Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

[ ] تم کیوں اسسے الجھتی ہوں,,میں الجھتی ہو,.ماہ دیکھوں تم.میری بہنو کی طرح ہو.مجھے شامیر کچھ عجیب سے لگتا ہے. پتا نہی دل کہہ رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے. اوہو نازنین میں محبت کرتی ہو اس سے اور بہت جلد ہم ایک ہونے والے ہیں..اللہ کرے ایسا ہی ہو تم پچھتاؤ نہیں محبت کر کے,کچھ نہیں ہوگا چل کینٹین چلتے ہیں,,, …..
[ ] یہاں بیٹھ میں ابھی ایا,,,,ارے شان یے کیا ہوا تمہارے ہاتھ میں ,,نازنین جو تھوری دیر پہلے ماہ کے ساتھ ای تھی سامنے والی ٹیبل پے بیٹھے ہوے شان کی طرف دیکھا جس کے ہاتھ سے تیزی سے خون نکل رہا تھا اسنے ماہ.کو بولا چل کے دیکھتے ہیں تو اسے صاف لفظوں می منع کردیا تو ننازنین اسے اپنےساتھ زبردستی لے ای, کچھ نہیں معمولی زخم ہیں,,, رہنے دو نازنین دوسروں کے خلاف جھوٹ بولنے والو کا یہی انجام ہوتا ہے, ….
[ ] اتنے میں ناصر دوائ لےکے ایا مگر اتے ہوے جیسے اسنے ماہ کے لفظ سنے اس سے برداشت نہیں ہوا, نازنین میڈم براے مہر بانی اپنی دوست کو یہاں سے لے جاے میں نہیں چاہتا کے میں ان سے بدتمیزی کرو,,,,..
[ ] ..چلونازنین یہاں سے اہاااااا..
[ ] میڈم ایک منٹ ابھی ابھی اپنے میرے دوست کو جن الفاظوں سے نوازا ہے اتنا بتا دو اپکو وہ.جو اپکا مجنوں ہے نا وہ کیا چیز ہے بہت جلد اپکو پتا چل جاے گا اوک اب اپ.جا سکتی ہیں,,,,.
[ ] تجھے اسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی اس. سے,, اور جو تونے یے کیا کیا وہ ٹھیک تھا ناصر کا اشارہ اسکے ہاتھ کی طرف تھا,,,….
[ ] دیکھ شان مجھے پتا ہے تو اسے بہت چاہتا ہے,,.. مگر جب وہ کینٹین والا واقع ہوا تونے کتنا سمجھایا تھا, ماہ کو مگر اس. نے تجھے بری طرح جھرک دیا,!!!!!!..
[ ] شان کی انکھوں کے سامنے کچھ دن پہلے کا منظر چلنے لگا.
[ ] اس دن شان اور ناصر کینٹین میں بیٹھے تھے..کینٹین تقریبا خالی تھی جب انہیں کینٹین کے کے پیچھے سے کچھ اواز ای دونوں نے جب وہاں جاکے دیکھا تو دونوں کی.انکیھں شرم سے جھک گئ,, ..
[ ] شامیر ایک لڑکی کیساتھ بہت ہی گٹھیا حالت میں تھا,, ..
[ ] یے دیکھ کے شان کا خون کھول گیا,…
[ ] اسنے شامیر کا گریبان پکڑا اور گھسیٹا ہوا لے کے جانے لگا.پوری یونی میں.ایک تماشا لگ گیا, ناصر نے بہت روکا شان کو مگر شان اس وقت اپنے ہوش میں نہیں تھا,,… اسنے شامیر کو ایک جھٹکے سے اسے یونی کے لان میں بیٹھی ماہ کے اگے پھیکا…..ماہ اچانک اس افت پے بھوکلا گی اوز سوالایاں نظروں سے کبھی شان کو دیکھتی کبھی شامییر کو, اسس سے پہلے شان اسسے کچھ بتاتا,شامیر نے ماہ کو بتا نا شروع کردیا, ماہ یے تمھارے بارے میں بہت غلط غلط باتیں بول رہا تھا …
[ ] میں نے جب اسے روکا تو اسنے مجھے مارنا شروع کردیا اور کہنے لگا میں محبت کرتا ہو ماہ سے میرے اور اسکے درمیان جو اےگا میں اسکا حشر کردونگا وہ صرف میری ہے,,,..
[ ] سالے کمینے ماہ یے جھوٹ بول رہا ہے خود کینٹین میں کیسی لڑکی کے ساتھ ابھی شان کے الفاظ منہ میں ہی تھے کے ایک زناتے تھپڑ شان کے منہ پے پرا ہر طرف جیسے موت کا سنناٹا چھا گیا…. نازنین نے ایک دم اپنے ہاتھ اپنے منہ پے رکھ لیے,,…
[ ] جسٹ شٹ اپ پہت ہوگئ تمھاری بکواس تمھاری ہمت کسے ہوی میرے بارے میں ایسی بکواس کرنے کی ہو کون تم…..
[ ] میںرا شامیر کیسا ہے مجھے پتا ہے اعندہ اگر میرے سامنے بھی اے تو جان نکال لونگی…..
[ ]
[ ] چلو شامیر اور شامیر جو اس سب ڈرامے میں.بلکل معصوم بن کے کھڑا تھا…. چپ چاپ ماہ کے ساتھ چلنے لگا اور جاتے جاتے شان.کو لوزر کا نشان دیکھانا نہیں بولا,…..وںہاں کھڑے اسٹوڈنٹ نے جب دیکھا کے مفت کا ڈراما ختم ہوگیا تو تماشبین بھی چھٹ گے….
[ ] شان کا ہاتھ ابھی بھی اسکے گال پے تھا… وہ بے یقینی کی کیفیت مے ماہ کو جاتے ہوے دیکھ رہا تھا… اج بھری یونی میں اسکی زات کا تماشا بنا تھا… مگر اسے پرواہ نہیں تھی,… پرواہ تھی… تو اپنی محبت کی جو غلط انسان سے محبت کر بیٹھی تھی…. شان نے جیسے ہی ماہ کو روکنے کے لیے قدم.بڑھاے ناصر نے اسے روک لیا چل رہنے دیے وہ نہں سنے گی, ناصر تو جانتا ہے نا میں نے ایسا کچھ نہیں کیا… مجھے اسکی عزت کتنی عزیز ہے… تو جانتا ہے نا.میں نے اسے محبت نہیں عشق.کیا ہے, تو چپ کیوں ہے بولنا…
[ ] ناصر کو اس وقت وہ کوئ دیوانا لگ رہا.. تھا. ناصر نے اسے اپنے سینے سے لگالیا اور وہ بچوں کی طرح اسکے گلے لگ کے رونے لگا,..
[ ] یے سب دیکھ کے نازنین کی انکھوں سے انسو بہے رہے تھے… نازنین کو بہت افسوس ہوا شان کی حالت دیکھ کے اور نازنین کو خوشی ہوی ے جان کے شان کتنا چاہتا ہے ماہ.کو مگر وہ ب حص ایک بیکار شخص کے پیچھے اپنا وقت برباد کر رہی تھی…..
[ ] بس اس دن کے بعد سے شان ماہ.کے سامنے کبھی نہیں ایا….
[ ] تو بھول کیوں نہیں جاتا شان اسے
[ ] ایک سے ایک لڑکیاں تیرے انتظار میں ہیہں…
[ ] شان نے ہستے ہوے اپنے دل.کے مقام پے مکا بناکے دو تین بار مارا اور بولا مگر یار یے دل اس پے فدا ہے……. .
[ ] ازلان میں کب سے کھڑی ہو.. یار کب اوگے لینے. ویسے ہی اسکی ناصر کی بات پے اسکا موڈ اوف تھا.. دوسرا نازنین کو بھی اسکا بھائ لینے اگیاتھا..
[ ] اسنے کال لگتے ہی ازلان کو سنانا شروع کردیا…یار بریک پے پاوں تو رکھوں.کریم چاچا کی کال اگئ تھئ گاڑی خراب ہو گی ہیں.اور میں کام سے گیا ہوا ہو…تم کریم یا اوبر منگوالو یا پھر ویٹ کرو..ادھا گھنٹہ لگے گا ڈرایور کو انے میں .تھیک ہے میں کریم سے چلی جاتی ہو چلو پھر تھیک ہے. یے کہ کے ازلان نے کال.کٹ کردی..پھر ماہ نے ادھر أدھر نگاہیں ڈورایں.مگر ناکام پچھلے ادھے گھنٹہ سے اسے لگ رہا تھا ک وہ.کسی کی نظروں کے حصار میں ہیں.لیکن اسے وہاں کوی نظر نہں.ایا .عجیب سے خوف نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا کیوں کے شامیر بھی دو دن سے یونی نہیں ارا تھا اور فون بھی اسکا بند جا رہا تھا… اسنے فٹافٹ کریم منگوائ. اور شاید قسمت اچھی تھی جو اسسے قریب کر رائد مل گی اور وہ فورا اس میں روانہ ہوگی….
[ ]
[ ] دور کھڑی بلیک کرولا میں بیٹھے دو نفوس میں سے ایک نے دوسرے سے بولا اب چلے اب تو تیری لیلا بھی گی. شان نے اسکے کمر پے ایک دھموکا دیا,,. اور گاڑی اسٹارٹ کردی ویسے یار وہ تجھے دیکھتی نہں جب تیرا یے حال کے جب تک وہ گی نہیں تو گیا نہیں بول..اس سے پہلے شان کوئ جواب دیتا گاڑی میں چلتے گانے کے بول نے اسکا جواب دے دیا….
[ ] دل.کی خطا بھی ہے کیا..
[ ] مجھ کو گلا بھی ہے کیا…
[ ] اس دللگی کے سوا دل.نے.کیا بھی ہے کیا💔💔💓💓💓💓💓💓💓
[ ] عاشق ہے یے چور نہیں میں کیا کرو…
[ ] دل پے کوی زور نہیں ہے میں کیا کرو….. لے سن لے میرا جواب ناصر نے اسکے اگے ہاتھ جورے یے لے بھای غلطی ہوگی بس اب اسپید بڑھا بہت بھوک لگی ہے……..
[ ] ..گاڑی حیدر ولا.کے گیت سے انٹر ہوی اس شاندار 2000 گز کے بنے گھر کے دیکھ کے ناصر ہمیشہ اسکی تعریف کرتا, وسیع عرض پے بنا لان جسکی سجاوٹ دیکھ کے ہی انکھیں کھل جاتی تھی…تھوڑا اگے او گاڑیوں کا پورچ جس میں دو 3 مہنگی گاڑیاں ہیہاں کے مکینوں شان وشوکت کا منہ بولتا ثبوت تھی..
[ ] ناصر جیسی ہی گاڑی سے اترنے لگا. شان نے اسے روکا. یار بات سن مام کو نہیں بتانا یے چوٹ کیس لگی اسکا اشارہ اپنی ہاتھ کی چوٹ کی طرف تھا..ناصر نے اپنی تھوڑی کھجاتے ہوے انکھوں میں شرارت لے. شان کو دیکھا.. یار ایسے کیا دیکھ رہا.ہے میں کیا بول.رہا ہو. سن رہا ہے نا.یار میں یے سوچ رہا ہو ک جب انٹی کو یے پتا چلے گا کے یے چوٹ انکے بیٹےکے دل جلے پارٹ ٹو بناتے ہوے لگی تو انکا ریکشن کیا ہوگا.یے بات بول.کے ناصر نے اندر کو ڈور لگائ.شان کو جب ناصر کی بات سمجھ ائ اسنے وہی. سے اسے کار چابی ماری مگر وہ.بچ گیا ڈراءنگ روم.میں پہنچ کے شان نے ناصر کو گڑدن سے ڈبوچ لیا.کیا بول.رہا تھا سالے اب بول…..
[ ] ابے چھوڑ ماہ کے مجنوں.. قسم سے سانس روک رہی ہے….
[ ] ارے ارے یے کیا کر رہے ہواپ دونوں.نور بیگم جو شور سن کے لانج میں ای تھی سامنے کا منظر دیکھ کے بول پڑی..کچھ نہیں مام بس ایسے ہی,,.اسلام و علہیکم انٹی کیسی ہے اپ..میں بلکل ٹھیک …
[ ] کافی دنوں بعد چکر لگایا تم نے..ارے یے تو اج بھی نہں ارہا تھا..مام زبردستی لایا ہو..کییوں بھئ ناصر…. ہم سے ناراض ہو بھی پیچھے سے حیدر صاحب کی اواز پے د تینوں پلٹے… ارے نہیں انکل.. بس پاپا اجکل اوٹ اوف کنٹری ہے اور پھر دادی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں بس اسی لے,ارے حیدر اپ اج جلدی اگے. ارے جان حیدر اپ بولو تو چلے جاتے ہیں, شان اور ناصر دونوں نے منہ نیچھے کر کے.اپنی ہنسی روکنے لگے, حیدر کچھ تو خیال کے بچے کھڑے ہیں .نور بیگم شرم سے لال ہوتے ہوے حیدر صا حب کو توکا,, ارے بیگم بچے تو ہم سے بھی دو ہاتھ اگے ہیں.کیوں بھای جوانوں صحیح بول رہا ہو نا….جی جی انکل.اور خاص کر شان یے بات ناصر نے اتنے آہستہ بولی کے خالی وہ دونوں.ہی.سن سکے…چلو اپ.لوگ فریش ہوجاو میں کھانا لگواتی ہو..اوکے جی بیگم جیسا اپکا حکم…حیدر اپ.نہیں سدرینگے…..
[ ] یار ویسے انکل بہت چاہیتے ہیں نہ انٹی کو ..ہاں یار بلکل..
[ ] my father is my hero
[ ] کاش یے بات میں بھی.اپنے پاپا کے لے بول سکتا.. یے بات ناصر نے خالی اپنے دل.میں سوچی..
[ ] چل تو ویت کر میں دو منٹ میں فریش ہوکے ایا…
[ ] شان کے جاتے ہی ناصر کی نظریں کسی کو دھونڈنے لگی مگر وہ ظلم حسینا نظر ہی نہیں اراہی تھہی….اور اخر کار اس دیوداس کا انتظار ختم ہوا, وہ سامنے سے اتی دیکھائ دی……بلیک چوری دار پاجاما.لنگ رید شرٹ ہم رنگ دوپٹا لے.. ایک ہاتھ میں سیب دوسرے میں چاکلیٹ.. اسکو دیکھ کے ناصر نے سوچا بیٹا ناصر تیرا فیوچر تو بہت فودی ہوگا…..کب یے لڑکی ناصر کی زندگی بنی پتا ہی نہیں چلا..ناصر شان کے بہت اصرا پے پہلی دفع شان کے گھر ایا.تھا..گھر کے اندر اتے ہی شان نے ناصر کو لانج میں بیٹھایا.یار تو رک میں مام کو بولاتہ ہو اوکے.شان کے جانے کے بعد ناصر لانج کا جائزہ لے نے میں مصروف تھا جب اسکی ننظر ایک ونڈو کے پاس اکے ٹھر گی. جہاں سے لان کا منضر صاف نظر ارہا تھا..پنک شرٹ واۂٹ ٹرازر پہنے ایک لڑکی پودوں کو پانی دےنے میں مصروف تھی. جو پودوں کو کم اور خود کو زیادہ.نہلانے میں مصوف تھی. ہزیل.گرین انکھیں بیضوی چہرہ لمبے بال.جو گیلے.ہونے کی وجا سے اسکے چہرے سے چپک.گے تھے کمر تک اتے تھے..زندگی سے بھر پور یے لڑکی ننازک سی ناصر کو اپنی ڈھرکن لگی.واہی اسکے دل.نے تیز رفتار برھالی .بس اسی وقت سے ناصر پری سے محبت کرتا اراہا ہے.
[ ] لیکن دوستی کی وجا سے کبھی بول.نہیں پایا.کیوں کے وہ اپنا دوست کو کھونا نہیں چاہتا تھا.. مگر کون جانتا کے قسمت اور وقت کبھی بھی کسی سے کچھ بھی.کراسکتی ہے جو ناصر اپنی.پری کی خوشی.کے.لے دنیا سے لڑ سکتا تھا وہ ہی اسکو دنیا کا سب سے بڑا دکھ دے گا, اسکا اعتبار توڑے گا….
[ ] جاری ہے..