Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 42 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 42 Part 2
قسط نمبر42(پارٹ 2)
ناصر ڈورتا ہوا ناشتہ کی.ٹیبل پہ پہنچا.. تو جمال جو چائے پی رہا تھا فورا سنبھلا اور کہا….
کیا ہوا برخوردار اتنے پریشان کیوں ہو؟؟
بابا اپ کل حیدر انکل کے گھر چل رہے ہیں پری کیلیے میرا رشتہ لینے؟؟؟
ناصر کی بات سن کے جہاں جمال کا قہقہ ٹیبل پہ گونجا وہی لائبہ بھی مسکرا اٹھی اورایک بار جمال اسکی ہنسی دیکھ کے اپنے دل کی.کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا..
جمال اور لائبہ کی شادی کو 24 سال ہوگئے تھے مگر جمال نے کبھی لائبہ کو دیکھ کے ایسا محسوس نہی کیا جیسا وہ کچھ دنوں سے کررہا تھا..اب جمال کو کون سمجھائے کہ اس نے کبھی لائبہ کو بیوی سمجھا ہوتا اسکو کسی بھی قسم.کا کوئ سکون دیا ہوتا. تو شاید اسے اج لائبہ کو ہنستا دیکھ کہ عجیب نہی لگتا…
“خالی پیسوں سے ہم ہر رشتہ کی زمیداری پوری نہی کرسکتے. کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنکو پیسوں سے زیادہ ہمارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے.”مریم#
ناصر نے جب ان دونوں.کو ہنستہ دیکھا تو منہ بنا کے ٹیبل پہ بیٹھ گیا…جمال نے جب اسکی سڑی ہوئ شکل دیکھی تو پوچھا….
تم نے تو ایک مہینے کا ٹائم لیا تھا نہ تو پھر ایک ہفتہ میں ایسا کیا ہوگیا جو ہم کل ہی اسکے گھر رشتہ لے کر جائے؟؟؟
جمال کی بات پہ ناصر نے ابھی کچھ دیر پہلے نور کی فون کال کا حال احوال سنا دیا…
ناصر کی بات سن کے جمال نے کہا….
ٹھیک ہے ناصر ہم.کل رشتہ لے کر چلتے ہیں مگر تمہیں نہی لگتا کہ تمہیں اج پری سے بات کرنی چاہیے یہ پھر اسکی مام سے ؟؟؟
بقول تمہارے وہ ایک سوفٹ نیچر کی خاتون ہیں…
جمال کی بات جہاں لائبہ کو درست لگی…وہی ناصر کو بھی..
ناصر نے صرف جوس کا گلاس لیا اور تیزی سے اپنی گاڑی کی چابی اٹھائ اور باہر کو نکلنے لگا کہ جبھی لائبہ نے اسے آواز دے کے پوچھا…
ارے ناصر ناشتہ تو کرتے جاؤ اتنی تیزی میں کہاں جا رہے؟؟
ابھی تو ٹائم ہے یونی جانے میں…
ناصر لائبہ کی بات پہ پلٹا اور الٹے قدم اٹھتے ہوئے کہا…
مام اپنےہونے والے سسرال…
یہ بولے کے جہاں ناصر تیزی سے باہر نکلا…
وہی لائبہ کا قہقہ اج پہلے بار جمال مینشن میں گونجا..مگر اسکے قہقہ کو بریک جمال کو دیکھ کے لگا جو چائے پیتے ہوئے بھر پور طریقے سے اسے گھو رہا تھا…
جمال کے ایسے دیکھنے سے لائبہ کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ اور وہ نروس ہوکے دل میں سوچنے لگی…
ہائے الللہ یہ آج مجھے اتنا گھور کیوں رہے ہیں…..؟؟؟
جمال نے اپنی چائے ختم کی کرسی سے اپنا کوٹ اٹھا کے لائبہ کے پاس سے جانے لگا تو لائبہ بھی اپنی اسٹک کی مدد سے کھڑی.ہوگئ تاکہ جمال کو گیٹ تک چھوڑ سکے…
مگر جمال نے اسے بیٹھنے کو کہا…
جمال کے کہنے پہ لائبہ بیٹھی تو جمال اسکے چہرے پہ جھکا اور اپنے لبوں سے اسکے گال کو چھوا اور کہا…
تمہاری اسمائل بہت خوبصورت ہے. ..
یہ بول کے جمال تو چلا گیا…مگر جمال کے جاتے ہی لائبہ کا ہاتھ بے ڈھرک اپنے دل پہ گیا اور چپکے سے ایک آنسو اس کی آنکھ سے بہہ نکلا…
اس کو یقین ہی نہی آیا کہ اج اتنے سالوں بعد اسکے شوہر نے اسکی فکر کی اور اسکو صاف دل سے پیار کرکے اسکی تعریف کی. ..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
شان نازنین کب سے ناصر کا ویٹ کرہے تھے مگر وہ.ہے کہ آکے ہی. نہی.دے رہا تھا…
کہ جبھی نازنین جو بہت غور سے شان کے چہرے پہ کل کی ازیت کے نشان ڈھونڈ رہی تھی مگر سوائے ناکامی کے اسے اور کچھ نہی ملا..پوچھ بیٹھی….
شان واقعی تمہیں دیکھ لوگے ماہ کو کسی اور کا ہوتے ہوئے..؟؟؟
ناذنین کے اچانک سوال پہ پہلے تو شان چونکا مگر پھر اپنے چہرے پہ مسکان لاتے ہوئے. نازنین کے سوال کے جواب میں کہا…
“جانے والوں کو راستہ دینا چاہیے
واسطہ نہی”
اور پھر کس بات کا غم مناو نازنین میں نے کبھی اس سے کہی ہی نہی اپنے دل کی بات…..
ہاں مگر شان تمہاری آنکھیں تمہارے دل کا عکس ہیں..
جس میں صرف ماہ رخ ہے…..
مگر نازنین جسکا عکس ہے وہ تو نہی دیکھ پائ نہ تو پھر گلہ کیسا…
نازنین کچھ اور بولتی اس سے پہلے شان کے موبائل پہ ناصر کی.کال آنے لگی…..
شان نے کال ریسو کی اور تھوڑی دیر بات کرکے کال کٹ کی تو نازنین نے پوچھا…
کس کی کال تھی شان؟؟
ارے ناصر کی تھی کہہ رہا ہے اج یونی دیر سے آے گا..
چلو پھر ہم کینٹین چلتے ہیں کیونکہ اج تو صرف دو ہی.لیکچر ہیں….
ہم چلو یہ بول کے نازنین اگے چلنے لگی کہ جبھی شان نے اس سے پوچھا…
ماہ کا ویٹ نہی کروگی؟؟؟؟
شان کے جواب پہ نازنین مسکرائ اور کہا….وہ یونی آچکی ہے شان اور ہمیشہ کیطرح گارڈن میں شاہمیر کیساتھ ہے….
یہ بول کے نازنین.اگے بڑھی تو شان بھی گردن جھکا کے اسکے ساتھ چلنے لگا…
نازنین نے جب شان کو یو گردن جھکا کے چلتا ہوا دیکھا تو افسوس سے دل میں کہا….
کاش شان کو اسکی.محبت مل جائے…..
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
ازلان فائزہ کیساتھ..ہی ماہ یونی آئ تھی ازلان نے کل رات ہی اسے بول دی تھا کہ وہ.اسے یونی چھوڑ دے گا ناشتہ کے وقت بھی زلیخا سب کو کچھ نہ.کچھر سرف کرہی تھی مگر ماہ کو نہ تو اس نے دیکھا اور نہ کچھ دیا یہ بات جہاں ازلان نے نوٹ کی وہی فائزہ نے بھی نوٹ کی…
گاڑی کی خاموشی کو فائزہ نے توڑا اور سامنے دیکھتے ہوئے کہا….
لوگ نند بن کے زیادہ خاموش رہنے لگے ہیں.. ؟؟
فائزہ کی بات کا اشارہ کس طرف تھا جہاں ازلان سمجھ گیا تھا وہی ماہ بھی سمجھ چکی جبھی مسکراتے ہوئے فائزہ سے کہا…
“تم بھابھی نہی بہن ہو میری کچھ طبیعت ایسی ہے اس لیہ بولنے کا دل نہی چارہا…
یہ بول کے ماہ ایک بار پھر چپ ہوگئ جبکہ ازلان نے بیک مرر سے پیچھے بیٹھی اپنی اس بہن کو دیکھا جو کوئ بھی موقع خاص کر جب ازلان اور فائزہ ایک ساتھ ہوتے تھے ان دونوں کی ٹانگ کھینچنے کا ہاتھ سے نہی جانے دیتی تھی مگر کیوں اج اسکی خاموشی ازلان کو کسی بہت بڑے طوفان کا پتہ دے رہی تھی…
¤¤¤¤¤¤¤
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی ماہ نے شاہمیرکو ٹیکس کردیا تھا کہ اسے اس سے ضروری بات کرنی ہے ..گارڈن میں اکے ملے.. اور ساتھ میں نازنین کو بھی کے وہ تھوڑی دیر بعد ان لوگوں کو جوائن کرے گی ابھی گاڑدن میں شاہمیر سے اسے کام ہے…
ماہ کو شاہمیر کا ویٹ کرتے ہوئے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا کہ تبھی وہ اسے آتا ہوا دیکھائ دیا….
شاہمیر ماہ کے برابر میں ہی اکے بیٹھ گیا اور کہا..ہاں بولو کیا ضروری بات کرنی تھی…. ؟؟
ماماکو پتہ چل گیا ہے ہمارے ریلیشن کا اس لیہ تم اس ویک اینڈ پہ اپنی گھر والوں کیساتھ رشتہ لے کے آجاؤ….
ماہ کی بات سن کے شاہمیر کے لبوں پہ شیطانی مسکراہٹ اگئ مگر اس نے کمال کی.ایکٹنگ کرتے ہوئے ماہ سے ہوچھا….
مگر ماہ انہیں کیسے پتہ چلا ہمارے ریلیشن کا؟؟؟؟
تم.نے اس دن جب میں تمہارے فلیٹ پہ آئ تھی جو کال کی.تھی میرے نمبر پہ وہ ماما نے اٹھائ تھی…..
اوہ ہو ماہ آئ ایم سو سوری مجھے اندازہ نہی تھا کہ وی.کال تمہاری مام نے ریسو کی تھی.. افف ماہ میں نے تو بہت کچھ کہا تھا ..شاہمیر نے بے غیرتی سے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا……
ماما بہت ناراض ہیں مجھ سے شاہمیر بات تک.نہی کرہی مجھ سے.. یہ بول کے ماہ رونے لگی تو شاہمیر. ے اسے دلاسے دینے کے لیہ جان بوجھ کے گلے لگایا.. ماہ اس کے لگ کے رونے لگی.مگر فورا ہی اس سے الگ ہوئ..
اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اس نے کہا…
تم کب لا رہے ہو پھر اپنی بی جان کو میرے گھر.؟؟؟
شاہمیر نے کچھ سوچتے ہوئے اس سے کہا….
ہمم اس سنڈے کو لے آونگا تم بول دو اپنی ماما کو…..
اوکے اب میں چلتا ہو کلاس ہے میری یہ بول کے شاہمیر جیسی ہی جانے کے لیہ کھڑا ہوا درخت کے پیچھے چھپا نفوس تیزی سے وہاں سے ہٹ گیا…
اور اپنے آنسو بے دردی سے رگڑ دالے….
¤¤¤¤¤¤¤¤¤
نور جو کچن میں مصروف تھی. کہ جبھی ملازمہ نے اسے ناصر کے آنے کی.اطلاع دی…
ناصر کے آنے کا سن کے نور کے لبوں میں اپنی جیت کی.مسکراہٹ اگئ..مگر اس نے باہر جانے سے پہلے نازنین کو ٹیکس کیا..
mission is complete i won the battt
یہ بول کے نور باہر ناصر کی طرف چل پڑی..
کینٹین میں بیٹھی نازنین نے جب موبائل کی بپ پہ موبائل چیک کیا اور نور کا جب میسج پڑھا تو اسکی آنکھیں حیرت سے کھل گئ اس نے فورا ریٹرن میسج سینڈ کیا…
مگر کیسے. ..
پانچ منٹ تک اس نے نور کے ریپلائ کو ویٹ کیا.مگر جب جواب نہی آیا تو وہ سمجھ گئ کے واقعی آنٹی مصروف ہیں…
¤¤¤
نور نے کمال کی حیرانگی کا مظاہرہ کرتی ہوئ ناصر کے پاس ڈرائینگ روم تک پہنچی اور کہا…
ارے ناصر تم یہاں اس وقت یہ تو تمہارا یونی کا ٹائم ہے نہ. …؟؟
نور کے سوال پہ پہلے تو ناصر نے اپنا پسینہ صاف کیا اور اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے نور سے کہا…
وہ آنٹی.. می..اج…ا..پ.سے .میرا مطلب ہے کہ میں کچھ کہنا آیا ہو اپ سے…
نور اس کے.لہجے کی.ہچکچاہٹ سمجھ گئ تھی اس لیہ ناصر کو کہا…
ناصر جیسے میں شان کی مما ہو ویسے ہی تمہاری مما بھی صاف صاف بنا ڈرے تم مجھ کہو..جو کہنا ہے…؟؟
نور کی بات پہ.ناصر کو تھوڑی ہمت ملی اور اس نے کہا.
انٹی میں پری سے بہت محبت کرتا ہو. اس کے بغیر نہی رہ سکتا پلیز اسکی شادی کسی حماد تماد سے مٹ کرے.. پلیز میں مرجاونگا. پری کے بنا…یہ بول کے ناصر نے فورا اپنی آنکھیں بند کرلی..
جبھی نور کا قہقہ پورے ڈرائینگ روم.میں گونجا…نور کے قہقہ سن کے ناصر نے پٹ اپنی آنکھیں کھولی اور حیران نظروں سے نور کو دیکھا….
نور نے جب ناصر کو اپنے اپ کو ایسے دیکھتے دیکھا تو فورا اپنے قہقہ پہ قابو پایا اور کہا….
یہی سب تو تمہارے منہ سے سننے کے لیہ میں نے یہ ناٹک کیا تھا حماد والا…میں نے ازلان کی برات والے دن تمہاری اور نازنین کی باتیں سن لی تھی ارے حماد انگیجڈ ہے اور بہت جلد اسکی شادی ہونے والی ہے پری تو اسکے لیہ اسکی چھوٹی بہنوں کی طرح ہے….
نور کی بات سن کے ناصر کو کافی.حیرانگی ہوئ اور اس نے ناصر سے کہا..
بیٹا میری پری بہت معصوم ہے اس کو کبھی.کوئ دکھ نہی دینا اور ہاں تم کل اپنے پیرینٹس کو لاسکتے ہو…
..
نور کا ایسا بولنا تھا کہ ناصر اٹھ کے نور کے قدموں میں بیٹھ گیا اور کہا…
آنٹی تھینکیوں سو مچ اپ نہی جانتی اپ نے اج زندگی کی.نوید سنائ ہے مجھے اپ سے وعدہ ہے میرا کہ اپنے سانسیں دیکے بھی اگر مجھے پری کی حفاظت کرنی پڑی تو وہ بھی کرونگا.. یہ بولتے ہوئے جہاں ناصر کی آنکھیں بھیگی وہی نور کی بھی آنکھیں خوشی سے جھلک پڑی اس نے اگے بڑھ کے ناصر کا.ماتھا چوما.
مگر ناصر نے ایک دم پریشان ہوکے اس سے کہا……
مگر آنٹی شان.کو میں سب کیسے بولونگا مطلب اپ سمجھ رہی ہے نہ؟؟؟؟
تم بے فکر رہو ناصر میں اج اس سے بات کرونگی اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ خوش ہوگا مگر پری سے تم خود بات کروگے اسے اپنے دل کا حال تم خود سناوگے…
جی آنٹی اپ بے فکر رہے اب میں چلتا ہو…
اوکے بیٹا….
ناصر جیسے ہی جانے لگا ایک دم مڑ کے نور کے گلے لگا اور اسکے گال پہ پیار کرکے کہا…
i love you mom
یہ بول کے ناصر تیزی سے باہر نکل گیا..تو ادھر نور کو بھی ناصر کا موم کہنا بہت اچھا لگا…
¤¤¤¤¤¤¤¤
رات میں ماہ نے زلیخا کو بتایا کہ شاہمیر اس سنڈے اپن فیملی کے ساتھ ارہا ہے…
تو زلیخا نے یہ بات جہانگیر کو اسطرح بتائ کے یونی کا کوئ.لڑکا.ماہ کو پسند کرتا ہے اور اپنے پیرنٹس کے ساتھ اس سنڈے کو آرہا ہے..جہانگیر کو پہلے تو بہت حیرانگی ہوئ مگر پھر ماہ کی خوشی کی خاطر وہ مان گیا….
¤¤¤¤¤
تو ادھر نور نے جب حیدر کو ناصر کی پسند کا بتایا تو اسے بھی بہت خوشی ہوئ اور اسے بھی پری کیلیے ناصر ایک دم پرفیکٹ لگا
یہ بات جب نور نے.شان سے کی تو شان بہت غصہ ہوا اس وجہ سے نہی کہ اس نے پری سے محبت کی بلکہ اس وجہ سے کہ اس نے یہ بات سب سے شئیر کی سوائے میرے کیونکہ نور اسے یہ بات بتا چکی تھی کہ اس کے علاوہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ناصر پری سے محبت کرتا ہے…
¤¤¤¤¤
نور نے افریدی .مینشن میں کال کرکے کل آنے کو کہا…
نور نے سارے کام نبٹائے پھر اسکا رخ پری کے کمرے کی طرف تھا….
نور نے ہلکا سا ناکک کرکے پری کے روم مہں جھانکا تو وہ عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی…نور وہی صوفے پہ بیٹھ کے پری کے فارغ ہونے کا ویٹ کرنے لگی..
پری نماز سے فارغ ہوئ تو نور کو مسکرا کے دیکھا اور اسکی گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گئ…
نور آہستہ آہستہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی تو پری نے آنکھیں موند لی…
کے جبھی نور نے اپنی بات کا آغاز کیا..اور کہا….
پری اپنے کیا سوچا ہے اگے ؟؟؟
ماما ابھی تو بس اسٹڈی کی ہی سوچیں دماغ میں گھومتی.رہتی ہیں کچھ اور کیسے سوچو …
پری.نے اتنی معصومیت سے کہا کہ نور کے لبوں پہ مسکراہٹ اگئ نور نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا…
میرا مطلب ہے کہ.کوئ پسند وسند نہی اپکو مطلب کوئ لڑکا جسکے ساتھ اپ اپنی پوری لائف بیتانا چاہتی ہو….
نور کی بات سن کے پری ایک جھٹکے سے اسکی.گودھ سے اٹھی اور کہا….
ماما اپکو لگتا ہے اگر میں کسی کو پسند کرتی تو کیا اپ سے یہ پاپا سے چھپاتی… ؟؟؟
ایسی کوئ بات نہی ہے ماما مگر اپ اچانک یہ سب کیوں پوچھ رہی ہے….؟؟؟
پری کی بات سن کے نور نے ایک لمبی سانس لیی اور ناصر کے بارے میں سب بتا دیا….
یہ سب سن کے پری حیران نہی.ہوئ بلکہ دوبارہ نور کی.گودھ میں سر رکھ کے لیٹ گئ…نور نے حیران نظروں سے پری کو دیکھا اور کہا..
پری اتنی.بڑی بات پہ اتنا ٹھنڈا ریکٹ؟؟؟؟؟؟؟
اوہ کم اون مام میں بہت پہلے ناصر کی آنکھوں کا پیغام سمجھ چکی ہو اس دن مال میں ہوئے بلاسٹ کے بعد جسطرح ناصر نے ریکٹ کیا تھا مام کوئ بیوقوف ہوگی جو نہ سمجھتی مگر مام ناصر کی خاموشی کو دیکھ کے میں کچھ بھی فیصلہ نہی کر پائ اور چپ چاپ اپنے جزبات دبا دیے….
دیکھو پری کل ناصر اپنی فیملی کیساتھ تمہارا ہاتھ مانگنے آرہا ہے پری تمارے پاپا شان سب ہی اس فیصلے سے بہت خوش ہیں مگر ہمارے نزدیک تمہاری خوشی کی اہمیت زیادہ ہے… تم.بتاو کیا تمہیں ناصر کا ساتھ قبول ہے ہمیشہ کیلیے. ؟؟؟.
نور کی بات پہ پری کے لبوں پہ.ایک حسسین مسکراہٹ اگئ جو نور سے نہ چھپ سکی نور نے جھک اسکی پیشانی چومی…مگر پری ایک جھٹکے سے اٹھی اور نور کو کہا..
مگر مام مجھ سے تو ناصر نے ایسی کوئ بات نہی کی….؟؟؟
ہاں پری وہ شرمیلا اتنا ہے اور اگر میں حماد والا ڈرامہ نہ.کرتی تو…پھر نور نے پری.کو حماد والے ڈرامہ کا اور اس پر جب ناصر کو ریکشن بتایا تو پری ہنس ہنس کے پاگل.ہوگئ….اور یہ بھی بتایا کہ خالی شان کی دوستی کے اعتبار نہ توٹے اس وجہ سے وہ اب تک خاموش محبت کرتا رہا…
پری ناصر کی آنکھوں میں میں نے تمہارے لیہ وہی محبت وہی عزت دیکھی ہے جو تمہارے پاپا کی.آنکھوں میں میرے لیہ ہے…
بس دعا ہے کہ الللہ میری شان کی بھی مشکلات اسان کردے….
شان کا ذکر آتے ہی پری بھی افسردہ ہوگئ اور نور سے کہا…
ماما میں اپکے فیصلے پہ خوش ہو مگر اپ ناصر کو یہ ہی.بولینگی کے اپ کی وجہ سے میں نے ہان کی ہے…
پری کی بات سن کے نور نے ہنس کے اسے گلے لگایا اور پری کی کمرے سے باہر چلی گئ…
جبکہ نور کے جاتے ہی پری کے لبوں پہ ناصر کا سوچتے ہی ایک حسین مسکراہٹ اگئ..
¤¤¤¤¤¤¤
صبح ناشتہ کی ٹیبل پہ جہانگیر نے اماں جان کو جب یہ بتایا کہ ماہ کو دیکھنے کچھ لوگ سنڈے کو آرہے ہیں لڑکے نے یونی میں ماہ کو پسند کیا ہے تو اماں جان نے ہنس کے زلیخا کی طرف دیکھا اور طنزیہ کہا…
اب جب اماں نے پھسایا ہے تو بیٹی بھیب تواسکے نقش قدم.پہ.چلے گی….
اماں جان کا طنز تھا یہ.کچھ اور جہاں زلیخا نے کرب سے اپنی آنکھیں بند کی وہی ازلان بھی غصہ میں اٹھ کے اپنے کمرے میں چلا گیا اور ماہ کا تو وہ حال تھا جیسےاسے کسی نے تپتے صحرا میں کھڑا کر دیا ہو….
¤¤¤¤¤¤¤¤
نور کے گھر سب ہی پہنچ گئے تھے ..جہانگیر اور حیدر فلحال لانج میں بیٹھ کے ناصر کی فیملی کا ویٹ کررہے تھے مگر جہانگیر کو خاموش دیکھ کے حیدر نے اس سے پوچھ لیہ…
کیا بات ہے جہانگیر تو پریشان لگ رہا ہے.. ؟؟؟؟
جہانگیر نے حیدر کی بات پہ.ایک لمبی سانس لی اور کہا…
حیدر تجھے ایک بات بتانی تھی مگر تو وعدہ کر اسکی وجہ سے تو ناصر کو جج نہی کریگا….
جہانگیر میں وعدہ کرتا ہو تو بتا کیا بات ہے….؟؟
ناصر کے باپ جمال اور کوئ نہی زلیخا کا تایازاد ہے….
کیا مطلب یہ وہی ہے جس نے زلیخا بھابھی کی عزت….. اگے کی بات حیدر بول نہی پایا مگر جہانگیر نے اس سے کہا…
ہاں یہ وہی ہے مگر حیدر ناصر میں اور اسکے باپ میں زمیں اسمان کا فرق ہے تو خالی اس بات کو لے کے ناصر کو جج نہی کرنا….
ہمم پتہ ہے یار مجھے بھی ناصر کا تو ٹینشن مت لے مگر خوشی ہے کے تونے یہ بات مجھے بتائ….
ابھی وہ.لوگ بیٹھے ہی تھے کے ناصر اور اسکی فیملی بھی آگئے اور ساتھ میں نیلم اور نعمان بھی شاہ کو انےمیں ابھی وقت تھا…
ماہ اور نازنین جو نور کا ہاتھ بتا رہی تھی.. نور کے کہنے پہ پری.کو ریڈی کرنے چلی گئ…
جہانگیر جمال سے اگر صحیح سے ملا تو جمال نے بھی کوئ بدمزگی نہی کی…باتوں باتوں کے درمیان جمال نے اپنے انے کا مقصد بتایا تو حیدر نے بھی خوشی خوشی یہ رشتہ قبول کیا اور ناصر کو گلے لگایا….
تھوڑی دیر کے بعد پری ماہ اور نازنین کے ساتھ آی سب کو سلام کرنے کے بعد وہ.لائبہ کے پاس اکے بیٹھ گئ… ردا اور عدنان تو بس پری کیساتھ سیلفی لینے میں لگے تھے جبکہ.نازو زلیخا نور اور نیلم اور لائبہ آپس میں باتوں میں مصروف تھے مگر ناصر کی حالت تو شان کو دیکھ کے ہی.خراب ہورہی تھی جو نہ تو ناصر سے گلے ملا نہ ہی اس کی طرف دیکھا…لانچ کے بعد سب ہی باتوں میں مصروف ہوگئے کیونکہ دو مہینے بعد کی ڈیٹ پری اور ناصر کے نکاح کی رکھی گئ سب نے ہی ان دونوں کو مبارک بعد دی شان نے پری کو گلے سے لگایا مگر ناصر کی باری میں وہ.پلٹ گیا….ناصر نے مدد طلب نظروں سے جب نور کو دیکھا تو اسنے صاف ہری جھنڈی دیکھا کہ کندھے اچکا دیے….
تھوڑی دیر بیٹھ کےسب چلے گئے مگر ناصر نے انہیں تھوڑی دیر میں انے کو کہا…..
سب کے جانے کے بعد لانج میں سناٹا چھا گیا کیونکہ شان کی بے رخی سب نے ہی.نوٹ کی تھی ازلان اور فائزہ نے بھی ان لوگوں کو بعد مین جوائن کیا تھا جبکہ اماں جان نے آنے سے صاف منع کردیا تھا اور وجہ حیدر تھا….
ماہ. نازنین ردا عدنان فائزہ ازلان کی نظر ان دونوں پہ.ہی تھی جبکہ.پری اپنے کمرے میں جا چکی تھی سب ہی.چپ تھے ناصر اپنی گردن جھکا کے بیٹھا تھا کہ جبھی اسکے سر پہ اکے زور سے کشن لگا اس نے ہڑ بڑا کے دیکھا تو شان خطرناک تیور لیہ اسی کو دیکھ رہا تھا…اس نے ایک اور کشن اسکو مارا تو ناصر صوفے پہ کھڑا ہوگیا..
شان کی آواز پورے لانج میں گونجی…
سالے تیری ہمت کیسے ہوئ مجھ سے چھپانے کی اتنی کمزور سمجھا تونے میری دوستی کو….
شان کو موڈ میں اتے دیکھ کے سب کی ہنسی چھوٹ گئ..
کہ جبھی شان.کا ہاتھ اپنے جوتے کی طرف گیا تو ناصر کی بھی ہنسی چھوٹ گئ اس نے بھی اپنے موڈ میں اکے کہا..
سالہ میں نہہی تو بنے والا ہے یہ بول کے اس سے پہلے ناصر بھاگتا شان نے اسے گھیر لیا اور اسکی گردن دبوچ لیہ..
اب بول کیا بول رہا تھا….
ارے میرے یار معاف کردے ناصر کا ایسا بولنا تھا کہ شان نے اسکی گردن چھوڑی اور اسے گلے سے لگالیا.اور کہا…
میری پری کا بہت خیال رکھنا…
ایک دم ماحول.خشگوار ہوگیا کہ جبھی نور نے کہا…
ویسے اگر نازنین اس بات کی گواہی نہ دیتی کے جو میں اازلان کی برت والے دن ان دونوں کی باتیں سنی وہ سچ تھی تو شاید یہ نہ.ہوتا …
یہ بول.کے جہان نور نے اپنی زبان دانتوں میں دبائ…
وہی نازنین نے چیخ کے کہ کہا آنٹیییییییی…یہ چیٹینگ ہے..
مگر جبھی ناصر کی.اواز پورے لانج.میں گونجی اور اسکی آواز سنتی.ہی نازنین نے نے باہر لان.کی طرف ڈور لگائ…
غدارر موٹی بھینس صحیح تجھے شاہ بلبٹوڑی کہتا ہے دیکھ موٹی.اب میں تیرا کیا حال کرتا ہو…. نازنین کی ڈور لگتے ہے حیدر مینش قہقوں سے گونج اٹھا…
نازنین لان میں ڈورتے ڈورتے کسی سے بہت زور سے تکرائ اس سے پہلے وہ گرتی شاہ نے اسے سنبھال لیا…
شاہ.کو دیکھتے ہی.وہ شاہ.کے ہیچھے چھپ کے کہنے.لگی. شاہ یہ ناصر پاگل ہوگیا.ہے…
ناصر جو اس تک پہنچا تھا مگر شاہ کو دیکھ کے رکا اور کہا..میں پاگل ہوا ہو. میں تونے غداری کی.کیسے..؟؟
اگر میں غداری نہی کرتی تو تو بھی پھر مجنون کی.لسٹ میں اتا اور پورے کراچی میں پری پری.آوازلگاتا پھرتا… شاہ.نے ان دونوں کو یو لڑتے دیکھا تو وجہ پوچھی ناصر کے پیچھے انے والے شان نے جب وجہ بتائ تو شاہ نے اپنے پیچھے چھپی نازنین کو اگے کیا اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھ اسکے قریب کیا اور کہا…
کام تو میری بیوی نے بہت عقلمندی کا کیا ہے اسے انعام.بھی ملنا چاہیے یہ بول.کے شاہ نے سب کے سامنے نازنین کے گالوں کو چوم لیا…شاہ کی حرکت پہ جہان نازنین نے اسے گھورا
وہی ناصر بول پڑا…
شرم.کرلے کچھ تو بے شرم.ہر جگہ شروع ہوجاتا ہے.. ناصر کی بات پہ شان اور ماہ کا ایک ساتھ قہقہ گونجا..مگر شاہ کی اوپر اسکی کسی بات کا اثر نہی ہوا…
اسی.ہنسی قہقوں میں ایک یادگار دن گزرا.
رات میں بہت ڈھرکتے دل کیساتھ ناصر نے پری کے نمبر پہ یک ٹیکس چھوڑا..
“تنہایاں محفل بنی
تم.جو ملے منزل ملی
ایسا دیوانہ ہوا ہے یہ دل اپکے پیار میں..”
میسج بھییج نے کے بعد ناصر بہت بے چینی سے ریپلاِئے کا ویٹ کرنے لگا کہ جبھی 5 منٹ بعد میدج آیا.
“یہ لڑکا ہاے الللہ کیسا ہے دیوانہ
کتنا مشکل ہے توبہ اسکو سمجھانا..
کے دھیرے دھیرے دل بے قرار ہوتا ہے..
ہوتے ہوتے پیار ہوتا ہے…
پری.کا جواب آتے ہی ناصر نے جزبات میں اکے اپنا.موبائل چوم.لیا تو ادھر ناصر کا میسج پڑھ کے پری کی حالت بھی.کچھ ایسی ہی تھی…
..
¤¤¤¤¤
ازلان.ماہ سے ناراض تھا ماہ کے لاکھ منانے پہ بھی اس نے ماہ سے بات نہی.کی….
ایسی ہی دن گزرے تو سنڈے کا دن بھی اپہنچا.. مگر جب شاہمیر کی.فیملی کے روپ میں سب نے بی جان اور جنید کو دیکھا تو سب کو شدید جھٹکا لگا نور کو تو لگا کہ شاید تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دھرا رہی ہے… زلیخا کا بھی کچھ یو ہی حال تھا..مگر اماں جان اپنی بہن سے مل کے سسک پڑی مگر شاہمیر کو دیکھ کے جہانگیر کو عجیب سے کنفیوزنگ ہوئ جیسے وہ جان نہی پایا….سب ینگ جنریشن کو جب یہ پتہ چلا کہ شاپمیر کی دادی اور ہماری دادی آپس میں کزن ہے تو سب کو ہی جھٹکا لگا مگر شاہمیر نے یہ کہ کے ماہ.کو منایا کے اسے خود بھی نہی پتا تھا…
شاہمیر اور ماہ.کے نکاح کی ڈیٹ اماں جان اور بی جان کے اسرار پہ ایک ہفتہ کے بعد کی ہی رکھی گئ.. جب ناصر اور شاہ کو یہ بات پتہ چلی تو سب کو مانو جیسے سانپ.سونگھ گیا..بی جان کے آتے ہی صبا بھی.نیچے اگئی اور ایسے سب سے گھلنے ملنے.کی.کوشش کرنے.لگی جیسی وہ برسوں سے ساتھ ہو….تو ادھر دلاور نے جہانگیر سے بی جان کے جانے کے بعد کہا…
اپ کو لگتا ہے بھائ کے خالہ جانی سدھر گئ ہیں.. ؟؟؟
مگر جہانگیر کو تو مانو چپ سی لگ گئ تھی…
اور ایسے ہی نکاح کا دن بھی آپہنچا…..
شان کو دیکھ کے کوئ بھی اندازہ نہی لگا پارہا تھا کہ شان کس کنڈیشن میں ہے بھاگ بھاگ کے وہ سارے کام جہانگیر کیساتھ مل کے کروارہا تھا….شان کی حالت دیکھ کے ازلان کی حالت بھی باقی سب کے جیسی تھی کیونکہ نازنین نے اسے بتا چکی تھی کہ شان ماہ سے محبت کرتا ہے..
شام میں افریدی مینشن کے پورے لانج کو دلہن کی طرح سجایا گیا….
سب ہی تیار ہوکے نیچے اگئے تھے ماہ اور ازلان میں بھی صلح ہوگئ تھی.مگر زلیخا نے ماہ کو دلہن کے روپ میں دیکھ کے گلے ضرور لگایا مگر اپنی خاموشی نہی توڑی…
بلڈ ریڈ شرارے میں ماہ کا سراپا نکل کے ایا تھا وائٹ کاٹن کے سوٹ میں شاہمیر بھی.کسی سے کم نہی.لگ رہا تھا…
نکاح خواہ کے جب انے خبر اڑی تو شان کی.ہمت وہی تک تھی وہ سب سے نظریں بچاتا ہوا جیسی ہی گیٹ تک پہنچا تو حیدر کی.آواز اسکے کانوں تک پہنچی….
جب فیصلہ کر لیا ہے اس کے بغیر رہنے کا تو دیکھنے کا بھی.حوصلہ رکھو.. شان کے دائیں بائیں شاہ اور ناصر کھڑے تھے جبکہ نور کی انکھیں اپنے بیٹے کی.یہ حالت دیکھ کے جھلک پڑی….
قاضی صاحب سب سے پہلے ڈریسنگ میں بیٹھی ماہ.کے پاس گئے اور اسکا نکاح پڑھانا شروع کیا….
ماہ رخ بنت جہانگیر..
اپکو شاپمیر بنت جیند سے دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائجل وقت نکاح قبول ہے…شان جو ڈریسنگ کی دیوار سے لگ کے ماہ.کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا..
ماہ.کے قبول بولتے ہی اس کا ہاتھ اپنے دل پہ گیا اور اسکی آنکھیں بھیگ گئ….
ماہ کے نکاح سے فارغ ہونے کے بعد قاضی صاحب شاہمیر کے پاس آئے اور اسکا نکاح پڑھانا شروع کیا…
شاہمیر بنت جنید کیا اپکو ماہ بنت جہانگیر سے نکاح قبول
ہے…
شاہمیر نے ایک مکرو مسکراہٹ سے اپنے سامنے کھڑے شان کو دیکھا اور پھر اپنے سامنے بیٹھی بی جان کو اور کہا…
جاری ہے
