Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

[ ] حیدر کی اواز پہ ایک دم سب پلٹے حیدر کی اواز پہ نور نے پھر گھور کہ پری کو دیکھا..مگر پری نے صاف بولا ماما پاپا کو میں نے نہں بولایا..
[ ] مما پاپا کو میں نے بتایا ہے شان نے نور کو کہا….حیدر نے اتے ہی نور کہ ماتھے پہ.اپنے لب رکھے اور فکر سے نورسے مخاطب ہوا.جان کیسی ہے اب طبیعت..
[ ] حیدر کی.اس حرکت پہ.جہاں نور سب کے سامنے کنفیوز ہوی.وہاں ماہ اور نازنین نی اپنی.مسکراہت دبائ..
[ ] نور نے ہلکے سے بھرم میں حیدر سے بولا.حیدر کیا کرتے ہیں بچے بیٹھے ہیں..ارے بچے بھی تو اپنے ہیں اور بچوں کو پتہ.ہے کہ.انکے پاپا انکی.ماما سے کتنی محبت کرتے ہیں..نور نے دانت پیس کے حیدر کو کہا.. حیدر یہاں ہمارے بچوں کے علاوہ اور کوی بھی بیٹھا ہے دیکھ تو لے..
[ ] اور نور کہ کہنے پہ.جب حیدر نے پلٹ کہ دیکھ تو نازنین اور ماہ پہ اسکی ننظر گی..
[ ] ماہ کو دیکھ کہ ایک منٹ کے.لیہ ٹھٹکا.کیوں کہ ماہ زلیخا کی کاربن کاپی تھی بس انکھوں کا فرق تھا…
[ ] اوہ سوری بچوں میں نے دیکھا نہیں اپ لوگوں کو…
[ ] ارے انکل سوری نہں بولے اپکی طرح میرے پاپا بھی میری ماما سے ایسی ہی محبت کرتے ہیں ہمیں عادت ہے..ماہ نے حیدر کو دیکھا..
[ ] ماہ کہ بات پہ سب کا قہقہ گونجا تو ماہ کو احساس ہوا کہ وہ.کیا.بول گی…
[ ] اچھا بیٹا ویسے اپ کو اج پہلی دفعہ.یہاں دیکھا اپ کیا پری کی فرینڈ ہے..
[ ] نہں پاپا میری تو یہ اپی ہیں فرینڈ تو بھای اور ناصر بھای کی ہے ناصر کو بھای کہنے پہ جہاں ناصر نے غصہ سے پری.کو دیکھ وہی جوس پیتی ہوی نازنین کو پھندا لگا..
[ ] ارے بیٹا اپ تھیک ہو نور نے نازنین سے پوچھا.
[ ] جی جی انٹی..
[ ] ارے پاپا پری نے پھر مال سے لے کے اب تک کا سارا واقع حیدر کو سنا دیا..
[ ] اور حیدر نے تہے دل سے نازنین اور ماہ کا شکریہ کا ادا کیا…
[ ] سب کا ایسے بار بار شکریہ کرنے وہ دونوں شرمندہ ہوگی اور نازنین بول پڑی..
[ ] ارے انکل.اپ بار بار شکریہ ادا نہں کرے انٹی نے اور پری نے اتنے مزہ مزہ کی چیزیں کھلای کہ کیا بتاو…
[ ] اور نازنین کی بات پہ ماہ نے اپنے ماتھے پہ.ہاتھ رکھ لیا…
[ ] پاپا میں ناصر اور یہ دونوں ہم.چاروں یونی فرینڈ ہے. اور ایک اور فرینڈ ہے اس سے اپکو پھر کبھی ملواےینگے..اور یہ جو ہماری نازنین ہے نہ یہ تھوڑی کھانے پینے کی شوقین ہے اور انکل یہ جو ماہ.ہے نہ ہمیشہ مجھے توکتی ہے….نازنین کہ اسطرح بولنے پہ.جہاں ماہ.نے اسے گھورا وہی سب کا قہقہ گونجا..
[ ] اچھا انٹی اب اجازت دیں …
[ ] ہاں بیٹا جاو شان چھوڑ او نہیں. اچھا پری پھر ملاقات ہوگی..اپی اپ پھر ائیگا. انشاءاللہ.پری.
[ ] سب کو الودع کہ کے وہ.لوگ شان کی گاڑی میں بیٹھ گے ناصر اگے بیٹھا تو وہ دونوں پیچھے……………………
[ ] ان لوگوں کے جانے کے بعد حیدر نے نور سے کہا..
[ ] نور ماہ زلیخا بھابھی میں کتنی ملتی ہے ایک منٹ کے لیہ تو میں چونک گیا..
[ ] ہاں حیدر میں بھی اتنی دیر سے یہ ہی سوچ رہی تھی اور دیکھو جلدی جلدی میں اسکا.پور نام بھی نہں پوچھا…
[ ] ہم چلو پھر پوچھ لینا..ہممم.
[ ] ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤شان نے پہلے ناصر کو ڈراپ.کیا پھر نازنین سے اسکا اڈرس پوچھ کے اسے ڈراپ کیا.
[ ] نازنین کے.اترنے کے بعد جب ماہ پیچھے ہی بیٹھی رہی تو مجبورا شان بول پڑا..
[ ] ماہ.اگر اپکو ایک بات بولو تو برا تو نہں مانینگی اپ..
[ ] نہں شان اپ بولو…
[ ] وہ اپ اگے اکے بیٹھ جاو مجھے نہ ڈرائور والی فیلنگ اراہی ہے…شان نے اس انداز سے بولا کہ ماہ منع نہں کرسکی اور اگے اکے بیٹھ گی..شان کو اسکو دیکھ کہ ایک دلفریب مسکراہٹ نے شان کے لبوں کو چھوا
[x]
[ ] ماہ سے جب اسکے گھر کا اڈریس جب شان نے پوچھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسکا گھر کافی دور تھا سفر کی بوریت مٹانے کے لیہ اسنے ماہ سے پوچھا..ماہ…
[ ] ہممم…
[ ] سانگ پلے کردو…
[ ] شان یہ گاڑی چوری کی ہے. ماہ نے معصوم بن کہ پوچھا جب کہ اسکے گھر کو دیکھ کہ ماہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ شان لوگ بھی انہی کی طرح امیر ہے..
[ ] ماہ کے سوال پہ شان ایک دم.بکھلا گیا..ماہ کیا بول رہی ہو لاحول ولہقوت..میری زاتی ہے یار..شان کہ اس انداز پہ اہک دم ماہ کا قہقہ گونجا..اور شان اسکی ہنسی میں کھو گیا..کیونکہ وہ ہستی ہوی اور بھی حسین لگتی تھی..
[ ] ارے مزاق کرہی ہو لگالو سانگ. اور شان نے جب سی ڈی پلیر اون کیا بجنے والا گانا شان کے دل.کی.عکاسی کررہا تھا شان نے جیسی ہی گانا سنا دل میں شکر ادا کیا.کہ. ناصر نہں ہے ورنہ وہ تو اسکا صحیح کا ریکارڈ لگاتا..گانا کچھ یو تھا..
[ ] “کہہ دو تمہں یا چپ رہو..
[ ] دل میں میرے اج کیا ہے..
[ ] جو بولو تو جانو. گرو تم.کو مانو چلو یہ بھی وعدہ.ہے..😝😝😝😘😘😘
[ ] شان نہ ایک دم گانا چینج کیا جس پہ ماہ.نے اسے دیکھا تو شان نے یہ کہہ کے اسے بہلایا کہ گانا اچھا نہیں..ایک دم دوسرا گانا بجنے.لگا…
[ ] تیرا دیھان کدھر ہے یہ تیرا ہیرو ادھر..اف.. شان نے پھر گانا چینج کیا.اور اس بار جو گانا بجا شان کا دل کیا کہ وہ گاڑی سے کودھ جاے..”
[ ] :”اج پھر تم پہ پیار ایا ہے بے حد اور بے شمار ایا ہے…
[ ] شان نے یہ.گانا بھی بند کردیا.ماہ جو باہر کے نظارو میں مصروف تھی شان کے بار بار کے گانے چینج کرنے پہ جھنجھلا اٹھی…
[ ] شان کو ایک سانگ تو لگا رہنے دو
[ ] اوکے اوکے.ماہ ….روکو لگاتا ہو..
[ ] اور شان نے اپنا فیورٹ سانگ پلے کردیا…
[ ] دیکھا تجھے تو جینے لگے ہم…
[ ] پالیے تجھے تو نہ ہو مرنے کاغم..❤❤❤❤❤❤❤
[ ] یہاں شان نے اپنی دل.کی.کیفیت کا گانا لگایا تو وہاں ماہ.یہ گانا سن کے شامہیر کی یادوں میں کھو گی….گانا ختم ہوا تو ماہ.کا گھر بھی قریب اگیا.شان نے پلیر بند کردیا…
[ ] گاڑی جیسے ہی گیٹ پہ رکی تو گھر کے باہر گھرکی نیم پلیٹ پہ شان کی نگاہ.گی جہاں افریدی ہاوس کی نام کی پلیٹ گی تھی..ماہ گاڑی سے اتر کے اندر جانے لگی کہ سامنے سے اتی ازلان کی گاڑی دیکھ کہ رک گی.مگر ازلان ماہ.کو نہں شان کو دیکھ کہ.گاڈی سے اترا اور اسے پہچانے کی کوشش کرنے لگا اور شان جو ماہ.کے اترنے پہ گاڑی سے اترا تھا اپنے نام.پہ چونکا..
[ ] شان رائٹ…
[ ] اور اپ ازلان ہے نہ..
[ ] ہاں یار what a.plaesant surprizeاور وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گے
[ ] تم پاکستان کب اے ازلان نے شان سے پوچھا.
[ ] ارے یار دو سال پہلے شفٹ ہوے ہیں اور اپ سناو کیسے ہو..
[ ] ماہ ان دونوں کا ایسا ملاپ دیکھ.کہ.انکے قریب ای اور ازلان سے پوچھا..
[ ] ازلان تم.جانتے ہو شان کو..
[ ] ہاں یار تین سال پہلے جب میں اسٹریلیا گیا تھا تمہں.بتایا تھا کہ وہ جو چور مجھے لوٹ رہے تھے انہی سے شان نے مجھے بچایا تھ اور مجھے ہوٹل تک لیفٹ دی تھی..اوہ اچھا.ماہ.نے کہا..
[ ] ایک منٹ تم شان کو کیسے جانتی ہو اور شاید اسی کے ساتھ یہاں ای ہو نہ تم.تو اج نازنین کے ساتھ مارکیٹ جانے والی تھی نہ…
[ ] ہاں یار شان میری یونی میں میرا ڈیپاٹمنٹ میں ہے اور ہم اچھے دوست بھی ہے انفیکٹ ہم ساتھ میں ڈانس پرفام کرنے والے ہیں..اور اج جب میں مال سے نکل رہی تھی. تو اور ماہ نے مال سے لے کر شان کے گھر تک کا واقع ازلان کو سنا دیا..
[ ] اوہ اب کیسی طبیعت ہے شان انٹی کی. اب تک تو تھیک ہے شان نے کہا..
[ ] ازلان ماہ تمہاری ابھی شان کی بات مکمل ہوتی کہ ازلان بول پڑا..
[ ] ہاں میری سسٹر ہے بلکہ میری پاٹنر بھی ہے..
[ ] شان نے بولا پاٹنر؟؟؟
[ ] ہاں یار شان ہم دونوں ٹوئنس ہے..
[ ] اوہ.. چلو یار ازلان میں اب چلتا ہو..
[ ] ارے ایسے کیسے ایسے تو میں تمہں جانے نہں دونگا. تم.اپنے کار اندر لاو اج میرے پاپا سے ملکر جاوگے اجاو اور شان ازلان کے اتنے اصرار پہ منع نہں کرپایااور گاڑی اندر لے گیا.اسکے پیچھے ازلان نے بھی گاڑی اندر کی..
[ ] وہ تینوں چلتے ہوے اندر اے تو سامنے لانج پہ.ہی اسے جہآنگیر بیٹھے دیکھ گے…
[ ] پاپا دیکھے لے ایا.میں اپکی کاپی..
[ ] جہاں جہانگیر اسے دیکھ کے شاک تھا وہی حالت شان کی بھی تھی کیونکہ شان جہانگیر کی جوانی تھا..
[ ] پاپا یہ وہی شان ہے جسکا.میں اپکو بتایا تھ اسٹریلیا میں جس نے میری ہیلپ.کی تھی..
[ ] اسلام وعلیکم انکل..
[ ] وعلیکمسلام بیٹا کیسے ہیں اپ …جہانگیر اب بھی شاک تھا کیونکہ بنا رشتہ کہ.کوی کیسے کسی سے اتنا مل سکتا ہے..
[ ] مگر رشتہ تو تھا جسکو ابھی سامنے انےمیں وقت تھا…
[ ] زلیخا کچن سےازالان کی.اواز سن کے جو باہر ای تھی وہ بھی شان کو ایک دم دیکھ کہ چونکی مگر پھر سنبھل کر شان سے ملی اسے بھی شان سے ملکر ایک عجیب سا احساس ہوا..
[ ] زلیخا نے شان سے چاے وغیرہ کا پوچھا.تو اسنے معزرت کرلی اور جانے کے لیہ اٹھ کھڑا ہوا…
[ ] یار شان کچھ دیر تو بیٹھو. نہں یار ازلان دیر ہو رہی ہے پھر ملاقات ہوگی..
[ ] چلو تھیک ہے پھر پندرہ دن بعد میرا نکاح ہے اس میں پوری فیملی کے ساتھ انا ہوگا بولو منظور ہے..
[x]
[x]
[ ] اور شان نے ہستے ہوے اسے کہا کہ ڈن
[ ] اوپھر جہانگیر اور زلیخا سے اجازت لے کہ وہ اپنے گھر کہ لیہ نکل گیا..
[ ] شان کہ جانے کے بعد ازلان اور ماہ بھی اپنے اپنے کمروں کی.طرف چل دیے مگر جہانگیر اور زلیخا نے ایک دوسرے کو دیکھا اور جہانگیر کہ منہ سے ایک.ہی لفظ نکلا.حیدر……….¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

[ ] کل ہی شاہین کو بی جان کی کال.ای تھی اور وہ اسے حویلی انے کا کہ رہی تھی اج اسے جانا تھا اس لیہ اس نے اج اس نے صبح ہی علی کو کال کر کہ بادشاہی مسجد انے کو کہا..
[ ] ابھی شاہین کو اے ہوے تھوڑی دیر ہی ہوئ تھی.کہ سامنے سے اسے علی اتا دیکھائ دیا..
[ ] علی نے اتے ہی شاہین سے پوچھا…
[ ] یار اج یونی نہں گی اور مجھے یہاں کیوں.بلایا.
[ ] کل بی جان کا فون ایا تھا.کل جہانگیر ارہا ہے تو اج مجھے واپس گاوں جانا ہے…
[ ] اور شاہین کی بات سن کے علی دو منٹ کے لیہ خاموش ہوگیا..
[ ] علی نی شاہین کا ہاتھ پکڑ کے اسے اٹھایا اور اسے مسجد کے سنسان جگہ پہ لے ایا.
[ ] علی نے شاہین کو دیکھا جو رونے میں مصروف تھی..
[ ] ادھر دیکھو میری طرف شاہین..
[ ] علی کے بولنے پہ شاہین نے نگاہ اٹھا کہ اسے دیکھا..
[ ] ارے یار رو تو نہں تمہارے انسو مجھے تکلیف دیتے ہیں.علی نے ایسے بول.کے شاہین کو اپنے سینہ سے لگالیا اور اسکے سر پہ اپنے لب رکھ دیے.
[ ] اچھا ادھر دیکھو یہاں میری طرف علی نے اسکے انسو پوچے اور اسکو کہا.
[ ] شاہن رونا مسئلہ کا حل نہں تم.کل.موقع دیکھ کے جہانگیر سے بات کرو وہ کچھ نہ کچھ ضرور کریگا…
[ ] شاہین نے ہاں میں گردن ہلای.
[ ] اچھا مجھے مس کروگی.وہاں جاکہ. علی نے پوچھا..
[ ] کیونکہ وہاں جاکہ شاہین علی سے کوی رابطہ نہں.کرتی تھی..
[ ] تمہں بھولتی.کب ہو جو یاد کروگی.
[ ] شاہین نے ایسے بچوں کی طرح کہا کہ علی کو اس پہ ٹوٹ کے پیار ایا اور اسنے شاہین کے ماتھے پہ اپنے.لب رکھ دیے..
[ ] اچھا نکلنا کب ہے تمہں؟؟؟؟
[ ] علی نے پوچھا..
[ ] بس ابھی سیدھا ہاسٹل جاونگی وہاں گاڑی اجاےگی..
[ ] اوکے او میں چھوڑ دو..
[ ] نہں میں چلی جاونگی تم یونی جاو.
[ ] اور جب شاہین جانے لگی تو علی نے اسکی.کلائ پکڑی اور کہا..
[ ] شاہین ہماری محبت پاک ہے انشاءللہ ہم ضرور ملینگے تم زندگی ہو میری تم دور ہوی تو ڈھڑکن روک جاے گی.میری..
[ ] اور شاہین ڈور کہ اسکے سینے سے.لگ گی اور جب الگ ہوی تو اسے بنا دیکھے اگے چلی گی کیونکہ اگر وہ علی کو دہکھ لیتی تو اسکا جانا.مشکل ہو جاتا..
[ ] شاہین کے جاتے ہی کب کہ روکے انسو علی نے بہنے دیے اور اوپر اسمان پہ دیکھ کہ ایک ہی دعا کی..
[ ] یاللہ اسے واپس ضرور لانا..
[ ] ( دو پل روکا خوابوں کا کارواں.
[ ] اور پھر چل دیے ہم کہا تم کہا)
[ ] شاہین ہاسٹل پہنچی تو تھوڑی دیر بعد اسے حویلی کی گاڑی لینے اگی…¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤
[ ] اج افریدی حویلی.کو پوری شان وشوکت سے سجایا گیا. پوری حویلی پھولوں سے سجایا گیا جگہ جگہ بڑے پھولوں کی چادر تھی..کچن کی طرف او تو وہاں الگ الگ قسم کے پکوان بن رہے تھے.. ایک تو کل سے شادی کا فنکشن اسٹارٹ تھا اور دوسرا اج اس حویلی کا سب سے لاڈلہ بیٹ ارہا تھا..
[ ] سفید قمیز پہ لال رنگ کی.کڑھائ .ریڈ چوڑی داڑ پاجامہ اور سفید نیٹ کا دوپٹہ لہے جسکے چاروں طرف ریڈ گوٹا لگا تھا..گرین انکھوں میں کاجل لگاے گلابی ہنٹوں پہ ہلکی سی.لپسٹک لگاے.اور گولڈن بال اج اس کھلے ہی چھوڑے تھے جو کمع سے بھی نیچے تک اتے تھے…
[ ] چھت پہ کھڑی کسی کا بڑی دیر سے انتظار کر رہی تھی…اورشاید اسکا انتظار ختم.ہوا کیوں کہ بلیک پیجارو حویلی کہ اندر داخل ہو چکی تھی…
[ ] اور نور نے وہی سے ڈور لگانا شروع کی پوری حویلی میں اسکی پایل کی جھنک اور ااکی اواز گونج رہی تھی تھی جو زور زور سے اماں جان کو اواز لگا رہی تھی..
[ ] اماں اماں جہانگیر بھای اگے جہانگیر بھای اگےوہ بھاگتی بھاگتی حویلی کہ گیت تک پہنچی اور رک کے گاڑی سے نکلنے والے نفوس کا انتظار کرنے لگی..
[ ] جیسے ہی جہانگیر باہر نکلا.وہ ڈور کہ اسکے گلے لگ گی..
[ ] جہانگیر بھای کب سے انتظار کر رہی ہو اپ بیت لیٹ اےے..
[ ] ارے ارے میںری نور کیسی اور یار ٹریفک کیا کم تھا تم کیسی ہو. اج تین سالوں بعد وہ اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا جس میں اسکی جان تھی…
[ ] اچھا چلے اندر چلے اماں جان کب سے اپکا انتظار کرہی ہیں..
[ ] گاڑی کے دوسرے گیٹ سے نکلتے ہوے حیدر نے بہت دلچسپی سے اس لڑکی کو دیکھا جہانگیر سے بہت دفعہ اسکا زکر سنا مگر اج جب دیکھا تو اپنا دل.ہار گیا..
[ ] جہانگیر نے نور کو الگ کیا اور سامنے کھڑے افریدی صاحب سے گلے ملا ..افریدی صاحب نے اسے اپنے میں بھیچا اور کہا میرا شیر اگیا.کیسے بابا اپ میں تو اب تو بلکل تھیک ہو وہ جہنگیر سے الگ ہوے تو انکی نظر گاڑی کے پاس کھڑے حیدر پہ پڑی جو نور کے پیچھے کھڑا تھا
[ ] ارے حیدر بیٹا ہم اپکو تو بھول گے افریدی صاحب کی اواز پہ نور جو اپنی دھن میں کھڑی تھی.چونکی.اور پیچھے کھڑے اس نوجوان کو دیکھ جسکی.عمر جہانگیر کے برابر تھی کالی.انکھین ہلکی پریڑ گال.پہ پڑتا دمپل.عنابی لب اور کھڑی ناک نور کی ایک ہارٹ بیٹ مس ہوی نور نے ایک دم اپنا سر جھٹکا اور حیدر نور کو گھوڑتا ہوا اسکے سائیڈ سے نکلتا ہوا افریدی صاحب کے گلے لگ گیا حال چال پوچھنے کے بعد افریدی صاحب اور جہانگیر تو اندر چلے گے اور نور جو اندر جانے کے.لیہ.حیدر کے پاس سے گزرنے لگی..حیسر کی اواز پہ ایک دم رکی..
[ ] ویسے کاش کوی ہمارا بھی یو استقبال.کرتا.حےدر ک اشارہ نور ک جہانگیر سے گلے ملنے کی طرف تھا یہ.کہہ حیدر جیسے ہی.اگے بڑھنے لگا نور نے بولا..
[ ] اپکی بات کا.مطلب…
[ ] اس پہ.حیدر نے کہا وقت انے پہ.سب تفصیل سے سمجھا دونگا ابھی تھک گیا ہو.. یہ بول.کے حیدر اپنی.مسکراہٹ چھپاے اندر کو چل دیا جبکہ نور نے سڑے ہوے منہ کے ساتھ ہنہ کیا اور اندر بڑ گی…..
[ ] جاری ہے…