Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 43 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43 Part 2
ماہ.نے اپنے کمرے میں اکے تیزی سے اپنا کمرہ بند کیا.. اور آہستہ آہستہ سے چل کے ڈریسنگ کے پاس اکے کھڑی ہوگئ….
آئینہ میں غور سے اپنا عکس دیکھنے لگی…کہ جبھی آئینہ میں شاہمیر کا عکس ابھرا جو قہقہے لگاتے ہوئے کہنے لگا…
تم ایک بدکردار لڑکی ہو میرے فلیٹ پہ اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے کے اکیلے آسکتی ہو…تو نجانے اور….
نہہی.ہو میں بدکردار ماہ نے چیخ کے آئینہ میں کہا اور پرفیوم.کی بوتل اٹھا کے آئینہ پہ دے ماری.. اور چیخ چیخ کے رونے لگی اور ساتھ میں اپنے سجے سنورے روپ.کو غصہ میں نوچنے لگی..اور پھر چیخ کے کہنے لگی…
کیوں کیا شاہمیر کیوں کیوں میرا اعتبار نہی.کیا..کیوں یہ بول کے ماہ نے کمرے کی.ایک.ایک چیز کو تہس نہس کردیا…کئی.چیزیں جو نازک تھی کانچ کی تھی وہ ماہ کے ہاتھوں میں لگ گئ تھی مگر اسے نہ تو اپنی تکلیف کی پرواہ تھی اور نہ اپنے ہاتھ سے بہتے خون کی وہ روتے روتے نیچے بیٹھ گئ…
“تم سے دور جو ہوگئے ہیں ہم.
کتنے مجبور ہوگئے ہیں ہم..
بے بسی بہہ رہی ہے آنکھوں سے..
زخموں سے چور ہوگئے ہیں ہم..
بوجھ رسوائ کا اٹھا لیتے ..
اشک پلکوں تلے چھپا لیتے..
دل کی یہ آرزو رہی کاش کہ.تم
وفا نبھالیتے…”..
“””
ماہ نے چیخ کے ایک آخری بار آواز دی…
شاہمیررررر اور بیہوش ہوگئ..
¤¤¤¤¤
نور کے بات پہ.سب ہی چونک گئے جبکہ جنید نے طنزیہ ہنس کے پہلے بی جان کو دیکھا اور پھر اپنی پیچھے کھڑی اپنی بیوی شمائلہ کو…..
بی جان نے اپنی گھبراہٹ پہ قابو پایا اور نور کے سامنے آکے کہا…..
کیا بکواس کر رہی ہو نور سالوں پہلے میری بیٹی اس کی وجہ سے خودکشی کرچکی…ہے بی جان کا اشارہ زلیخا کی طرف تھا جو گردن جھکا کے کھڑی تھی…
نور نے جب زلیخا کو گردن جھکا کے کھٰڑا دیکھا تو غصہ میں تن فن کرتی زلیخا کے پاس پہنچی اور چیخ کے کہا…
کس مٹی کی بنی ہیں اپ بھابھی بتا کیوں نہی دیتی سب کو اصلیت کیوں کھول نہی دیتی اس خط کا راز جو برسوں سے اپنے سنبھال کے رکھا ہے؟؟..تاکہ ایک بہن کا دوسری بہن پہ سے اعتبار نہ توٹے…
نور کے بولنے پہ زلیخا نے جھٹکے سے اپنا سر اٹھا کے نور کو دیکھا تو نور بھی اسکی حیرانگی بھانپ گئ تھی..
اور زلیخا کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا…
ہاں بھابھی برسوں سے جو راذ اپ اپنے دل میں دفنا کے بیٹھی ہیں اسکی ایک راز دار میں بھی ہو…
جہانگیر جو حیران نظروں سے کبھی نور کو رو کبھی زلیخا کو دیکھتا…
چلتا ہوا نور کے پاس آیا اور کہا…کونسا خط نور کیا راز ہے تم دونوں کے پاس بتاو مجھے..جہانگیر کی دھاڑ ایک بار پھر افریدی مینشن میں گونجی..
کے جبھی نور نے زلیخا سے کہا….
بھابھی خط لے کے او ابھی اسی وقت…
نور کی بات پی زلیخا مردار قدموں سے اندر گئ اور پانچ منٹ خط لے کے آگئ..
آفندی صاحب جو کب سے خاموش کھڑے تھے ایک بار پھر ڈھارے اور کہا…
نور خط پڑھو ابھی اسی وقت….
آفندی صاحب کے کہنے پہ.نور نے خط کھولا اور پڑھنا اسٹارٹ کیا…
“
اسلام وعلیکم..
جہانگیر….
جب تک یہ خط اپکو ملے گا شاید میں یہاں نہ ہو..
میں اپنی یونی کے ایک لڑکے علی سے بہت محبت کرتی تھی اس شادی بھی کی اور اسکی پیار کی نشانی اسکا بچہ میری کوکھ میں ہے…
امی جان کو جب میرا اور علی کے رشتہ کا پتہ لگا تو انہوں نے دھوکے سے مجھے علی کے گھر سے نکالا اور علی کے ساتھ اسکے گھر کو بلاسٹ کروادیا..ان کے اس کام.میں جنید بھائ بھی برابر کے شریک ہیں .انہوں نے ہی .صبا اپی کے زریعے خالہ جان سے پراپرٹی کے کاغز پہ ساہین کروائے انہوں نے نے سازش کی تھی سیڑھیوں سے خالہ جانی کو گرا کے مارنے کی مگر انکی جگہ زلیخا گر گئ اور انکا بچہ ابورٹ ہوگیا…
ان کو پتہ چل چکا ہے کہ میں ماں بنے والی ہو اس لیہ انہوں نے.میری موت کا جھوٹا ناٹک پلین کیا جس کے بدلہ وہ.نور سے جنید بھائ کی شادی.کرواکے اپ سے اور نور سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے سکے…مجھے کل امی جان کسی اور جگہ منتقل کر رہی.ہیں .اور اپ سے میری جھوٹی موت کے بدلہ نور کا ہاتھ مانگنے والی ہے اس لیہ اپ نور کا رشتہ کسی بھی صورت میں جنید سے مت کریے گا…
اگر زندگی نے ساتھ دیا تو اپ سے ضرور ملاقات ہوگئ..
شاہین…
نور خط پڑھ چکی تو زلیخا نےوہی کرسی کا سہارا لیا تو ادھر بی جان غصہ میں اگے بڑھی اور خط کے ٹکڑے کر کے کہا…
جھوٹا ہے یہ خط شاہین مر چکی ہے…
خط میں لکھی ایک ایک بات سچ…
جیند کی بولے لفظ بی جان کی.ہمت توڑنے کے لیہ کافی تھے..
اس سے پہلے بی جان کچھ بولتی جنید نے انہیں ہاتھ کے اشارہ سے روکا اور کہا…
خط کی لکھی ایک ایک بات سچ ہے شاہین زندہ ہے اور یہی کراچی میں ہے
جس رات نور اور حیدر گھر سے غائب ہوئے تھے اس رات میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ حویلی میں نور کو اغواہ کرنے کے ارادے سے کودھا تھا تاکہ اس سے زبردستی نکاح کرکے جہانگیر سے اسکی ساری جائیداد اپنے نام کرواسکو..
مگر شاید اللہ.کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ زلیخا بھابھی نہ نور کو نہ صرف بچایا بلکہ چپ چاپ سارے الزام اپنے سر لیہ اور چپ رہی…کیونکہ اپکو خالہ جان اپنی بہن پہ اندھا اعتبار تھا..جنید بول.کے چپ ہو تو نور بول.پڑی …
امی جس عورت کو اپ ساری زندگی سناتی آئ جسکو زلیل کرنے کا.کوئ بھی.موقع اپ نے جانے نہی.دیا اسی عورت کی وجہ سے اج اپکی بیٹی اپکے سامنے زندہ سلامت ہے اور جس حیدر سے اپ اتنی نفرت کرتی ہیں کہ اسکے گھر جانا بھی اپ اپنی توہین سمجھتی ہیں اسی حیدر کی وجہ سے اج اپکی.بیٹی عزت سے زندگی.گزار رہی.ہے ..جہانگیر بھائ کے کہنے پہ.ہی حیدر نے نہ صرف مجھ سے نکاح کیا بلکہ میری جان کی بھی حفاظت کی
.
کیونکہ اس سے پہلے نور بولتی جنید پھر بول پڑا..
امی.کو ان کے.کسی خاص بندے نے کراچی میں چھپے حیدر اور نور کا پتہ دے دیا تھا پھر جنید نے بتایا کے وہ.کس طرح سے اس نے حیدر اور نور کا پیچھا کیا…
ان لوگوں کی گاڑی جب ایکسیڈنٹ ہوا تو میں سمجھا یہ.لوگ مرگئے مگر جب امی جان کی مجھے کال ائ اور انکے خاص بندے نے بتایا کہ نور اور حیدر آسٹریلیا کی فلائٹ میں ہے تو امی.جان کے کہنے میں واپس آئیرپوٹ کی طرف مڑا مگر شاید میرا مکافات عمل شروع ہوچکا تھا اس لیہ مڑتے ہی میر ایکسیڈنٹ ہوا اور میں اپنے پیروں سے معزور ہوگیا….
شاید امی جان شاہین کے بیٹے کو بھی پیدا ہوتے ہی مار دیتی اور اسکی شادی کسی بھی امیر آدمی سے کرکے اسے ملک سگ باہر بھیج دیتی مگر جب انہیں یہ پتہ چلا کی اس ایکسیڈنٹ میں اپنی باپ بنے کی صلاحیت کھوچکا ہو.تو اماں جان نے نہ صرف اس بچے کا پالا بلکہ اپنے زاتی مفاد کے لیہ اسکا استعمال بھی کیا. .اور شاہین سے بول کے اسکے اسکا بچہ لیا کہ جب تک تم ہماری قید میں رہوگی اسکے بچے کی سانسیں چلینگی…
جنید چپ ہوا تو آفندی صاحب چلتے ہوئے بی.جان کے قریب آیے اور زناتے دار ٹھپڑ انکے منہ پہ.مارا اور کہا…
کہاں ہے.میری شاہین کا بچہ…..؟؟؟
آفندی صاحب کے جواب پہ جنید نے کہا….
بابا وہ اور کوئ نہی شاہمیر ہے….
یہ الفاظ سنتے ہی جہان کرب سے بی جان نے اپنی آنکھیں بند کی وہی شاہمیر بھی لڑکھڑایا ..
یہ سنتے ہی.کہ شاہمیر ہی شاہین کا بیٹا ہے سب نے ہی حیران کن نظروں سے شاہمیر کو دیکھا..
مگر شاہمیر سست روی سے چلتاہوا بی جان کے پاس آیا اور کہا…
دادو یہ جھوٹ ہے نہ پاپا جھوٹ کہہ رہے ہے نہ اپ میرے ساتھ یہ سب نہی کرسکتی نہ بولے نہ دادو یہ جھوٹ ہے نہ دادو شاہمیر کا چیخنا اور ترپنا سب جو ہی رولا گیا…
“
“وفا ہوتی اگر خونی رشتوں میں
تو یوسف یو نہی بکتا مصر کے بازاروں میں…”
آفندی صاحب نے شاہمیر کے اپنے گلے لگایا تو وہ انکے گلے لگ کے سسک پڑا شاہ شان اور ناصر کو بھی شاہمیر کی حالت دیکھ کے بہت افسوس ہوا….
جنید نے بتایا کے کیسے بی جان کے کہنے ہہ شاہمیر نے ماہ.کیساتھ ایسا کیا اور یہ بھی بتایا کے یہ ساری پکس اصلی نہی سوائے ایک دو کے…
ایک دم لان میں موت کا سناٹا سنائ دیا..
کہ جبھی جنید نے کسی کو کال کرکے شاہین کو لانے کو کہا…
سب ہی مین گیٹ پہ نظرے لگائے شاہین کا بیچینی سے انتظار کرنے لگے. …
کہ جبھی 10 منٹ بعد ایک بلیک پیجارو افریدی ہاوس میں داخل ہوئ..جسکو دیکھ کے حامد کے لبوں پہ ایک حسسین مسکراہٹ آگئ…
گاڑی کا گیٹ کھلا اور سوید سوٹ میں ملبوث شاہین باہر نکلی اور اسکے ساتھ حامد کی پہلی نظر کی.محبت لاڈو بھی…
شاہین جیسی گاڑی سے باہر نکلی کے آفندی صاحب اسکی طرف لپکے اور اسے سینے سے لگالیا…
بابا اپ اپ ٹھیک ہے بابا.. میں آزاد ہوگئ بابا اج میری ازادی ہے نہ بابا.. ؟؟
شاہین کا ایسے پگلوں والے سوال پہ سب کے ہی اشک بہہ نکلے کے جبھی شاہین اآفندی صاحب کی باہوں سے نکلی اور بی جان کے پیروں میں گر گئ اور روتے روتے کہنے لگی…
امی اب تو مجھے میرے بیٹے سے ملادے خالی ایک بار اپکو خدا کا واسطہ شاہین بی جان کے پیروں پہ سر رکھ کے رو رہی تھی کہ جبھی شاہمیر نے اسے کندھے سے تھام کے اٹھایا اور کہا…
امی اب اپکو کسی سے منتین کرنے کی ضرورت نہی یہ رہا اپکا بیٹا اپکے سامنے…
شاہمیر کے بولنے پہ شاہین نے جھٹکے سے گردن اٹھا کے اسے دیکھا اور اسکو چھو کے دیکھنے لگی.. کبھی روتے روتے اسکے گلے لگتی کبھی اسکا چہرہ چومتی..اور ساتھ میں کہتی جاتی دیکھو لاڈو یہ تو پورا میرے علی کی کاپی ہے…
کہ جبھی برسوں بعد انے والی آواز پہ شاہین کا شاہمیر کا چہرہ تھاما ہاتھ لرزا…
شاہین بیٹا باپ پہ نہی جائے گا تو کس پہ جائے گا…
.
آواز تھی یہ شاہین کے دل.کا سکون شاہین نے فورا انے والی آواز پہ.اپنا رخ کیا تو اسکا علی جسکو بی جان اپنے طور پہ.مار چکی.تھی انکھوں میں آنسو لیہ شاہین کو ہی دیکھ رہا تھا…….
زلیخا کی.منتین کرنے.پہ.ہی علیان(علی)ماہ.کے نکاح پہ پاکستان ایا تھا مگر ٹریفک کی وجہ سے وہ.لیٹ ہوگیا…
مگر جب وہ آفریدی مینشن پہنچا تو بی جان کو دیکھ کے اسے اسکا ماضی یاد آنے لگا مگر بی جان کے قدموں میں جھکی.اپنی.متاع حیات کو دیکھ کے علی وہی اپنے رب کے اگے سجدہ.میں گرگیا مگر جب اس نے شاہین کو کسی لڑکے کو اپنا بیٹا کہا تو علی بھی اپنے خاندان کو سینے سے لگانے کے لیہ ٹرپنے لگا اور بول اٹھا….
شاہین سکتے کی حالت میں علی تک پہنچی اور دیوانہ وار اسکو دیکھنے لگی کہ جبھی علی نے آنکھوں میں آنسو لیہ چہرے پہ.مسکان لیہ شاہین کو اپنے سینے سے لگالیا اور بنا کسی کی.پرواہ کیہ اسک چہرہ چومنے.لگا ..اور کہنے لگا مجھے اعتبار تھا شاہین اپنے رب پہ وہ.تمہیں مجھ سے چھین نہی سکتا مجھے لگتا تھا شاہین تم زندہ ہو.. علی نے شاہین کو گلے لگا کے تھوڑا اوپر ااٹھا کے گھومایا تو شاہین بھی اسکے چہرہ دیوانہ وار چومنے لگی…
کہ جبھی ناصر اور شاہ نے ایک ساتھ سیٹی بجا کے تالیاں بجائ.تو سب نے.ہی.نے ان کا ساتھ دیا..
سب کا احساس کرکے شاہین نے علی.کے کان میں سرگوشی کی..
علی سب بچے دیکھ رہے ہیں نیچے اتارو پلیز …
علی.نے بھی جب شاہین کی بات پہ نظر گھما.کے دیکھا تو فورا شاہین کو نیچے اتارا اور چلتا ہوا شاہمیر کے پاس آیا..اور اس کے سامنے اکے اپنی باہین کھول دی شاہمیر تیزی سے علی کے سینے میں سما گیا.اور بلک بلک کے رونے لگا.ک جب ہی شاہین ارام سے چلتی ہوئ ان دونوں تک آی..
جہانگیر نے جب علی کے کندھے پہ.ہاتھ رکھا اس نے مڑ کے جہانگیر کو دیکھا تو جہانگیر بولا.
تم نے تو اپنا نام علیان بتایا تھا. مجھ سے کیوں چھپایا… یارر……
علی شاہمیر سے الگ ہوکے جہانگیر سے گلے ملا اور کہا…
جہانگیر بھائ میں اپکو جب ہی پہچان گی تھا جب 3 سال بعد ہوش میں انے کے بعد اپکو دیکھا تھا کہ اپ وہی شاہین کے کزن جہانگیر ہو کیونکہ شاہین مجھے اپکی تصویر دیکھا چکی تھی.مگر جب شاہین کی.موت کی خبر مجھے ملی تو بس پھر اگر اپ مجھے جینے کا حوصلہ نہ دیتے تو اج میں اس حال میں نہ ہوتا اور جہانگیر بھائ میرا نام علیان ہی ہے شاہین پیار سے مجھے علی بلاتی ہے…
جاری ہے..
