Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46 Part 3

شاہمیر کی شادی کا سن کے ماہ کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگنے لگی… کچھ بھی تھا مگر اس ہار جیت. انا, حسد کے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ماہ.کا ہوا….
ماہ کیلیے شاہمیر کی شادی ایکسپٹ کرنا بہت مشکل تھا.. مگر اب وہ اپنے دل میں شاہمیر کیلیے صرف نفرت کا جزبہ رکھتی تھی..مگر جب شاہمیر کیساتھ ہوئے دھوکے کا ماہ.کو پتہ چلا. جبھی اس کے دل میں شاہمیر کے لیہ ہمدردی پیدا ہوئ….
ماہ.اپنی.ہی سوچوں میں گم.بیڈ پہ بیٹھی تھی. کہ شاہمیر اندر آیا… ماہ.کو دیکھ کے ایک بار پھر اسکو ندامت نے ان گھیرا. .وہ دھیرے دھیرے چل کے ماہ کے پاس پہنچا اور اس کے قدموں میں بیٹھ..گیا…
شاہمیر کو دیکھ کے ماہ.کی آنکھوں سے ایک بار پھر انسو جاری.ہونے لگے… شاہمیر جو نگاہ جھکا کے بیٹھا تھا بول پڑا…
“جانتا ہو کسی بھی قسم کے ہمدردی کے الفاظ تمہارے دل کے زخموں کو نہی بھر سکتے.. مگر دیکھو میں جسکے ساتھ پیار کا ناٹک کیا جس کی.محبت میں کیا.. اسی نے مجھے استعمال.کیا…وضاحت نہی دونگا. جانتا ہو تم سب میرے بارے مین جان چکی ہو..اسی کو قدرت کا انصاف کہہ لو کے جس محفل میں میں نے تمہاری عزت کا تماشہ بنانا چاہا..اسی محفل میں میں خود تماشہ بن گیا….
جو چاہو سزا دو تمہاری.ہر سزا قبول ہے. مگر ماہ.مجھے معاف کرکے سکون دے دو میں بہت تھک چکا.ہو کھلونا بن بن کے پلیز..
یہ بول.کے شاہمیر کی.ہچکیاں پورے کمرے میں گونجنے لگی جبکہ دروازے کے باہر کھڑی نوشین اس سے زیادہ اور برداشت نہی کر پائ اور اندر داخل ہوگئ نوشین کے اندر داخل ہونے پہ ماہ نے حیرت سے اسے دیکھا اور کہا….
تم تو شاہمیر کے ڈیپاڑٹمنٹ کی.ہونا..؟؟؟تم.ہو اسکی بیوی ؟؟
نوشین کو اندر اتا دیکھ شاہمیر کھڑے ہوکے اپنے انسو صاف کرنے.لگا…
نوشین نے ایک نظر شاہمیر کو دیکھا اور پھر ماہ سے کہا…
ہاں میں ہو شاہمیر کی بیوی مگر جو اپکے دماغ میں چل رہا ہے ماہ میں وہ اپکو کلیئر کردو…
اور پھر نوشین نے شاہمیر سے اپنی محبت کی کہانی ماہ.کے سامنے بیان کردی….
اور پھر ماہ.کے اگے ہاتھ جوڑ کے کہا…
میں یہ نہی کہونگی ماہ کے شاہمیر کی غلطی نہی مگر انہوں نے جو اپکے ساتھ کیا اسکی سزا ان.کو مل چکی. پلیز انہیں معاف کردے…
ماہ.نے.ایک.لمبی سانس ہوا میں خارج کی بے دردی سے اپنے آنسو پہنچے اور کہا…
شاہمیر میں نے تمہیں الللہ کی رضا کیلیے معاف کیا..مگر دعا کرنا اب ہمارا سامنا نہ ہو….
یہ بول کے ماہ رخ پھیر گئ. ماہ کی بات پہ شاہمیر کو سکون تو ملا مگر ایک بات پریشان کرنے لگی وہ ماہ کے پاس گیا اور کندھوں سے تھام.کے اسکا رخ اپنی طرف موڑا اور کہا…
معاف کیا تم نے ماہ مجھے ساری زندگی احسان رہے گا مجھ پہ مگر میں اپنی دوست کھونا نہی چاہتا…. یہ بول کے شاہمیر نے ماہ کے اگے اپنا ہاتھ کیا اور کہا….
جب معاف کرچکی ہو ہو تو کتراؤ مت گناہ نہی کیا تم نے محبت کی تھی سب کرتے ہیں مگر میں اب تم سے دل سے دوستی کرنا چاہتا ہو ..کیا تمہیں اس بے اعتبار شخص کی دوستی قبول ہے؟؟اور یقین جانو میرے دوست بولتے ہیں شاہمیر کی دوستی قسمت والوں کو ملتی ہے…
یہ بول کے شاہمیر کے لبوں پہ شرارتی مسکراہٹ اگئ..ماہ.نے بھی مسکرا کے اسکا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا…
شاہمیر نے ماہ.کا دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا…
شان تم سے بہت محبت کرتا ہے ماہ.اسکی قدر کرنا…. یہ بول.کے شاہمیر چپ.ہوا تو ڈھرم سے دروازہ کھلا اور نازنین سڑا ہوا منہ بنا کے اندر آی…اور کہا..ماہ فالتو لوگوں کو چلتا کرو تمہیں پالر بھی جانا ہے..
نازنین کی بات سن کے شاہمیر کی زبان پہ کھجلی ہوئ اور کہا.
ویسے ماہ مجھے شاہ سے دلی ہمدردی ہے بچارے کو بلڈوزر جو سنبھلنا پڑتا ہے….
شاہمیر کی بات پہ جہاں ماہ.اور نوشین کی.ہنسی نکلی وہی نازنین بھی مسکرا گئ….
شاہمیر نے اگے بڑھ کے نازنین کی ناک کھینچی اور کہا….
کہا سنا معاف نازنین دعاوں میں یاد رکھنا امید ہے کہ اب ہم اچھے دوستوں کی طرح ملینگے یہ بول کے شاہمیر اور نوشین کمرے سے باہر چلے گئے…
نازنین نے ماہ کی شکل گور سے دیکھی مگر کہی بھی اسے بچھڑی محبت کو دکھ نہی دیکھا….نازنین نے مسکرا کے اسے گلے لگایا اور کہا…
میری دوست کی خوشیاں اسکی منتظر ہیں …
جلدی چلو پالر کیلیے لیٹ ہورہا ہے….
¤¤¤¤¤
ریڈ اور بلیو کنڑاس کے شرارے میں جہاں ماہ.کی چھاپ.نرالی.تھی…وہی ہزیل گرین آنکھوں والا شان بلیو کلر کی شیروانی میں کہی کا شہزادہ لگ رہا..تھا…
ازلان اور فائزہ نے بھی اج میچنگ کی ڈریسنگ کی تھی تو شاہ اور نازنین کی بھی ڈرینسگ سیم.تھی جبکہ.بے بی پنک کلر کی باربی ڈول فراک میں پری سچ مچ کی ڈول.لگ رہی تھی تو ناصر بھی سمپل بلیک سوٹ میں غضب ڈھا رہا تھا..
کراچی کے سب سے بڑے بینکوئٹ میں ماہ.کی برات کو انا تھا. .
اور پھر زلیخا جہانگیر ,دلاور اور نازو علی اور شاہین جو برات کے استقبال.کیلیے گیٹ پہ موجو تھے ان کا انتظار ختم ہوا.
برات جس شان سے آی تھی اسی شان سے اس کا ویل.کم کیا گیا ڈھول کی ٹھاپ پہ.جہاں ناصر اور شاہ اپنے یار کی شادی میں ناچ رہے تھے وہی جہانگیر اور حیدر کے ایک ساتھ ناچنے پہ سب کو حیرت میں مبتلا کردیا…
شان کو پوری شان کیساتھ اسٹیج پہ بیٹھایا گیا..
نکاح پہلا ہو چکا تھا اس لیہ ماہ کو لایا گیا..ماہ کو دیکھ کے ایک منٹ کیلیے شان مہبوت سا رہ گیا….تو وہی ماہ بھی شان کو دیکھ کے ایک دم کسی سحر میں جکڑی مگر اس نے فورا اپنا خیال جھٹکا اور پری نازنین فائزہ ردا کیساتھ اسٹیج کی طرف چل پڑی….
اسٹیج کے پاس پہنچ کے شان نے کھڑا ہوکے انکھوں میں محبت لیہ ماہ.کی.طرف ہاتھ بڑھایا…
ماہ نے.پہلے شان کو دیکھا اور پھر اسکے ہاتھ کو انکھیں بند کرکے اس نے شان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا تو پورے حال میں ہوٹنگ کو شور گونج اٹھا..
سب نے اکے باری باری رسمیں کی تو پھر فوٹو سیشن اسٹارٹ ہوا سب کیساتھ پک بنوانے کے بعد شان اور ماہ کو فوٹو سیشن اسٹارٹ ہوا…
ایک فوٹو میں شان نے ماہ کو کمر سے تھاما تو ماہ نے اسکے کندھے پہ.ہاتھ رکھا.. شان کا چہرہ پہ موجود ہنسی اج اسکی خوشی کی.عکاسی کر رہی تھی جبکہ شان کی ہزیل گرین آنکھیں جن میں اج عجیب سی چمک تھی…
.اور پھر ماہ کی رخصتی کا شور اٹھا ازلان نے قرآن کریم کے سائے میں اپنی بہن کو رخصت کیا گاڑی میں ماہ کو بیٹھا کے وہ شان کے پاس آیا اور کہا…..
میری پاڑٹنر بہت بڑے غم سے نکلی ہے اسکا دیھان رکھنا شان….
ازلان کی بات پہ شان نے اسے گلے لگایا تو شان خود چل کے جہناگیر کے پاس آیا اور اسکے گلے لگ کے کہا…
جاو لے کے بڈی ماہ.کو .
..
شان کے ایسے بولنے پہ سب کے ہی چہرے پہ مسکراہٹ اگئ جبکہ زلیخا جو ماہ کے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے زوروشور سے رو رہی تھی اس نے شان کے ماتھے پہ.پیار کیا اور دھیرے سے کہا..
پیار اور محبت سے ہر چیز جیتی جا سکتی ہے..چاہے کسی.کا دل ہو یہ کسی کا اعتبار….
زلیخا کی بات پہ شان نے بھی اسی.کے لہجہ میں کہا..
ممانی اور میں دونوں جیتونگا…
یہ بول کے چان سب سے ملا اور گاڑی میں بیٹھ گیا..
شان.کی گاڑی.کے ہیچھے شاہ اور ناصر کی گاڑی بھی نکلی شاہ.کی گاڑی میں نازنین بیٹھی تھی تو ناصر کی.گاڑی میں اسکی امی اور پری باقی سب حال سے ہی اپنے اپنے گھروں کی طرف نکل.پڑے…..
¤¤¤¤¤
ساری رسموں کے بعد جب ماہ کو کمرے میں پہنچانے کی باری آئ تو نازنین نے شان کو انکھ ماری اور اس نے ماہ کو آگے بڑھ کے اپنی گودھ میں اٹھالیا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ..شان کی اس حرکت پہ جہاں سب نے اس پہ.ہوٹنگ کی وہی ماہ کا چہرہ غصہ سے لال ہوگیا…شان ماہ کا چہرہ دیکھ کے سمجھ چکا تھا کہ اب اسکی خیر نہی….
¤¤¤
شان نے ماہ کو ارام سے بیڈ پہ بیٹھایا اور خود شیروانی اتارتے کہنے لگا.اف ماہ بہت وزنی ہو…
یہ بول کے شان جیسی ہی ماہ کی طرف مڑا تو ششدد رہ گیا..
کیونکہ ماہ گردن جھکا کے رونے میں مصروف تھی شان تیزی سے ماہ کے پاس آیا اور پوچھا…
ماہ کیا ہوا کیوں رو رہی ہو؟؟
ماہ نے روتے روتے کہا
شان میں تمہارا اور اپنا رشتہ دل سے قبول نہی کر پارہی ہو…
اور شان نے.کرب سے آنکھیں بند کی اور سمجھ گیا کہ اسکا اشارہ گودھ میں اٹھانے کی طرف تھا…
شان نے ماہ سے کہا…
ماہ اوپر دیکھو میری طرف….
شان کی بات پہ ماہ نے نگاہ اٹھا کے دیکھا تو شان کادل بے ایمانی پہ اتر آیا….
روتی آنکھیں جنکا کاجل رونے کی.وجہ سے پھیل گیا تھا ناک جو نتھ کی وجہ سے سوج گئ تھی…شان نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کے اسکی نتھ کھولی تو ماہ اپنے میں ہی سمٹ گئ ..
جیسے ہی شان کا ہاتھ ماہ کے ڈوپٹہ کی طرف گیا ماہ گھبرا کے پیچھے کو کھسکی جب ہی شان نے چہرے پہ سنجیدگی لاتے ہوئے کہا…
ماہ سیدھی بیٹھی رہو کچھ نہی کر رہا میں میرے جزبات اتنے بے مول نہی کے کسی کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں ان پہ لوٹاؤ…
شان کے لہجے میں ایسا کچھ تھا کے ماہ پھر دوبارہ نہی ہلی….
شان نے اسکا ڈوپٹہ اسکے سر سے آزاد کیا تو بھولا بسرا کوئ لمحہ شان کو یاد آیا جس کو یاد کر کے شان کے لبوں پہ ایک طنزیہ مسکراہٹ اگئ….
شان نے اسکے جھمکے اتارتے ہوئے کہا…
ہم پہلے دوست ہیں ماہ.پھر میاں بیوی..میں جانتا ہو جس کرب سے تم گزری ہو .یہ سب ایکسپٹ کرنا بہت مشکل ہے تمہارے لیے.اس لیہ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہی میں تم.سے اپنا حق نہی مانگ رہا نہ.ہی زبردستی لونگا.. شان کی بات پہ ماہ کا چہرہ سرخ.ہوگیا…
مگر ماہ جو ہوگیا وہ گزر چکا. تم.اج بھی میری دوست ہو میں تمہاری پیش قدمی کا انتظار کرونگا اب جس دن تم.مجھے اور اس رشتہ کو دل سے اپناوگی اسی دن ہم.اپنے رشتے کی شروعات کرینگے مگر ایک ریکوسٹ ہے ماہ…
شان نے ااسکی.کمر پہ جھک.کے اسکا نکلس کی ڈوری کھولی تو اس کی نظر ماہ.کے گردن کے تل پہ گئ شان کے دل نے شدت سے خواہش کی اسے اپنے لبوں میں لینے کی.مگر فلحال وہ ماہ سے وعدہ کرچکا تھا ماہ کا نیکلس کھول کے اس نے ماہ کے دونوں اپنے ہاتھ میں لیہ اور. کہا…
“اس دل سے پیار کرو جو تمہیں درد دے…
مگر اس دل کو درد مت دو جو تم سے پیار کرے…
“کیونکہ”
ساری دنیا کے لیہ تم صرف ایک ہو..
اور کسی ایک کے لیہ تم ساری زندگی…””
ہر رشتہ میں ماہ اعتبار ضروری ہے. یہ بات میری یاد رکھنا….
شان نے یہ کہ کے ماہ سے کہا جاو چینج کرلو…
شان کی بات سن کے ماہ لاجواب ہوگئ ….
ماہ نے الماری میں سے اپنا ایک.سادہ سا سوٹ نکالا اور چینج کرنے چلی گئ.. ماہ چینج کرکے آی تو شان بھی چینج کر کے بیڈ پہ نیم دراز تھا..ماہ نے کمرے کی.لائٹ اوف کی اور اپنا تکیہ اٹھا کےکمرے میں موجود تھری سٹر صوفے کی.جانب جیسی ہی بڑھنے لگی کہ جبھی شان کی آواز آئ….
جب 24 سال سے اپنے جزبات پہ قابو رکھ سکتا ہو تو اگے بھی کر سکتا ہو…اب جب اتنا اعتبار کر ہی لیا ہے ماہ تو اگے بھی کرو.. تم صوفے پہ سوئوگی مجھے اچھا نہی.لگے گا…
شان کی بات سن کے ماہ چپ چاپ بیڈ کے سرہانے اکے سوگئ.
شان نے جب محسوس کیا کے ماہ سوگئ ہے تو شان جو انکھوں پہ ہاتھ رکھ کے سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا ہلکا سا اٹھ کے ماہ کا چہرہ دیکھا جس پہ معصومیت کے سوا کچھ نہی تھا…ماہ کی پشت شان کی طرف تھی…شان نے بہت احتیاط سے ماہ کے بال اس کی.گردن سے ہٹائے اور اسی تل پہ ہلکے سے اپنے لب رکھ دیے.. اور مسکرا کے پیچھے ہوتے ہوئے کہا..
اب بیوی کیساتھ اتنی بے ایمانی تو چلتی ہے… اور اسی تل.کو دیکھتے دیکھتے سو گیا….
¤¤¤¤¤¤
صبح ماہ.کی آنکھ کھولی. تو اس نے اپنے سامنے شان کو سوتے پایا…
ماتھے پہ.بکھرے بال کسرتی جسم اور سب سے خوبصورت اسکی.ہزیل گرین آنکھیں جو پردو کے پیچھے قید تھی.. بے شک وہ ایک حسین مرد تھا کوئ بھی لڑکی اسکا ساتھ قبول کرنے کی خواہش کر سکتی تھی ماہ جب تھوڑی دیر تک اس کو دیکھتی رہی کے جبھی شان نے پٹ اپنی انکھیں کھول کے ماہ کو دیکھا ہزیل گرین آنکھیں جو خمار کی وجہ سے اور بھی حسین ہوگئ تھی…
شان نے ایک آئیبرو اچکا کے ماہ سے اشارے میں پوچھا ماہ فورا بیڈ سے اتری اور اپنے کپڑے لے کے فریش ہونے چلی گئ ماہ.کے واشروم.جاتے ہی.شان کے لب کھل کے مسکرائے…
¤¤¤
ڈارک گرین اور بلیک کنٹراس سوٹ کے ساتھ ماہ فریش ہوکے نکلی تو شان نے ایک نظر اسکے نکھرے نکھرے سراپے ڈالی اور فریش ہونے چلا گیا. شان فریش ہوکے نکلا تو ماہ ہلکا پھلکا تیار ہو چکی تھی ..شان ماہ کے پیچھے کھڑے ہوکے ہی اپنا بال بنانے لگا. ماہ.جو اپنی.ہی دھن میں کانوں میں ٹاپس پہن کے جیسی ہی مڑی شان کے سینے سے تکرائ ..شان نے فورا اس کو سنبھالنے کے لیہ اسکی کمر تھام لی..
ماہ نے اسے سوری کہا اور سائیڈ میں سےنکل کے جانے لگی کہ جبھی شان نے اسے آواز دے کے رکا اور کہا…
ایک منٹ ماہ…
یہ بول کے شان اپنی الماری میں سے دو مخمل کے.کیسس نکال کے لایا ایک میں ڈائیمنڈ رنگ تھی جو بنا ماہ سے پوچھے شان نے اسکی ہارٹ فنگر میں پہنا دی جبکہ ایک باکس شان نے ماہ.کی.ہتھیلی اگے کرکے اس پہ رکھا اور کہا. .
جب دل سے مجھ سے محبت ہوجائے..مجھے شوہر کا درجہ دینے کو دل مانے اس دن یہ پہن لینا….. ..
یہ بول کے شان نیچے چلا گیا.. شان کے جانے کے بعد ماہ نے وہ باکس کھولا تو اس میں سونے کہ ایک چین تھی جسمیں بلیو ڈائیمنڈ کے لاکٹ پہ ہیروں سے “جان شان” لکھا تھا…
ماہ کافی دیر تک اسکو دیکھتی رہی اور پھر باکس احتاط سے الماری میں رکھ کے نیچے اگئ..
نیچے آی تو سب ہی ناشتہ کی ٹیبل پہ تھے ماہ نے اگے بڑھ کے نور اور حیدر کو سلام کیا..
ااور جاکے شان کی برابر والی چیئر پہ بیٹھ گی کہ جبھی حیدر نے کہا…
ماہ بیٹا….
ماہ جو جوس پی رہی تھی.. بولی…
جی چاچو…
حیدر نے ایک پارسل انکی طرف بڑھایا اور کہا…
بیٹا یہ اسٹڑیلیا کے ٹکٹ ہیں کل صبح کی اپ دونوں کی فلائٹ ہے دس دن کا اسٹے ہے اپ لوگوں کا اور شان ..
حیدر نے شان سے کہا….
جی پاپا..
بیٹا اپ ماہ.کو لے کے اپنے گھر میں رکیے گا اور میری بیٹی.کو بور مت کرنا…
حیدر کی بات پہ شان تو کچھ نہی بولا مگر ناصر اور شاہ جو شان کے برابر میں ہی بیٹھے تھے ہلکی آواز میں شان کے پاس سرگوشی کرنے کے انداز میں جھکے اور کہا….
اس ہارٹ بروکن کا دل وہاں سے جوڑ کے لانا وہ بھی اہنے پیار اور اعتبار سے..ان ادونوں کا اشارہ ماہ کی طرف تھا..
شان نے انکی بات پہ ہلکی سی مسکرائٹ سے کہا…
دیکھتےنہیں.امید پہ تو دنیا قائم.ہیں.
جبکہ نازنین کی.مسلسل نظر ماہ کے جھکے چہرے کی طرف تھی…ا
جاری ہے..