Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

رات کو نور حیدر کے لیہ کمرے میں چائے لائ تو وہ کسی گہری سوچ میں مگن تھا نور کے دو تین بار اواز دینے پہ بھی جب اس نے کوئ رسپانس نہیں دیا تو مجبورا نور کو حیدر کا کندھا ہلانا پڑھا.
..حیدر حیدر.
نور کے ہلانا پہ وہ ایک دم چونکا….
ہاں کیا ہوا..؟؟
کن سوچوں میں گم ہیں آپ؟؟؟؟
کب سے اپکو اوازیں دے رہی ہو اپکو۔۔
کن سوچوں میں گم ہو..؟؟؟؟
ارے یار وہی شان والی بات پہ پریشان ہو چونکا تو میں بھی تھا وہ جو بچی ائ تھی نہ ماہ۔۔۔۔
.اسکو دیکھا تھا بلکل زلیخا بھابھی کا عکس تھا اس میں ..
[نور تم شان سے پوچھو اسکے گھر کا اڈریس ہم چلتے ہیں..
ارے حیدر دل تو میرا بھی بہت چارہا ہے پتہ نہیں میںرا دل کہہ رہا ہے حیدر جیسے ہماری تلاش ختم.ہوگئ….
الّللہ کرے نور تمہارا دل صحیح کہ رہا ہو مگر حیدر ایسی منہ اٹھا کہ کسی کے گھر جانا اچھا بھی تو نہیں لگتا..
ہم نور یہ تو تم تھیک کہہ رہی ہو..
ویسے پتہ ہے میرا دل کیا کہہ رہا ہے؟
حیدر نے اپنے لہجہ میں شوخی لاتے ہوئے کہا..۔۔
نور کو پہلے تو اسکی بات سمجھ نہیں ائ مگر جب ائ تو اس نے غصہ سے حیدر کو گھور کہ کہا…
اپنے دل کو زرا سنبھال کے رکھے حیدر جی ایسا نہ ہو دو تین گھونسے میں ایسے ہی اپکے دل کو ابھی عنایت کردو…
ہائے اجاؤ کردو کم ازکم ابھی پاس تو اؤگی…
ارے ماما چلی جائے نہ دیکھے پاپا گھونسے کھانے کے لیہ بھی تیار ہیں..
شان کی اواز پہ دونوں نے پلٹ کے دروازہ کی طرف دیکھا۰ جہاں شان کھڑا مسکرا رہا تھا.
.شان کی بات پہ حیدر کا قہقہ گونجا وہی نور شرما گئ.. شان تم بہت زیادہ بولنے لگے ہو نور نے پاس اکے پیار سے شان کے کان کھینچے…
..
اأاااا ماما درد ہو رہا
نور نے ہنستے ہوئے اسکے کان چھوڑ دیے..
شان ایک بات پوچھنی تھی تم سے…
حیدر نے شان کو کہا….
جی بابا پوچھے…
بیٹا ازلان لوگوں کی فیملی کہاں رہتی ہے مطلب اور کوئ ڈیٹیل اپکو پتا ہے.. ؟؟؟؟
نہیں پاپا ماہ اور میں ایک ڈیپارٹمنٹ میں ضرور ہے مگر کبھی فیملی ٹوپک پہ بات نہیں ہوئ انفیکٹ ہماری تو دوستی بھی اسی کمپیٹیشن کی وجہ سے ہوئ..
.یہ الگ بات ہے اس سے پہلے وہ. میری شکل بھی نہیں دیکھتی تھی
اخری جملہ شان نے بہت دھیرے سے کہا جو خالی وہ خود ہی سن پایا………
ہمممم تھیک ہے بیٹا…
کیوں پاپا اپ کیوں پوچھ رہے ہیں.؟
حیدر نے اچانک نور کو دیکھا جو اسے انکھوں سے ہی منع کر رہی تھی کچھ بھی بتانے کو نور نے کبھی اپنی فیملی کے بارے میں اپنے بچوں کو نہیں بتایا یہ سوچ کے کہ کہیں اسکے بچے اسے اور حیدر کو غلط نہیں سمجھے اس کے بچے جب بھی سوال کرتے اپنے ننھیال کے بارے میں نور نے ہمیشہ انہیں جواب دیا کہ پتہ نہیں میرا کوئ نہیں.
ارے ایسی ہی بیٹا وہ ماہ بہت اپنی اپنی سی لگی اس لیہ.
.نور نے بات بناتے ہوئے کہا….
اچھا پاپا.
میں یہ بولنے اپکے روم میں ایا تھا کہ کل میں پری کو اپنے ساتھ اپنی یونی لے کہ جاونگا کل کمپیٹیشن ہے دعا کیجے گا میں اور ماہ جیت جائے..
میں اور ماہ مطلب تم اسی کے ساتھ ہی پرفام کررہےہو؟؟؟
نور نے اچانک سوال کیا…
جی ماما…
یہ بول کے شان تو چلا گیا مگر اج نور پھر اپنے گھر والوں کو یاد کرکے اداس ہوگئ…
حیدر نے جب اسے اداس دیکھا تو اہستہ سے اسکے پاس ایا اور اس کو تھام کے بیڈ پہ لایا اور کہا..
نور میں نے ہر جگہ کوشش کی آسٹریلیا سے جہانگر سب کچھ بہت پہلے وائنڈ اپ کر چکا تھا اسڑیلیا والوں کے پاس جہانگیر کا کوئ کونٹیکٹ نمبر نہیں میں نے کراچی
والے افس میں بھی رابطہ کیا تھا ان سب کا یہ کہنا تھا کہ وہ اپنا بزنس بند کرچکے ہیں اب وہ کہاں ہے کسی کو بھی نہیں معلوم.
نور میں کراچی اکے کب سے جہانگیر کی تلاش میں ہو تمہیں اندازہ نہیں۔۔۔
.
مگر مجھے لگتا اب میری تلاش ختم ہوگئ تم پری سے بولو ماہ سے دوستی برھائے تاکہ تم اس کے بہانے سے انکے گھر جاسکو اور جو شان نے ازلان کے پاپا کے بارے میں کہا اس کے پاپا کے بارے میں تمہاری کہی ہوئ بات سچ ہو نور۔۔۔
میری دل سے دعا ہے.۔۔
.نور نے حیدر کی بات سن کے ہاں میں گردن ہلائ اور اسکے سینے پہ سر رکھ کہ لیٹ گئ…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زلیخا صبح گہری نیند میں تھی کہ اسے ماتھے پہ کسی کہ لبوں کا لمس محسوس ہوا…زلیخا نے جب اپنی انکھیں کھول کے دیکھا تو سامنے جہانگیر کا چہرہ تھا جسکے لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ تھی.
.جہانگیر کو دیکھ کہ زلیخا بھی مسکرا کے اٹھ بیٹھی کہ جبھی جہانگیر نے اسے پھر لیٹا دیا…
زلیخا پوری رات تم بخار میں پھکتی رہی ہو خبردار جو اٹھی تو ایک تو تم دوائ نہیں کھاتی ہو بلکل تمہیں خیال نہی اپنا جہانگیر نے اسے تھوڑا بھرم سے بولا…
[ زلایخا اٹھ کے دوبارہ بیٹھی اور قریب اکے جہانگیر کےگالوں پہ پیار کیا۔۔
…اور کہا۔۔
جہانگیر کل بس تھوڑی تھکن کی وجہ سے بخار چڑھا تھا اپکی قسم اب بلکل ٹھیک ہو اور اپ جانتے ہیں مجھ سے خاماخائ کا ارام نہیں ہوتا یہ بول کے زلیخا نے اپنے بال سمیٹے اور انکا جوڑا بنانے لگی جہانگیر نے ہلکی مسکراہٹ سے زلیخا کو دیکھا جو اپنے بالوں کا جوڑا بنانے میں لگی تھی ۔۔
مگر پھر اس نے جہانگیر کی طرف دیکھا جو خاموشی سے اسکا چہرہ دیکھنے میں مگن تھا…
زلیخا نے جہانگیر کو اپنے اپ کو تکتا پایا تو پوچھ بیٹھی….
ایسسے کیا دیکھ رہے ہیں جانو میرے…؟؟؟؟
جہانگیر نے ہلکے سے مسکرا کے کہا..
پتہ ہے زلیخامجھے کبھی کبھی لگتا ہے تمہاری انکھوں میں کوئ بہت گہرا راز چھپا ہے۔۔۔
.. مگر تمہاری زبان وہ راز بولنے سے اعتراض برتتی ہیں۔۔
.کیا کچھ ایسا ہے زلیخا جسکا بوجھ تم نے اکیلے ہی سنبھالا ہوا ہے۔۔
…جہانگیر کی بات پہ زلیخا کے چہرے پہ ایک دم گھبراٹ کے اثار ائِے.
مگر وہ فورا اپنے تاثرات پہ قابو پاگئ اور بہت سنبھل کے جہانگیر کی سوال کے بدلے بولی……
ارے نہیں جہانگیر ایسا کچھ نہیں اپ جلدی سے ریڈی ہوجائے میں ناشتہ لگواتی ہوں..
.یہ بول کے زلیخا جیسی ہی جانے لگی جہانگیر نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکا..
زلیخا نے پلٹ کے جہانگیر کو سوالیاں نظروں سے دیکھا…
.
اج رات تیار رہنا شام میں ڈنر پہ چلینگے صرف میں اور تم.. ۔۔
[لیکن جہانگیر اماں جان…
ان کی فکر نہیں کرو میں پوچھ لونگا ان سے تم بس تیار رہنا اور ہاں اگر کسی کو بھی ساتھ لیا تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا.

اچھا جی اب اپ جلدی سے ریڈی ہوکے اجائے..۔
۔۔
یہ بول زلیخا تو نیچے چلی گئ اور ہر بار کی طرح وہ جہانگیر کے سوال کو پھر ٹال گئ.
..¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
زلیخا نیچے ائ تو نازو تقریبا ناشتہ لگواچکی تھی…
ارے نازو مجھے اواز دے لیتی زلیخا نے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے نازو کو کہا…
نازو زلیخا کے پاس ائ اور اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیہ اور کہا.
بھابھی ہمیشہ اپ ہی سب کا ناشتہ لگواتی ہیں
.اج میں نے لگوالیا تو کوئ بعد نہیں اپ سب کا اتنا خیال رکھتی میرا بھی تو کوئ فرض ہے اور ویسے بھی کل سے اپ کی طبیعت تھیک نہیں تھی اوراصولن تو اپ کو اج ارام کرنا تھا مگر مجھے پتہ ہے اپ چین سے نہیں بیٹھتی یہ بول کے جہاں نازو ہنسی وہی زلیخا کی بھی ہنسی نکل گئ..
.
دونوں اپنی ہلکی پھلکی باتوں کے ساتھ ناشتہ بھی لگا رہی تھی کہ جب ہی سبھی اہستہ اہستہ ناشتے کی ٹیبل پہ اگئے سب اپنی باتوں میں مصروف تھے کہ جبھی اماں جان ٹیبل پہ ائ تو ایک خاموشی سی چھاگئ سب ہی ناشتہ کرنے میں مصروف تھے کہ جبھی اماں جان بولی…
جہانگیر اور دلاورہم چاہتے ہیں کہ ازلان اور فائزہ کے نکاح کے بجائے کیوں نہ انکی شادی کردی جائے…۔۔
اماں جان کی بات سن کے جہاں سب خوش تھے وہاں فائزہ اور ازلان نے چونک کے ایک دوسرے کو دیکھا..
مگر ازلان پھر فائزہ کو نظر انداز کرکے اپنے ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگیا..
مگر اماں جان اتنی جلدی تیاری کیسے ہوگی زلیخا اور نازو ایک ساتھ بول پڑی جبکہ دلاور نے بھی کہا کہ اماں جان ابھی فائزہ کی پڑھائ بھی رہتی ہے…
تیاری کا کیا ہے سب اجکل بازار میں بنا بنایا مل جاتا ہے.
.اماں جان ایک دم بول پڑی اور دلاور تمہاری بیٹی کوئ دوسرے شہر نہیں جارہی بلکہ ایک ہی گھر میں موجود ہے
..پڑھائ شادی کے بعد بھی مکمل ہوجائے گی
اب اگر کسی کو کوئ مسئلہ ہے تو بتاو ہمیں اماں جان نے کہا
.لیکن نازو کچھ بولتی اس سے پہلے ہی دلاور اور جہانگیر بول پڑے…
نہیں اماں جان جیسا اپ بولیں ویسی ہی ہوگا…
[ دونوں بیٹوں کی بات سن کے اماں جان تو اپنے کمرے میں چلی گئ جبکہ فائزہ نے غصہ میں اپنے ناشتہ کی پلیٹ پٹھکی تو سب نے چونک کے ایسے دیکھا وہ بنا کسی کو کوئ جواب دیے اپنے کمرے میں چلی گئ تو دوسری طرف کچھ ایسا ہی حال ازلان کا بھی تھا وہ بھی خاموشی سے اٹھ کے اپنے افس کے لیہ نکل گیا
…سب ہی ان دونوں کے رویوں سے حیران تھے مگر نازو اور زلیخا نے سوچ لیا تھا کہ وہ دونوں ان دونوں سے بات ضرور کرینگی..
.ماہ کو یونی کے لیہ دیر ہورہی تھی نازنین کا کئ بار ٹیکس اچکا تھا..
پاپا ماہ نے ایک دم جہانگیر کو مخاطب کیا..
پاپا کیا اپ اج مجھے ڈراپ کردینگے.؟؟؟؟
ہاں کیوں نہیں مائے پرنسس…
[ ٹھیک ہے پاپا اپ میں اپنابیگ لاتی ہو..
ردا بیٹا اپکا کتنے دونوں کا اوف ہے.؟؟؟
جہانگیر نے اچانک ردا سے سوال کیا..
مگر جواب عدنان کی طرف سے ایا…
ارے تایا جان اس نے تو شکرانے کے نفل اداکیہ ہونگے اللہ توبہ اتنی نکمی ہے بعض دفعہ تو میںرے کلاس فیلو سوچنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کتنی دفعہ تو اسکی فرینڈ نے عافیہ نے مجھے سے پوچھا کہ یہ نکمی ردا کیا تم جییسے جینیس کی کزن ہے۔۔
..عدنان کے جواب پہ جہاں سب کا قہقہ گونجا..
وہی ردا نے خونخوار نظروں سے عدنان کو گھوا جو راد کے گھورنے پہ اپنی انکھیں گھما کے بھینگگا بن گیا.
چاچو اپ دیکھ رہے ہیں عدنان کو….
ارے پاپا تو اپنے ہینڈسم اور جینیس بیٹے کو روز دیکھتے ہیں کیوں پاپا…
اس سے پہلے عدنان اور کچھ بولتا.
نازو نے پیچھے سے اکے عدنان کی کمر پہ ایک دھپ رسید کی…
اور بولی ۔۔۔۔
ہاں ہاں پتا ہے کتنے جینیس ہو تم۔پوری رات موبائل ہوتا ہے اور تم ہوتے ہو دلاور اپکو پتا نازو نے ایک دم دلاور کو مخاطب کیا کل ہماری نیبر مسسس امجد بتا رہی تھی کہ انکے ہسبنڈ نے عدنان اور اسکے دو تین دوستوں کو ہائیوے پہ ریسنگ لگاتے دیکھا تھا.۔۔
عدنان جو کچھ منٹ پہلے ردا کا مزاق اڑا رہا تھا اب اسکا خود کا ریمانڈ ہورہاتھا..۔۔
عدنان کیا یہ سچ ہے ،؟؟
دلاور نے ایک دم غصہ سے عدنان سے پوچھا تو ایک دم عدنان نے جہانگیر کی طرف التجائ نظروں سے دیکھا اور جہانگیر نے اسے انکھ مار کے اشارہ کیا ۔۔
جیسے کہہ رہا ہو صبر کرو۔۔۔
. جب عدنان نے اپنی سامنے بیٹھی ردا کی طرف دیکھا تو وہ بھر پور طریقے سے عدنان کی کو منہ چڑھا رہی تھی۔۔۔
اسنے گھور کے راد کو دیکھا تو ایک بار پھر دلاور کی اواز گونجی عدنان ردا کو کیا گھور رہے ہو میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔۔؟
۔دلاور کے بولنے کے بعد ایک دم جہانگیر بول پڑا.
. ارے ڈودی تم بھی تو اماں جان سے چھپ چھپ کے بائیک ریسسنگ کرتے تھے ۔۔
ارے عدنان تم اپنے پاپا سے اچھی بائیک نہیں چلاتے تمہارے پاپا بایئک تو ایسے چلاتے تھے جیسے ہوائ جہاز چلاتے ہیں فل اسپیڈ میں.۔۔
. بیٹے کے سامنے اپنی اتنی عزت افزائ پہ دلاور نے صدمہ سے اپنے بھائ کو دیکھ کے کہا…!!!!
بھائ میں یہاں عدنان کو ڈانٹ رہا ہو اور اپ میری ہی ٹانگ کھیچ رہے ہیں دلاور کی بات پہ سب کی ہنسی چھوتی اور بھائ اپ شاید بھول رہے ہین میں کبھی کبھی کرتا تھا ریسنگ دلاور نےسڑے ہوئے منہ بنا کے کہا..
ہاں تو عدنان کونسا 24 گھنٹہ کرتا ہے اور نازو جہانگیر نےایک دم نازو کو مخاطب کیا..
امجد بھائ کی وائف کو اور امجد بھائ کو رہنے دو خود انکے بیٹے کو میں نے کتنی بار اسموکنگ کرتے دیکھا ہے…
عدنان بیٹا اگر میں نے اپکی حمایت لی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ اپ اس حمایت کو نجائز فائدہ اٹھاؤ ۔۔
احتیاط بہت ضروری ہے ائندہ اپکی شاکایت نہیں ائ..
نہیں ائے گی بڑے پاپا.
عدنان نے شرمندگی سے کہا..
ڈودی جیسے میری تم پہ نظر تھی چاہے میں کہی پہ بھی ہو ایسی میری عدنان اور ازلان پہ بھی ہے تمہیں ٹینشن کی ضرورت نہیں جہانگیر نے پیار سے اپنے چھوٹے بھائ کے بال بگاڑتے ہوئے کہا۔
دلاور کو فخر تھا کے جہانگیر نے بابا کے جانے کے بعد کبھی اسکو بابا کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی ایسی ہی اسس نے اسکے بچوں کو بھی ایک باپ کی طرح اہمیت دی تھی دلاور اور نازو کے بچے اپنے ماں باپ سے زیادہ جہانگیر اور زلیخا سے اٹیچ تھے ۔۔
تو ردا اور فائزہ نازو سے ازلان تو گھر کا بڑا بیٹا تھا اس لیہ سب کا لاڈلہ تھا..
بھائ یہ بات اپ ایسے بھی بول دیتے میرے بال کیوں بگاڑا
..دلاور نے سڑا ہوا منہ بنا کے کہا..
دلاور کے ایسا بولنے پہ ایک بار پھر سب کا قہقہ گونجا..
پاپا چلے ماہ جہانگیر کو کہا جو کب سے اپنا بیگ لیہ کھڑی تھی..
ہاں چلو بیٹا…
جہانگیر اور ماہ ابھی ادھے راستے پہنچے تھے کہ گاڑی کی خاموشی کو جہانگیر نے توڑا..
ماہ بیٹا اپکی پڑھائ کیسی جارہی ہے؟
بلکل اے ون پاپا…
ہم گڈ تو اج اپکا کمپیٹیشن ہے ؟؟
جی..
اپکا پاٹنر کون ہے ؟؟
پاپا شان جو اس دن ہمرے گھر ایا تھا نہ وہی..
مگر بیٹا وہ تو ازلان کو دوست ہے نہ؟؟؟
ہاں پاپا مگر وہ میری یونی میں میرے ڈیمپارٹمنٹ کا ہے اور پتہ ہے پاپا میں ایک بار نازنین کے ساتھ اسکے گھر بھی گئ تھی مگر جب مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ شان کا گھر ہے..
.
مطلب بیٹا میں کچھ سمجھا نہیں…
اور پھر ماہ نے بتایا کہ کیسی وہ پری اور نور سے مال میں ملی اور کسے نور کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ وہ انہیں انکے گھر لیہ کے گئ.
اوہ اچھا
..جہانگیر نے جیسے کچھ سمجھتے ہوئے کہا..
ماہ پھر بولی اور پتا ہے پاپا شان کے پاپا اپنی وائف سے بہت محبت کرتے ہیں جیسے اپ ماما سے کرتے ہو…
اچھا جہانگیر نے ہنستے ہوِئے کہا..
اچھا ماہ شان کے پاپا کا نام کیا ہے..؟؟؟؟
[….جاری ہے…..