Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 38 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38 Part 3
ماہ کے بیہوش وجود کو باہنوں میں اٹھا کے شاہمیر اپنے روم میں لایا اور اسے بیڈ پہ لیٹا دیا اسکا دوست جو اسکے روم.میں کیمرہ سیٹ کرچکا تھا شاہمیر کے اشارے پہ.کمرے سے نکل.کے فلیٹ کا گیٹ جیسے ہی.کھولا کے باہر جانے لگا تو سامنے شان اور نازنیںن کو کھڑا پایا….
کیونکہ.شاہمیر کا دوست بھی اسی کی.یونی.کا تھا تبھی وہ ان دونوں کو پہچان گیا اس سے پہلے شان اس سے کچھ پوچھتا وہ شان کو تیزی سے دھکا دیے کے نیچے چلا گیا…
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نازنین نے کال رکھتے ہی اپنی چادر اٹھائ اور اپنی.امی.کو کہا….
امی.ماہ.لینے ارہی.ہے مجھے شان کیساتھ ..یہ بول کے بنا اپنی ماں.کا جواب سنے نازنیںن اپنے گھر سے باہر نکل گئ کہ جبھی اس کے پاس شان کی کار اکے رکی.اور وہ اس میں سوار ہوگئ…..
راستہ میں نازنین نے شان کو زلیخا کی.کال کا اور ماہ کے بہانے کا بھی بتایا اور کہاں …
مجھے شک ہے وہ شاہمیر سے ہی ملنے گئ ہے اس نے اج ہی.مجھے یونی.میں بتایا تھا کہ.ازلان کے ولیمہ سے وہ ناراض ہے اس سے …
اور ماہ.اسکو منانے کے لیہ.وہ سب کریگی جو اج وہ اس سے بولے گا..
نازنین کا ایسا بولنا تھا ..کہ شان نے اس سے شاہمیر کے فلیٹ کا اڈریس پوچھ کے گاڑی کی اسپیڈ اور بڑھادی….
¤¤¤¤¤¤¤¤
شاہمیر نے ماہ کو اٹھا کے بیٹھایا اور اسکی کمر کا رخ اس کیمرے کی طرف کردیا…
پہلے شاہمیر نے اسکا دوپٹہ اتار اور پھر اسکی قمیض کی زپ کھولنے لگا ادھی زپ کھول کے اس نے ماہ کو لٹایا اور اس پہ جھکا اس سے پہلے وہ.کوئ گستاخی کرتا کسی نے اسکا پیچھے سے کالر پکڑ کر نیچے پیھنکا اور ماہ.کا ہاتھ پکڑ کے اسے اٹھایا. مگر شان جو یہ سمجھ رہا تھا کہ ماہ اپنی مرضی سے یہ سب کچھ کرہی ہے اسے افسوس ہورہا تھا اپنے ڈوڈی کو سوچ کے .یہ دیکھ کے ماہ اپنی حواسوں میں نہی اسکی انکھوں بھیگ گئ …اس نے ماہ کو اٹھانا کے.لیہ جیسی ہی اسکی کمر تھامی تو اس کا ہاتھ ماہ کے جسم سے ٹکرایا اس سے احساس ہوا کہ ماہ کی بیک اوپن ہیں اس نے ماہ.کو گلے سے لگایا اور آنکھیں جھکا کہ اس کی بیک کہ زپ بند کرنے لگا اور اسکو گودھ میں اٹھا کہ باہر لانج میں.لایا..
نازنین جو روتے روتے باہر لانج میں ہی بیٹھ گئ تھی اس نے صاف کہا تھا شان سے اسکی ہمت نہی کمرے میں جانے کی …
ماہ کو اس حالت میں دیکھ وہ اور زور زور سے رونے لگی کہ جبھی شان غصہ میں دوبارہ اندر گیا…
شان نے جب شاہمیر کو پیچھے سے پکر کر کھینچ کے پھیکا تھا تو اسکا سر پیچھے ڈریسنگ سے ٹکڑایا تھا ..
اور وہ وقتی طور پہ بیہوش ہوا…تھا..
شان دوبارہ کمرے میں ایا تو تو شاہمیر اپنا سر پکڑ کے اہستہ اہستہ ڈریسنگ کو پکڑ کے کھڑے ہونے کی.کوشش کررہا تھا کہ شان نے اکے ایک دم اسکے منہ پہ گھونسا مارا اچانک.حملہ پہ شاہمیر جو ہوش میں اگیا تھا دوبارہ لڑکھڑایا اس سے پہلے شامہیر گرتا شان نے اسے کالرسے پکڑ کر سیدھا کیا اور..کہا.
بیغیرت .کمینے تیری ہمت کیسی ہوئ ماہ کے ساتھ یہ سب کرنے کی تو تو دعودار تھا نہ اس سے محبت کا پھر یہ سب کیوں کیا اس کے ساتھ……شان کی گرج دار آواز پورے فلیٹ میں گونجی….
شاہمیر نے ایک جھٹکے سے اس سے اپنا کالر چھوڑوایا اور کہا…
ہاں کرونگا جو دل چاہیے گا اس کے ساتھ کرونگا تجھے کس بات کی تکلیف ہے…
اوہ اوہ مسٹر شان بھی تو محبت کرتے ییں ماہ.سے…
شاہمیر نے کمال بیغیرتی سے شان کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر کہا…
…
ہاں کرتا ہو محبت نہی عشق کرتا ہو مگر سب سے پہلے اسکی عزت کرتا ہو ….تو نے اج اسکی عزت پہ ہاتھ ڈالا یقین ہوگیا اج مجھے کہ واقعی ماہ نے تجھ جیسے گھٹیا انسان سے محبت کرکے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی……
شان کی بات پہ پہلے شاہمیر کا قہقہ پور کمرے میں گونجا پھر وہ شان کے پاس کے اکے ایک دم سنجیدہ ہوا اور کہا…..
جا کھلا چیلنج ہے جتنا بھڑکانا ہے ماہ کو بھڑکالے .اس سے عیاشی بھی کرونگا اور تیرے سامنے اس سے نکاح بھی کرونگا. جو ہوسکتا ہے تجھ سے کرلے….
اس سے پہلے شان اس سے کچھ کہتا نازنیںن نے شان کو اواز دی …شان شاہمیر کو گھورتا ہوا زمیں پہ جھکا اور ماہ کا ڈوپٹہ اٹھاتا ہوا کمرے سے باہر ایا تو نازنیںن نے رونا تو بند کردیا تھا مگر پریشان کھڑی تھی …
..شان کے باہر اتے ہی بولی…شان جلدی چلو اس فلیٹ سے زلیخا آنٹی کہ.کال.آرہی ہے….
شان نے پہلے ماہ.کو ڈوپٹہ اوریا اور اسے باہنوں میں اٹھا کہ فلیٹ سے باہر اگیا…
پچھلی سیٹ پہ احتیاط سے ماہ کو لیٹا کہ ڈرائیونگ سیٹ پہ.آیا…
نازنیںن نے ایک نظر ماہ.کے بیہوش وجود پہ ڈالی اور اگے اکے بیٹھ گئ ..
نازنین کے بیٹھتے ہی شان نے گاڑی اگے بڑھادی….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
کھانے کی ٹیبلنپہ تینوں نفوس بیٹھے تھے کہ اچانک نعمان
نے شاہ سے سوال کیا….
سرور اجکل کیا مصروفیات ہیں تمہاری آفس ٹائیمنگ اف ہونے کے بعد کافی دیر سےگھر اتے ہو….
نعمان کے سوال پہ.جہاں نیلم نے شاہ کو دیکھا وہی نعمان کے سوال پہ اچانک شاہ بھی بھوکھلا گیا…
اس سے پہلے شاہ نعمان کی کسی بات کا جواب دیتا
شاہ کا ٹیبل پہ رکھا موبائل بج پڑا ..شاہ نے کال کاٹی ..
اور جیسی دوبارہ نعمان کی طرف مخاطب ہوا .ایک بر پھر موبائل بج پڑا…شاہ نے شرمندگی سے دوبارہ کال کٹ کی..
مگر نعمان جسکی نظر شاہ کے گھبرائے چہرے پہ تھی .بول پڑے…
شاہ مصروفیات جو بھی ہو ی.یاد رکھنا اگر میرہ بہو کے ساتھ ناانصافی ہوئ تو مجھ سے اچھائ کی امید نہی رکھنا….کیونکہ مجھے اندازہ کچھ کچھ ہوگیا ہے تمہاری روٹین کا
یہ بول کے نعمان جیسے ہی ٹیبل سے اٹھنے لگے ایک بار پھر شاہ کا موبائل بج اٹھا…..
نعمان نے ایک نظر شاہ کو دیکھا اور پھر اسکے موبائل کو…
اور شاہ سے کہا…
لگتا ہے تمہارے فرینڈ کو واقعی اپنے کاروبار میں تمہاری ہیلپ کی ضرورت ہے جبھی رات اس وقت بھی اسے تمپاری یاد اگئ….
شاہ پہ بھر پور تنز کرکے نعمان اپنے کمرے کی طرف چلا گیا..تو نیلم نے شاہ سے کہاا…
ایسا کوئ کام نہی کرنا شاہ کے بعد تم ساری زندگی پچھتاو….
یہ بول کے نیلم بھی اٹھ کے نعمان کے پیچھے چل دی ..
شاہ نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا کہ ایک بار پھر موبائل بج پڑا. شاہ نے غصہ میں موبائل اف کیا اپنے کمرے سے گاڑی کی چابی اٹھائ اور اپنے فلیٹ کی طرف چل.پڑا..
¤¤¤¤¤¤¤
شاہمیر نے اپنے.کیمرے کو جب باہر نکالا تو اسے چیک.کرنے لگا..
کیونکہ بی.جان کی پلینگ ہی یہی تھی کہ ماہ.کیساتھ غلط شاہمیر کرتا اور پھر بی جان کے.کہنے پہ اس سے دور ہوتا اور جب جہانگیر اور زلیخا اپنی بیٹی کو تڑپتا ہوا اور سسکتا ہوا دیکھتے تو شاہمیر سے اپنی بیٹی کی.زندگی کی بھیگ مانگتے اس سے شادی کرنے کا کہتے جب شاہمیر بی.جان کا لے کے ماہ کے گھر جاتا اور اپنی ساری ڈیمانڈ جو اس نے بی جان کے کہنے پہ بولنے تھی منواتا…..
“
“مگر جب ہم.کسی کے ساتھ غلط نہی کرتے تو الللہ ہمارے ساتھ بھی غلط نہی کرتا ..ماں باپ کی.کری ہوئ نیکی اولاد کے اگے ضرور اتی ہے.مریم#
مگر جب شاہمیر نے اپنا کیمرہ چیک کیا تو اسے حیرانی یوئ اور جو کچھ اس کیمرے میں ریکارڈ ہوا وہ افریدی مینشن کو ہلانے کے لیہ.کافی تھا….
جاری ہے….
