Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
[ ] قسط نمبر33#
[ ] ماہ.کی.بات پہ سب کو ایک دم چپ.لگ گئ.. جبکہ ان سب سے بیگانی بیٹھی پری جو کے چاکلیٹ کھانے کے ساتھ ساتھ اپنے موبائل پہ مصروف تھی اور مستقل ناصر کی نگاہوں کے حصار میں تھی کہ اچانک اس نے ماہ سے بولا…………..
[ ] ماہ اپی اپ خاماخائ میں نازنین اپی کی طرف سے فکر مند ہورہی ہیں. اپ شاہ بھائ کو بھی تو دیکھیں اف کتنے سوئیٹ طریقے سے انہوں نے اپنی محبت حاصل کی ہے.اور دوسری بات انہوں نے نازنین اپی.کے ساتھ ٹائم پاس بھی نہی کیا سیدھا چٹ منگنی پٹ شادی والی اسٹوڑی کرررئییٹ کرہے ہیں…پری کی بات پہ جہاں سب نے اسے گھورا وہی شاہ نے تو باقاعدہ اسے اکے ہگ کیا اور کہاں شکریہ پری کم از کم تم تو میرے ساتھ ہو…اس نے ماہ کو دیکھتے ہوئے کہا…
[ ] شاہ کے دیکھنے پہ.اور پری.کی بات پہ ماہ.نے پری سے کہا…
[ ] پری اپ ابھی نازنین اپی کو صرف دو تین دونوں سے جانتی ہو ابھی اپ نے اسکا اینوسنٹ روپ دیکھا ہے میں نازنین کیساتھ پچھلے 6 سالوں سے ہو اسکا غصہ والا روپ یہاں کسی نے بھی نہی دیکھا.. پری اپکی نازنین اپی کو دھوکہ سے نفرت ہے اگر اسکو پتہ
[ ] چلا کے ان سب میں شاہ کیساتھ ہم سب شامل ہیں تو اپکو اندازہ نہی وہ ساری زندگی ہماری شکل نہی دیکھے گی یہ بول کے ماہ.نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا.. ,
[ ] ماہ.کو اس حالت میں دیکھ کے شان بول پڑا..
[ ] ماہ تم سکہ کا ایک پہلو دیکھ رہی ہو
[ ] تم.شاہ کی.محبت نہی دیکھ رہی اس نے کوئ غلط راستہ تو نہی چنا ڈائئریکٹ شادی کا پیغام لے کے جارہا ہے….شان کی بات پہ ماہ نے ایک دم سر اٹھایا اور شان کو دیکھ کہ کہا……
[ ] یہ بات اگر میں تم سے بولو کے تم بھی سکہ کا ایک پہکو دیکھ رہے ہو…
[ ] شاہ کا سوچ رہے ہو نازنین کا نہی جس سے محبت کی جائے اسے دھوکہ سے پانا کہاّ.کہ محبت ہے مسڑ شان..
[ ] can you tell Me????
[ ]
[ ] ماہ کی.بات سو فیصد ٹھیک تھی مگر شان بھی اپنی جگہ صحیح تھا.. دونوں کو ایک دم ہائپر دیکھ کے وہاں بیٹھے سب نفوس کو سانپ سونگھ گیا….
[ ] ارے یار تم لوگ اب لڑنے مت بیٹھ جانا ان دونوں کے دیکھ کہ.ایک دم شاہ بیچ میں بول پڑا….
[ ] شاہ کو بولتا دیکھ کہ ماہ بول پڑی…
[ ] شاہ.میرے بات کا مطلب غلط نہی تم خود سوچو جب اسے اچانک اسے پتا چلے گا کہ ہم سب تمہارے ساتھ ملے ہوئے ہیں..تو تمہیں اندازہ نہی وہ بہت کہرام مچائیے گی اور ایسا نہ ہو ہم سب سے دوستی ختم کردے….
[ ] ماہ کی بات پہ شاہ تو نگاہ جھکا گیا. جبکہ ناصر بول پڑا…..
[ ] یار ماہ دیکھو تم.اپنی جگہ اگر صحیح ہو تو غلط شاہ بھی نہی ہاں شاید اسکو پہلے نازنین کو کانفیڈنس میں لینا تھا مگر ماہ تم ہم سے زیادہ.نازنین کے نیچر سے واقف ہو..جو ہورہا ہے ہونے دو اگر ماہ.تمہاری دوست ہے تو شاہ کیا تمہارا دوست نہی…؟؟؟؟؟؟؟
[ ]
[ ] ارے یار چھوڑو میں منع کردیتا ہو پاپا کو بھی اور حامد بھائ.کو بھی.. اتنا بول کے شاہ جانے لگا تو پیچھے سے ماہ نے آواز دیکے روکا…..
[ ] روک جاو شاہ میں تمہارے ساتھ ہو ٹھیک ہے میں کچھ نہی بتاؤنگی نازنین کو مگر اگر کچھ گڑبڑ ہوئ تو ان سب کے ذمیدار تم.لوگ خود ہوگے…
[ ] ماہ کی بات سنتے ہی شاہ مسکرایا تو باقی سب نے بھی سکھ کا سانس لیا
[ ] کہ جبھی ازلان بول پڑا. یار اب جب اس نے جنگ چھیڑ ہی دی ہے تو جیتے گا بھی انشاءاللہ.ازلان بات پہ سب نے آمین کہا…
[ ] کہ جبھی نور اور حیدر سب کے ساتھ باہر اگئے….اج نور اور حیدر اپنے گھر جارہے تھے کیونکہ پانچ دن.بعد ازلان کی.مایوں تھی تو واپس اکے ان لوگوں نے تیاری بھی کرانی تھی….
[ ] حیدر اور نور ان کے بچے سب سے ملکر افریدی مینشن سے نکل گئے تو ناصر نےبھی سب سے ملکر اپنے گھر کی راہ لی……
[ ] سب کے جاتے ہی سب اپنے اپنے کمروں کی.طرف چل پڑے کل سے شادی کی تیاریاں اسٹارٹ ہونے والی تھی تو کام بہت زیادہ تھا اس لیہ سب نے جلدی سونے میں ہی.عافیت جانی
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نازنین ماہ.کے گھر سے ائ تو اسکی امی اور اسکے بھائ لان میں ہی مل گئے وہی تھوڑی دیر بیٹھ کہ نازنین اپنے کمرے کی طرف چل پڑی تو حامد جس نے اپنی ماں کو آفس والی ایک ایک بات بتا دی تھی اسکی ماں نے.اپنی بہن کا ذکر کیا کہ وہ زبان دے چکی ہیں تو حامد نے صرف اتنا کہا شاہ سے اچھا رشتہ ڈھونڈنے سے بھی نہی ملے گا اور میں اپکے اس نکمے بھانجے سے اپنی بہن کہ شادی خالی اپکی زبان پہ کرکے اسکی زندگی برباد نہی کرسکتا…..حامد کی بات سن کے اسکی امی خاموش ہوگئ……..
[ ] …………!………///========
[ ] نازنین ابھی بیڈ پہ لیٹی ہی تھی کہ دروازے کی نوکککک پہ ایک دم اٹھ کہ بیٹھ گئ اور کہا..
[ ] اجائے….
[ ] حامد کو اندر اتا دیکھ کہ نازنین نے کہا…
[ ] بھائ کوئ کام تھا تو مجھے بولا لیا ہوتا………
[ ] ارے نہی گڑیا کیا میں اپنی گڑیا سے باتیں کرنے نہی اسکتا..؟؟؟؟
[ ] ارے نہی بھائ اپ بولے کیا بات کرنی ہے اپکو…….
[ ] حامد نازنین کے پاس اکے بیڈ گیا اور اس کہا..
[ ] نازنین کل میںرے کچھ اسپیشل گیسٹ تمہیں دیکھنے ارہے ہیں لانچ پر بہت ڈیسنٹ فیملی ہے اور لڑکا بھی مجھے بہت پسند ہے…حامد کی بات سن کے نازنین نے بے یقینی سے اسے دیکھا اور کہا…….
[ ] بھائ مگر امی تو خالہ کو ہاں کرچکی ہیں اور میں نے بھی انکی ہاں میں ہاں ملائ.ہے………
[ ] نازنین تم نہ اماں کی فکر کرو نہ خالہ کی میں سب سنبھال لونگا بس تم یہ بتاؤ کہ تمہیں تو کوئ پسند نہی؟؟؟؟
[ ] حامد کے سوال پہ نازنین کے سامنے چھن سے کسی کا چہرہ ادھمکا مگر نازنین نے اپنے خیالوں کو جھٹکا اور کہا نہی بھائ ایسی کوئ بات نہی جیسا اپ کی مرضی ہو مجھے کوئ اعتراض نہی….
[ ] نازنین کی بات پہ.حامد نے اسکے سر پہ.ہاتھ رکھا اور کہاں… نازنین میری دعا ہے کہ تم.ہمیشہ خوش رہو….یہ بول حامد جیسے ہی کمرے سے نکلنے لگا کچھ یاد انے پہ پلٹا…..
[ ] وہ نازنین ….
[ ] جی بھائ……..
[x]
[ ] کل ماہ کو دوپہر میں بلوالینا اور اچھے سے لانچ کا اہتمام کرنا اور ہاں کل تمہارے لیہ ایک سرپرائز بھی ہے.. یہ بول کے حامد تو چلا گیا مگر نازنین کے لیہ سوچ کی ایک نئ راہ کھول گیا….
[ ] وہ خود سے ہی.مخاطب ہوکے بولنے لگی…یہ بھائ کل کس سرپرائز کی بات کررہے تھے…..
[ ] اس نے اپنی سوچ جھٹک کے ماہ.کو کال کی جو ایک ہی بیل پہ پک کرلی گئ..
[ ] کال پک ہوتے ہی.نازنین نے اپنے اور حامد کے درمیان ہونے والی ساری.باتیں ماہ کو بتادی اور ماہ.کو کل 12 بجے تک گھر انے کو بھی کہا….تھوڑی بہت باتوں کے بعد نازنین نے کال رکھی اور کل کے بارے میں سوچتے سوچتے سوگئ..
[ ] تو ادھر کل نازنین کے ریکشن کے بارے میں سوچ سوچ کے ماہ کی نیند اڑ گئ..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نعمان نے گھر اکے اپنی بیوی نیلم کو آفس میں ہونے والی ساری گفتگو انہیں بتائ تو وہ بھی بہت خوش ہوئ اور کل کی تیاری کرنے لگی
[ ] ….رات میں شاہ جب ماہ کے گھر سے ایا..تو نیلم نے اس کے ہنستے ہنستے اسکے کان کھینچے تو شاہ نے نیلم سے کان چھروائے اور کہا..
[ ] ماما اپکی بہو کم ہے کہ اپ بھی اپ مجھ پہ ظلم کرے شاہ کی بات سن کے نیلم ہنستے ہوئے نفی میں سر ہلاتی ہوئ کچن کی.جانب چل پڑی تو ادھر شاہ نے شان اور ناصر کو کل یونی کے اوف کا بول کے 1 بجے تک اپنے گھر پہنچنے کو کہا اور سونے کے لیہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا…………………
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] صبح ناشتے کی ٹیبل پہ ہر کوئ مصروف تھا.. دلاور اور جہانگیر اپنی بزنس کی باتوں میں لگے تھے تو نازو اور زلیخا مہندی کے فنکشن کا مینیو ڈیسائڈ کررہے تھے….
[ ] ازلان فائزہ کو یونی چھوڑنے کے لیہ. نکل چکا تھا تو عدنان بھی کالج جانے کے لیہ جلدی جلدی ناشتہ کررہا تھا ردا کی ابھی چھٹیاں تھی تووہ سو رہی تھی جبکہ ماہ کسی غیر معینہ نقط کو گھو رہی تھی اور بلکل رف حلیہ میں بیٹھی تھی…. جہانگیر اور دلاور آفس کے لیہ نکل چکے تھے اور زلیخا.اوپر اپنے کمرے کی طرف چل.پڑی کہ جب نازو نے ماہ سے پوچھا……
[ ] ماہ یونی نہی جاؤگی اج؟؟؟؟؟
[ ] نازو کی اواز پہ.ماہ ایک دم چونکی اور نازو سے کہا…
[ ] کیا چاچی کچھ کہا اپنے سوری میں نے سنا نہی….
[ ] ہاں ماہ میں یہ پوچھ رہی ہو یونی نہی.جاوگی.9 بج رہے ہیں….. ؟؟؟؟؟
[ ] نہی چاچی اج نازنین کی طرف جانا ہے مجھے کچھ کام ہے اس لیہ……
[ ] اوکے مگر ماہ تم.پریشان لگ رہی ہو مجھے کوئ بات ہے کیا…….؟؟؟؟؟؟
[ ] ارے نہی چاچی ایسی بات نہی بس میں نازنین کے گھر سے ہو اؤ تو پھر اپکو سب بتاتی ہو…
[ ] چلو ماہ جیسی تمہاری مرضی یہ بول کہ نازو تو اپنے کاموں میں لگ گئ جبکہ ماہ اٹھ کے اپنے کمرے کی طرف چل دی….ماہ کو کمرے میں لیٹے تھوڑی دیر ہی ہوئ تھی کہ اسے شاہمیر کی کال اگئ….
[ ] کال پک کرتے ہی شاہمیر نے کہا…… .
[ ] ماہ تم نے بعد کی اپنے پڑینٹس سے ؟؟؟؟؟؟
[ ] نہہی شاہمیر گھر میں ابھی ازلان کی شادی کی تیاریاں چل رہی ہے ابھی میں بات نہی کر سکتی شادی ہو جائے میں پھر کرتی ہو بات…..
[ ] ماہ بول کے چپ ہوئ تو تھوڑی دیر تک تو شاہمیر کچھ نہی بولا مگر بولا تو صرف اتنا…
[ ] اگر ماہ تم نے اپنے بھائ کی شادی کے بعد ایک ہفتہ کے اندر اندر بات نہی کی تو پھر بھول جانا مجھے…یہ کہہ کہ شاہمیر نے تو کال کاٹ دی مگر ماہ کو ایسا لگا کی.کسی نے اسکے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی.ہو….
[ ] ماہ بے یقینی سے موبائل کو دیکھ کے سوچنے لگی…کتنی اسانی سے شاہمیر نے اپنی محبت سے دستبردار ہونے کو کہہ دیا کیا اسے میری اواز سے اندازہ نہی ہوا کہ میں پریشان ہو..یااللہ میں میری ہریشانیوں کو کم کردے مولا…..اتنا سوچ کے ماہ نے اپنا سر اپنے ہاتھوں میں گرا لیا…….
[ ] تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور نازنین کے گھر جانے کی.تیری.کرنے لگی…………………..
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] شان بھی اج دیر سے اٹھا ناشتہ کہ ٹیبل پہ.جب وہ ایا تو نور نے ہوچھا….
[ ] شان اج یونی نہی جانا؟؟؟؟؟
[ ] نہی.ماما اج زرا کام سے جانا ہے.. اپ بتائے پاپا گئے.؟؟
[ ] ہاں بیٹا وہ تو صبح ہی چلے گئے اور پری ابھی سو رہی.ہے…ابھی وہ.لوگ باتیں ہی.کرہے تھے کہ ناصر کی اواز پہ وہ دونوں چونکے…
[ ] اسلام وعلیکم آنٹی کیسی ہییں اپ؟؟؟
[ ] میں الّلٰلہ کا شکر تم سناؤ بیٹا لائبہ کیسی ہے اور اپکی دادی ؟؟؟
[ ] سب تھیک ہیں اپ تو اتی ہی نہی انٹی ماما شکوہ.کرہی تھی اپ سے…
[ ] ہاں بیٹا بس وہ مصروفیات ہی.کچھ ایسی ہیں…..
[ ] اچھا اپ لوگ بیٹھو میں ناشتہ لگواتی ہو……
[ ] نہی.انٹی ناشتہ میں کرکے ایا ہو بس ایک کپ.کافی پیونگا……
[ ] نور ناشتہ لگانے کا بولنے کچن میں گئ تو ناصر نے شان کو دیکھا جو بہت گہری سوچ میں گم تھا.اسے سوچ میں دیکھ کے ناصر نے اس سے پوچھا….
[ ] کیا ہوا شان کیا سوچ رہا ہے؟؟؟؟؟
[ ] ناصر کے پوچھنے پہ شان نے نے ایک گہری سانس لی اور کہا…….
[ ] یار تجھے لگتا ہے کہ ہم تھیک کررہے ہیں خالی شاہ کا ساتھ دیکے نازنین کو ہم شاہ سے بھی پہلے سے جانتے ہیں تجھے نہی لگتا کہ نازنین سے ہم نے یہ چھپا کہ غلطی کی؟؟؟؟؟؟
[ ] یار بات تو تیری تھیک ہے مگر شاہ.کی نیت تو ٹھیک ہے اور تو نازنین کو بھی جانتا ہے.. اگر ایک طریقہ سے دیکھا جائے تو شاہ کا دل تو صاف ہے اور اسکی نیت بھی اگے اللہ مالک ہے جو ہوگا دیکھا جائے گا…….
[ ] ہاں یہ تو ہے چل تو بیٹھ میں زرا فریش ہوکے اؤ…. یہ بول کے شان تو اپنے.کمرے میں چلاگیا اور ناصر بڑی بے صبری سے اپنی دشمنِ جان کا انتظار کرنے لگا کہ تھوڑی دیر بعد وہ اسے اتی دیکھائ دی..
[ ] گہرے لال کلر کی شارٹ کرتی وائٹ پلازو اور وائٹ ہی ڈوپتہ لیہ بالوں کا میسی جورا بناے اپنے اپ میں مگن وہ ناصر کو اپنے دل کے بہت قریب لگی…..اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش جب پری نے محسوس کی تو نظر اٹھا کے اوپر دیکھا تو ناصر اسے ہی دیکھ رہا تھا..پری نےناصر کی انکھوں میں ایک الگ ہی چمک دیکھی تھی.. پری نے ہمیشہ ناصر کی انکھوں میں اپنے لیہ ایک ایسی ہی چمک دیکھی تھی مگر وہ ناصر کے ایسے دیکھنے سے ہمیشہ کنفیوز ہوتی تھی..
[ ] اس نے ناصر کو دیکھ کے سلام کیا…
[ ] اسلام وعلیکم ناصر بھائ کیسے ہیں اپ…. ؟؟؟؟
[ ] میں تو ٹھیک ہو تم سناو….
[ ] میں بھی فرسٹ کلاس یہ بول کے پری نے نور کو اواز لگائ……
[ ]
[ ] ماما جلدی سے ناشتہ دیے دے بہت بھوک لگی ہے… یہ بول کے پری اپنے موبائل میں مصروف ہوگئ.اور ناصر نے ہنستے ہوئے اپنی گردن نفی میں ہلائے…..
[ ] اور وہ شان کا ویٹ کرنے لگا.. شان کے ناشتہ کرنے کے بعد وہ پہلے یونی کی طرف نکلے پھر بعد میں شاہ کے گھر………
[ ] .!!!!!!!!!!*//
[ ] ماہ نازنین کے گھر پہنچی تو اسے نازنین کی امی اسے لان میں ہی مل گئ ان سے سلام دعا کے بعد وہ نازنین کا پوچھ کے اندر کی طرف چل پڑی.. اندر جاکہ جب اس نے نازنین کو دیکھا تو وہ پاگلوں کی طرح کچن میں لگی تھی ماہ کو ایک.بار شرمندگی نہ.ان گھیرا …
[ ] ماہ.نے نازنین کو اواز دی تو وہ.ایک.دم چونکی.اور اگے.بڑھ کے. ماہ کے گلے لگ گئ…
[ ] ماہ.نے.کچن میں پھیلی عمدہ.کھانے کی خشبو سونگھی تو ماں سے پوچھ بیٹھی…..
[ ] کیا کیا بنالیا کوکنگ ایکسپرٹ….
[ ] ماہ.کی.بات پہ نازنین مسکرائ اور کہا..
[ ] یار بریانی.. لزانیہ..اچار گوشت…رشین سلاد.. فیرنی اور کوفتے…
[ ] اور تو بتا اور کیا بناؤ ابھی تو ان لوگوں کے انے میں ایک.گھنٹہ ہے…..
[ ] نازنین کی.بات ماہ بولی….
[ ] ارے بس بس یہ بہت ہے اب تو جا فریش ہوجا میں کچن سمیٹ لونگی اور ہاں وہ جو ابھی ہم نے شاپنگ کے دوران پرپل سوٹ لیا تھا وہی پہنا اور بال کھلے چھورڑ دینا…ماہ کی بات پہ نازنین مسکرائ اور فریش ہونے چلی گئ تو ماہ باقی کا کچن سمیٹنے لگی….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ایک بجے کے قریب شان اور ناصر شاہ کے گھر پہنچے تو وہ بے چینی سے ان دونی.کا ہی ویٹ کررہا تھا..
[ ] ان دونوں نے جب شاہ کو ایسے دیکھا تو ہنس پڑے…..
[ ] ان دونوں کے اتے ہی وہ.لوگ نازنین کے گھر کی.طرف نکل پڑے…..
[ ] حامد نے شاہ.کی فیملی کا بہت اچھے سے استقبال کیا.. اور انکو لے کے ڈرائینگ روم.میں اگیا…
[x]
[ ] نازنین کی.امی سے نیلم کی امی بہت اچھے طریقے سے ملی نازنین کی امی.کو بھی وہ.لوگ بہت اچھے لگے…..
[ ] ……………..
[ ] حامد نے نازنین کے کمرے میں اکے ماہ کو بولا کہ وہ.لوگ اگئے ہیں نازنین کو لے اؤ… اور ماہ.کا دل کیا کہ کاش وہ اس منظر سے غائب ہوجائے…..
[ ] ماہ کیساتھ نازنین جب ڈرائینگ روم میں پہنچی تو وہاں شاہ.کو اسکی.فیملی.کیساتھ دیکھ کہ.لمحہ.بھر کے.لیہ.حیران.ہوئ مگر جب اس نے ناصر اور شان کو بیٹھا تو اسے ساری.کہانی سمجھ میں اگئ.. اس نے پلٹ کر بھیگتی انکھوں سے ماہ کو دیکھا اور پھر شان اور ناصر کو….شان اور ناصر نے جب نازنین کی بھیگتی انکھیں دیکھی تو ان دونوں کو احساس ہوا کہ.واقعی وہ بہت غلط کرگئے…
[ ] نازنین نے نیلم کو سلام کیا تو انہوں نے اسے اپنے برابر میں بیٹھالیا…اور نازنین کی.امی سے کہا…
[ ] باجی اپکی بیٹی کو میں اپنی بیٹی بنا کہ رکھونگی اب بےفکر ہوجائے…بس اب اپ نازنین مجھے دیے دے میرا شاہ نازنین سے بہت محبت کرتا ہے اسے کبھی کوئ تکلیف نہی دے گا… نیلم کی بات پہ نازنین نے اپنی بھیگتی انکھوں سے جب شاہ کو دیکھا. تو شاہ پل بھر کے لیہ سہم گیا…..
[ ] نیلم نے اپنے پرس میں سے سونے کے کڑے نکالے اور نازنین کے ہاتھوں میں پہنا دیے…
[ ] اور کہا..بس باجی اب اپ نکاح کی تیاری کرے ہمارے ہاں منگنی کی رسم نہی ہوتی…
[ ] ارے بہن اتنی جلدی مطلب کیسے.. امی.کی بات پہ.حامد بھی بول پڑا..ہاں نعمان سر اتنی جلدی کیسے ہوگا سب….
[ ] ارے حامد تم پریشان مت ہو بس بسمہ االہ کرو… حامد نے مسکرا کے حامی بھری تو ماہ.نے سب ک منہ میٹھا کرایا ماہ میٹھائ لے کی جب نازنین کے قریب ائ تو نہ صرف اس نے اسکا ہاتھ جھٹکا بلکہ اٹھ کہ اندر بڑھ گئ….
[ ] ماہ نے ایک شکوہ نگاہ شاہ پہ ڈالی اور نازنین کی طرف چل دی….
[ ] نازنین نے اندر اکے اپنے کب سے روکے انسو کو بہنے دیا….
[ ] ماہ نے جب کمرے میں ائ تو اس نے نازنین کو روتا دیکھ کے اس کے پاس ائ اور جب ماہ نے اس کندھے پہ.ہاتھ رکھا تو نازنین نے غصہ سے اسکا ہاتھ جھٹکا اور اس سے پوچھا…
[ ] ماہ کیا تم جانتی تھی کہ اج شاہ میرے گھر رشتہ لانے والا تھا….
[ ] ماہ کی چپ نے اسے بہت کچھ سمجھا دیا. ………………..
[ ] اس سے پہلے کہ ماہ کچھ بولتی حامد نے اکے اسے کھانا لگانے کا بولا..
[ ] کھانے لگاتے ہوئے ماہ نے بہت کوشش کی نازنین سے بات کرنے کی مگر نازنین نے اسکی طرف دیکھنا بھی گورا نہی.کیا .
[ ] کھانا ایک.اچھے ماحول.میں کھایا گیا
[ ] سب نے ہی کھانے کی تعریف کی مگر نازنین اج چپ تھی اس نے ایک نگاہ بھی شاہ کی طرف نہی دیکھا…
[ ] اور یہ بات شان اور ناصر نے نوٹ کی…
[ ] کھانا کھانے کے بعد جب نازنین کچن میں ائ تو شان ناصر اور ماہ بھی.کچن میں اگے. انہوں نے دیکھا کہ نازنین مستقل رورہی ہے اور غصہ میں کچن سمیٹ رہی ہے…
[ ] ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا کہ جبھی…
[ ] شان نے نازنین نے سے کہا نازنین ہماری باتتتت ابھی شان کی بات منہ میں ہی تھی کہ نازنین غصہ سے پلٹی اور کہا..
[ ] ششششششش بلکل چپ… کوئ بات نہی.کرنی مجھے تم لوگوں سے اور مجھے لگتا ہے اب تم لوگوں کا یہاں انے کا مشن پور ہو چکا تو برائے مہر بانی اپ لوگ تشریف لے جاسکتے ہیں.نازنین نے یہ بول کے بے دردی سے اپنی انسو صاف کیہ اور پھر اپنے کام میں لگ گئ..ماہ.کچھ بولتی تو شان نے اسے اشارہ سے منع کیا اور وہ.لوگ کچن سے باہر اگئے.. شاہ نے جب ان لوگوں کی اتری شکل دیکھی تو وہ سمجھ گیا.معملہ بہت سنگین ہے…
[ ] تھوڑی دیر وہ.لوگ بیٹھ کے چلے گئے تو ماہ بھی شان کیساتھ اپنے گھر کی طرف چل پڑی……….
[ ] سب کے جانے کے بعد جب حامد نے نازنین سے اسکی.مرضی پوچھی تو اس نے فیصلہ حامد پہ ہی چھوڑ دیا…حامد نے خوش ہوکے نازنین کو گلے سے لگالیا………
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ااگلے دن جب وہ سب یونی.پہنچے تو ماہ نے شاہ.کو بہت سنائ.اور شاہ.کو بھی احساس ہوا کہ اسے پہلے نازنین سے بات کرنی چاہہے تھی.. ماہ.نے نازنین.کو بہت کال کی مگر اس نے ایک بھی پک نہ کی وہ.لوگ خاموشی سے کلاس کی طرف چل پڑے وہ.لوگ جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اج نازنین نہی.ائے گی مگر وہ انہیں کلاس میں ہی بیٹھی دیکھ گئ مگر اپنی سییٹ پہ نہ کسی اور سیٹ پہ ماہ.کو بہت دکھ ہوا..
[ ] کلاس شروع ہونے والی تھی.اس لیہ.ماہ.خاموشی سے اپنہ سیٹ پہ بیٹھ گئ..
[ ] لیکچر کے دوران شاہ کی.کئ بار نظریں نازنین پہ پڑی مگر ہر بار اسکی نگاہیں ناکام لوٹی کیونکہ پورے لیکچر کے دوران وہ گردن جھکا کے بیٹھی رہی…..
[ ] نازنین نے ان چاروں کو بلکل.اگنور کیا ہوا تھا….
[ ] لیکچر ختم.ہوتے ہی نازنین جیسی ہی کلاس سے نکلنے لگی تو ماہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا دو منٹ پلیز میںری بات سن لو. ..کلاس میں اسٹوڈینٹ ہونے کی.وجہ سے نازنین خاموش کھڑی رہی..
[ ] شاہ نے شان کو ٹیکس کیا کہ.میں بس ابھی ارہا ہو تو نازنین کو جانے مت دینا….
[ ] کلاس خالی ہونے کے بعد نازنین نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ ماہ سے چھڑواکے جیسی ہی اگے بڑھنے لگی..
[ ] کہ ماہ نے کہا روک جاؤ نازنین تمہیں ہماری دوستی کی قسم.
[ ] .ماہ.کا ایسا بولنا تھا. کہ نازنین ایک جھٹکے سے موڑی اور ماہ کے قریب ائ..اور کہا…
[ ] دوستی کی باتیں تم جیسوں کے منہ سے اچھی نہی لگتی..ماہ بی بی…
[ ] نازنین کا ایسا بولنا تھا کہ.ماہ کے انسو جاری ہوگئے..اس نے بے یقینی سے نازنین کی طرف دیکھا..اس سے پہلے ماہ.کچھ بولتی شان بول پڑا..
[ ] نازنین تم.ہماری بات تو سنو یار شاہ بہت مجبت کرتا ہے تم سے یار…
[ ] ایسا بولنا تھا کہ.نازنین پھٹ پری..
[ ] shah.shah what the hell is shah….
[ ] کیا محبت محبت لگا رکھا ہے تم لوگوں نے بھاڑ میں گئ اس الو کے پٹھے کی محبت… نازنین نے چیخ کے کہا..
[ ] نازنین کو چیختا دیکھ کے ناصر بول.پڑا.
[ ] نازنین ہم تمہارے دوست ہے تم سمجھو یار اگر شاہ تم سے ڈائیرکٹ بات کرتا تو کیا تم.مانتی….ناصر کی بات پہ نازنین نے اسکی بات کاٹی….
[ ] ایک منت مسٹر ہم دوست ہیں نہی.دوست تھے اج کے بعد میرا کوئ دوست نہی تم.لوگوں نے کل کے ائے ہوئے کے پیچھے میرا اعتبار توڑا ہے میری دوستی کا مزاق بنایا ہے اج کے بعد بھول جانا کی نازنین نام کی تمہاری کوئ دوست تھی.. یہ بول.کے نازنین ماہ.کی طرف مڑی اور کہا..ماہ.تم تو میری بہن تھی نہ تم.نے شاہ.کا ساتھ دیتے ہوئے ایک بار بھی میرا نہی سوچا ایک پل.میں میںری دوستی کا اعتبار توڑ دیا…
[ ] نازنین کی اواز رونے سے بہت بیٹھ گئ تھی…..
[ ] نازنین بول کے چپ ہوئ کے جبھی پیچھے سے شاہ کی اوازائ.
[ ] نازنین ان لوگوں نے یہ سب میںرے کہنے پہ.کیا ان لوگوں کی کوئ غلطی نہی…..پلیز تم.میری وجہ سے اپنی دوستی خراب نہی کرو… شاہ کا ایسا بولنا تھا.
[ ] کہ نازنین نے اپنی.انکھیں اور مٹھیاں زور سے بند کی اور پلٹ کے شاہ.کہا…
[ ] بہت شوق ہے نہ محبت کرنے کا
[ ] کمال ہے ایک ہفتہ میں تمہیں مجھ سے محبت یوگئ اپ. کو تو اوارڈ ملنا چاہیے نازننین نے شاہ سے کہا..مجھے نہی پتہ میرے بھائ کو کیا تسلیاں دی تم.نے مگر یاد رکھنا مسڑ سرور شاہ میں نے ہاں صرف اپنیے بھائ کی وجہ سے کہ ہے…میری دوستی چھینی ہے تم.نے میرے اعتبار کی دھجیاں اڑائ.ہے تم.نے اس کی قیمت تم.کو چکانی پڑے گی.. یہاں کسی سے اپنی.محبت تو سنبھالی جاتی نہی چلے ہیں دوسروں کو ساتھ دینے نازنین نے کھلم کھلا شان اور ناصر پہ طنز کیا…
[ ] ااور ایک بات یاد رکھنا تم سب…
[ ] تم سب کے لیہ نازنین مر گئ..
[ ] یہ بول.کے نازنین کلاس سے بایر نکل.گئ تو ماہ صدمہ کی حالت میں سیٹ پہ ہی گر گئ جبکہ ایسا ہی کچھ حال شان اور ناصر کا بھی تھا جبکہ شاہ نے اپنی انکھیں کرب سے بند کی…
[ ]
[ ] جاری ہیے
