Aitebaar By Mariyam Khan Readelle50212 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
[ ] فائزہ کس بدگمانیوں کی بات کرکے.گئ ہے میں نے خود اسے بات کرتے دیکھا تھا عامر سے اور خود اس نے کہا کہ.وہ عامر سے محبت کرتی.ہے پھر یہ کس بدگمانی کی بات کررہی ہے…ازلان ان سوچوں میں.کب افس پہنچا اسے کچھ نہی پتہ.چلا….
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] شان اور ماہ.کو ایک ساتھ یونی اتے دیکھ جہاں نازنین چونکی تھی وہی ناصر بھی حیران تھا جو کب سے ان دونوں کا ویٹ کررہے تھے..
[ ] دونوں کو ایک ساتھ گاڑی سے نکلتے دیکھ کہ نازنین اور ناصر نےدونوں کو وہی روک لیا..بلکہ نازنین نے تو ماہ سے پوچھ ہی.لیا .
[ ] ماہ.اور شان تم.دونوں کو ایک ساتھ یونی.چکر کیا ہے..
[ ] نازنین کے سوال پہ ماہ.نے پہلے تو اسے ایک تھپڑ اسکے ہاتھ پہ.رسید کیا..
[ ] اور کہاں کینٹین چلو سب بتاتی.ہوں…..
[ ] وہ چاروں کینٹین پہنچے تو پیچھے سے شاہ بھی آآ پہنچا اج اسکا.لیکچر تھوڑا لیٹ تھا تو اس نے شان سے ٹیکس پہ پوچھا کہ یونی پہنچنے کے نہی.تو اس نے اسے کینٹین انے کو کہا…
[ ] وہ پانچوں بیٹھے تھے کہ جبھی شان نے ماہ اور اپنا رشتہ نازنین اور ناصر کو بتایا اور ساتھ میں شاہ کا بھی بتایا.. نازنین اور ناصر یی.جان کے بہت خوش ہوئے ..تو ماہ نے نازنین ناصر اور شاہ.کو یہ بھی بتایا کہ دس دن بعد اسکے بھائ.کی شادی ہے اسکے کزن کے ساتھ تو دسوں دن ان تینوں کو انکی.ہیلپ.کرنے انا ہوگا.اور ماہ.کی بات سن.کے سبھی نہ.ہامی.بھرلی…
[ ] کہ جبھی نازنین کے نمبر کال ائ.تو اس نے ان لوگوں سے تھوڑی دور جاکہ بات کی. شاہ کی پیشانی پہ.ایک دم بل ابھرے جسکو وہاں بیٹھے ہر نفوس نے نوٹ کیا..
[ ] اس سے پہلے کوئ.کچھ بولتا نازنین وہاں اکے بیٹھ گئ…اس کے چہرہ سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی…
[ ] اسکا.پریشان چہرہ دیکھ کے ماہ.اس سے پوچھ بیٹھی…..
[ ] کیا ہوا نازنین پریشان لگ رہی ہو کس کی.کال تھی…
[ ] یار وہی امی.کہ.ایک.ہی رٹ انکے بھانجے سے شادی.کے لیہ.ہاں کردو..
[ ] نازنین کا بولنا تھا کہ پانی پیتے شاہ.کو ایک دم دھسکا لگا.. نازنین نے اسے گھور کے دیکھا ….
[ ] ماہ.نے ایک نظر شاہ.کو دیکھا اور پھر نازنین سے پوچھا…
[ ] تو پھر تم.نے کیا بولا…..
[ ] یار میں نے کیا بولنا ہے. ہاں ہی.کرونگی اور کیا.کرونگی ..نازنین کا ایسا بولنا تھا کہ شاہ کی انکھوں میں انسو جمع ہونے لگے….
[ ] نازنین نے ماہ سے کہا…..
[ ] ماہ مجھے یار لائیبریری سے تھوڑا کام ہے تو چل رہی ہے کیا..
[ ] ہاں چلوں …
[ ] ان دونوں کے جانے کے بعد ناصر اور شان نے.ایک ائیبرو اچکا کے شاہ.کو دیکھا تو وہ دونوں کی.شکل دیکھ کہ بول پڑا….
[ ] یار محبت کرتا ہو اس بلبٹوڑی سے مگر سمجھ نہی.اتا کہ.کیسے اس تک اپنے دل کی. بات پہنچاؤ….
[ ] سمپل ہے شاہ اگر تم واقعی اس سے محبت کرت ہو تو اپنے.والدین کو لیہ.کہ.اسکے گھر چلے جاؤ ایسا نہ ہو کہ ساری زندگی تم.پچھتاؤ اور رہا سوال نازنین سے اظہار کرنے کا تو وہ کسی پاک بندھن میں بندھ کر بول دینا……. شان نے اسکو ارام سے سمجھایا تو شاہ نے بھی ہاں میں گردن ہلائ…
[ ] مگر شان تو بھی تو ماہ کو پچھلے تین سالوں سے محبت کرتا ارہا ہے یہ چوتھا سال ہے اور اب توتم لوگ ریلیٹف بھی ہو تو پھر تو کیوں چپ ہے؟؟؟.
[ ] ..ناصر نے شان سے کہا…
[ ] کیونکہ ناصر پہلے کی. بات اور تھی مگر اب وہ مجھ پہ عتبار کرتی ہے میری دوست ہے میں.کسی ایسی محبت کے لیہ اپنی دوست کا اعتبار نہی توڑ سکتا جو یکطرفہ ہو…ہاں بہت محبت کرتا ہو اس سے مگر اس سے بھی ذیادہ اسکی عزت کرتا ہو اور رہی بات وہ میرے نصیب میں ہے یہ نہ.یہ فیصلہ میرا الّللہ کریگا.. اور ناصر وہ شاہمیر سے بہت محبت کرتی.ہے میں نے اسکی انکھوں میں شاہمیر کا عکس دیکھا .ہے ….
[ ] مگر شان تو جانتا ہے شاہمیر اسکے ساتھ فئئیر نہی.ہے….
[ ] ہاں ناصر مگر میری دعا ہے کہ میرا الّللہ میںری دوست کے حق میں جو بہتر ہو وہی.کرے…….یہ بول کے شان چپ.ہوا تو ناصر نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگالیا.اور کہا مجھے فخر ہرے تجھ پہ.شان ..
[ ] تو شاہ بھی نہ رہ سکا اسکو گلے لگائِے بغیر…..
[ ] لیکن شان نے ایک دم شاہ سے کہا….
[ ] میں نازنین کو بھی ماہ.کی طرح 4 سال سے جانتا ہو وہ کسی.میں انولو نہی.مگر شاہ تو جلد سے جلد اس کے گھر رشتہ لے کر چلا جا ایسا نہ.ہو بعد میں خالی پچھتاوا رہ جائے..یہ بول کہ شان تو اپنی.کلاس کی.طرف بڑھ گیا..مگر شاہ نے ناصر کو گھور کہ.اسے بہت کچھ جتلا دیا…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] فائزہ یونی میں داخل ہوئ تو سامنے ہی اسے شمائلہ مل گئ. شمائلہ اور فائزہ اسکول لائف سے ایک ساتھ ہیں.
[ ] ارے فائزہ پورے ایک ہفتہ بعد تم یونی ائ ہو موبائل بھی تمہارا بند جا رہا تھا.کہاں تھی تم ؟؟؟؟؟؟
[ ] شمائلہ نے جب بات کرتے کرتے فائزہ کی طرف دیکھا تو وہ رو رہی تھی…شمائلہ کو ایک دم حیرت ہوئ وہ فائزہ کو یوں روتا دیکھ کہ ایک دم گھبراگئ….
[ ] ارے فائزہ کیا ہوا تم ایسے کیوں رو رہی ہو دیکھو یہاں کافی اسٹوڈینٹ ہیں سب دیکھ رہے ہیں..فائزہ…
[ ] اچھا چلو ادھر لان میں چلتے ہیں شمائلہ فائزہ کو لے کے یونی کے لان میں اگئ.
[ ] اپنے بیگ میں سے اسے پانی کی بوتل فائزہ کو دی..اور پوچھا…
[ ] اب بتاؤ کیا ہوا کیوں رو رہی ہو..؟؟؟؟؟..
[ ] میری شادی ہے دس دن بعد ازلان سے…
[ ] کیاااااا؟؟؟؟؟
[ ] فائزہ کی بات سنتے ہی.شمائلہ خوشی سے چیخی اور اس کے گالے لگ گئ….اور کہا یار تو اس میں رونے کی کیا بات ہے اس میں تو بھی تو اسے بچپن سے چاہیتی ہے.. تو پھر یہ انسو. کیوں کیاکچھ ایسا ہے فائزہ جو تو نے مجھ سے چھپایا….شمائلہ نے جانچتی نظروں سے فائزہ کو گھورا تو فائزہ نے دھیرے دھیرے شمائلہ.کو سب بتا دیا.کہ کیسے اس نے ازلان کو ازمانے کے لیہ فرضی عامر سے اپنی عشق کی.کہانی ازلان کو سنائ ازلان کی.ہمت سے لیہ کے اسکی چھوٹی سوچ اسکا فائزہ کو ٹاچر کرنا وہ ایک.ایک بات شمائلہ کو بتاگئ…
[ ] فائزہ کی بات سنتے ہی شمائلہ.نے زور سے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پہ.مارا اور کہا…
[ ] فائزہ یہ.تم نے کی کردیا.یار تم نے ایک اسیے انسان کی.محبت کو ازمایا جسکی انکھوں میں اپنے.لیہ محبت بچپن سے دیکھتے اراہی ہو اوپر سے اب تم.ازلان کے رویہ.کی شکایت کرہی ہو ٹف ہے پہ.فائزہ تمہیں اندازہ نہی ہے تم.کتنی بڑی حماقت کر چکی ہو.. ان سب کے باوجود وہ اگر تم سے نفرت نہی تو کیا پھر تمہارے عشق میں قصیدے پڑھے گا…تم نے بہت برا کیا ازلان کیساتھ بھی اور خود کیساتھ بھی تم نے یہ بات سوچی کہ اگر ازلان سب کو یہ کہ کے تم سے شادی سے منع کردیتا. کہ فائزہ کسی عامر نام کے لڑکے کو پسند کرتی.ہے اور اسی سے شادی کرنا چاہتی ہے تو تمہیں اندازہ ہے تم کتنی بڑی مشکل.میں پھنس سکتی تھی کہاں سے لاتی عامر کو ایجاد کرکے یہ بات نہی سوچی تم.نے……
[ ] شمائلہ کی بات تلخ تھی مگر حقیقت پہ منبی تھی …
[ ] مگر یار شمائلہ وہ بہت جنونی ہے.. تمہیں نہی پتہ اس نے کیسے باتیں کی ہیں میری زات کے مطلق… میرے کردار پہ.انگلی اٹھائ ہے اس نے… میں اسے کبھی معاف نہی کرونگی…
[ ] فائزہ کی یہ بات سنتے ہی شمائلہ کو تو پتنگے لگ گئے اس نے غصہ میں فائزہ کو گھورا اور کہا.
[ ] کیا کہا تم.نے فائزہ کہ تم اسے کبھی معاف نہی کروگی… فائزہ میدم اپنا جملہ درست کرو… یہ سوچو جب اسے اس بات کا پتہ چلے گا کہ اصل میں تو کوئ عامر ہے ہی نہی تم یے سب اسکی.محبت کو ازمانے کے.لیہ کیا تو وہ تمہیں معاف کرے گا یہ نہی..پہلی.لڑکی دیکھی ہے میں نے فائزہ جس نے اپنی لو اسٹوری کا اینڈ خود خراب کیا ہے…..ا.
[ ] اچھا نہ اب تو غلطی ہوگئ مٹی ڈالو میں اس الو کے پٹھے کو نہ کچھ بتانے والی نہ.کچھ سمجھانے والی جو میرے بارے میں سمجھتا ہے سمجھتا رہے اب مجھے کوئ فرق نہی پڑتا….
[ ] اففففف فائزہ میں تیرا کی کرو..شمائلہ نے ایک بار پھر اپنا سر تھام کے کہا..
[ ] کچھ نہی کر میرا جو ہوگا میرا رب وارث ہے میرا…
[ ] فائزہ نے کچھ یاد انے پہ شمائلہ سے کہا…تیری تیاری کیسی ہے سیمسٹڑ کی… اور سیمسٹڑ کی بات کرتے ہی جیسے شمائلہ کو کچھ یاد ایا تو اس نے فائزہ کو کہا…
[ ] فائزہ اج میرا یونی میں آخری دن ہے ایک ہفتہ پہلے پاپا.کا ٹرانسفر اڈر ایا تھا. جب سے ہی تجھ سے رابطہ کرنے کی.کوشش کرہی تھی مگر تیر موبائل بند تھا گھر یو نہی اسکی کیونکہ ماما کیساتھ پیکنگ کروانی تھی.ہاں ابھی تیری ساتھ گھر چلو گی پرومس انٹی سے بھی ملو گی مگر مجھے بہت افسوس ہے کہ میں تیری شادی میں شریک نہی ہو سکونگی….
[ ] اتنا سننا تھا کہ ایک بار پھر فائزہ رونے لگی اسکو روتا دیکھ کہ شمائلہ.کی.بھی انکھیں .بھیگ گئ..دونوں کا ساتھ ہی ایسا تھا اسکول پھر کالج پھر یونی ایک ساتھ دونوں ایک دوسرے کی ہر دکھ سکھ کی ساتھی.. شمائلہ نے اپنی انکھیں صاف کی اور فائزہ کو اگے بڑھ کے گلے لگالیا تھوڑی دیر بعد دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئ شمائلہ نے فائزہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیہ اور کہا…
[ ] فائزہ محبت بہت کم کسی کا پنا اسسیر بناتی ہے..بہت کم.لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں کہ جن سے وہ محبت کرتے ہیں اللّلہ.ان کی.محبت پہ کُن بولتا ہے.. فائزہ اپنے ان حسیین دنوں کو یو اپنی.انا اور غرور کی نظر مت کرو میں مانتی ہو ازلان کا رویہ اچھا نہی مگر یہ سب مجبور کرنے کو انہیں تم نے ہی مجبور کیا…
[ ] مگر اب تم ازلان سے سب کچھ کلیر کرو انہیں بتاو کہ خالی وہ یہ اس اگ میں نہی جلے تم.بھی جل رہی ہو تم بھی بچپن سے ان سے محبت کرتی ائ ہو…
[ ] مانو گی نہ میری بات فائزہ؟؟؟
[ ] شمائلہ نے ایک امید سے فائزہ سے پوچھا….
[ ] تو فائزہ بھی اسکی امیدوں پہ.پورا اتری اس نے ہاں میں گردن ہلائ اور اس سے کہا ..
[ ] شمائلہ ازلان معاف کردینگے نہ.مجھے…؟؟؟؟
[ ] ہاں میری جان کیوں نہی…
[ ] اب چلو. کھڑی ہو اور گھر چلتے ہیں پھر کل کی میںری فلائٹ ہے اسلام آباد کی…
[ ] ہم چلو.. فائزہ اپنا سامان اٹھا کہ اگے چلی تو پیچھے پیچھے شمائلہ بھی مسکراتی ہوئ چل پڑی ..اور دل سے اپنی دوست کی خوشیوں کی دعا مانگی..
[ ] “اور بیشک بہترین دوست الّللہ.کی طرف سے ہمارے لیہ ایک خوبصورت تحفہ ہے”
[x]
[x]
[ ]
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] نازنین اور ماہ.لائیبری سے نکلے تو اچانک ماہ.کے نمبر پہ.کال.ائ جیسے سن کے اس کے لبوں پہ.ایک.دلفریب مسکراہٹ اگئ.کال کٹ کرکے اس نے. نازنین کی طرف دیکھا جو بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی اس سے پہلے ماہ اسے بتاتی کے وہ شاہمیر سے ملنے یعنی کے گارڈن جا رہی ہے نازنین اسک چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئ تھی کہ کس کی کال ہے. اس لیہ اس نے ماہ کے بولنے سے پہلے ہی بول پڑی…..
[ ] ہاں پتہ.ہے اسسے کنکھجوڑے کی.کال.ہوگی اگیا ہوگا یونی ملنے بولا رہا ہوگا..ماہ جانو اجاؤ ای.ایم ویٹنگ ان گارڈن نازنین نے شاہمیر کی.ایسی نقل اتاری کی کہ ماہ کی ہنسی نکل گئ..اس نے نفی میں سر ہلایا اور جاتے جاتے صرف اتنا بولی لیکچر ٹھیک سے نوٹ کرنا یہ بول.کہ ماہ.گاڑدن کی.طرف چل.پڑی تو نازنین کلاس کی طرف…
[ ] کلاس میں شاہ.ابھی تک لیکچر کے لیہ نہی ایا تھا وہ بھی اپنی سیٹ پہ جاکے بیٹھ گئ…
[ ] کہ جبھی اس کے ہیچھے بیٹھے شان اور ناصر نے ماہ کا پوچھا تو نازنین نے.کہا…
[ ] ولن کی اینڑی ہوگئ ہے تو لہزا ہیروئین کو. ملنے بولایا ہے یونی کے گارڈن میں اور یہاں بیٹھے یہ شان صاحب بہت جلد ان دونوں کے نکاح کے چھواڑے کھائینگے اور پھر کہینگے..
[ ] جو انکھ لڑ جاوے ساری رات نیند نہ اوے…
[ ] یہ بول کے نازنین نے گھور کے شان کو دیکھا جو نازنین کی بات پہ گردن جھکا کہ بیٹھا تھا نازنین نے افسوس سے اسے دیکھا اور اگے موڑ گئ کیونکہ شاہ لیکچر دینے اچکا تھا….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] ماہ.گارڈن پہنچی تو شاہمیر ایسے کہی نظر نہہ.ایا ..ایک دم اسے کسی نے کمر سے پکڑ اپنے اپ سی.لگایا.جیسے ہی ماہ نے چونک کہ اپنی گردن گھمائ تو وہ اور کوئ نہی.شاہمیر تھا..
[ ] شاہمیر نے اسے اپنے قریب کیا اور ہلکے سے اس کان میں سرگوشی کی کیسی ہے میری جان… .
[x] مما
[ ] ماہ اس سے اہستہ سےالگ ہوئ اور کہا…
[ ] شاہمیر میں نے ہزار بار کہا ہے شادی سے پہلے مجھے ایسسے تمہارا قریب انا پسند نہی ماہ نے نیچے گردن جھکا کہ روٹھے روٹھے انداز میں
[ ] شاہمیر سے شکوہ کیا..
[ ] شاہمیر نے اسے بہت غور سے دیکھا..پھر اسکا ہاتھ پکڑ کر گارڈن کی ایک بینچ پہ لے ایا…
[ ] اور کہا….
[ ] اچھا تھیک ہے ناراض مت ہو. یہ بتاو کل کہا تھی کتنی.کال.کی.میں نے تمہیں اور کومپیٹیشن بھی اپ جیتی ہیں یہ بھی مجھے پتہ چل چکا…ہے.
[ ] شاہمیر کی بات سن کے ماہ.کے لبوں پہ مسکراہٹ اگئ اور اس نے کہا..
[ ] ہاں میں جیتی کیوں کہ تم نے کہا ورنہ میں کمپیٹیشن سے نام کٹوانے والی تھی.. تم یہ نہی پوچھو گے کہ میرا پارٹنڑ کون تھا؟؟؟
[ ] نہی مجھے میری جیت سے مطلب ہے تم بتاو کل کہاں مصروف تھی…؟؟؟؟
[ ] اصل مت شاہمیر کل ہماری پھپو پاپا کے ساتھ گھر ائ تھی جن سے ہم برسوں سے نہہی ملے تھے.اچانک وہ اگئ تو ان کے ساتھ تھوڑا ٹائم اسپینڈ کرتے ہوئے وقت کا اندازہ نہی ہوا…
[ ] پھر ماہ نے شاہمیر کو اپنے اور شان کے رشتہ کا بتایا..اور ازلان کی شادی کا بھی بتایا….
[ ] ماہ کی بات سن کے شاہمیر نے ماہ سے کہا..
[ ] ماہ.اب تم.اپنے پرینٹس کے کان میں ہمارے رشتہ کے متعلق ڈالو..کیونکہ اب دادو چاہتی ہیں کہ.انکا پوتا بھی دولہا بن جائے…شاہمیر کی بات سن کے ماہ خوشی سے شاہمیر کے گلے لگ گئ.مگر پھر ایک دم جھجھکتے ہوئے اس سے الگ ہوئ اورشرم سے اپنی گردن جھکالی..
[ ] کہ تبھی شاہمیر نے کہا…اب دیکھ لو تم.خود مجھے ٹرپاتی ہو پھر جب میں کچھ کرتا ہو تو مجھ سے شکوہ کرتی ہو…شاہمیر کی بات سن کے ماہ نے پر شکوہ نگاہوں سے اسے دیکھا اور ایک ہلکا سا مکا اسے کندھے پہ.مارا..ابھی وہ.لوگ بیٹِھے باتیں ہی کررہے تھے کہ نازنین وہاں آ دھمکی..اور کہا…
[ ] اور وہ دونوں جو باتوں میں اتنے مگن تھے کہ انہیں نازنین کی.آمد کا پتہ نہی چلا دونوں اسکی اواز پہ چونکے.
[ ] اگر تم دونوں نے عاشقی 4 کے پریکٹس کرلی ہو تو چلنا پسند کرینگی اپ میڈم.شان ویٹ کرہا ہے تمہارا تمہہی نہ کہا تھا کہ.جلدی جانا ہے.. مگر یہاں تم اس چیچھورے کے ساتھ مگن ہو..
[ ] نازنین کے شاہمیر کو چھیچھورا کہنے پہ.جہاں ماہ نے اسے گھورا وہی شاہمیر نے بھی اسکی خاطر تواضع کرنا اپنا.فرض سمجھا..
[ ] اوہہ ہیلو مس بھینس بس کھانے پہ.ہہ دیھان دیا کرو تمہاری صحت کے لیہ وہی اچھاہے زیادہ میرے منہ لگی تو تمہاری صحت خراب ہوجائے گی. ائ سمجھ.
[ ] تم اس سے پہلے نازنین اسکو جواب دیتی کہ ماہ نے اس سے کہا.چلو نازنین میں چل رہی ہو اب چپ رہو..
[ ] اور شاہمیر میں کال پہ.بات کرونگی….
[ ] ماہ.نازنین کا ہاتھ پکڑ کر لیجانے.لگی تو نازنین نے پلٹ کے گھور کے شامہیر کو دیکھا جس پہ.شاہمیر نے اسے موٹی کی.طرح اپنا جسم پھولا کے دیکھایا..
[ ] ماہ.کے جانے کے بعد ایک احساس کے تحت شاہمیر نے پیچھت پلٹ کے دیکھا تو اسے وہاں درخت کے علاوہ کچھ نہی دیکھا جبکہ کئ بار شاہمیرکو ایسا لگتا تھا کہ جب جب وہ ماہ سے ملتا تھا تب تب اسے یہ.لگتا تھا کہ کوئ ہےجو اسے گھور رہا ہے.اکثر اپنی کلاس میں بھی اسے یہی وہم ہوتا تھا.مگر ہر بار دیکھنے پہ اسکی نگاہیں ناکام لوٹتی تھی..شاہمیر اپنا وہم سمجھ کہ اپنے دوستوں کی طرف چل پڑا جبکہ شاہمیر کے جاتے ہی درخت کے پیچھے نفوس نے سکھ کا سانس لیا اور اتنا کہا..
[ ] یا اللّلہ تیرا شکر بج گئ.
