Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
[ ] قسط نمبر11
[ ] زلیخا.کو گھر سے نکالنے کے بعد جمال.نے لائبہ سے شادی کرلی اور اسکے باپ.کے دیے ہویے گھر میں شفٹ ہوگیا..
[ ] لائبہ کا باپ بس چند دن ہی زندہ رہا اور لائبہ کو تن تنہا چھوڑ گیا…
[ ] مگر جاتے جاتے شاید وہ ان دونوں.ماں بیٹوں کی فطرت سمجھ گیا تھا جب ہی اپنی ساری جایداد اپنے انے والے نواسہ ی نواسی کے نام کرگیا…لائبہ انتہای بوڑم.لڑکی تھی.. ہر کسی کہ.کام انا ہر کسی کی باتوں میں انا…..
[ ] مگر ثمینہ بیگم نے لائبہ.کو تنگ کرنا نہ چھوڑا… ا
[ ] ہر وقت بس اسس سے مطلب سے بات کرتی خاص کر جب اسے پیسوں کی ضرورت ہوتی…اورلائبہ اسکی زرا سہ توجہ.پہ خوش ہوجاتی…..
[ ] جمال نے جیسے تیسے زلیخا کا مکان بیچا اور کمانے کے.لیے لندن چلا گیا.اور شاید قسمت بھی.اس پہ مہربان تھی جو وہ بڑا بزنس مین بن کے لوتا..
[ ] مگر بزنس میں ہمیشہ حیدر سے نیچے ہی رہا….
[ ] اسکو علم تھا کے حیدر کا بیٹا اور ناصر جگری دوست ہیں اور اسی دوستی.کا جمال فائدہ اٹھانے والا تھا.
[ ] مگر کہتے ہے نہ جسی کرنی ویسی برھنی مگر ابھی وقت تھا…
[ ] ادھر ثمینہ کو تب بھی لائبہ.کی قدر نہں ہوتی اگر اس دن وہ حادثہ نہں ہوتا..
[x]
[ ] کسی پارٹی میں جانے.کے لے ثمینہ بیگم تیار ہوکے جیسے ہی سیڑھیاں اترنے لگی ایک دم انکا پاوں پھسلااورنچے اگری..
[ ] لائبہ جیسے تیسے انہے ہسہتال لے کہ.پہچی ڈاکٹروں نے جو خبر ثمینیہ بیگم بتای شاید وہی انکا مکافات عمل تھا…
[ ] گرنے سے انکی ڑیڑھ کی ہڈی توٹ چکی تھی جسکی وجہ سے وہ ساری زنگی کے لیے اپاہج ہوگی تھی.اور اسی.لائبہ نے انک خدمت میں دن رات ایک کرکے اتنا کردیا.کے وہ.اب وہیل چیر پہ بیٹھ سکتی تھی.
[ ] لیکن جمال نے تب بھی.اپنی.ماں کو نہں دیکھا…کہ وہ کیسی ہے اور ثمینہ بیگم نہ بھی چپ سادھ لی تھی اور سمجھ گی تھی.کہ.یہیہی انکی سزا ہے اس دوران ناصر ہوا وہ بھی.اپنے باپ.کے رویہ کا شکار رہا مگر ثمینہ بیگم کا انکھ کا تارا…..
[ ] اب ثمینہ بیگم اپنی ہر دعا میں زلیخا سے ملنے.کی خواہش کرتی تھی.انہوں نے.لائبہ.سے بھی.اپنے.کیے کی.معافی مانگ لی تھی اور اب انہں زلیخا کانتظار تھاا تاکہ.اس سے معافی.مانگ سکے…..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤دوسرے دن سنڈے تھا تو تقریبا سب ہی ناشتہ ایک ساتھ ہی کرتے تھے…
[ ] سب تقریبااچکے تھے سواے امں جان کہ…
[ ] بلاول نے جب جہانگیر کو ناشتہ کی ٹیبل پہ دیکھا تو خوشی سے انکے گلے لگ گیا..
[ ] اپ.کب اے بھای… ؟؟؟
[ ] کل رات ڈودی…
[ ] بھائی…یییییی.
[ ] اب تو ڈودی نہں کہے ابتو میں شادی شدہ اور جوان بچو کا باپ ہو..
[ ] مگر ہے تو میرا ڈودی نہ اور سب کا.قہقہ گونجا..
[ ] اپ نہں سدھرینگے…
[ ] بلکل.نیں کیوں بچوں.
[ ] بلکل سب نے ملکر کہا..اور سب کی.ہنسی.کو بریک تب لگا جب بی جان ٹیبل پہ.ای….
[ ] اور جہانگیر کو دیکھ کہ.بولی تم.کب اےے..
[ ] کل رات اماں جان.. نور کے جانے کے بعد دونوں کے درمیان ایک فاصلہ سا اگیا تھا
[ ] اور تم سے اتنی توفیق نہں ہوی کی ماں کا حال چال پوچھ لو.رے ہی بیوی کے پلو سے لگ گےے..
[ ] اماں جان رات کو میں بہت لیت ایا تھا اپ سو رہی تھی میں نے اٹھانا مناسب نہں سمجھا.
[ ] ….مناسب نہیں سمجھا یہ بیوی نے روک دیا
[ ] امں جان.میں کیوں روکونگی..
[ ] زلیخا.نے اپنی صفای میں کہا….
[ ] بس کردو پتہ نہں کونسی مہنوس گھڑی تھی جوتم.ہماری زندگی میں شامل ہوی. سب کچھ بیکھر گیا..
[ ] نجمہ.(ملازمہ)
[ ] ہمارا ناشتہ.یمارے کمرے میں ہی.لے اوو..
[ ] جی اماں جان..
[ ] زلیخا کی انکھیں پھر بھیگ گی.. اس سے پہلے وہ ٹیبل پہ سے اٹھتی..
[ ] بلاول نے اسے روک لیا.. چھوڑے بھابھی پلیز….
[ ] اوزلیخا رک گی تھی کیونکہ وہ.اپنے دیور کی بات نہں ٹال.سکتی تھی..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[x]
[ ] نشتہ سے فارغ ہوکے خواتین تو دوپہر کا مینیو.دیسائڈ کرنے لگی.
[x]
[ ] جہانگیر اور بلاول بزنس کی باتیں کرنے.لگےےے..
[ ] عدنان اور ردا حسب مامول اپنی کسی بحس میں لگے.. تو ادھر کل.کہ بات پہ ازلان سریس ہوکے بیٹھا تھا…. فائزہ کی طرف اسنے نگاہ بھی نہیں ڈالی..
[ ] فائزہ.کو اندازہ تھا کے کل کچھ زیادہ ہی ہوگیا….
[ ] روٹھے ہو تم.کو میں کیسے مناو پیااااا.بولو نہ…
[ ] فائزہ کے گنگنانے پہ سب ہی نے چونک.کے دیکھا سواے بڑوں..
[ ] ارے بئھی ایسے کیا دیکھ رہے.. ہو. سب.ایسہ ہی سونگ بتا رہی تھی واٹس اپ پہ فریند کو وائس میں..
[ ] ازلان سے برداشت نہں ہوا.وہ اٹھ کے چلا گیاا……
[ ] اور فائزہ نے اپنے پلین کو شاباشی دی.کیوں کہ.ابھی تو پکچر باقی ہے….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ کے موبئل.پہ اچانک شامیر کی کال انے لگی.. اسنے دیکھا کہ سب اپنے اپ میں بزی ہے…
[ ] تو وہ خاموشی سے اٹھ کہ اپنے روم.میں اگی..
[ ] اور کال ریسیو کی….
[ ] شامیر کہاں ہو دو دن سے؟؟؟
[ ] کیون جان شامییر میری یاد اراہی تھی.
[ ] …ہاں اور تم کب اوگے گاؤں سے..
[ ] یار ابھی تو ایک ہفتہ لگے گا..
[ ] بی جان نے روک.لیا.(دادی)
[ ] ہیں ایک یفتہ ااور اس ویک.میں جو دانس کمپیتیشن ہے..
[ ] میں کس کے ساتھ پررفام کرونگی…؟؟؟؟
[ ] تمہارے کہنے پہ تو میں نے نام لکھ وایا تھاااا.
[ ] یار تم مینج کرلو اور سن لو کان.کھول کے جیتنا تمہں ہی یے…
[ ] اوکے اب میں کال.رکھتا ہو دادو بلا رہے ہیں…
[ ] اوکے اللہ حافظ…
[ ] اور ماہ رخ.کو نئی.تینشن ہوگی.کے دانس اب کس کے ساتھ کریگی..
[ ] ادھر کال رکھتے ہی.شامیر کے ساتھ بیٹھی خاتون کے چہرے پہ.ایک.شیطانی مسکراہت اگی…
[ ] شامیر تمہں پتہ ہے نہ.کل تمہں کراچی پہنچ کہ کیا کرنا ہے…
[ ] جی بی جان اپ بے.فکر رہے…
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤فائزہ اپنے کمرے میں اکے اگے کا.پلین سوچنے لگی کہ.کیسے ازلان سے اسکی دل.کی.بات زبان پہ.لایے اور جب اسنے.اپنے کمرے سے باہر جھنکا.اور ازلان.کو اتے دیکھا تو اسے اپنے اپکو داد دینے کو دل.کیا.
[ ] (کس نے کہا کہ.قلم سے دوستی کرنے والے محبت نہں کرسکتے )
[ ] اب دیکھو مسٹر ازلان اگر کل.تک.تم سے نہ.اگلوایہ کہ تمہے مجھ سے محبت ہے تو میرا نام بھی فائزہ نہں.اور ایک دہیمی سی مسکراہت اس کے چہرے پہ.اگی….
[x] ا
[ ] فائزہ نے جیسے ہی دیکھا کہ ازلان اپنے کمرے میں جا رہا ہے اسنے اپنے روم کا دروازہ ادھا کھولا چھوڑ دیا
[ ] اور بولنا شروع ہوگی..اور ازلان جو اپنے کمرے میں جانے لگا تھا فائزہ کے.کمرے میں سے جان کا لفظ سن کے رک.گیا.(فائزہ کا روم ازلان سے پہلا تھا ).
[ ] اسنے ہلکا سہ.فائزہ کے روم.میں جھانکا.تو فائزکی پشت ازلان کی طرف تھی…
[ ] ارے میری جان میں تو خود تمہارے بغیر نہں رہ سکتی تم اپنے پیرنٹز کو بھیجو.. میں کل.اپنی.ماما سے بات کرلونگی.اررے جانو…
[ ] اور جانو کا لفظ سن کے ازلان کی انکھوں میں خون اتر اگیا
[ ] کل.ملتے ہے پھر یونی کے بعد…
[ ] فاہزہ جو بیک کیمرے سے ازلان کے سارے ایکسپریشن دیکھ رہی تھی
[ ] اپنے ابھر نے والے قہقہکو روکنے کی.بھر پور کوشش کرنے لگی..
[ ] ازلان اس سے زیادہ برداشت نیں کرسکتا.تھا ..اپنے کمرے میں اکے اسنے اپنے کمرہ کا نقشہ بیگاڑ دیا…
[ ] آزلان کی انکھوں سے انسو بہنے.لگے…
[ ] (او خدا بتادے کیا لکیروں میں لکھا..
[ ] ہم نے تو ہم نے تو بس عشق ہے کیا..)
[x] ا
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ ازلان کے جاتے ہی اپنی ہنسی روک.نہں پائ..اور کھل کے ہنسی کل.کا دن ازلان جہانگیر بس کل.کا دن….¤
[x] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] صبح ماہ رخ یونی میں
[ ] خاموش بیٹھی تھی…
[ ] اور نازنین اسس سے زیادہ برداشت نہں کر سکتی تھی. اس لیے پھٹ پڑی…
[ ] اب بتاوگی بھی.کہ.کیوں سوگ میں ہو..
[ ] اور ماہ نے شامیر اور اپنے درمیان ہونے والی باتیں اسکو بتا دی..
[ ] یار یہ.تو واقعی ہی تینشن کی.بات ہے اب کون بنے گا تمہارا پاٹنر…؟؟؟؟؟
[ ] ابھی وہ دونوں اسی سوچ میں تھی.کہ.ناصر اور شان ان کے طرف اےےےے.
[ ] نازنین بات سنو…
[ ] اور نازنین اور ماہ نے ایک ساتھ نگاہ اوٹھا کہ دیکھا شان نے تو ان دونوں.کو دیکھا نہہی..وہ.اپنے موبائل میں مگن تھا..
[ ] ہاں بولو ناصر….
[ ] وہ تمھارے نوٹس چاہیے تھے…..ہاں یہ لو..
[ ] تھینکس…..
[ ] ناصر. جیسے ہی جانے لگا تو نازنین نے اسے روکا..
[ ] ہاں بولو…….
[x]
[x]
[ ] تم نے سانگ کمپیٹیشن میں حصہ لیا ہے نہ
[ ] ..ہاں.
[ ] اور شان تم نے. ؟؟؟
[ ] نہں یار میں نے تو کسی میں نہں لیا..
[ ] اوکے.. وہ دونوں جب چلے گے تو نازنین نے ماہ.سے کہا.کہ تیرا پاٹنر مل.گیا…
[ ] کون؟؟؟؟
[ ] شان…
[ ] تیرا دماغ جگہ پہ.ہے ماہ.کا غصہ اسمان کو چھونے لگا..
[ ] کیوں کیا برائ.ہے اس میں…
[ ] اچھای.کیا ہے اس میں..؟؟؟؟
[ ] بس یہ بولنا تھا کہ نازنین شروع ہوگی..
[ ] کیوں تمہے چھیرتہ ہے یا.تمہے تارتا ہے.
[ ] یہ.کوی بدتمیزی کی اسنے تم سے الٹا تم نے اس٦ تھپڑ مارا تھا…
[ ] کچھ بھی ہے مگر میں اسکی پاٹنر نہں بنوگی..
[ ] او بی بی جملہ.تھیک.کرو تم..نہں ..
[ ] وہ تمہرا پاٹنر بنے.گا کہ.نہں یہ تو تب پتہ چلے گا. جب تم.اس سے پوچھو گی.
[ ] نازنین اج ناشتہ.میں کیا کھا کہ ای ہو جو نشہ میں ہوو.
[ ] میں کبھی.اس سے بات نہں.کرونگی..
[ ] اوکےےےےےے.
[ ] رہو اٹیٹیوڈ میں مجھ سے اب مدد کی.امید نہں.رکھنا…
[ ] اور نازنین.اپنا بیگ اٹھا کہ چل.دی ..جاتے ہوے پلٹ کے اسنے ماہ.کو بولا….
[ ] تمہاری انا تمہں مبارک.میری مانو تو جا.کہ.نام.کٹوادو کومپیٹیشن سے کیوں کہ.اور کوی ایسا نہئ جسکی انکھوں میں تمہارے لیے عزت ہو..
[ ] یہ بول.کے نازنین جیسے ہی اگے جانے.لگی.تو پیچھے سے ماہ.کی.اواز ای…
[ ] تھیک.ہے.میں اس سے کرتی ہو بات.اور یہ سن.کہ اس کے لبوں پہ مسکراہت اگی
.
[ ] جاری ہ
