Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 44 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44 Part 2
قسط نمبر44(پارٹ 2)
(چھوٹا سا سرپرائز)
شان ماہ کے کمرے کے قریب پہنچا لاک پہ.ہاتھ رکھ کے گھمایا تو زلیخا کی بات سچ نکلی.ماہ نے کمرہ اندر سے بند کیا ہوا تھا شان نے چابی سے کمرے کا لاک کھولا اور اندر داخل ہوا مگر کمرے کا حشر نشر دیکھ کے اسے جھٹکا لگامگر اج جو کچھ ہوا اس کے ریکشن شاید اس سے بھی زیادہ ہونا تھا شان نے کمرے کا اندھیرا لائٹ جلا کے دور کیا چیزوں سے پھیلانگتے ہوئے جب وہ بیڈ تک آیا تو ماہ اسے بیڈ کے پاس بیہوش ملی شان اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھ کے اسے ہوش میں لانے لگا….
ماہ ماہ.ہوش میں آو ماہ…….
شان کی لاکھ کوشش کی.باوجود وہ ہوش میں نہی آئ…
شان نے آگے بڑھ کے اسے باہنوں میں اٹھایا..اور آرام سے بیڈ پہ لیٹایا.مگر لیٹاتے ہی ماہ کی گردن اسکے سیٹ ہوئے ڈوپٹہ کی وجہ سے اونچی.ہوگئ …
شان نے ماہ کے بیہوش وجود کو بیڈ کے کراؤن سے تکیے کے سہارا بیٹھایا اور خود ایک پاوں بیڈ سے نیچےرکھ کے دوسرا پاوں کا گھٹنا بیڈ پہ رکھ کے اسکا ڈوپٹہ پنوں سے آزاد کرنے. لاگا.جب پورا ڈوپٹہ کھل گیا تو شان نے اسکا ڈوپٹہ.احتیاط سے اسکے تن سے جدا کیا اور سائڈ پہ رکھ کے اسکو دوبارہ صحیح طریقہ سے بیڈ پہ لیٹایا… شان اسکو لیٹا کے اٹھنے لگا مگر اس کی نظر ماہ کے چہرے پہ ٹک گئ…
چہرے پہ.آنسو کی لکیرے جگہ جگہ پھیلے کاجل کے نشان ناک کی نتھ جو شاید زور آزمائ سے ہلکی سی موڑ گئ تھی..کانون میں پڑی جھمکے.. جو اپنی جگہ موجود تھے مگر بے رحمی سے کھینچنے کی وجہ سے جگہ جگہ سے ٹوتھ گئے تھے…گلے میں پڑا ہار جو ماہ کے گلے کو جگہ جگہ سے کھروچ چکا تھا… …
شان کی نظر بے ساختہ اسکے لبوں پہ گئ جو لپسٹک میں پوشیدہ تو تھے مگر بے دردری سر رگڑے گئے تھے…
شان نے اپنی کفلنگ کھولی اپنی شرٹ کے استین اوپر کی..اور آہستہ آہستہ اسکے آویزے اتارنے لگا..
پہلے اس نے اسکی ناک.کو ازاد کیا ..شان نے جب اسکی نتھ اتاری تو وہ ریڈ ہوچکی تھی.. اج جو اسے الللہ کی طرف سے اسکو حقوق ملے ان کا جائز استعمال کرتے ہوئے اس نے ماہ.کی.ناک کو ہلکے سے اپنے لبوں سے چھوا پھر کانوں کے جھمکے اتارے تو ان کے ساتھ بھی یہ عمل دھرایا..
گلے کا سیٹ اتار کے رکھا تو نظر اسکے گلے کے نشانوں پہ گئ….اور شان آنکھیں بند کرکے اسکے گلے کے نشانوں پہ اپنے.لب رکھنے لگا جیسی اس نے اپنے لب اسکے گلے سے ہٹائے جبھی اسکی نظر ماہ کے بغیر ڈوپٹہ کے اسکے حسین سراپے پہ ٹہر گئ..مگر وہ. نظریں چرا گیا….
واش روم.میں جاکے وہ اپنا رومال گیلا کرکے لایا اور اسک چہرہ صاف کرنے لگا.. آہستہ آہستہ اس نے اسکا چہرہ صاف کیا لبوں کو صاف کرنے کے بعد وہ تھوڑی دیرتک اسکے لبوں کو تکتا رہا اور پھر اپنے پورے استحاق سے اسکے لبوں پہ جھک گیا…شان نے اپنی سانسیں اج پورے جائزہ حق سے اسکی روح میں منتقل کی وہ یہ سب ماہ کیساتھ بیہوشی کی حالت میں نہی کرنا چاہتا تھا مگر اج جب وہ پور حق سے اسکی تھی اسکے سامنے تھی تو وہ اپنے اپ کو روک نہی پایا..اس نےاپنا حق استعمال نہی کیا مگر شروعات کرچکا تھا….
شان دھیرے سے جیسی ہی اسکے پاس سے اٹھنے لگا اسکی نظر ماہ.کے زخمی ہاتھ پہ پڑی اس نے اسکا ہاتھ دیکھا تو اچھا خاصا گہرا زخم تھا..شان نے اس کے ہاتھ چوڑیوں سے آزاد کیہ اور کمرے میں فرسٹ ایڈ باکس ڈھونڈنے لگا..
فرسٹ ایڈ باکس ملتے ہی وہ ماہ کے پاس ایا اور اسک زخم صاف کرکے اس پہ بیڈیج کردی..دیہان سے اسکے ہاتھ رکھا اور اسکے اوپر کمبل ڈال کے ڈھیرے سے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تو شان کی آنکھ سے ایک انسو ماہ.کے ماتھے پہ گرا.
شان دھیرے سے اٹھا اور اس کو دیکھتے ہوئے کہا…
شاہمیر کے دیے سارے زخم میں اپنی ماہ کے دل ودماغ سے کھرچ کے نکل دونگا تمہیں اتنی محبت دونگا اتنا مان دونگا کہ تم شاہمیر کی زات کو ہی بھول جاوگی…
“یہ جانے نہ تو
ہے مجھ میں ہے تو..
تو میرا سکون
تو میرا سکون”
شان نے ایک.پیار بھری نظر ماہ پہ ڈالی اور کمرے کا دروازے بند کرکے جیسی ہی مڑا تو سامنے نازنین آنکھوں میں شرارت لیہ اسکو گھور رہی تھی نازنین اس سے پہلے شان کو چھیرتی مگر جب اس نے شان کی ہزیل گرین آنکھیں انسو سے تر دیکھے تو اپنا ارادہ ترک کیا اور شان سے کہا…..
شان کچھ وقت لگے گا مگر مجھے یقین ہے سب ٹھیک ہوجائے گا…
نازنین کی بات پہ شان نے کہا
..
ہاں نازنین انشاءاللہ مجھے میرے رب کا ہر فیصلہ دل سے قبول ہے…جب اس نے ماہ کو میرے نصیب میں لکھ دیا تو اس کے دل میں انشاءاللہ میری محبت بھی ڈالے گا اور مجھے میرے رب کے ہر فیصلے پہ آنکھ بند کرکے اعتبار ہے…
یہ بول کے جہاں شان پرسکون ہوا وہی نازنین بھی مسکرا گئ…
شان جیسے اگے جانے لگا کہ جبھی مڑا اور الٹے قدم اٹھاتے ہو نازنین سے کہا…
کل جب میری وائف اپ سے کچھ پوچھے اپنے بارے میں تو ہاں. بولنا یہ بول کے شان نے نازنین کو آنکھ ماری اور گھوم.کے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا نیچے چلاگیا..جبکہ نازنین اسے آوازیں دے دے کہ پوچھتی رہ گئ..
او ہیرو کیا کیا بتا کے تو جاو…
مگر جب شان اسکی.کسی بات کے جواب پہ نہ پلٹا تو سڑا ہوا منہ بناکے ماہ کے کمرے میں سونے چلی.گئ…
¤¤¤¤¤¤
اپنے بھائ کی بات سن کے نازنین سڑا ہوا منہ بنا کے بیٹھ گئ. جبھی جنید نے ان سب سے معزرت کرکے سونے جانے کے لیہ.کہا تو سب نے اسے جانے کو کہاں شمع اور جنید کے جانے بعد جہانگیر نے شاہین سے پوچھا….
شاہین اگر اس دن حویلی میں جلی تم نہی تھی تو کون جلا تھا..؟؟
جہانگیر بھائ وہ بی جان کی وہ ملازمہ تھی جس نے چوری کی تھی…
..نازنین ان سب میں بور ہورہی تھی جبھی اٹھ کے ماہ کے کمرے کی طرف چل پڑی اور وہی اس کے کمرے کے پاس پہنچ کے اس کی ملاقات شان سے ہوئ…
¤¤¤
فائزہ اور ازلان بھی توڑی دیر بیٹھ کے اپنے کمروں میںں چل دیے باقی سب بھی تھکن کے باعث اپنے اپنے کمروں کی طرف چل پڑے….
علی کمرے میں آیا تو شاہین کھڑکی کے پاس کھڑی ہوکے آسمان کو تک رہی تھی.
علی نے جاکے اسے کمر سے تھام کے اپنا سر اسکے کندھے پہ رکھ کے پوچھا ..
کیا دیکھ رہی ہو شاہین.؟
شاہین نے اپنا رخ علی کی طرف موڑا اور کہا…
علی 24 سال سے میں اس زندان میں ہو.صرف اس اعتبار پہ کے میرا الللہ میرے ساتھ کبھی برا نہی کرسکتا. نہی پتا تھا کہ کب میں آزاد ہونگی وہاں سے..امی نے پیدا ہوتے ہی مجھ سے شاہمیر کو چھین لیا میں کتنی بد نصیب ماں ہو علی جس نے اپنی اولاد کی کوئ خوشی نہی دیکھی یہ بولتے ہوئے وہ علی کے سینے سے لگ کے سسک پڑی..
علی نے اسے باہنوں کے حسار میں لیا اور کہا…
شاہین میرا بھی کچھ حال ایسا ہی تھا اگر جہانگیر بھائ مجھے نہ بچاتے تو شاید میں اج زندہ نہی ہوتا..مگر الللہ نے جہانگیر بھائ کو وصیلہ بنایا انہی کی محنت اور جستجو سے آج میں لندن کا سب سے بڑا بزنس مین ہو… ورنہ کومے میں سے آنے کے بعد جب میں نے تمہاری تلاش شروع کی اور جب مجھے یہ پتہ چلا کے تم اس دنیا میں نہی تو جینے کی.کوئ وجہ ہی باقی نہ رہی..
اج اگر شاہین کی آنکھوں میں انسو تھے تو علی کی آنکھیں بھی داستاں بیان کررہی تھی…
شاہین اس کے سینے سے لگی رہی اور پھر تھوڑی دیر بعد گردن اٹھا کے پوچھا..
علی تم.نے شادی نہی کی ؟؟؟
شاہین کی بات سن کے علی نے پہہلے تو اسے گھورا اور ہھر اسے باہنوں میں اٹھا کے بیڈ پہ.لاکے لیٹایا اور اس پہ.
جھک.کے کہا.
پہلی بات میں شادی شدہ ہو دوسری بات کوئ ملی ہی نہی میری شرمیلی زندگی جیسی تیسری بات اب اگر میری بیوی چاہے تو میں دوسری شادی کر سکتا ہو..یہ بول کے علی نے جھک کے شاہین کے لبوں کو چھوا تو ایک بار پھر علی کی آنکھیں جھلک پڑی سالوں بعد وہ اپنی متاع حیات کے لبوں سے اپنی.پیاس بجھا رہا تھا جس سے اسکی روح تک سکون میں آگئ تھی…
تھوڑی دیر بعد جب اس نے شاہین کے.لبوں کو آزاد کیا تو اج بھی شاہین سالوں پہلے کی طرح بلش کررہی تھی مگر جیسے ہی کچھ یاد آنے پہ شاہین نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی اور علی.کو گھور کے کہا…
جان لے لونگی اگر دوسری شادی کا سوچا بھی…
شاہین کے ایسے بولنے پہ علی کو اس پہ توٹھ کے پیار آیا جسکا ثبوت اس نے ایک بار پھر شاہین پہ جھک کے دیا…
جاری ہے…
