Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
[ ] جہانگیر نے گاڑی.زلیخا کے گھر کی.گلی.میں ہی روک دی…
[ ] زلیخا جیسے ہی اترنے لگی.. جہانگیر نے اسے اواز دی…
[ ] زلیخا…
[ ] جی؟
[ ] زندگی.کے کسی بھی حصہ.میں تمھے میرے ساتھ کی ضرورت پڑے تو مجھے پکارنا ضرور…
[ ] اوکے اپ بھی اپنا خیال رکھیے گا….
[ ] یے کہتے ہی زلیخا تیزی سے گاڑی سے نکلی..اور جہانگیر جب تک اسے دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہں ہوگی… جیسے ہی زلیخا دیکھنا بند ہوی ایک جھٹکے سے اسنے گاڑی اگے بڑھادی…………..کافی اگے جانے کے بعد اسکی نظر گاڑی میں گرے ہوے زلیخا کے پرس پے پڑی
[ ] …ارے یےتو پرس ہی بھول گی…اور اسنے دوبارہ گاڑی زلیخا کے گھر کی طرف موڑ دی………………………….
[ ] وہ گھر میں داخل.ہوی تو گھر خالی تھا.
[ ] ارے یے تای کہاں چلی گی ایسے گھر چھوڑ کے…
[ ] وہ گم سم سی اپنے کمرے کی.طرف چل دی.اور کسی نے بڑی خاموشی سے گھرکا دروازہ بند کیا اور اوپر زلیخا کے کمرے کی.طرف چل دیا..
[ ] اسکے کمرے میں داخل.ہوکے
[ ] جمال نے دیکھا کے اسکا دوپٹہ.بیڈ پے رکھا ہے.
[ ] اور واشروم روم سے پانی گرنے کی.اواز اراہی تھی
[ ] .اوہ…..
[ ] تو جانمن وہاں ہے اسنے خاموشی سے دروازہ کی.کنڈی.لگای ..
[ ] زلیخا اپنے.اپ.میں.مگن منہ.دھوکے باہر ای.اسنے دیھان ہی نہیں دیا.کے کوئ.اور بھی.اس کے کمرے.میں موجود ہے.. اسنے اپنے بال کھولے جو کسی ابشار کی طرح اسکی.کمر چھپا گے…وہ بے دھیانی سے بال.بنا رہی تھی.جب اسے لگا کے اسکے پیچھے کوی ہے…
[ ] جیسی وہ.پلٹی اپنے اتنے قریب جمال.کو دیکھ کے.اسکی.چھٹی.حس نے کچھ غلط ہونے کا سگنل دیا……
[ ] اا.پ.پ.میرے کمرے میں کیا کرہے ہے…اسنے اپنی گھبراہٹ پے قابو پاتے ہوہے جمال.کو.بولا…
[ ] اور جمال جو اسکے جسم.کے نشیبوفراز میں گم تھا…
[ ] ایک دم سیدھا ہوا…
[ ] ارے ارے.مائے ..فیوچر وائف تم اتنا.ڈر کیوں رہی ہو کل تو ہماری شادی ہے…
[ ] توو کل ہے نا اج اپ کیاکررہے ہے میرے کمرے میں.؟؟؟؟؟
[ ] ارے ارے تمہں اتنا پسینہ کیوں ارہا ہے…
[ ] اس سے پہلے وہ.اسکا ماتھا چھوتا..
[ ] زلیخا اس سے دو قدم دور ہوئ…
[ ] ارے جانمن اب یے نکھرے مت دیکھاو. اپنے یار کے ساتھ تو تم نے کوئ.کثر نہں چھوڑی..
[ ] اسکا.اشارہ چند دن پہلے کی رات کی طرف تھا….
[ ] اسنے ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھیچا…
[ ] چھوڑو مجھے..
[ ] پتہ نہں زلیخا مت اتنی ہمت کہاں سے اگی کے اسنے ایک زور دار تھپڑ جمال کو دے مارا..
[ ] اور بھاگنے لگی ابھی وہ کمرے کی.چوکھٹ پے.ہی تھی…کے جمال نے اسسے کمر سے پکڑ کر اپنے سے لگایا..
[ ] اور.اسکامنہ دبایا..تاکہ وہ چیخ نہ سکے..
[ ] سالی….
[ ] .تیری.ہمت کیسے ہوی.مجھ پے ہاتھ اٹھانے کی.اج تیرا وہ حال.کرو گا کے تو موت کی دعا مانگے گی…جمال نے بلکل اسکے کان کے پاس سر گوشی.کی….
[ ] جمال.نے اسے اٹھا.کے ایک دم.بیڈ پے پھنکا…
[ ] اور اپنی.شرٹ کے بٹن کھولنے لگا…
[ ] نہہں جمال.پپ لیز اپکو اللہ کا واستہ مجھ پے رحم کھاے….اسنے روتے روتے اسکے اگے ہاتھ جوڑ دیے.. ااااا
[ ] جمال.پہ اس وقت وحشت سوار تھی…اسے اسکی فریاد کچھ سنائ نہں دے رہی تھی…
[ ] اسنے دل سے جہانگیر کو پکارا…
[ ] اور شاید اج انکے ملن کا دن تھا…..اسے پہلے جمال اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا…
[ ] زلیخا نے پاس رکھا.لیمپ اٹھا کے پوری طاقت سے جمال.کے سر پے دے مارا..
[ ] ..جمال اس اچانک حملے کے لیے تیار نہں تھا..لیمپ سیدھا اسکے سر پے جا.کے لگا اور اسکے سر سے خون نکلنے.لگا….
[ ] یہ دیکھ کے زلیخا نے موقع سے فاہدہ اٹھایا.اور باہر کی طرف دڈور لگا دی. ایک دم سیڑھیوں پہ.اسکا.پاوں پھسلا. اور وہ سیدھا سیڑھیوں سے نیچے گرگی.اسکا. سر بری طرح دیوار کے کونے سے تکڑایا..اور اسکے سر سے خون نکلنے لگا..
[ ] مگر اسے پرواہ کہاں تھی اج اسکی جان کیوں نہ.چلی جاتی پھر بھی وہ.اس وحشی.کے ہاتھوں اپنی عزت رسواہ نہں کرسکتی تھی..
[ ] گرتے پڑتے اسنے دروازہ کھولا مگر دروازہ کھولتے جو چہرہ اسکو نظر ایا.
[ ] اسکو دیکھ کے اسے یقین ہوگیا.. کے دل.کو دل سے راہ.ہوتی ہے..
[ ] اور جہانگیر جس نے ابھی دروازہ بجانے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا ہی تھا. ایک دم دروازہ کھلنے پہ چونکا….
[ ] اور اور زلیخا کی حالت دیکھ کے اسے لگا کے اسکے جسم سے کسی نے جان نکال لی..
[ ] بکھرے بال.انکھوں کا.کاجل پھیلا ہوا..اسکی.قمیض جگہجگہ سے پھٹی ہوی تھی جو .اسکے ساتھ کسی انہونی.کا پتہ دے رہی تھی…
[ ] زلیخا یہ سب ؟؟؟
[ ] جہانگیر کا اتنا بولنا تھا کہ زلیخا ڈور کے اسکے سینہ سے لگ گی…اسنے زلیخا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا انگوٹھوں سے اسکے انسو صاف کے.. اور پاگلوں کی طرح اس سے پوچھنے لگا…
[ ] زلیخا یے سب کس نے کیا تم تھیک ہو…؟
[ ] خدا کا واستہ.کچھ بولو ورنہ.میرا دل بند ہوجاے گا..
[ ] اس سے پہلے زلیخا اسے کچھ بتاتی پیچھے اپنا سر پکڑ کر اتے ہوے جمال کو دیکھ کے جہانگیر سب سمجھ گیا…
[ ] اور وہ جنونی انداز میں اسکی طرف بڑھا اور اندھا دھند اسے مارنے لگا… لڑای کی اواز سنتے ہی.کافی.لوگ یے تماشہ دیکھنے کے لے جمع ہوگے.. دو تین لوگوں نے ان دونوں.کو چھروایا…
[ ] جہانگیر نے ایک جھٹکے سے لوگوں سے اپنے ہاتھ ازاد کرواے اور زلیخا کی طرف بڑھا..
[ ] جو کونے.میں کھڑی.کانپ رہی تھی…
[ ] اپنا.کوٹ اتار کے اسے ارایا.. ..
[ ] اتنے میں ثمینا بیگم اپنے گھر کے گرد جمع ہوے لوگوں کو ہتاتے ہوے اپنے گھرکے اندر داخل.ہوی..
[ ] اندر داخل.ہوتے ہی.اسنے جب اپنے بیٹے کی حالت دیکھی. تو اسننے اپنے دل.پے ہاتھ رکھ لیا…
[ ] ہاء
[ ] ہاے ہاے میرے لال یے تیرا حال.کس نے کیا..اماں میں نے ان دونوں.کو رنگے ہاتھوں رنگرلیاں مناتے ہوے پکڑا ہے اماں.. اور جب میںنے
[ ] شور کیا تو اسکے یار نے مجھے مارنا شروع کردیا..اور اس زلیخا نے دیکھے میرے سر کا کیا حال کیا..ہاے اللہ اماں میرا سر……………
[ ] جھوٹ بول رہا ہے یے جانگیر ایک دم غصہ سے اسکی طرف بڑھا
[ ]
[ ] ثمینا بیگم غصہ.میں زلیخا کی طرف برھی
[ ] اس سے پہلے وہ زلیخا پہ.ہاتھ آٹھاتی.
[ ] جانگیر بیچ میں اگیا…
[ ] انٹی اپکو اسکی حالت دیکھ نہں رہی الٹا اپنے بیٹے کو مارنے کے اپ اسکو مار رہی .اگر میں نہں اتا تو اپکو اندازہ نہں ہے اپکا بیٹا اسکا کیا حال کرتا…
[ ] ارے تو تو وہی یے نہ اسکا بوس ؟؟؟
[ ] اوہ.اب میں سمجھی کیوں تو جمال.سے شادی.کا منع کر رہی تھی.ہاے ہاے. یے دن بھی دیکھنا رہ گیا.اور.تمہں کیسے پتا اسکے ساتھ کیا ہوا…
[ ] اسسکا.مطلب جمال تھیک بول رہا..
[ ] ثمینا بیگم.نے زلیخا کو بالوں سے پکڑا اور باہر کی طرف پھینکا….نکل ہیاں سے کمینی…تیرا اب یاں کوی نہں.. اور دروازہ.منہ.پہ.بند کردیا…
[ ] نہں.تای.خدا کے لیے دروازہ کھولے مے.کہاں جاونگی.اپکو اللہ.کا واستہ..
[ ] بس اس سے زیادہ.میں برداشت نہں.کرسکتا…
[ ] اٹھو چلو ہیاں سے…
[ ] لوگوں کے ہجوم میں سے ایک بزرگ اگے.برہھے اور جہانگیر کو بولا…
[ ] بیٹا اسکو اپ.لے جاو یہاں سے… .اسنے ایک دم زلیخا کی.کلای پکڑی.اور اپنی.گاڑی.کی.طرف بڑھ گیا….گاڑی.کا دروازہ کھول کے اسے بیٹھایا. اور ڈرئیونگ.سیٹ پے اکے بیٹھا اور ایک نظر زلیخا پہ.ڈال کے گاڑی.اگے بڑھادی…..کافی دیر بعد زلیخا کی اواز ای.
[ ] اپ مجھے دارلامان چھوڑ دے….گاڑی ایک جھٹکے سے روکی.. اور جہانگیر نے زلیخا کو پکڑ کر اپنی.طرف کھیچا…
[ ]
[ ] اور اسکو ہونٹ پہ.اپنی.انگلی رکھ دی.بہت بول چکی تم اب چپ چاپ بیٹھی رہو…
[ ] اور گاڑی اگے بڑھادی…
[ ] گاڑی کے روکنے پہ.زلیخا نے جب دیکھا تو وہ.کراچی کا سب سے بڑا شاپنگ سینٹر تھا وہ گاڑی سے اترا اور گھوم.کے زلیخا کی طرف ایا.تھوڑا میرا ویٹ کرو میں ابھی ایا…
[ ] اور ہاں اچانک.کچھ یاد انے پہ واپس مرا.. یہاں سے جانا نہں کہی پلیز…یہ بول.کے وہ.مال کے اندر داخل.ہوگیا..
[ ] زلیخا اسکی پشت کو گھورتی رہی..ایک بار پھر اسکے انسو جاری.ہوگے….
[ ] زندگی اسکا ابھی.اور کتنا امتحان لے.گی یہ سوچ کے اسنے اپنی.انکھیں بند کرلی…
[ ] ادھے گھنٹے بعد اسے جہانگیر اتا دیکھای دیا….
[ ] اسکے ہاتھ میں چند شاپنگ بیگ تھے..اسنے گاڑی.کا دروازہ کھول کے بیگ پیچھے رکھے اور گاڑی اسٹارٹ کردی. تھو ڑی دور گاڑی.ایک.میڈیکل اسٹور پہ روکی .اسنے.میدیسن لی اور دوبارہ گاڑی اسٹارٹ کردی…. ایک.بنگلہ کے اگے اسنے گاڑی روکی جسکے باہر بڑے بڑے لفظوں. میں. افریدی ہاوس.. لکھا تھا..
[ ] واچ مین نے جہانگیر کو دیکھ کے بنگلہ کا گیٹ کھولا اور گاڑی اندر داخل.ہوگی…
[ ] باہر سے ہی.اس بنگلہ کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا.گاڑی پورچ میں روکی.. اسنے نکل.کے زلیخا کی طرف کا گیٹ کھولا.اپنا ہاتھ اگے کیا جس کو زلیخا نے بنا تھامے باہر اگی..جہانگیر نے ایک سانس ہوا میں خارج کی اور اگے کی طرف قدم بڑھا دے….
[ ] مگر تھوڑی دور جاکے جب اسنے پلٹ کے دیکھا تو زلیخا وہی کھڑی اپنے پیروں.کو گھور رہی تھئ…
[ ] کیا ہوا اندر نہں انا..؟؟؟؟؟
[ ] اسنے کوی جواب نہیں دیا …
[ ] وہ پھر اسکی طرف ایا اسے کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا…
[ ] اور کہا …
[ ] ایک بر مجھ پہ.اعتبار کر کے دیکھو کبھی پچھتاوانہں ہوگا..
[ ] او..
[ ] اور وہ اسے اپنے ساتھ لگا کے گھرکے اندر لے گیا.اندر داخل.ہوتے ہی اسکی انکھیں حییرت سے کھل.گی تھی وہ.کوی.گھر تھا یا محل وہ یہ سمجھ نہں پائ
[ ] وہ.اسے.اپنے کمرے میں.لے.ایا ..
[ ] کمرے کے اندر صوفے پہ.بیٹھا کے خود اسکے سامنے میڈیسن کا شاپر لے کے بیٹھ گیا…
[ ] ڈیٹول روی پہ.لگا کے وہ اہستہ.اہستہ اسکا زخم صاف کرنے.لگا …
[ ] اور وہ بے خودی سے اسے تکتی گی….زخم صاف کرنے کے بعد وہ اٹھا اور ایک بیگ اسکے قریب کیا..
[ ] جاو فریش ہوجاو..اسنے خاموشی سے بیگ تھاما اور واشروم چلی.گی….
[ ] جب تک وہ فریش ہوکے ای تب تک جہانگیر اسکے لیے گرم دودھ لے ایا..اسکے لاے ہوے کپڑے پہنے دیکھ کے جہانگیر کے لبوں پہ.ایک.جاندار سی.مسکراہٹ اگی…کیوں کہ اسکا سائز ایک دم پرفیکٹ ایا.تھا..
[ ] اسنے اسے بیڈ پہ.بیٹھایا.دودھ اور میڈیسن دے کے اسسے لٹا دیا اور اس پے.بلنکٹ اڑا دیا…تم تھوڑی دیر ارام کرو میں یہہی.ہو اسٹڈی روم.میں اوکے…
[ ] اور وہ.کمرہ بند کر کے باہر اگیا…
[ ] زلیخا اسکے جاتے ہی نیند کی وادی.میں.کھوگی..
[ ] شاید اب وہ تھک چکی تھی رو روکے…..
[ ] جہانگیر نے باہر اکے سب سے پہلے حیدر کو کال.کی اور اسے سب بتا دیا…
[ ] یار حیدر مں اب اسے چھوڑ نہں سکتا.. حیدر نے اسے دلا سہ دیا .جہانگیر نے اسے چند گواہ اور نکاح خواہ کے ساتھ شام میں انے کو کہا…..
[ ] .باقی اگے کا سوچنا شاید وہ چاہتا نہں تھا…
…
