Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 39 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39 Part 3
حنا نے پورا ایک ہفتہ شاہ پہ.نظر رکھی اور اسے اس بات کا..اندازہ ہوگیا تھا کہ شاہ عام.مردوں سے مختلف ہے لندن میں رہتے ہوئے بھی اس نے یہاں کا لائف اسٹائل نہی اپنایا…حنا نے کئ بار اسے نماز بھی پڑھتے دیکھا……اس پورے ہفتہ کے دوران حنا نے حسن سے کوئ کانٹکت نہی کیا …
ایک ہفتہ کی جانج پڑتال کے بعد اج وہ حسن کے فلیٹ آئ تو حسن اس سے کافی ناراض تھا ..مگر جب حنا نے اسے شاہ کے بارے میں بتایا اور اپنا پلان اسے سنایا تو اس نے حنا کے پلین کو داد دی اور کہا….
ویسے حنا تمہیں لگتا ہے کہ.وہ تم سے شادی.کرنے کے لیہ مان جائے گا..مجھے نہی لگتا اسسے یہاں کے رہین سہن میں کوئ انٹرس ہے وہ یہ تو لائبریری میں پایا جاتا ہے یہ پھر یونی.کے لان میں پڑھتے ہوئے …پھر تم کیسے مطلب مجھے بہت مشکل.لگ رہا ہے یہ.ٹاسک……
حسن کی باتیں ہر طرح سے درست تھی اس نے بھی کبھی شاہ کو کچھ کرتے نہی دیکھا…..
ہاں حسن یہ ٹاسک مشکل ضرور ہے مگر نہ ممکن نہی مگر تم اگر میرا ساتھ دو تو میں شاہ کو اپنی طرف راغب کرلونگی….
حنا کی بات سن.کے حسن اسکے قریب ایا اور ایک جھٹکےسے اسے اپنے سینے سے لگایا اسکی.کمر پہ اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور کہا…
جان.من تمہارا ساتھ نہی دینگے تو پھر کس کا دینگے ..مگر فلحال تو میرا ابھی کچھ اور موڈ ہے..یہ.کہہ کہ حسن حنا کو لبوں پہ.جھک.گیا اور آہستہ اہستہ اسکی شرٹ اوپن کرنے لگا….ایک رات حنا کی.وہ.کالی کرچکا اور حنا اسکی.محبت میں اتنی اگے بڑھ چکی تھی کہ حلال حرام.ہر شیہ سے وہ کافی دور اا چکی تھی….
(کاش لڑکیاں کسی مرد سے محبت میں اگے بڑھنےسے پہلے یہ سوچ لے کہ جو اپ سے محبت کریگا سب سے پہلے وہ اپکی عزت کریگا اپ پہ اپنی محبت کی مہر تبھی لگائے گا جب اپ اسکے نکاح میں ہونگی ..جو اپکو کسی اور کے اگے پلیٹ میں پیش کرے مجبوری.کا نام دے کے وہ اپکا عاشق نہی اپکا سب سے بڑا مجرم ہے…کیونکہ اگر مرد کسی عورت سے سچی محبت کرتا ہے تو کبھی بھی اسے کسی دوسرے کے لیہ نہی چھوڑتا ہر حال میں اسے اپنا بنا کے رہتا ہے..مریم#)
“روح سے چاہینے والے عاشق
باتیں جسموں کی کرتے نہی”
حسن کو بھی حنا سے کوئ سروکار نہی تھا اسے مطلب تھا تو بس اسکی دولت سے جیسے حاصل.کرنے کے لیہ وہ نکاح جیسے پاک رشتہ کو کھیل بنانے کے لیہ بھی تیار تھا..حسن کا تعلق پاکستان سے تھا بچپن میں ہی اسکے والد کی ڈیٹھ ہوگئ تھی زیادہ امیری میں نہی تو زیادہ غریبی بھی انکے گھر میں نہی تھی …مگر کچھ عرصہ پہلے وہ.پڑھنے کے.لیہ لندن آیا مگر یہاں کے رسم رواج دیکھ کے پیسہ دیکھ کے اا کے دماغ میں ایک ہی بات ائ کہ یہاں کی.کسی امیر لڑکی سے شادی.کرو اور گرین کارڈ حاصل کرکے ہمیشہ کے لیہ یہی کا ہو کے رہو.یونی کی سب سے امیر لڑکی کو اس نے شیشہ میں اتارا اور اسکیے زریعہ.اس کی دولت حاصل کرنے کی تگودور میں لگ گیا…
¤¤¤¤¤¤¤
اج شاہ.کا سب سے اہم ٹیسٹ تھا کہ تبھی اسکا پین چلتے چلتے رک گیا اس نے کئ بار پین کو جھٹک جھٹک کے چلانے کی.کوشش کی.مگر ناکام رہا..کہ جبھی اسکے برابر میں بیٹھی حنا نے اسے پین کی آفر کی.اس نے ٹھینکس بول.کے اس سے پین لیا اور لکھنا شروع کردیا ..مگر کلاس کی ٹیچر نے حنا کو اس شک.میں کے وہ شاہ سے کچھ پوچھ رہی.ہے کلاس سے باہر نکال دیا….
حنا کو تو ویسے بھی کوئ فرق نہی پڑتا تھا. وہ خاموشی سے اٹھ کے باہر چلی گئ….مگر شاہ کو بہت افسوس ہوا ٹیسٹ ختم ہوتے ہی.وہ.کلاس سے نکلا اور حنا کو ڈھونڈنے لگا کہ.جبھی وہ اپنی دوستوں کے ساتھ یونی کے گارڈن میں بیٹھی دیکھ گئ شاہ کو اپنی طرف آتا دیکھ کے اسکے لبوں پہ ایک شیطانی مسکراہٹ اگئ…شاہ نے حنا کے قریب آیا تو اس نے اپنی سارہ دوستوں کو جانے کو کہا…
اسکی دوستیں اٹھ کے گئ تو شاہ اسکے قریب آیا اور کہا..
آی ایم سو سوری میری وجہ سے اپکو کلاس سے نکل دیا اپکا ٹیسٹ ادھورا رہ گیا…اپنے بولا کیوں نہی کہ اپ مجھے پین دے رہی تھی…
شاہ تو پتہ نہی کیا کیا بول رہا تھا مگر حنا تو اسکی آواز میں ہی کھو گئ مگر پھر اس نء اپنے خیال کو جھٹکا …
اور کہا..
کوئ بات نہی اٹس اوکے اپ کافی لائق اسٹوڈینٹ ہے یونی کے.اپکا ٹیسٹ ہوگیا مجھے خوشی ہے اور میرا کیا ہے میں تو ہو ہی سدا کی.نکمی…..
حنا نے اس اسٹائل سے کہا کہ شاہ.کی ہنسی نکل گئ اور وہی سے شاہ اور حنا کی دوستی کا آغاز ہوا..آہستہ اہستہ حنا اور شاہ کہ دوستی اور گہری ہوتی گئ کئ بار حنا نے شاہ سے شادی کی خواہش بھی ظاہر کی مگر شاہ ہمیشہ سہولت سے انکار کرتا رہا..حنا نے اپنے پیرںنٹس سے بھی شاہ.کو متعارف کروایا اور انکے کان میں یہ بات ڈال دی
کہ حسن سے وہ تعلق ختم کرچکی ہے اور اپ وہ شاہ سے شادی کرنا چاہتی ہے اسکے پیرنٹس کو شاہ.بہت اچھا لگا…مگر شاہ اس بات سے لاعلم تھا کہ حنا کا اسکو اپنے.پیرنٹس سے ملوانے کی وجہ.کیا تھی…
انکی دوستی کا سلسلہ چلتا رہا کئ بار یونی کے لوگوں نے شاہ.کو وارن کیا کہ حنا سے دوستی اچھی نہی مگر ہر بار شاہ یہ بول کے سب کو چپ.کروا دیتا کہ اسنے ابھی تک حنا کی.کوئ ایسی حرکت نہی دیکھی جسکی وجہ سے وہ حنا سے دوستی توڑے…
دو سال کا عرصہ کیسے گزرا پتا ہی نہی چلا یہ جب کی بات ہے جب اگلے دن شاہ کی پاکستان کی فلائیٹ تھی. ..وہ حنا کہ.بار بار اسرار پہ اس سے ملنے اس کے گھر ایا مگر جب اسے یہ پتہ چلا کہ اسکے پیرینٹس گھر پہ نہی تو اس نے جانا چاہا مگر حنا نے اسکو اپنی دوستی کی قسم دے کہ روک.لیا….
شاہ کو کافی بہت پسند تھی اس لیہ حنا کے ایک بار ہی کافی کا پوچھنے پہ شاہ نے اسکی کافی کی آفر قبول کرلی..
حسن جو پلین کے مطابق پہلے سے ہی کچن میں موجود تھا…حنا کو نشا اور گولیاں دی جو اس نے کافی میں ملا کے شاہ.کو دے دی کافی ابھی ختم بھی نہی ہوئ تھی کہ شاہ.پہ غنودگی چھانے لگی..حنا نے جب دیکھا کہ شاہ مکمل غنودگی میں ہے تو اس نے حسن کو اشارہ.کیا اور پھر اسکی مدد سے شاہ کو اپنےبیڈروم.کے بیڈ پہ لیٹایا….
اتنے میں حنا جو پہلے ہی بیہودہ کپڑے پہنی تھی جسسے دیکھتے ہی شاہ نے گردن جھکالی تھی…
حسن نے پہلے شاہ کی شرٹ اتاری..اور پھر
حنا نے حسن کے کہنے پہ اپنی اوپر کی جیکٹ اتاری جیکٹ اترتے ہی حنا کے جسم پہ کپڑے بس نام کے تھے وہ شاہ سے خالی ہلکا سا لپٹی. شاہ کے دونوں ہاتھ حسن نے حنا کی کمر پہ رکھے یہ سارے سین حسن نے ایک.کیمرے میں ریکارڈ کیہ .اور پھر شاہ تو بیہوش ہوگیا مگر حسن اور حنا نے ایک اور رات ایک دوسرے کی قربت میں گزاری حسن نےجان بوجھ کے حنا کے گلے اور کافی جگہ پے ایسے نشان دیے کہ صبح جب شاہ حنا کو اس حالت میں دیکھتا تو اسے یقین ہوجاتا ک وہ حنا کیساتھ کچھ غلط کرچکا….¤¤¤
¤¤¤¤¤¤
شاہ بول.کے تھوڑی دیر چپ.ہوا اور پھر کہا…
صبح میری آنکھ کھولی تو حنا سامنے بے لباس چادر میں لپٹی زارو قطار رو رہی جیسی میں اٹھ کے اسکے پاس آنے لگا مگر جب میں نے دیکھا کہ میں بنا شرٹ کے ہو تو پہلے میں نے شرٹ پہنی اور اس تک پہچا اس کا حال ایسا تھا کہ مجھے اپنا اپ مجرم لگنے لگا میں نے جب اسے چھونے کے.لیہ ہاتھ بڑھایا تو حنا نے رکھ کے میرے منہ پی چانٹا مارا اور چیخ چیخ کے کہنے لگی میں نے اس کی عزت خراب کردی…اس کی حالت ایسی تھی کہ اس سے نکاح کے سوا میرے پاس کوئ اور آپشن نہی تھا .میں نے اس سے نکاح کیا اور شام.کی فلائیٹ سے پاکستان آگیا..
وہ میرے پیچھے ہی ہاکستان اچکی تھی.مگر مجھے یہ بات ازلان کی برات والے دن پتہ چلی میں اس سے اگر پیچھا بھی چھڑوا لو تو فائدہ نہی اس کے کمرے موجود کیمرے میں ریکارڈ اس رات یہ بول کہ شاہ نے شرم سے سر جھکا.لیا..
شاہ کی بات سن.کے ناصر جو کمرے کی.کھڑکی کے پاس کھڑا تھا ایک.لمبی سانس لے کے شاہ کے پاس ایا اور کہا…
میں یقین کرلونگا تیرے پیرینٹس یقین کرلینگے چلو مان لیتے ہیں ایک وقت میں شان بھی.مان جائے گا مگر شاہ تو نے نازنین سے نکاح کیوں کیا.تجھے کیا لگتا ہے نازنین یہ سب جاننے کے بعد تجھ سے نکاح قائم رکھ سکے گی…تو بھول رہا ہے شاہ تونے اپنی مرضی سے نازنیںن سے نکاح کیا اس نے نہی…اور انکل آنٹی.کو سوچ وہ.کیسے فیس کرینگے یہ سب اور حامد بھائ تجھے یاد ہے نہ شاہ تو نے کیا کہہ کے ان سے نازنیںن سے نکاح کی خواہش کی تھی….
اف شاہ تجھے اندازہ نہی تو کتنی.بڑی مصیبت میں پھنس چکا ہے …اور اوپر سے تو باپ بھی بننے والا ہے….
ناصر مجھے کچھ بھی یاد نہی کہ میں نے حنا کیساتھ وہ سب میری کچھ سمجھ نہی آرہا شاہ نے بے بسی سے کہا…
تو نازنیںن سے محبت کرتا ہے کیا یہ پھر یہ سب تونے اس کینٹین والی لڑائ ک بدلہ ابھی ناصر کے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ.شاہ.ایک دم بول.پڑا…
ناصر بس کردے میں اتنا بھی گرا ہوا نہی ہاں مانتا ہو دھوکہ میں رکھا تم سب کو مگر نازنیںن میری پہلی اور آخری.مجبت ہے اور میں کسی قیمت میں بھی اسے کھونا نہی چاہتا….
یہ بات بول کے شاہ کا گلا رندھ گیا تو ناصر نے شاہ کے قریب اکے اسکے.کندھے پہ.ہاتھ رکھا اور کہا …
ابھی تو فلحال معملہ ٹھنڈا ہے حنا جا چکی ہے مگر تو کچھ کر شاہ نانین کا اپنی محبت کا اعتبار دلا اسے کنفیڈینس میں لے کے اسے اس صورتحال سے اگاہ.کر….
ناصر کی بات سن کے شاہ نے ہاں میں گردن ہلائ..تو ناصر بھی کچھ دیر تک اسکے جھکے سر کو دیکھتا رہا اور پھر فلیٹ سے باہر نکل گیا…
شاہ کے زہن میں نازنیںن کا سراپا لہرایا تو اس نے بھی اپنی بلبٹوڑی کے گھر کی راہ لی..
¤¤¤¤¤
جہانگیر کمرے میں آیا تو زلیخا اسے کہی نہی دیکھی ہاں مگر واش روم سے پانی گرنے کی اواز پہ جہانگیر سمجھ گیا کہ وہ کہاں ہے …زلیخا فریش ہوکے نکلی.تو سامنے بیڈ پہ نیم دراز جہانگیر کو دیکھا جو واش روم کا دروازہ کھلنے پہ جان بوجھ کے انکھیں بند کر کے لیٹ گیا تھا تاکہ زلیخا ائے اور اسے جگائے..مگر جب دو منٹ تک جہانگیر کو اپنے اس پاس زلیخا کی.موجودگی.کااحساس نہی ہوا تو اس نے انکھیں کھول دی سامنے ہی اسے زلیخا ڈوپٹہ سے بے نیاز اپنے نگاہیں نیچے کرکے کچھ سوچنے میں مگن تھی..
جہانگیر کو زلیخا کی.خاموشی کسی انہونی.کا پتہ دے رہی تھی کیونکہ جب جب جہانگیر افس سے اتا تھا تو زلیخا اسے ہمیشہ.نیچے ملتی یہ.پھر اگر کمرے میں بھی ہوتی تو اس کے اگے پیچھے گھومتی اسکے کھانے پینے کا پوچھتی مگر اج تو ایسا کچھ بھی نہ.تھا تو جہانگیر کو تشویش ہوئ وہ ارام سے زلیخا کے قریب ایا اور ایک جھٹکے اسے اپنی.باہنوں میں اٹھا لیا ..جہانگیر کی اس اچانک.حرکت پہ زلیخا ایک دم ڈر گئ وہ جو سمجھ رہی تھی جہانگیر سو گیا
اج کے واقعہ کے بعد زلیخا جہانگیر کا سامنا کرنا نہی چا رہی تھی اس لیہ اس نے جہانگیر کو نہی جگایا …
جہنگیر نے زلیخا کو ارام سے پیڈ پہ.لیٹایا اور ٹائ اتار کے زلیخا کے اوپر جھکا مگر جیسی ہی.نظر اسکی.انکھیوں پہ گئ تو جہانگیر کہنی کے بل اٹھا اور ایک انگلی زلیخا کی ٹھوڑی پہ رکھ کہ اس کا چہرہ اوپر کیا اور پوچھا ..
کیا بات ہے زلیخا تم روئ ہو کیا گھر میں کوئ بات ہوئ اماں جان نے پھر ابھی جہانگیر کے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ زلیخا بول پڑی…
ارے نہی نہی اماں جان نے.کچھ نہی بولا نہ.ہی گھر میں کچھ ہوا پھر زلیخا نے وہی.کہانی جو شان اور نازنیںن نے اسے سنائ تھی جہانگیر کو سنا دی….
پوری بات سن کے جہانگیر نے زلیخا سے پوچھا
اب کیسی ہے ماہ.رکو میں دیکھ کے اتا ہو….
جہانگیر کو اٹھتا دیکھ کہ زلیخا نے جہانگیر کو روکا اور کہا…
ابھی سو رہی.ہے جہانگیر صبح مل لیے گا…..
زلیخا کی.بات سن کے جہانگیر نے ہاں میں گردن ہلائ .. زلیخااٹھنے لگی تو جہانگیر نے اس سے پوچھا….
کہاں جا رہی.ہو…؟؟؟
کھانا نہی.کھایا ہوگا نہ.اپنے میں.کھانا لاتی.ہو…
نہی.میں کھانا کھا کے ایا.ہو حیدر کیساتھ ابھی.کچھ اور موڈ ہے کھانے کا ..؟؟؟
جہانگیر کی بات پہ.زلیخا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تو جہانگیر نے اسے ایک بار پھر ر بیڈ پی گرایا اور اسکے لبوں پہ.جھک گیا. زلیخا نے جہانگیر کو ہٹانے کی کوشش کی.اور ساتھ میں بولتی بھی گئ ..
جہانگیر کیا کرتے ہیں چھوڑے مجھے..
زلیخا کے بولنے پہ جہانگیر نے جن نگاہوں سے زلیخا کو دیکھا تو زلیخا نے فورا اپنی.آنکھیں بند کرلی..جہانگیر کافی دیر تک اسکے لبوں سے اپنی پیاس بھجاتا رہا اور پھر لبوں سے نیچے اسکی گردن کو چومنے لگا..
جہانگیر کے.گردن پہ جھکتے ہی زلیخا نے اپنی آنکھیں کھولی اسکی.کانوں میں شاہمیر کی کال.پہ.کہہے گئے الفاظ ایک بار پھر اسکے دماغ میں گونجنے.لگے…
¤¤¤¤¤¤¤
شاہ نازنین کے گھر پہنچا تو حامد سے اسکی.ملاقات گیٹ پہ.ہی ہوگئ.جو کسی.کام سے باہر جا رہا تھا .شاہ کو اندر جانے.کا کہہ.کے وہ باہر کو چلا گیا….
آنٹی سے مل.کے جب اس نے نازنین کا پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ.ابھی ابھی آئ ہے اپنے روم میں ہوگی ماہ.کیساتھ بازار گئ تھی …
شاہ نے ان سے نازنین سے ملنے کا بولا تو انہوں نے.ہنستے ہنستے شاہ.کو اجازت دی اور کہا .
بیٹا اب بیوی ہے وہ اپکی اپ کا حق اب ہم سے پہلے ہے…
یہ بول کے نازنیںن کی امی تو اندر چلی گئ مگر شاہ کو ایک بار پھر شرمندگی نہ ان گھیرا .شاہ اٹھا اور سست روی سے چلتا ہوا ناننین کے کمرے میں چلاگیا…
دراوزہ ناکک کرنے کے لیہ شاہ نے ہاتھ برھایا تو اسے لگا دراوزہ کھلا ہوا ہے .وہ آہستہ سے اندر گیا تو اسے اسکی بلبوٹوڑی سامنے بیڈ پہ اوندھی لیٹی دیکھی…شارٹ شرٹ اور ٹراوزر جو ٹانگیں الٹی کرنے سے کافی نیچے ہوگیا تھا..نازنیں کو اس حلیہ میں دیکھ کے شاہ کے لبوں پہ ایک دلکش مسکراہٹ آگئ..شاہ نے اہستہ سے کمرہ.لاک کیا اور کہا…
:
“واللہ کیا اسٹائل ہے میری زوجہ محترم کے لیٹنے کا اچھے خاصے اپنے معصوم شوہر کو پاگل کردے”
نازنین جو اس انداز میں لیٹی اج کے ہونے والے واقع کو سوچ رہی تھی اور اس انداز میں وہ یہ سمجھ کے لیہ لیٹی تھی کہ دروازہ دروازہ لوک ہے مگر شاہ.کی اواز انے پہ جو وہ.پورے ایک ہفتہ بعد سن رہی تھی جھٹکے سے اٹھی.اور حیران نظروں سے شاہ کو دیکھنے لگی ..مگر شاہ تو ان کپڑوں میں اسکے ابھرتے سراپے میں ہی.کھوگیا..
نازنین نے جب شاہ کی باتوں کو مفہوم سمجھا تو ادھر ادھر نگاہ ڈورا کے اپنا ڈوپٹہ ڈھونڈنے لگی کہ جبھی اسے اپنا ڈوپٹہ صوفے پہ رکھا دیکھائ دیا اس سے پہلے وہ اپنے ڈوپٹہ تک پہنچتی…شاہ جسکی نظر اسکی ایک ایک حرکت پہ.ہی تھی جٹ اس تک ایا اور اسے لیہ کے بیڈ پہ گر گیا…
نازنیںن اس آفت پہ ایک دم بوکھلا گئ ..اور شاہ کے سنیے پہ. ہاتھ رکھ کے اسے اپنے اوپر سے دور کرنے لگی کہ جبھی شاہ نے اسکے دونوں ہاتھ جکڑے اور کہا…
شوہر ہو تمہارا نازنیںن حق ہے میرا تمہیں کسی بھی حال میں دیکھنے کا ..شاہ کا ایسا بولنا تھا کہ نازنیںن نے اپنے اپ کو شاہ سے چھروانے کی.کوششش اور تیز کردی اور ساتھ میں بولتی بھی گئ….
ایک ہفتہ بعد اج بیوی یاد آئ.ہے..یہ بول کے نازنیںن نے فورا اہنا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبالیا.اور چور نظروں سے شاہ کا چہرہ دیکھنے لگی.. جہاں ایک حسسین مسکراہٹ تھی…
شاہ نے جھک کہ اسکے لبوں کو چھولیا اور پھر کہا..
خوشی.ہوئ یہ سن کے تم نے مجھے مس کیا..چلو آہستہ اہستہ ہی صحیح تم مجھے اپنا شوہر تو ماننے لگی …یہ بول کے شاہ اپنے دیے لوکٹ پہ جھک کے اسے چومنے لگا جو نازنیںن کے گالے میں تھا مگر اس کا لاکٹ جو اسکے دل پہ تھا کافی دیر سے اسکا دل بیمان کر رہا تھا….
شاہ نے گردن آٹھا کہ نازنین کو دیکھا جس نے اپنی.مزمت
بھی ترک کردی تھی اور ساتھ میں اپنی آنکھیں بھیبند کرلی تھی….
شاہ کو یہ دیکھ کے خوشی ہوئ کہ نازنیںن اس پی اعتبار کرنے لگی تھی .مگر حنا کا خیال دماغ میں اتے وہ دھیرے سے نازنیں کے اوپر سے اٹھ کے بیڈ بیٹھ گیا.
جاری ہے ..
