ہوا ہے میں اسکے پیچھے سب کو بھول گئ اپنے رب کے اگے سجدہ کرنا بھی بھول گئ تو اللّٰہ نے اج پھر مجھے عرش سے فرش پہ لاکے پٹھک کے یہ دیکھا دیا پھپو کہ جب ہم اپنی اوقات بھول کے دنیا کے چاقوچوبند میں کھو جاتے ہیں پھپو تو بس وہ ہمیں ایک جھٹکا دیتا یہ دیکھانے کے لیہ کہ وہ ہمارا رب ہے یہ زمینی خدا مجھے سکون نہی دے سکتے جو میرے رب اپنے اگے جھکنے میں دیتا ہے.
یااللہ میرا گناہ معاف کردے مجھے سکون دے دے مولا.
سکون دیں دے ماہ.چیخ چیخ کے یہ بول رہی تھی۔۔
جبکہ نور حواس باختہ ماہ کی کیفیت دیکھ رہی تھی وہ ماہ کے اس رویہ سے ڈر گئ تھی ماہ چیخ چیخ کے نیچے بیٹھ گئ تھی کہ جبھی اس کے پاس کسی کے قدم اکے روکے اس نے جب نگاہ اٹھا کے دیکھا تو ازلان انکھوں میں انسو لیہ اسے ہی دیکھ رہا تھا….
ماہ نے جب ازلان کو دیکھا تو تیزی سے اسکے گلے لگی اور زور زور سے رونے لگی اور کہنے لگی.
…
پاٹنر میرے لیہ سکون مانگو نہ اللّٰہ سے ہم جڑواں ہیں نہ مجھ سے میرا رب ناراض ہے مگر تمہارےسے تو خوش ہیں نہ دیکھو جس سے تم نے محبت کی اج وہ تمہارے ساتھ ہیں…
میں نے جس سے محبت کی دیکھو وہ سرعام مجھے رسوا کر گیا بھائ دیکھو میری جھولی خالی ہے ماہ نے اپنے ڈوپٹے کا آنچل پھیلا کے کہا…
دیکھو خالی ہے نہ…
ازلان کو اس وقت ماہ کی دماغی کیفیت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اس نے ماہ کو ارام سے کھڑا کیا اور کہا..
ماہ تمہیں اگر شاہمیر کا ساتھ نہی ملا تو اس میں اللّٰہ کی کوئ مصلحت تھی اور جسکا ساتھ تمہیں ملا وہ میرے اللّٰہ کی مرضی ہے…..
ایک دم ماہ کو کل ہوا اپنا شان سے نکاح یاد آیا تو وہ بلکل چپ ہوگئ اور جیسی ہی جانے کے لیہ پلٹی تو علی اور شاہین کو پایا.
..شاہین تو ماہ کا یہ ریکشن دیکھ کے کافی ڈر گئ تھی جبکہ علی نے افسوس سے ماہ کو دیکھا اور اسے بہت افسوس ہوا کہ اسکا بیٹا انجانے میں کسی لڑکی کا سکون برباد کر گیا…..
علی نے دھیرے سے پہلے ماہ کے سر پہ ہاتھ رکھا اور پھر اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دیے علی کے ہاتھ جورتے ہی ماہ نے انکے ہاتھ فورا پکڑ کے نیچے کیہ اور کہا…
یہ کیا کر رہے ہیں انکل میں اپ سے ناراض نہی ہو نہ آنٹی اپ سے اس نے شاہین کو دیکھ کو کہا….
مگر انکل اپ اپنے بیٹے کی وکالت نہیں کرینگے پلیز اسے اللّٰہ معاف کردے مگر میرا اتنا بڑا دل نہیں۔۔
یہ بول کے ماہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئ جبکہ نور کے پیچھا کھڑے شان نے اپنے آنسو رگڑے اور اندر چلا گیا…
فائزہ نے بھی اپنے آنسو صاف کیہ اور ازلان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ازلان جو اج اپنی پاٹنر کی حالت دیکھ کے اپنے انسو روک نہیں پایا فائزہ کو ایک نظر دیکھ کے تیزی سے اندر بڑھ گیا….
نور سکتے کی کیفیت میں وہی گھاس پہ.بیٹھ گئ…
اسے اندازہ نہیں تھا کہ ماہ کی کیفیت ایسی ہوگی..
شاہمیر اج صبح ہی یہاں سے چلا گیا تھا کیونکہ اس کے اندر ماہ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی…..
¤¤¤¤¤¤
ماہ اپنے روم میں آئ تو نازنین بھی اٹھ چکی تھی. اس نے مسکرا کے نازنین کو دیکھا اور واش روم میں گھس گئ ..
رات میں نازنین جب کمرے میں آئ تھی تو کمرے کا حشر نشر دیکھ کے سمجھ گئ تھی کہ ماہ کی حالت کیا تھی..
.سونے سے پہلے وہ کافی حد تک اسکا کمرہ سمیٹ چکی تھی….
ماہ واش روم سے نکلی تو نازنین سے کہا…
شکریہ یار کل تم نے میرے جیولری وغیرہ اتار دی تھی اور خاص کر کے ڈوپٹہ اتار دیا تھا اور ہاں اس پٹی کے لیہ بھی شکریہ ماہ نے اسے اپنا ہاتھ دیکھاتے ہوئے کہا….
نازنین ماہ کی باتوں سے اچھی طرح سمجھ گئ تھی. کہ کل شان ماہ کے کمرے میں کیا کر کے گیا..
نہہی شکریہ کیسا ماہ یہ بول کے وہ ماہ کے پاس آئ اور دھیرے سے اسکا رخ اپنی طرف موڑتے ہوے کہا…
تم ٹھیک ہو میری جان؟؟؟
نازنین کے سوال پہ ماہ کی آنکھیں پھر بھیگنے لگی اس نے ہاں میں سر ہلایا اور کہا..
ہاں یار.
..
چل اجا فریش ہوکے پھر نیچے چلتے ہیں بہت بھوک لگی ہے..
ماہ کا ایسا ٹھنڈا ریکٹ دیکھ کے نازنین کو کافی حیرت ہوئ مگر اسے کیا پتہ تھا کہ ماہ اپنا سارا غم لان میں ہلکا کر کے آگئ….
نازنین اور ماہ فریش ہوکے نیچے آئے تو سب ہی ٹیبل پہ موجود تھے ۔۔
جبکہ کل کے واقع سے ردا اور عدنان کافی ڈر گئے تھے..اس لیہ وہ دونوں اج بہت خاموش تھے سب ہی ماہ کو دیکھ رہے تھے۔۔
ایک منٹ کے لیے جہانگیر بھی اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کے اندازہ نہی لگایا پایا کہ اسکے دل میں کیا چل رہا ہے مگر زلیخا چاہ کے بھی ماہ کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ پائ…۔۔
ناصر اور شان نے جب سب کو ایسے دیکھا تو ایک دوسرے کو دیکھ کے آنکھ ماری اور ماہ کے اگے اکے جھک کے انار کلی انداز میں اسے سلام کرکے کہنے لگے….
ائیے بھابھی جان آئیے ناشتہ نوش فرمائے. …
ناصر اور شاہ کی اس حرکت پہ نہ چاہتے یوئے بھی سب ک قہقہ گونجا جبکہ انکے بھابھی کہنے پہ شان بھی مسکرا پڑا..
ماہ نے ایک آئیبرو اٹھا کے دونوں کو دیکھا اور دونوں کو ایک ایک مکا جڑ کے اگے بڑھ گئ جبکہ وہ دونوں نے مکا کھاکے سڑا ہوا منہ بناکے شان کو کہا…
بھائ جان بھابھی تو بہت ظالم ہیں…..
یہ بول کے دونوں حامد کے دائیں بائیں بیٹھ گئے جبکہ ماہ نے دونوں کو گھورا اور پھر نازنین سے کہا…
نازنین لگتا ہے تم نے اپنے شوہر کو صبح کی دوائ ہلا کے نہی پلائ اور پری تم بھی کچھ اپنے ہونے والے شوہر کے دماغ کے علاج کے لیہ کوئ دوائ ڈھوندو….
ماہ کی بات جہاں نازنین ک قہقہ گونجا وہی پری پہلے تو شرم کے مارے اپنی گردن جھکا گئ اور پھر گھور کے ناصر کو دیکھا..
مگر ماہ کسی اور کی نظروں کے حصار میں تھی.
..شان کو اسکے چہرے پہ ابھی کچھ دیر پہلے واقعی کا نشان تک دیکھنے کو نہیں ملا ..
سب ہی اپنے اپنے ناشتہ میں مصروف تھے کہ جبھی اماں جان نے سب کو مخاطب کرکے کہا….
ہم چاہتے ہیں کہ اسی ہفتہ نور اور حیدر تم اپنے بیٹے کی برات لے کے آؤ…
اماں جان کی بات پہ جہاں سب خوش تھے وہی شان اور ماہ نے بیک وقت ایک دوسر ے کو دیکھا….
جاری ہے…
